بائیکاٹ، مقامی معیشت، حماس کے موقف اور فلسطین کے مسئلے میں مسلمانوں کے کردار تک

تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم
علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔
تحریری وضاحت
یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔
فلسطین کی تاریخ — حصہ پنجم
بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان
میکڈونلڈ کے مفت برگر اور بائیکاٹ کی مثال
میکڈونلڈ میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، میرا بھائی گوجرانوالہ میں کام کرتا رہا، پنجاب میں وہ کام کرتا تھا مزدوری، اس کے ایک دوست ہے اس کے پاس تصویر بھیجی موبائل۔
اچھا جی، گوجرانوالہ کے اندر میکڈونلڈ والوں نے مفت برگر کا سٹال لگایا ہے۔
مفت!
اور ساتھ ایک آدمی کا ریڑا ہے، جو ہم ہمارے مزدور لگاتے ہیں برگر کا، وہ سو روپے کا بیچ رہا ہے۔
کوئی بندہ مفت لینے نہیں جا رہا، وہ سو والوں کے پاس سارے لوگ کھڑے ہیں۔
مجھے بڑی خوشی ہوئی، الحمدللہ اور گوجرانوالہ کے لوگ بڑے غیرتی ہیں بھائی، وہ قاضی حمید اللہ صاحب کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے وہ میرا تھان ریس میں، وہ بڑے غیرتی لوگ ہیں یہ۔
اور ماشاءاللہ مجھے بڑا بہت خوشی ہوئی کہ ماشاءاللہ ہمارے پنجاب کے بھائی انہوں نے ایک مثال قائم کی ہے کہ مفت اب یہودیوں کی چیز بٹ رہی ہے، وہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
دکانداروں اور مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی
ایسی محنت کریں، دکانداروں سے ملاقات کریں۔
ان کی رہنمائی کریں۔ دکانداروں کی ایک کانفرنس بلائیں۔
اور ان کو جو متبادل چیزیں ہیں، ان کی بریفنگ دیں۔
اور جتنی یہ متبادل چیزیں ہیں، ان کے مالکان تک ہماری ملکی سطح پر کوئی ایک وفد بن جائے۔
ملکی سطح پر ڈیرہ سے اگر ہم آغاز کریں، اپنے سارے ساتھیوں سے ہر ہر شہر میں رابطہ کرکے، یا صوبائی سطح پر جتنی کمپنیاں ہیں ان کے پاس جائیں ہم۔
کہ آپ ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔
ہمارا پیسہ آپ کی جیب میں آئے گا، ہم آپ کے لیے پوری تحریک چلائیں گے، لیکن آپ ہمارے ساتھ معاہدہ کریں گے کہ ان کافروں سے کم از کم اپنا معیار وہ اونچا رکھیں گے۔
کوالٹی اونچی رکھیں گے۔
آج جس کو ہم کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں جی یہ اپنی کوالٹی کمزور ہے۔
اور جو اس حوالے سے اسلامی تجارت کے اصول ہیں، خیانت، ملاوٹ، اس کی جو وعیدیں ہیں، اس کے لیے کوئی پروگرام بنائیں ہم، چھوٹی سطح پہ، جو چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں ہمارے ہاں چپس بناتی ہیں یا کوئی، ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ آپ اپنے کام کو بڑھائیں۔
