Tag: Seerah Series

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے ہاں برکتیں اور واقعۂ شقِ صدر

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے ہاں برکتیں اور واقعۂ شقِ صدر

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر 6

    اس زمانے میں عرب کا دستور یہ تھاکہ جب ان کے ہاں کوئی بچہ ہوتا تو وہ دیہات سے آنیوالی دائیوں کے حوالے کردیتے تھے تاکہ دیہات میں بچے کی نشوونمابہتر ہواوروہ خالص عربی زبان سیکھ سکے۔

    دائیوں کا قافلہ مکہ میں داخل ہوا۔ انہوں نے ان گھروں کی تلاش شروع کی جن میں بچے پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح بہت سی دائیاں جناب عبد المطلب کے گھر بھی آئیں ۔ نبی کریم ﷺ کو دیکھالیکن جب انہیں معلوم ہواکہ یہ بچہ تو یتیم پیدا ہواہے تو اس خیال سے چھوڑکر آگے بڑھ گئیں کہ یتیم بچے کے گھرانے سے انہیں کیاملے گا۔ اس طرح دائیاں آتی رہیں ، جاتی رہیں کسی نے آپ ﷺ  کو دودھ پلانامنظور نہ کیااور کرتیں بھی کیسے؟ یہ سعادت تو حضرت حلیمہؓ کے حصے میں آناتھی۔

    جب حلیمہ ؓ مکہ پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا، سب عورتوں کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیاہے اور اب صرف وہ بغیر بچے کے رہ گئیں ہیں اور اب کوئی بچہ باقی نہیں بچا، ہاں ایک یتیم بچہ ضرور باقی ہے جسے دوسری عورتیں چھوڑ گئیں ہیں ۔

    حلیمہ سعدیہؓ نے اپنے شوہر عبد اللہ ابن حارث سے کہا۔

    خدا کی قسم۔  مجھے یہ بات بہت ناگوار گزر رہی ہے کہ میں بچے کے بغیر جاؤں دوسری سب عورتیں بچے لے کر جائیں ، یہ مجھے طعنے دیں گے، اس لیے کیوں نہ ہم اسی یتیم بچے کو لے لیں ۔

    عبداللہ بن حارث بولے۔

    کوئی حرج نہیں ۔  ہوسکتا ہے، اللہ اسی بچے کے ذریعے ہمیں خیروبرکت عطا فرمادیں ۔

    چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا عبدالمطلب کے گھر گئیں ۔جناب عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔پھر آمنہ انہیں بچے کے پاس لے آئیں ۔آپ ﷺ  اس وقت ایک اونی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔وہ چادر سفید رنگ کی تھی۔آپ ﷺ  کے نیچے ایک سبز رنگ کا ریشمی کپڑا تھا۔آپ ﷺ  سیدھے لیٹے ہوئے تھے، آپ ﷺ  کے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ  کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں ۔آپ ﷺ  اس وقت سوئے ہوئے تھے، انہوں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔لیکن جونہی انہوں نے پیار سے اپنا ہاتھ آپ ﷺ  کے سینے پر رکھا، آپ ﷺ  مسکرادیے اور آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔


    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔

    میں نے دیکھا، آپ ﷺ  کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا، میں نے آپ کو گود میں اٹھا کر آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ پر پیار کیا۔پھر میں نے آپ ﷺ  کی والدہ اور عبدالمطلب سے اجازت چاہی، بچے کو لئے قافلے میں آئی۔میں نے

    آپ ﷺ  کو دودھ پلانے کے لیے گود میں لٹایا  تو آپ ﷺ  دائیں طرف سے دودھ پینے لگے۔  پہلے میں نے بائیں طرف سے دودھ پلانا چاہا۔  لیکن آپ ﷺ  نے اس طرف سے دودھ نہ پیا، دائیں طرف سے آپ ﷺ  فوراً دودھ پینے لگے۔بعد میں بھی آپ ﷺ  کی یہی عادت رہی، آپ ﷺ  صرف دائیں طرف سے دودھ پیتے رہے، بائیں طرف سے میرا بچہ دودھ پیتا رہا۔

    پھر قافلہ روانہ ہوا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔

    میں اپنے خچر پر سوار ہوئی۔آپ کو ساتھ لے لیا۔اب جو ہمارا خچر چلا تو اس قدر تیز چلا کہ اس نے پورے قافلے کی سواریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔پہلے وہ مریل ہونے کی بنا پر سب سے پیچھے رہتا تھا۔میری خواتین ساتھی حیرانگی سے مخاطب ہوئیں ۔

    اے حلیمہ! یہ آج کیا ہورہا ہے، تمہارا خچر اس قدر تیز کیسے چل رہا ہے، کیا یہ وہی خچر ہے، جس پر تم آئیں تھیں اور جس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل تھا؟

