﷽
سیرت النبی ﷺ
قسط نمبر 8 ۔ حصہ دوم
صبح ہوئی تو رقیہ نے اپنا یہ خواب قریش سے بیان کیا۔ انہوں نے ان نشانیوں کو تلاش کیا تو سب کی سب نشانیاں انہیں عبد المطلب میں مل گئیں ، چنانچہ سب ان کے پاس جمع ہوئے۔ ہر خاندان سے ایک ایک آدمی آیا۔ ان سب نے شرائط پوری کیں۔ اس کے بعد سب ابو قیس پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ان میں نبی کریم ﷺ بھی تھے. آپ ﷺ اس وقت نو عمر تھے۔ پھر عبد المطلب آگے بڑھے اور انہوں نے یوں دعا کی۔
اے اللہ یہ سب تیرے غلام ہیں ، تیرے غلاموں کی اولاد ہیں ، تیری باندیاں ہیں اور تیری باندیوں کی اولاد ہیں ، ہم پر جو برا وقت آ پڑا ہے، تو دیکھ رہا ہے، ہم مسلسل قحط سالی کا شکار ہیں ۔ اب اونٹ، گائیں ، گھوڑے، خچر اور گدھے سب کچھ ختم ہو چکے ہیں اور جانوروں پر بن آئی ہے۔ اس لیے ہماری یہ خشک سالی ختم فرما دے ہمیں زندگی اور سرسبزی اور شادابی عطا فرما دے
ابھی یہ دعا مانگ ہی رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔ وادیاں پانی سے بھر گئیں لیکن اس بارش میں ایک بہت عجیب بات ہوئی اور وہ عجیب بات یہ تھی کہ قریش کو یہ سیرابی ضرور حاصل ہوئی مگر یہ بارش قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کی قریبی بستیوں میں بالکل نہ ہوئی۔ اب لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کیا بات ہوئی۔ ایک قبیلے پر بارش اور آس پاس کے سب قبیلے بارش سے محروم۔ تمام قبیلوں کے سردار جمع ہوئے، اس سلسلے میں بات چیت شروع ہوئی۔ ایک سردار نے کہا۔
ہم زبردست قحط اور خشک سالی کا شکار ہیں جب کہ قریش کو اللہ تعالٰی نے بارش عطا کی ہے اور یہ عبد المطلب کی وجہ سے ہوا ہے اس لیے ہم سب ان کے پاس چلتے ہیں ، اگر وہ ہمارے لیے دعا کر دیں تو شاید اللہ ہمیں بھی بارش دے دے۔
یہ مشورہ سب کو پسند آیا، چنانچہ یہ لوگ مکہ معظمہ میں آئے اور عبد المطلب سے ملے۔ انہیں سلام کیا پھر ان سے کہا۔
اے عبد المطلب ہم کئی سال سے خشک سالی کے شکار ہیں ہمیں آپ کی برکت کے بارے میں معلوم ہوا ہے، اس لیے مہربانی فرما کر آپ ہمارے لیے بھی دعا کریں ، اس لیے کہ اللہ نے آپ کی دعا سے قریش کو بارش عطا کی ہے۔
ان کی بات سن کر عبد المطلب نے کہا۔
اچھی بات ہے میں کل میدان عرفات میں آپ لوگوں کے لیے بھی دعا کروں گا۔
دوسرے دن صبح سویرے عبد المطلب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ دوسرے لوگوں کے علاوہ ان کے بیٹے اور اللہ کے رسول ﷺ بھی تھے. عرفات کے میدان میں عبد المطلب کے لیے ایک کرسی بچھائی گئی۔ وہ اس پر بیٹھ گئے۔ نبی کریم ﷺ کو انہوں نے گود میں بٹھا لیا، پھر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی۔
اے اللہ، چمکنے والی بجلی کے پروردگار، اور کڑکنے والی گرج کے مالک، پالنے والوں کے پالنے والے، اور مشکلات کو آسان کرنے والے. یہ قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کے لوگ ہیں ، یہ بہت پریشان ہیں ، ان کی کمریں جھک گئی ہیں ، یہ تجھ سے اپنی لا چاری اور بے کسی کی فریاد کرتے ہیں اور جان و مال کی بربادی کی شکایت کرتے ہیں پس اے اللہ، ان کے لیے خوب برسنے والے بادل بھیج دے اور آسمان سے ان کے لیے رحمت عطا فرما تاکہ ان کی زمینیں سرسبز ہو جائیں اور ان کی تکالیف دور ہو جائیں۔