اور ان کے جو فارمولے ہیں، اس سے اچھے فارمولے ہمارے لوگوں کے پاس موجود ہیں، لیکن چونکہ ان کی سیل زیادہ ہے۔
اس وجہ سے ہمارے لوگ وہ زیادہ اچھی اور معیاری چیز بناتے نہیں ہیں، کہ وہ پھر بکتی نہیں ہے ان کے مقابلے۔
تو ان کو کہیں گے کہ اس ممبر و محراب سے ان کی کمر ہم توڑیں گے، تعلیمی اداروں میں یہ شعور ہم دیں گے، آپ اپنے ملک کو اٹھاؤ۔
اپنی ملک کی معیشت کو اٹھاؤ، عزم کرو۔
جب ہماری اپنی چیزیں ان شاءاللہ میدان میں آئیں گی اور جو مسلمان ممالک کی چیزیں ہیں۔
ترکی اب اچھی چیزیں بنا رہا ہے، انڈونیشیا کی بڑی مارکیٹ میں اچھی چیزیں ہیں، ان کا تعارف کروائیں۔
اسکولوں، مدارس اور مساجد میں شعوری تربیت
تو ان شاءاللہ یہ اسکولوں کی سطح پر، یہ مقابلوں والی محنت، مدارس میں، مساجد میں اور اس طرح تاجروں کے ساتھ ملاقاتیں اور جن جن بھائیوں کے پاس ابھی تک شیزان تک پڑے ہوئے ہیں بھائی۔
وہ اور تو یہ آپس میں مجمع، مجمع ہے، کسی پہ تنقید نہیں ہے، کیونکہ ہم آپس میں نا عوام نہیں ہیں، اس لیے ہم کھل کے باتیں کر سکتے ہیں۔
میں اپنے تبلیغی مرکز جاتا ہوں نا کوہاٹ۔
تو کوہاٹ کے تبلیغی مرکز کے کینٹین میں میرے بھائی نے شیزان کے کارٹن دیکھے، وہ تو عوام ہیں۔
اس نے وہاں سے مجھے فون کیا بھائی نے اور چیخ رہا ہے، کہتا ہے ان کو کہو یہ ہٹاؤ ورنہ میں ابھی یہ ہنگامہ کھڑا کرتا ہوں۔
ٹھیک ہے، اب وہ تو سارے فدائی ہوتے ہیں، ان کو تو سمجھانا، میں نے فورا اپنے وفاق المدارس کے مسئول کو فون کیا، میں نے کہا مرکز کے بڑوں سے کہیں کہ ان چیزوں کو یہاں سے ہٹائیں، یہ کسی کا سر پھوڑ دیں گے یہاں یہ لڑکے۔
اب یہ نواقفیت میں انہوں نے لا کے رکھے ہوئے ہیں، اور وہ شیزان بیچ نہیں رہے، ان کے کارٹن پرانے پڑے ہوئے ہیں، جس پر شیزان کا اشتہار ہے، لکھا ہوا ہے۔
تو وہ سادگی میں رکھا ہوگا، تبلیغی بھائی ہمارے سیدھے سادے سے ہوتے ہیں، تو لیکن وہ اچھا دو ہفتے بعد اس نے مجھے پھر کہا کہ پھر پڑا ہوا ہے۔
پھر میں نے پھر گزارش کی کہ یار بڑوں سے کہیں کہ منع کریں صراحت کے ساتھ، اور وہ ان پڑھ ہیں بیچارے کینٹینوں والے، ان کو بتا دیں کہ یہ فوٹو دیکھ لو یہ فوٹو، یہ لگاؤ، اس فوٹو والی چیز یہاں نہیں رکھنی۔
ورنہ یہاں یہ۔
کوئی باقاعدہ ہنگامہ کھڑا کر دیں گے۔
تو یہ ہمارے ہاں بھی ابھی تک سادگی میں یہ چیزیں چل رہی ہیں۔
قادیانیت اور افریقہ میں سرگرمیاں
تو ہم محنت کریں، کوشش کریں، قادیانیت، یہ اسرائیل، اسرائیل کا دایاں بازو ہے دنیا میں اس وقت، دایاں بازو، عالم اسلام میں۔
اور افسوس یہ ہے کہ اسرائیل نے افریقہ میں قادیانیوں کا بہت بڑا جال بچھا دیا ہے۔
بہت بڑا۔
اور ہمارے لیے یہ المیہ ہے۔
ہمیں اس پر اٹھنا چاہیے اور اس کی کوشش کرنی چاہیے، میرا ایک دوست ہے۔
وہ میڈیسن کمپنی میں ہے۔
تنزانیہ گیا۔