    جواب میں میں نے  ان سے کہا۔

    بےشک۔   یہ وہی خچر ہے، اللہ کی قسم۔ اس کا معاملہ عجیب ہے۔

    پھر یہ لوگ بنو سعد کی بستی پہنچ گئے، ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔

    اس شام جب ہماری بکریاں چر کر واپس آئیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے تھے جب کہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ان میں سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا۔ہم نے اس دن اپنی بکریوں کا دودھ دوہا تو ہمارے سارے برتن بھرگئے اور ہم نے جان لیا کہ یہ ساری برکت اس بچے کی وجہ سے ہے۔آس پاس کی عورتوں میں بھی یہ بات پھیل گئی، ان کی بکریاں بدستور بہت کم دودھ دے رہی تھیں ۔

    غرض ہمارے گھر میں ہر طرف، ہر چیز میں برکت نظر آنے لگی۔دوسرے لوگ تعجب میں رہے۔اس طرح دو ماہ گزر گئے۔دو ماہ ہی میں آپ ﷺ  چلنے پھرنے لگے۔آپ ﷺ  آٹھ ماہ کے ہوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپ ﷺ  کی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں ۔نو ماہ کی عمر میں تو آپ ﷺ  بہت صاف گفتگو کرنے لگے۔

    اس دوران آپ ﷺ  کی بہت سی برکات دیکھنے میں آئیں ۔حلیمہ سعدیہؓ  فرماتی ہیں

    جب میں آپ ﷺ  کو اپنے گھر لے آئی تو بنو سعد کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا۔جس سے مشک کی خوشبو نہ آتی ہو، اس طرح سب لوگ آپ ﷺ  سے محبت کرنے لگے ۔جب ہم نے آپ ﷺ  کا دودھ چھڑایا تو آپ ﷺ  کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے

    اللہ اکبرکبیرا  والحمدللہ کثیرا   وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا

    یعنی اللہ تعالٰی بہت بڑاہے، اللہ تعالی کے لئے بے حد تعريف ہے، اور اس کےلئے صبح وشام پاکی ہے ۔

    پھر جب آپ ﷺ دو سال کے ہو گئے تو ہم آپ

    ﷺ  کو لےکر آپ ﷺ  کی والدہ کے پاس آئے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد بچوں کو ماں باپ کے حوالہ کردیا جاتاتھا ۔ادھر ہم آپ ﷺ کی برکات دیکھ چکےتھے اور ہماری آرزو تھی کہ ابھی آپﷺ  کچھ اور مدت ہمارے پاس رہیں ، چنانچہ ہم نے اس بارے میں آپ ﷺ  کی والدہ سے بات کی، ان سے یوں کہا۔

    آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بچےکو ایک سال اوراپنے پاس رکھیں ، میں ڈرتی ہوں ، کہیں اس پر مکہ کی بيماريوں اور آب و ہوا کااثر نہ ہوجائے ۔

    جب ہم نے ان سے باربار کہا تو حضرت آمنہ مان گئیں اورہم آپ ﷺ  کو پھر اپنے گھر لے آئے۔جب آپ ﷺ  کچھ بڑے ہو گئے تو باہر نکل کر بچو ں کو دیکھتے تھے ۔وہ آپ ﷺ  کو کھیلتے نظر آتے، آپ ﷺ  ان کے نزدیک نہ جاتے، ایک روز آپ ﷺ  نے مجھ سے پو چھا۔

    امی جان ۔  کیا بات ہے دن میں میرے بھائی بہن نظر نہیں آتے؟ آپ ﷺ  اپنے دودھ شریک بھائی عبداللہ اور بہنوں انیسہ اور شیما کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ; میں نے آپ ﷺ  کو بتایا،  وہ صبح سویرے بکریاں چرانے جاتےہیں ،  شام کے بعد گھر آتے ہیں ۔  یہ جان کر آپ ﷺ  نے فرمایا۔

    تب مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا کریں۔

    اسکے بعد آپ ﷺ  اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ جانے لگے ۔آپ ﷺ  خوش خوش جاتے اور واپس آتے، ایسے میں ایک دن میرے بچے خوف زدہ  انداز میں دوڑتے ہوئے آئے اور گھبرا کر بولے۔

    امی جان۔  جلدی چلئے۔   ورنہ بھائی محمد ﷺ ختم ہو جائیں گے۔

    یہ سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے، دوڑ کر وہاں پہنچے، ہم نے آپ ﷺ  کو دیکھا، آپ ﷺ  کھڑے ہوئے تھے، رنگ اڑا ہوا تھا، چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی ۔  اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ ﷺ  کو سینہ چاک کئے جانے سے کوئی تکلیف ہوئی تھی بلکہ ان فرشتوں کو دیکھ کر آپ ﷺ  کی حالت ہوئی تھی۔