عبد المطلب ابھی یہ دعا کر ہی رہے تھے کہ ایک سیاہ بادل اٹھا، عبد المطلب کی طرف آیا اور اس کے بعد اس کا رخ قبیلہ قیس اور بنو مضر کی بستیوں کی طرف ہو گیا. یہ دیکھ کر عبد المطلب نے کہا۔
اے گروہ قیس اور مضر جاؤ تمہیں سیرابی حاصل ہو گی۔
چنانچہ یہ لوگ جب اپنی بستیوں میں پہنچے تو وہاں بارش شروع ہو چکی تھی۔
آپ ﷺ سات سال کے ہو چکے تھے کہ آپ ﷺ کی آنکھیں دکھنے کو آگئیں . مکہ میں آنکھوں کا علاج کرایا گیا لیکن افاقہ نہ ہوا۔ عبد المطلب سے کسی نے کہا۔
عکاظ کے بازار میں ایک راہب رہتا ہے وہ آنکھوں کی تکالیف کا علاج کرتا ہے۔
عبد المطلب آپ ﷺ کو اس کے پاس لے گئے۔ اس کی عبادت گاہ کا دروازہ بند تھا۔ انہوں نے اسے آواز دی۔ راہب نے کوئی جواب نہ دیا۔ اچانک عبادت گاہ میں شدید زلزلہ آیا.۔ راہب ڈر گیا کہ کہیں عبادت خانہ اس کے اوپر نہ گر پڑے۔ اس لئے ایک دم باہر نکل آیا۔
اب اس نے آپ ﷺ کو دیکھا تو چونک اٹھا۔ اس نے کہا۔
اے عبد المطلب۔ یہ لڑکا اس امت کا نبی ہے۔ اگر میں باہر نہ نکل آتا تو یہ عبادت گاہ ضرور مجھ پر گر پڑتی۔ اس لڑکے کو فوراً واپس لے جاؤ اور اس کی حفاظت کرو۔ کہیں یہودیوں یا عیسائیوں میں سے کوئی اسے قتل نہ کر دے۔
پھر اس نے کہا۔
اور رہی بات ان کی آنکھوں کی۔ تو آنکھوں کی دوا تو خود ان کے پاس موجود ہے۔
عبد المطلب یہ سن کر حیران ہوئے اور بولے۔
ان کے اپنے پاس ہے، میں سمجھا نہیں ۔ ہاں ۔ ان کا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگائیں۔
انہوں نے ایسا ہی کیا، آنکھیں فوراً ٹھیک ہو گئیں۔
پرانی آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ کی بہت سی نشانیاں لکھی ہوئی تھیں ۔ اس کی تفصیل بہت دلچسپ ہے۔
یمن میں ایک قبیلہ حمیر تھا۔ وہاں ایک شخص سیف بن یزن تھا۔ وہ سیف حمیری کہلاتا تھا۔ کسی زمانے میں اس کے باپ دادا اس ملک پر حکومت کرتے تھے لیکن پھر حبشیوں نے یمن پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ وہاں حبشیوں کی حکومت ہو گئی۔ستر سال تک یمن حبشیوں کے قبضے میں رہا، جب یہ سیف بڑا ہوا تو اس کے اندر اپنے باپ دادا کا ملک آزاد کرانے کی امنگ پیدا ہوئی، چنانچہ اس نے ایک فوج تیار کی۔ اس فوج کے ذریعے حبشیوں پر حملہ کیا اور انہیں یمن سے بھگا دیا۔ اس طرح وہ باپ دادا کے ملک کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گیا، وہاں کا بادشاہ بن گیا۔ یہ یمن عرب کا علاقہ تھا۔جب اس پر حبشیوں نے قبضہ کیا تھا تو عربوں کو بہت افسوس ہوا۔ 70 سال بعد جب یمن کے لوگوں نے حبشیوں کو نکال باہر کیا تو عربوں کو بہت خوشی ہوئی۔
ان کی خوشی کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انہی حبشیوں نے ابرہہ کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی تھی۔ چاروں طرف سے عربوں کے وفد سیف کو مبارک باد دینے کے لیے آنے لگے۔