اس نے کہا کہ میں نے اپنی کمپنی کے لیے اشتہار دیا، مقامی لوگوں کے لیے۔ تو سی وی آئی ایک حافظ کی۔ سی وی آئی ایک حافظ کی تو میں نے کہا کہ یہ حافظ کو رکھنا چاہیے۔
تو میں نے اس کو انٹرویو کے لیے کال کی، بلایا۔
جب اس کا انٹرویو میں نے لیا تو بڑا بڑے بڑا خوش ہوا، میں اردو جانتا تھا بندہ بھائی۔
افریقی بندہ اردو جانتا ہے۔
اچھا میں نے کہا کہ بھئی آپ کہاں پڑھے ہیں؟ پاکستان میں پڑھا ہوں، کہتا ہے اس سے تو اور خوشی ہوئی۔
کہ ہمارے مدارس کا پڑھا ہوا ہے، اس میں نے کہا کہاں پڑھا ہے جی؟ ربوہ میں پڑھا ہوں۔
تعلیمی ویزوں اور بیرونِ ملک دینی اداروں کا معاملہ
اب اس ساتھی نے مجھے پچھلے سال کہا کہ میں نے پانچ خاندانوں کو تیار کیا ہے، ایک ایک بچے کا ویزے اور اس کا خرچہ پانچ لاکھ ہے، آپ اپنے ادارے میں وہ کریں، میں ان کو بھیجتا ہوں تاکہ ہم اپنے لوگ تیار کر کے وہاں بھیجیں۔
یہاں تو سارے قادیانیوں کے اداروں کے پڑھے ہوئے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہی دین سکھا رہے ہیں۔
اب میں نے اپنے بڑوں سے رابطہ کیا، وفاق والوں سے تو افسوس یہ ہے کہ ہمارا وہی مشرف کے دور سے جو ڈیڈلاک چل رہا ہے، وہ ابھی تک چل رہا ہے۔
اور درمیان میں ہماری حکومت، جزوی حکومت بھی کچھ دور میں رہی، تو توقعات تھیں لیکن وقت شاید مختصر تھا۔
تو یہ ڈیڈ لاک ابھی تک قائم ہے ہمارا، اللہ کرے یہ ختم ہو جائے اور وہ لوگ پڑھنے کے لیے آئیں۔
اور کسی جگہ سے ہمیں اجازت نہ مل سکی تعلیمی ویزے کی۔
تو وہ بچے ابھی تک بس وہاں ہیں اور قادیانیوں کے پاس اجازتیں ہیں۔
میری اور آپ کی اجازت مشرف نے منسوخ کی ہوئی ہے، راستہ ہمارے لیے بند ہے۔
اسرائیل، قادیانیت اور پاکستان کے ادارے
تو اب وہاں قادیانیت اس سطح پر پھیلی ہوئی ہے کہ وہاں سے غریب غرباء بچوں کو اکٹھا کر کے، یہاں پڑھا کے اور جناب یہ پکی اسرائیلی ہیں، یہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں، یہی ہمارے وہ اداروں میں، میڈیا میں مختلف جگہوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، جو کبھی کبھی چونچلیں نکال کر اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔
لیکن الحمدللہ، ان شاءاللہ ہمیں اپنے اداروں کے ان غیور افسران اور نوجوانوں پر اعتماد ہے اور بہت الحمدللہ غلبہ ہمارا ہے۔
کہ وہ اپنے بانیان کے پیش کیے گئے مقدمے سے غداری نہیں ہونے دیں گے، ان شاءاللہ۔
ان شاءاللہ نہیں ہونے دیں گے، یہ ہماری امید ہے۔
یہ ظاہر ظاہر میں لوگ بکتے رہیں جو بکتے ہیں، بکواس کرتے رہیں، تو ان شاءاللہ یہ جو ہے وہ یہ کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
حماس کے اقدام کے بارے میں گفتگو
آخری بات، ایک بہت بڑا مغالطہ اس وقت یہ دیا جا رہا ہے کہ حماس کا یہ جو اقدام ہے۔