    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، ہم نے آپ ﷺ  سے پوچھا۔

    کیا ہوا تھا؟

    آپ ﷺ  نے بتایا۔

    “میرے پاس دو آدمی آئے تھے ۔ وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔  (وہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے) ان دونوں میں سے ایک نے کہا۔کیا یہ وہی ہیں ؟

    دوسرے نے جواب دیا۔  ہاں یہ وہی ہیں۔

    پھر وہ دونوں میرے قریب آئے، مجھے پکڑا اور لٹادیا ۔  اس کے بعد انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے کوئی چیز تلاش کرنے لگے ۔ آخر انہیں وہ چیز مل گئی اور انہوں نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا، میں نہیں جانتا   وہ کیا چیز تھی۔

    اس چیز کے بارے میں دوسری روایات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ سا تھا ۔ یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ہے۔

    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، پھر ہم آپ ﷺ  کو گھر لے آئے ۔  اس وقت   میرے شوہر عبد اللہ بن حارث نے مجھے سے کہا۔

    حلیمہ! مجھے ڈر ہے، کہیں اس بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس لیے اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔

    میں نے کہا، ٹھیک ہے، پھر ہم آپ ﷺ  کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے ۔  جب میں مکہ کے بالائی علاقے میں پہنچی تو آپ  ﷺ اچانک غائب ہوگئے ۔  میں حواس باختہ ہوگئی۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6 | قدم بہ قدم

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6 | قدم بہ قدم

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ

    الحمدللہ! اس سلسلے میں سیرت النبی ﷺ کو معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کی مدد سے ہم رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوت و تبلیغ کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات و اہم واقعات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔

    اس کا مقصد سیرتِ طیبہ ﷺ کو سمجھنا، آپ ﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنا اور اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا ہے۔

    📌 اگر آپ کو یہ سلسلہ پسند آئے تو ویڈیو کو لائک کریں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 بیل آئیکن دبائیں تاکہ سلسلے کی نئی اقساط سے باخبر رہیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    English Description:

    Seerat-un-Nabi ﷺ Series | Step by Step

    Alhamdulillah, this series presents the life and teachings of Prophet Muhammad ﷺ step by step, drawing upon the well-known book Seerat-un-Nabi ﷺ Qadam Ba Qadam by Abdullah Farani.

    The series aims to help viewers understand the blessed life of the Prophet ﷺ in a simple, organized, and accessible way. Topics include his blessed birth, life in Makkah, the beginning of prophethood, the stages of preaching, migration to Madinah, major events and battles, the Conquest of Makkah, the Farewell Hajj, and his passing ﷺ.

    May Allah Almighty enable us to understand the Seerah of the Prophet ﷺ and follow his Sunnah in our daily lives. Ameen.

    Please like, share, and subscribe to the channel for more episodes.

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_تعلیمات #مکہ_مکرمہ #مدینہ_منورہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicBook #IslamicHistory #MuhammadPBUH

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  5

    ملک شام کاایک یہودی عیص مکہ سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا۔وہ جب بھی کسی کام سے مکہ آتا، وہاں کے لوگوں سے ملتا تو ان سے کہتا۔

    بہت قریب کے زمانے میں تمہارے درمیان ایک بچہ پیدا ہوگا، سارا عرب اس کے راستے پر چلے گا۔ اس کے سامنے ذلیل اور پست ہوجائے گا۔وہ عجم اور اس کے شہروں کا بھی مالک ہوجائے گا۔یہی اس کا زمانہ ہے۔جو اس کی نبوت کے زمانے کو پائے گا اور اس کی پیروی کرے گا، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔جس خیر اور بھلائی کی وہ امید کرتاہے، وہ اس کو حاصل ہوگی اور جو شخص اس کی نبوت کا زمانہ پائے گا مگر اس کی مخالفت کرے گا، وہ اپنے مقصد اور آرزوؤں میں ناکام ہوگا۔

    مکہ معظمہ میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا، وہ یہودی اس بچے کے بارے میں تحقیق کرتا اور کہتا، ابھی وہ بچہ پیدا نہیں ہوا۔آخر جب نبی کریم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو عبدالمطلب اپنے گھر سے نکل کر اس یہودی کے پاس پہنچے۔اس کی عبادت گاہ کے دروازے پر پہنچ کر انہوں آواز دی۔عیص نے پوچھا۔

    کون ہے؟

    انہوں نے اپنا نام بتایا۔پھر اس سے پوچھا۔

    تم اس بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

    اس نے انہیں دیکھا، پھر بولا۔

    ہاں ! تم ہی اس کے باپ ہوسکتے ہو، بےشک وہ بچہ پیدا ہوگیا ہے جس کے بارے میں ، میں تم لوگوں سے کہا کرتا تھا۔وہ ستارہ آج طلوع ہوگیا ہے جو اس بچے کی پیدائش کی علامت ہے۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت اس بچے کو درد ہورہا ہے، یہ تکلیف اسے تین دن رہے گی، اور اس کے بعد یہ ٹھیک ہوجائے گا۔

