اس بیان میں حضرت ڈاکٹر طارق دامت برکاتہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات کے استعمال اور ان کے ترک کرنے کے موضوع پر گفتگو فرماتے ہیں۔ اس بیان میں اس مسئلے کی اہمیت اور اس حوالے سے شرعی و اخلاقی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
دینی معاملات میں کسی چیز کے واجب ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ مستند شرعی دلائل اور اہلِ علم کی رہنمائی کی روشنی میں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اس ویڈیو میں حضرت ڈاکٹر طارق دامت برکاتہم، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے کلام کی تشریح فرماتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کا کلام مسلمانوں کو خودی، ایمان، عمل، بلند حوصلے اور اسلامی تعلیمات سے وابستگی کا درس دیتا ہے۔ اس بیان میں کلامِ اقبال کے پیغام کو سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے اور اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اجتماع کی اختتامی دعا ایک پُرکیف اور روح پرور موقع ہوتا ہے، جب اہلِ ایمان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی، دین و دنیا کی بھلائی، ایمان و عافیت اور امتِ مسلمہ کی بہتری کے لیے دعا کرتے ہیں۔
اس ویڈیو میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ اجتماع کے اختتام پر دعا فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حاضری، عبادات، دینی کوششوں اور دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ہماری خطاؤں سے درگزر فرمائے اور ہمیں اخلاص کے ساتھ دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
یہ دعا خود بھی سنیں اور ثواب کی نیت سے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
بدبخت اور نیک بخت کی حقیقت کیا ہے؟ دنیا کی عارضی نعمتیں اور آخرت کی دائمی نعمتیں کس کے حصے میں آتی ہیں؟
اس مؤثر اور فکر انگیز بیان میں مفتی ارشاد حکیم صاحب قرآن و سنت کی روشنی میں واضح فرماتے ہیں کہ اصل کامیابی اور حقیقی خوش نصیبی کس کو نصیب ہوتی ہے۔ یہ بیان انسان کو دنیا کی حقیقت سمجھا کر آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے اور ایمان، تقویٰ اور عملِ صالح کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
دنیا کی زندگی عارضی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی دائمی ہے۔ حقیقی کامیابی اسی شخص کے حصے میں آتی ہے جو ایمان و عملِ صالح کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور آخرت سنوارنے کی فکر کرتا ہے۔ یہ بیان ہر اس شخص کے لیے مفید ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتا ہے۔
روژه صرف د لوږې او تندې نوم نه دی، بلکې دا د تقویٰ، صبر او نفس د اصلاح جامع نظام دی۔
اس ایمان افروز بیان میں ماسٹر عزیز احمد صاحب قرآنِ کریم کے عظیم پیغام کی روشنی میں روزے کی حقیقت، اس کے مقصد اور تقویٰ کے اثرات کو نہایت سادہ اور دل نشیں انداز میں بیان فرماتے ہیں۔
دا بیان انسان ته ښيي چې روژه څنګه د ګناهونو څخه د ځان ساتلو، د اخلاقو د سمون او د الله تعالیٰ د قرب حاصلولو وسیله ګرځي۔
روزے کا اصل مقصد صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں، بلکہ اپنے نفس کی اصلاح، گناہوں سے بچنا، صبر پیدا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ یہ بیان سنیں، اس پر عمل کریں اور ثواب کی نیت سے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
نعتِ رسول ﷺ — بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت و محبت کا نذرانہ۔
یہ نعت پروفیسر ڈاکٹر ندیم صاحب نے یک روزہ اجتماع، 5 فروری 2026ء کے موقع پر پیش کی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے، آپ ﷺ کی سنتِ مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق دے اور روزِ قیامت آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
پشتو زبان میں خوبصورت نعتِ رسول ﷺ، جس میں شاعر بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے روضۂ مبارک کی قربت کی آرزو بیان کرتا ہے۔
یہ نعت یک روزہ اجتماع، 5 فروری 2026ء کے موقع پر حافظ عبدالمعز صاحب نے پیش کی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سچی محبت نصیب فرمائے، آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور روزِ قیامت آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
نعتِ رسول ﷺ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے اظہار اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت و محبت پیش کرنے کا خوب صورت ذریعہ ہے۔
اس ویڈیو میں پروفیسر ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب یک روزہ اجتماع، منعقدہ 5 فروری 2026ء، کے موقع پر نعتِ رسول ﷺ پیش کر رہے ہیں۔ یہ بابرکت محفل محبتِ رسول ﷺ اور اسلامی تعلیمات سے وابستگی کے جذبے کو تازہ کرنے کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت نصیب فرمائے، آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور روزِ قیامت آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
نعت خواں: پروفیسر ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب موقع: یک روزہ اجتماع تاریخِ اجتماع: 5 فروری 2026ء ویڈیو نمبر: 119
ٹیکنالوجی موجودہ دور میں ملک و ملت کی ترقی، تعلیم کے فروغ اور معاشرتی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس بیان کے دوسرے حصے میں حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت اور اس کے مثبت استعمال کے حوالے سے قیمتی رہنمائی فرماتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کو دینی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرکے قوم کی تعمیر، علمی ترقی اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں، اساتذہ اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ جدید علوم و فنون سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی صلاحیتوں کو ملک و ملت کی بہتری اور امتِ مسلمہ کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔
یہ بیان ان تمام افراد کے لیے مفید ہے جو تعلیم، ٹیکنالوجی اور قومی ترقی کے باہمی تعلق کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
بیان سماعت فرمائیں اور اس کے پیغام کو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع حاصل کرنے اور اسے دین و ملت کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عنوانِ بیان: ٹیکنالوجی ملک و ملت کی ترقی کے لیے ایک اہم فریضہ ہے — حصہ دوم
مقرر: حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب دامت برکاتہم العالیہ