ہم اس میں زور و شور سے اس کی تائید کیوں کر رہے ہیں، ہم نے تو پہلے یاسر عرفات کی کی تھی اور پھر وہ بھی جناب کس سطح پر آ گیا تھا اور یہ وہ بہت ساری باتیں ہیں، لیکن میں ایک بات آپ سے عرض کرتا ہوں۔
حماس تو روز اول سے، وہ جس نظریے پر کھڑی ہے، وہ فلسطینیوں کے حقوق کی بجائے، وہ اپنی زمین کی واپسی کا مطالبہ کرتی ہے۔
وہ یہ نہیں کہتی کہ ہمیں حقوق دیے جائیں، وہ کہتے ہیں ہمیں اپنی زمین دی جائے جو ہماری زمین تھی۔
اور ظاہری بات ہے کہ وہ غاصب قوت ہے اسرائیل، وہ باہر سے مسلط کیے گئے ہیں، وہ لائے گئے ہیں۔
اصل زمین تو فلسطینیوں کی ہے، ان کا حق ہے۔
مزاحمت اور قومی ہیروز کی مثالیں
دنیا کے اندر جو بھی غاصب قوت کے خلاف اٹھتا ہے، دنیا کی تاریخ دیکھ لیں، ہر قوم میں ان کو ہیرو کہا جاتا ہے، اس کو فریڈم فائٹر کہا جاتا ہے۔
ہمارے، ہم نے کتنی جنگیں لڑی ہیں جو اب آج ہم حماس کو کہہ رہے ہیں کہ یہ بیوقوفی کر رہے ہیں، اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں تو ہم نے انگریزوں کے خلاف کتنی جنگیں لڑی ہیں؟ وہ سراج الدولہ سے شروع کرو۔
اور جو ٹیپو سلطان لڑا ہے، وہ جیت گیا تھا؟ وہ، وہ ناکام ہو گیا تھا، بظاہر۔
بظاہر تو ناکام ہو گیا، لیکن کیا ہم اس کو غدار لکھ لیں ہم؟
یہ یہاں جو ہمارے بزرگ لڑتے رہے، فقیر ایپی اور جناب حاجی صاحب ترنگزئی، سرحد میں لڑتے رہے، سلطان محمد کھرل، جو ہے وہ اس میں لڑتا رہا، پنجاب میں لڑتا رہا، شہید ہوا اور جناب یہ حروں کی جو پیر پگاڑا کے دادا تھے، سندھ میں لڑتے رہے، وہ جو ہے وہ گرفتار ہوئے، شہید ہوئے، کیا یہ ہم سب قومی ہیرو جو ہمارے ملک میں، ہمارے صوبوں میں لڑتے رہے انگریز کے خلاف، ہم ان کو غدار لکھ دیں کہ یہ ناکام ہو گئے تھے، بے وقوف تھے؟ معاذ اللہ۔
یہ کون سا فلسفہ ہے؟
بھائی، آپ ان کا تعاون نہیں کر سکتے، آپ ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے، تو کم از کم یہ بک بک تو نہ کریں یار۔
اب دیکھ رہے ہیں، آپ سن رہے ہیں، ہر دانشور اپنی دانشوری بگھارنے کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔
تو ہم حماس کی حمایت، وہ اپنا دینی، ایمانی فریضہ سمجھتے ہیں۔
اور حماس کے موقف سے پیچھے ہٹنا، اپنے دین کے ساتھ اور اپنے بانیان پاکستان کے نظریے اور پاکستان کے بنیادی تشخص اور اقدار کے ساتھ غداری سمجھتے ہیں۔
ہم اس کو غدار پاکستان سمجھتے ہیں، جو اس وقت کہتا ہے کہ حماس بے وقوف ہے، اور حماس جو ہے وہ احمق ہے، اور ان لوگوں نے ویسے ہی جنگ کھڑی کر کے فلسطین کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں۔
ارے بھئی وہ شیروں کی طرح سینہ تان کے میدانوں میں اتر رہے ہیں، اور ان پہ ادھر کپکپی طاری ہے؟
ان کی ٹانگیں ادھر کانپ رہی ہیں؟
بھئی آپ کو کیا ہے؟