    راہب نے جو یہ کہا تھا کہ بچہ تین دن تک تکلیف میں رہے گا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے تین دن تک دودھ نہیں پیا تھا اور یہودی نے جو یہ کہا تھا کہ ہاں ! آپ ہی اس کے باپ ہوسکتے ہیں ، اس سے یہ مراد ہے کہ عربوں میں دادا کو بھی باپ کہہ دیا جاتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک بار خود فرمایا تھا۔

    میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔

    یہودی نے عبدالمطلب سے یہ بھی کہا تھا۔

    اس بارے میں اپنی زبان بند رکھیں ، یعنی کسی کو کچھ نہ بتائیں ، ورنہ لوگ اس بچے سے زبردست حسد کریں گے، اتنا حسد کریں گے کہ آج تک کسی نے نہیں کیا اور اس کی اس قدر سخت مخالفت ہوگی کہ دنیا میں کسی اور کی اتنی مخالفت نہیں ہوئی۔

    پوتے کے متعلق یہ باتیں سن کر عبدالمطلب نے عیص سے پوچھا۔

    اس بچے کی عمر کتنی ہوگی؟

    یہودی نے اس سوال کے جواب میں کہا۔

    اگر اس بچے کی عمر طبعی ہوئی تو بھی ستر سال تک نہیں ہوگی۔بلکہ اس سے پہلے ہی 61 یا 63 سال کی عمر میں وفات ہوجائے گی اور اس کی امت کی اوسط عمر بھی اتنی ہوگی، اس کی پیدائش کے وقت دنیا کے بت ٹوٹ کر گر جائیں گے۔

    یہ ساری علامات اس یہودی نے گزشتہ انبیاء کی پیش گوئیوں سے معلوم کی تھیں اور سب سب بالکل سچ ثابت ہوئیں ۔

    قریش کے کچھ لوگ عمرو بن نفیل اور عبداللہ بن جحش وغیرہ ایک بت کے پاس جایا کرتے تھے۔یہ اس رات بھی اس کے پاس گئے، جس رات آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔انہوں نے دیکھا وہ بت اوندھے منہ گرا پڑا ہے۔ان لوگوں کو یہ بات بری لگی، انہوں نے اس کو اٹھایا، سیدھا کردیا مگر وہ پھر گرگیا۔انہوں نے پھر اس کو سیدھا کیا، وہ پھر الٹا ہوگیا۔ان لوگوں کو بہت حیرت ہوئی، یہ بات بہت عجیب لگی۔تب اس بت سے آواز نکلی۔

    یہ ایک ایسے بچے کی پیدائش کی خبر ہے، جس کے نور سے مشرق اور مغرب میں زمین کے تمام گوشے منور ہوگئے ہیں ۔

    بت سے نکلنے والی آواز نے انہیں اور زیادہ حیرت زدہ کردیا۔

    اس کے علاوہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایران کے شہنشاہ کسریٰ نوشیرواں کا محل ہلنے لگا اور اس میں شگاف پڑگئے۔نوشیرواں کا یہ محل نہایت مضبوط تھا۔بڑے بڑے پتھروں اور چونے سے تعمیر کیا گیا تھا۔اس واقعے سے پوری سلطنت میں دہشت پھیل گئی۔شگاف پڑنے سے خوفناک آواز بھی نکلی تھی۔محل کے چودہ کنگرے ٹوٹ کر نیچے آگرے تھے۔

    آپ کی پیدائش پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ فارس کے تمام آتش کدوں کی وہ آگ بجھ گئی جس کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کو بجھنے نہیں دیتے تھے، لیکن اس رات میں ایک ہی وقت میں تمام کے تمام آتش کدوں کی آگ آناً فاناً بجھ گئی۔آگ کے پوجنے والوں میں رونا پیٹنا مچ گیا۔

    کسریٰ کو یہ تمام اطلاعات ملیں تو اس نے ایک کاہن کو بلایا۔اس نے اپنے محل میں شگاف پڑنے اور آتش کدوں کی آگ بجھنے کے واقعات اسے سناکر پوچھا۔

    آخر ایسا کیوں ہورہا ہے۔

    وہ کاہن خود تو جواب نہ دے سکا، تاہم اس نے کہا۔

    ان سوالات کے جوابات میرا ماموں دے سکتا ہے، اس کا نام سطیح ہے ۔

    نوشیرواں نے کہا

    ٹھیک ہے، تم جا کر ان سوالات کے جوابات لاؤ۔

    وہ گیا، سطیح سے ملا، اسے یہ واقعات سنائے، اس نے سن کر کہا۔

    ایک عصا والے نبی ظاہر ہوں گے جو عرب اور شام پر چھا جائیں گے اور جو کچھ ہونے والا ہے، ہو کر رہے گا۔