قریش کا بھی ایک وفد مبارک دینے کے لیے گیا۔ اس وفد کے سردار عبد المطلب تھے۔ یہ وفد جب یمن پہنچا تو سیف اپنے محل میں تھا۔ اس کے سر پر تاج تھا، سامنے تلوار رکھی تھی اور حمیری سردار اس کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔ سیف کو قریش کے وفد کی آمد کے بارے میں بتایا گیا، اسے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ کس رتبے کے ہیں ۔ اس نے ان لوگوں کو آنے کی اجازت دے دی۔ یہ وفد دربار میں پہنچا۔ عبد المطلب آگے بڑھ کر اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ انہوں نے بات کرنے کی اجازت چاہی، سیف نے کہا۔
اگر تم بادشاہوں کے سامنے بولنے کے آداب سے واقف ہو تو ہماری طرف سے اجازت ہے۔
تب عبد المطلب نے کہا۔
اے بادشاہ، ہم کعبہ کے خادم ہیں ، اللہ کے گھر کے محافظ ہیں ، ہم آپ کو مبارکباد دینے آئے ہیں ۔ یمن پر حبشی حکومت ہمارے لیے بھی بوجھ بنی ہوئی تھی۔ آپ کو مبارک ہو، آپ کے اس کارنامے سے آپ کے بزرگوں کو بھی عزت ملے گی اور آنے والی نسلوں کو بھی وقار حاصل ہو گا۔
سیف ان کے الفاظ سن کر بہت خوش ہوا، بے اختیار بول اٹھا۔
اے شخص تم کون ہو، کیا نام ہے تمہارا؟
انہوں نے کہا۔
میرا نام عبد المطلب بن ہاشم ہے۔
سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا۔
تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو۔
عبد المطلب کی والدہ مدینے کے قبیلے خزرج کی تھیں اور خزرج کا قبیلہ دراصل یمن کا تھا۔ اس لیے سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا، تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو۔ پھر اس نے کہا۔
ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں ، آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں ۔
اس کے بعد قریش کے وفد کو سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرا دیا گیا۔ ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی۔ یہاں تک کہ ایک ماہ گزر گیا۔ ایک ماہ کی مہمان نوازی کے بعد سیف نے انہیں بلایا.۔ عبد المطلب کو اپنے پاس بلا کر اس نے کہا۔
اے عبد المطلب، میں اپنے علم کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز تمہیں بتا رہا ہوں ، تمہارے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں ہر گز نہ بتاتا، تم اس راز کو اس وقت تک راز ہی رکھنا جب تک کہ خود اللہ تعالٰی اس راز کو ظاہر نہ فرما دے. ہمارے پاس ایک پوشیدہ کتاب ہے وہ پوشیدہ رازوں کا ایک خزانہ ہے. ہم دوسروں سے اس کو چھپا کر رکھتے ہیں . میں نے اس کتاب میں ایک بہت عظیم الشان خبر اور ایک بڑے خطرے کے بارے میں پڑھ لیا ہے۔ اور وہ آپ کے بارے میں ہے۔
عبد المطلب یہ باتیں سن کر حد درجے حیرت زدہ ہوئے اور پکار اٹھے۔
میں سمجھا نہیں ، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔
سنو، عبد المطلب، جب تہامہ کی وادی یعنی مکہ میں ایسا بچہ پیدا ہو جس کے دونوں کندھوں کے درمیان بالوں کا گچھا (یعنی مہر نبوت) ہو تو اسے امامت اور سرداری حاصل ہو گی اور اس کی وجہ سے تمہیں قیامت تک کے لیے اعزاز ملے گا، عزت ملے گی۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
کتاب کا نام : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
مصنف : عبداللہ فارانی(عبد اللہ فارانی، ہفتہ وار رسالہ “بچوں کا اسلام” کے ایڈیٹر اشتیاق احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قلمی نام ہے)
براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں ۔ شکریہ