آپ ان کے ساتھ لڑ نہیں سکتے، ان کے حق میں کوئی تعاون نہیں کر سکتے، ان کا مالی تعاون نہیں کر سکتے، ان کے لیے دعا نہیں کر سکتے، تو یہ اپنا منہ تو بند رکھ سکتے ہو؟ یہ بند کر دو۔
ان کے کاز کو نقصان تو نہ پہنچاؤ، حوصلے تو مسلمانوں کے پست نہ کرو، یہ 1400 سالہ تاریخ ہے مسلمانوں کی، اسلام کبھی بھی وہ ایسے پرامن حالات میں نہیں رہا، وہ ہمیشہ کرائسس سے اٹھا ہے۔
بحرانوں میں اسلام کی قوت
وہ کرائسس سے اٹھا ہے، وہ بحرانوں سے اٹھا ہے، بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ آئے تھے، ان کے سامنے کوئی کم بحران تھے؟
حضرت ابوبکر صدیق نے جس دن پہلے، پہلے دن وہ مسجد نبوی میں اپنی خلافت کا منصب سنبھال کے انہوں نے بیعت لی اور بیٹھے ہیں، اس دن کے کرائسس یاد ہیں آپ کو؟ کتنے کرائسس تھے؟
ان بحرانوں کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں؟ صحابہ فرماتے ہیں کہ ثقیف اور قریش کے علاوہ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں تھا جس میں مرتد نہ ہوگئے ہوں لوگ۔
سارا عرب ارتداد اس میں پھیل گیا سوائے دو قبیلوں کے، یہ کوئی کم بحران تھا؟
اسلام ہمیشہ اس نے اپنا رنگ، اپنی قوت، اپنی طاقت، اپنا معجزہ، ان کرائسس کے اندر دکھایا ہے۔
كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ، یہ اسی فلسطین کے اندر سے اٹھنے والے طالوت کے ساتھ اللہ کی مدد کا وعدہ تھا۔
یہ مہاجر کیمپ سے اٹھنے والی تحریک کے ساتھ اللہ کا وعدہ تھا، حماس بھی جبالیہ کے مہاجر کیمپ سے اٹھی ہوئی تحریک ہے۔
یہ بھی جبالیہ کے مہاجر کیمپ سے اٹھی ہوئی تحریک ہے اور ہمیں اللہ کی نصرت اور مدد پہ یقین ہے اس وعدے پہ۔
ان شاءاللہ یہ کم جماعتیں غالب آئیں گیں اور اگر کربلا برپا ہو گیا، وہ سارے شہید ہو گئے، کوئی پروا نہیں، ان شاءاللہ فلسطین کا اگر بچہ بچہ قربانی دے گا اور یہ اسرائیلی گھر گھر بھی گھس جائیں گے، ان شاءاللہ وہ گوریلا جنگ چھیڑے گی کہ نیتن یاہو اپنے پیدائش کے دن پہ لعنت کرے گا۔
احمد ابو قدامہ رحمتہ اللہ علیہ کا حوالہ
مجھے آج بھی خان یونس میں احمد ابو قدامہ رحمتہ اللہ علیہ کی وہ تقریب یاد ہے، اس نے کہا تھا اے نیتن یاہو! اپنے ارادوں سے باز آ جاؤ، باز آ جاؤ اپنے ارادوں سے، ورنہ ہم تل ابیب تک وہ جنگ برپا کریں گے کہ تو اپنے پیدا ہونے کے دن پہ لعنت کرے گا، اپنی ماں پہ لعنت کرے گا جس نے تجھے جنا ہے۔
وہ الفاظ اس شہید کے مجھے یاد ہیں۔
شیخ عبدالعزیز رنتیسی شہید کا حوالہ
شیخ یاسین کے جنازے پر شیخ عبدالعزیز رنتیسی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی تقریر مجھے یاد ہے، اس نے اپنے ساتھ گاڑ کے ہاتھ سے کلاشینکوف لے کر کہا تھا:
ہذا ھو الطریق، ہذا ھو الطریق، ہذا ھو الطریق!
ہاتھ بلند کریں آپ! ہذا ھو الطریق، ہذا ھو الطریق!