    اس نے یہ جواب کسریٰ کو بتایا ۔ اس وقت تک کسریٰ نے دوسرے کاہنوں سے بھی معلومات حاصل کر لی تھیں ، چنانچہ یہ سن کر اس نے کہا۔

    تب پھر ابھی وہ وقت آنے میں دیر ہے۔ (یعنی ان کا غلبہ میرے بعد ہو گا)

    پیدائش کے ساتویں دن عبدالمطلب نے آپﷺ  کا عقیقہ کیا اور نام  “محمد”   رکھا۔ عربوں میں اس سے پہلے یہ نام کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ قریش کو یہ نام عجیب سا لگا۔چنانچہ کچھ لوگوں نے عبدالمطلب سے کہا۔

    اے عبدالمطلب! کیا وجہ ہے کہ تم نے اس بچے کا نام اس کے باپ دادا کےنام پر نہیں رکھا بلکہ محمد رکھا ہے اور یہ نام نہ تمہارے باپ دادا میں سے کسی کا ہے نہ تمہاری قوم میں سے کسی کا ہے۔

    عبدالمطلب نے انہیں جواب دیا۔

    میری تمنا ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ اس بچے کی تعریف فرمائیں اور زمین پر لوگ اس کی تعریف کریں ۔

    محمد کے معنی ہیں جس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے۔

    اسی طرح والدہ کی طرف سے آپ کا نام احمد رکھا گیا۔ احمد نام بھی اس سے پہلے کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ مطلب یہ کہ ان دونوں ناموں کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی اور کوئی بھی یہ نام نہ رکھ سکا۔ احمد کا مطلب ہے سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔

    علامہ سہیلی نے لکھا ہے آپ ﷺ  احمد پہلے ہیں اور محمد بعد میں ۔ یعنی آپ ﷺ  کی تعریف دوسروں نے بعد میں کی، اس سے پہلے آپ ﷺ  کی شان یہ ہے کہ آپ ﷺ  اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ حمد و ثنا کرنے والے ہیں ۔ پرانی کتابوں میں آپ ﷺ  کا نام احمد ذکر کیا گیا ہے۔

    اپنی والدہ کے بعد آپ ﷺ  نے سب سے پہلے ثوبیہ کا دوھ پیا، ثوبیہ نبی کریم ﷺ کے چچا  ابو لہب کی باندی تھیں ۔ ان کو ابولہب نے آپ ﷺ  کی پیدائش کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا۔ ثوبیہ نے آپ ﷺ  کو چند دن تک دودھ پلایا۔ انہی دنوں ثوبیہ کے ہاں اپنا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ آپ ﷺ  کی والدہ نے آپ ﷺ  کو صرف نو دن تک دودھ پلایا۔ انکے بعد ثوبیہ نے پلایا۔ پھر دودھ پلانے کی باری حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی آئی۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اپنی بستی سے روانہ ہوئیں ۔ ان کے ساتھ ان کا دودھ پیتا  بچہ اور شوہر بھی تھے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا دوسری عورتوں کے بعد مکہ میں داخل ہوئیں ۔ ان کا خچر بہت کمزور اور مریل تھا ۔ ان کے ساتھ ان کی کمزور اور بوڑھی اونٹنی تھی۔ وہ بہت آہستہ چلتی تھی۔ ان کی وجہ سے حلیمہ رضی اللہ عنہا قافلے سے بہت پیچھے رہ جاتی تھیں ۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ سب سے آخر میں مکہ میں داخل ہوئیں ۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5 | قدم بہ قدم

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5 | قدم بہ قدم

    الحمدللہ! اس سلسلے میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک سیرت کو مرحلہ وار پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب میں سیرتِ طیبہ ﷺ کو آسان، جامع اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ قارئین اور سامعین رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوتِ اسلام، مخالفت کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتحِ مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے اہم واقعات کا مطالعہ کیا جائے گا۔

    اس سلسلے کا مقصد صرف سیرت کے واقعات سے واقف ہونا نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی سے رہنمائی حاصل کرنا اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔

    📌 ویڈیو پسند آئے تو اسے لائک اور شیئر کریں، اور مزید اقساط سے مستفید ہونے کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 نئی اقساط کی اطلاع حاصل کرنے کے لیے بیل آئیکن دبائیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سمجھنے، اس سے سبق حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    English Description:

    Alhamdulillah! This is the fifth episode of the Seerat-un-Nabi ﷺ series, Step-by-Step Complete Biography of the Messenger of Allah ﷺ, based on the well-known book by Abdullah Farani.

    This series presents the blessed life of Prophet Muhammad ﷺ in a simple, clear, and accessible manner. It aims to help viewers understand the major events of his life and draw practical guidance from his noble character, teachings, and Sunnah.

    May Allah Almighty enable us to understand the Seerah of His beloved Messenger ﷺ and follow his Sunnah in our daily lives. Ameen.

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_تعلیمات #سیرت_النبی_قسط_5 #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicHistory

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 4 | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ | خالد محمود

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 4 | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ | خالد محمود

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس ایمان افروز سلسلے کی چوتھی قسط پیشِ خدمت ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو آسان، جامع اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ قارئین اور ناظرین سیرتِ طیبہ ﷺ کو مرحلہ وار سمجھ سکیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوتِ اسلام، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتحِ مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے اہم موضوعات کا مطالعہ کیا جائے گا۔

    اس سلسلے کا مقصد سیرتِ رسول ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنا، آپ ﷺ کی تعلیمات کو سمجھنا اور اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا ہے۔

    📌 ویڈیو پسند آئے تو اسے لائک کریں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 بیل آئیکن دبائیں تاکہ سیرت النبی ﷺ کی نئی اقساط سے باخبر رہ سکیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریم ﷺ #حضرت_محمد ﷺ #اسلامی_تعلیمات #اسلامی_تاریخ #مکہ_مکرمہ #مدینہ_منورہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicHistory #IslamicEducation

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 3 | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ | خالد محمود

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 3 | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ | خالد محمود

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ — قسط نمبر 3

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس ایمان افروز سلسلے کی تیسری قسط پیش کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوت و تبلیغ کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے اہم موضوعات بیان کیے جائیں گے۔

    سیرتِ طیبہ ﷺ کا مطالعہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے مبارک اسوہ، اعلیٰ اخلاق، صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اس سلسلے کے ذریعے سیرتِ رسول ﷺ کو آسان انداز میں سمجھا جائے اور اس کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

    📌 اگر آپ کو یہ دینی کاوش پسند آئے تو ویڈیو کو لائک کریں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید اسلامی مواد کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_تعلیمات #اسلامی_کتاب #اسلامی_تاریخ #مکہ_مکرمہ #مدینہ_منورہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicHistory

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 2 | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ | خالد محمود

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 2 | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ | خالد محمود

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ — قسط نمبر 2

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس خوبصورت اور ایمان افروز سلسلے کی دوسری ویڈیو پیش کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوت و تبلیغ کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے اہم موضوعات بیان کیے جائیں گے۔

    اس سلسلے کا مقصد سیرتِ طیبہ ﷺ کو سمجھنا، آپ ﷺ کی مبارک زندگی سے رہنمائی حاصل کرنا اور اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا ہے۔

    تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس سلسلے کو توجہ سے دیکھیں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید دینی مواد کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #حضرت_محمدﷺ #نبی_کریمﷺ #عبداللہ_فارانی #اسلامی_تعلیمات #اسلامی_تاریخ #مکہ_مکرمہ #مدینہ_منورہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #SeerahQadamBaQadam #AbdullahFarani #ProphetMuhammadPBUH #LifeOfProphet #IslamicHistory #IslamicEducation

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 1 | نسبِ رسول ﷺ اور کنویں زمزم کی دوبارہ کھدائی

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 1 | نسبِ رسول ﷺ اور کنویں زمزم کی دوبارہ کھدائی

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر 1

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ١۲ بیٹے تھے ۔ ان کی نسل اس قدر ہوئی کہ  مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی ۔ان کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں عدنان ہوئے ۔ عدنان کے بیٹے معد اور پوتے کا نام نزار تھا۔ نزار کے چار بیٹے تھے ۔ ان میں سے ایک کا نام مضر تھا ۔ مضر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے۔  یہ فہر بن مالک بھی کہلائے ۔ قریش کی اولاد بہت ہوئی ۔ ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی ۔ ان کی اولاد سے قصیّ نے اقتدار حاصل کیا ۔ قصیّ کے آگے تین بیٹے ہوئے ۔ ان میں سے ایک عبد مناف تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے ۔

    ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی۔   ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ۔  اس کا نام شیبہ رکھا گیا  ۔ یہ پیدا ہی ہوا تھا کہ ہاشم کا انتقال ہوگیا- ان کے بھائی مطلّب مکہ کے حاکم ہوئے ۔  ہاشم کا بیٹا مدینہ منورہ میں پرورش پاتا  رہا ۔  جب مطلّب کو معلوم ہوگیا کہ وہ جوان ہوگیا ہے تو بھتیجے کو لینے کے لیے خود مدینہ گئے ۔ اسے لے کر  مکہ مکرمہ پہنچے تو لوگوں نے خیال کیا  کہ یہ نوجوان ان کا غلام ہے ۔  مطلّب نے لوگوں کو بتایا ۔  یہ ہاشم کا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے ۔اس کے باوجود لوگوں نے اسے مطلّب کا غلام ہی کہنا شروع کردیا – اس طرح شیبہ کو عبدالمطلب کہا جانے لگا – انہی عبدالمطلب کے یہاں ابوطالب،  حمزہ، عبّاس،  عبداللہ،   ابولہب،  حارث،  زبیر،  ضرار، اور عبدالرحمٰن  پیدا ہوئے۔  ان کے بیٹے عبداللہ سے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے۔