یہی راستہ ہے، یہودی نفسیات ہے، اس کے گردن پر آپ پاؤں رکھیں گے، یہ تیرے قدموں میں گرے گا، اس کو آپ رگڑیں گے، یہ تیرے قدموں میں گرے گا، اس کو آپ جو ہے روندیں گے، یہ تیرے قدموں میں گرے گا۔
خیبر کا دن
خیبر کا دن یاد کر لو، جب میرا نبی خیبر میں داخل ہو رہا تھا، کیا نعرہ تھا؟
اللہ اکبر! خَرِبَتْ خَيْبَرُ!
اللہ اکبر! خَرِبَتْ خَيْبَرُ!
اللہ اکبر! خَرِبَتْ خَيْبَرُ!
إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنذَرِينَ، ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بری ہوتی ہے، جن کے صحن میں ہم قدم رکھتے ہیں، آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متوالوں نے اسرائیل کے صحن میں قدم رکھا ہے، ان شاءاللہ ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بری ہوگی، بڑی بری ہوگی ان شاءاللہ، اللہ کے وعدوں پر یقین رکھے، بزدلی، بزدلی، ہیجڑاپن، بے غیرتی، یہ وہ جو چاروں طرف پڑے ہوئے ہیں، یہ ان کو زیب دیتی ہے، مجھے اور آپ کو زیب نہیں دیتی جو ہر حدیث کی کتاب میں کتاب الجہاد پڑھتے ہیں، جو قرآن پاک کی آیات جہاد پر ایمان رکھتے ہیں، جو یقین رکھتے ہیں، جس نے دنیا کے طاقتوں کو یہاں ناچتا ہوا دیکھا ہے اپنے پڑوس میں، اس کے سامنے یہ باتیں بے معنیٰ ہیں، یہ بزدلی کی باتیں ہیں، یہ بے غیرتی کی باتیں ہیں۔
ابابیل اور اللہ کی حفاظت
مجھے ایک دوست نے کہا کہ جناب چاروں طرف لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے اندر کوئی بیداری پیدا نہیں ہو رہی، میں نے کہا دیکھو ابراہا آیا تھا بیت اللہ پر حملہ کرنے کے لیے، مشرکین مکہ جنگجو لوگ تھے، لیکن اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت کا احسان مشرکین کا نہیں لیا، ابابیلوں سے وہ کام لیا، یہ اللہ کا گھر ہے، اس کی حفاظت یہ ہیجڑے اور بے غیرت اور دلے نہیں کریں گے، اس کی حفاظت اللہ کے وہ ابابیل کریں گے، اللہ کے وہ مجاہد کریں گے، جن کو اللہ چنے گا، اللہ ان لوگوں کو نہیں چنے گا اپنے گھر کی حفاظت کے لیے، تو ان شاءاللہ آپ کا اللہ کے وعدوں پر مجھ سے زیادہ مضبوط یقین اور ایمان ہے، ان شاءاللہ۔
معاشی تعاون اور ایک ڈالر کی مثال
یاد رکھیں، اسرائیل، فلسطین کے حماس کا بجٹ، اگر ہر مسلمان سال میں ایک ڈالر ان کو دے، ایک ڈالر، یہ خود حماس کے جو حکومت آئی تھی، اس کے وزیر خارجہ کا یہاں بیان تھا پاکستان میں، کہ اگر عالم اسلام کا ہر مسلمان ہمیں سال میں ایک ڈالر دے۔
ہماری معاشی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
ہمیں اسرائیل کے راستے بند کر دے وہ، معاشی بائیکاٹ کر دے، سارے راستے بند کر دے، ہمیں ضرورت نہیں پڑے گی، تو ان شاءاللہ عزم ہے نا ان شاءاللہ کہ سال میں ایک ڈالر تو پہنچائیں گے ان کو۔
ہر بندہ ایک ڈالر تو سال میں پہنچا سکتا ہے بھائی۔
آخری پیغام
اور ان شاءاللہ یہودی مصنوعات کی کمر توڑنی ہے، یہی ہمارا اس وقت میدان ہے اور اس میں ہم نے جم کے ان شاءاللہ کام کرنا ہے، وقت مکمل ہو گیا وما علینا الا البلاغ۔