    عبدالمطلب کے تمام بیٹوں میں حضرت عبداللہ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ پاکدامن تھے ۔ عبدالمطلب کو خواب میں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا گیا   یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے کنویں کو  اس کنویں کو قبیلہ جرہم کے سردار مضاض نے پاٹ دیا تھا ۔  قبیلہ جرہم کے لوگ اس زمانہ میں مکہ کے سردار تھے  بیت اللہ کے نگراں تھے ۔  انہوں نے بیت اللہ کی بے حرمتی شروع کردی ۔  ان کا سردار مضاض بن عمرو تھا ۔ وہ اچھا آدمی تھا  اس نے اپنے قبیلے کو سمجھایا کہ بیت اللہ کی بے حرمتی نہ کرو مگر ان پر اثر نہ ہوا  ۔  جب مضاض نے دیکھا کہ ان پر کوئی اثر نہ ہوا  تو قوم کو اس کے حال پر چھوڑ کر وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے تمام مال و دولت تلواریں اور زرہیں وغیرہ خانۂ کعبہ سے نکال کر زمزم کے کنویں میں ڈالدیں اور مٹی سے اسکو پاٹ دیا ۔ کنواں اس سے پہلے ہی خشک ہوچکا تھا۔

    اب اس کا نام و نشان مٹ گیا ۔  مدتوں یہ کنواں بند پڑا رہا اس کے بعد بنو خزاعہ نے بنو جرہم کو وہاں سے مار بھگایا ۔بنو خزاعہ اور قصیّ کی سرداری کا زمانہ اسی حالت میں گذرا ۔کنواں بند رہا یہاں تک کہ قصیّ کے بعد عبدالمطلب کا زمانہ آگیا۔  انہوں نے خواب دیکھا ۔ خواب میں انہیں زمزم کے کنویں کی جگہ دکھائی گئی اور اس کے کھودنے کا حکم دیا گیا۔

    حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ عبدالمطلب نے بتایا :

    ” میں حجر اسود کے مقام پر سورہا تھا کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا ۔  اس نے مجھ سے کہا “طیبہ کو کھودو “

    میں نے اس پوچھا “طیبہ کیا ہے؟”

    مگر وہ کچھ بتائے بغیر چلاگیا ۔  دوسری دفعہ رات پھر خواب میں وہی شخص آیا ” کہنے لگا “برہ کو کھودو “

    میں نے پوچھا “برّہ کیا ہے” وہ کچھ بتائے بغیر چلا گیا۔

    تیسری رات،  میں اپنے بستر پر سورہا تھا کہ پھر وہ شخص خواب میں آیا ۔  اُس نے کہا ” مضنونہ کھودو “

    میں نے پوچھا ” مضنونہ کیا ہے؟” وہ بتائے بغیر چلا گیا۔

    اس سے اگلی رات میں پھر بستر پر سورہا تھا کہ وہی شخص پھر آیا اور بولا “زم زم کھودو ” میں نے اس سے پوچھا “زم زم کیا ہے؟ ” اس بار اس نے کہا:

    ” زمزم وہ ہے جس کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا، جو حاجیوں کے بڑے بڑے مجموعوں کو سیراب کرتا ہے “

    عبدالمطلب کہتے ہیں ، میں نے اس سے پوچھا

    “یہ کنواں کس جگہ ہے؟ “

    اس نے بتایا ۔

    “جہاں گندگی اور خون پڑا ہے، اور کوّا ٹھونگیں مار رہا ہے۔”

    دوسرے دن عبدالمطلب اپنے بیٹے حارث کے ساتھ وہاں گئے ۔  اس وقت ان کے یہاں یہی ایک لڑکا تھا ۔  انہوں نے دیکھا وہاں گندگی اور خون پڑا تھا اور ایک کوّا ٹھونگیں مار رہا تھا،اس جگہ کے دونوں طرف بُت موجود تھے اور یہ گندگی اور خون دراصل ان بتوں پر قربان کئے جانے والے جانوروں کا تھا،  پوری نشانی مل گئی تو عبدالمطلب کدال لے آئے اور کھدائی کے لئے تیار ہوگئے لیکن اس وقت قریش وہاں آ پہنچے ۔ انہوں نے کہا :

    ” اللہ کی قسم ہم تمہیں یہاں کھدائی نہیں کرنے دیں گے، تم ہمارے ان دونوں بُتوں کے درمیاں کنواں کھودنا چاہتے ہو جہاں ہم ان کے لئے قربانیاں کرتے ہیں۔

    عبدالمطلب نے ان کی بات سن کر اپنے بیٹے حارث سے کہا :

    “تم ان لوگوں کو میرے قریب نہ آنے دو،  میں کھدائی کا کام کرتا رہوں گا اس لئے کہ مجھے جس کام کا حکم دیا گیا ہے میں اس کو ضرور پورا کروں گا۔ “

    قریش نے جب دیکھا کہ وہ باز آنے والے نہیں تو رک گئے ۔ آخر انھوں نے کھدائی شروع کردی ۔جلد ہی کنویں کے آثار نظر آنے لگے ۔  یہ دیکھ کر انہوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور پکار اٹھے

    ” یہ دیکھو یہ اسماعیل علیہ السلام کی تعمیر ہے “۔

    جب قریش نے یہ دیکھا کہ انہوں نے کنواں تلاش کرلیا تو ان کے پاس آگئے اور کہنے لگے :

    “عبدالمطلب اللہ کی قسم ” یہ ہمارے باپ اسماعیل علیہ السلام کا کنواں ہے اور اس پر ہمارا بھی حق ہے” ۔ اس لئے ہم اس میں تمہارے شریک ہوں گے ۔”

    یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا :

    ” میں تمہیں اس میں شریک نہیں کرسکتا ” یہ مجھ اکیلے کا کام ہے”

    اس پر قریش نے کہا :

    ” تب پھر اس معاملے میں ہم تم سے جھگڑا کریں گے”

    عبدالمطلب بولے :

    ” کسی سے فیصلہ کروالو “

    انہوں نے بنوسعد ابن ہزیم کی کاہنہ سے فیصلہ کرانا منظور کیا ۔  یہ کاہنہ ملک شام کے بالائی علاقے میں رہتی تھی ۔  آخر عبدالمطلب اور دوسرے قریش اس کی طرف روانہ ہوئے۔  عبدالمطلب کے ساتھ عبدمناف کے لوگوں کی ایک جماعت تھی۔

    جبکہ دیگر قبائل قریش کی بھی ایک ایک جماعت ساتھ تھی ۔ اس زمانہ میں ملک حجاز اور شام کے درمیان ایک بیابان میدان تھا ، وہاں کہیں پانی نہیں تھا ۔ اس میدان میں ان کا پانی ختم ہوگیا۔  سب لوگ پیاس سے بے حال ہوگئے، یہاں تک کہ انہیں اپنی موت کا یقین ہوگیا ۔  انہوں نے قریش کے دوسرے لوگوں سے پانی مانگا ۔ لیکن انہوں نے پانی دینے سے انکار کردیا۔ اب انہوں نےادھر ادھر پانی تلاش کرنے کا ارادہ کیا ۔

    عبدالمطلب اٹھ کر اپنی سواری کے پاس آئے،  جوں ہی ان کی سواری اٹھی، اس کے پاؤں کے نیچے سے پانی کا چشمہ ابل پڑا ۔  انہوں نے پانی کو دیکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا ۔ پھر عبد المطلب سواری سے اتر آئے ۔ سب نے خوب سیر ہوکر پانی پیا  اور اپنے مشکیزے بھر لیے ۔  اب انہوں نے قریش کی دوسری جماعت سے کہا:”آؤ تم بھی سیر ہوکر پانی پی لو ۔” اب وہ بھی آگے آئے اور خوب پانی پیا ۔  پانی پینے کے بعد وہ بولے:

    ” اللہ کی قسم…. اے عبدالمطلب! یہ تو تمہارے حق میں فیصلہ ہوگیا ۔  اب ہم زمزم کے بارے میں تم سے کبھی جھگڑا نہیں کریں گے ۔ جس ذات نے تمہیں اس بیابان میں سیراب کردیا،  وہی ذات تمہیں زمزم سے بھی سیراب کرے گا، اس لیے یہیں سے واپس چلو ۔”

    اس طرح قریش نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ عبدالمطلب پر مہربان ہے، لہٰذا ان سے جھگڑنا بے سود ہے اور کاہنہ کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ، چنانچہ سب لوگ واپس لوٹے ۔

    واپس آکر عبدالمطلب نے پھر کنویں کی کھدائی شروع کی ۔  ابھی تھوڑی سی کھدائی کی ہوگی کہ مال، دولت، تلواریں اور زرہیں نکل آئیں ۔ اس میں سونا اور چاندی وغیرہ بھی تھی ۔  یہ مال ودولت دیکھ کر قریش کے لوگوں کو لالچ نے آگھیرا ۔  انہوں نے عبدالمطلب سے کہا :

    “عبدالمطلب! اس میں ہمارا بھی حصہ ہے ۔”

    ان کی بات سن کر عبدالمطلب نے کہا :

    “نہیں ! اس میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ، تمہیں انصاف کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔  آؤ پانسو کے تیروں سے قرعہ ڈالیں ۔”

    انہوں نے ایسا کرنا منظور کرلیا ۔  دو تیر کعبے کے نام سے رکھے گئے،  دو عبدالمطلب کے اور دو قریش کے باقی لوگوں کے نام کے…. پانسہ پھینکا گیا تو مال اور دولت کعبہ کے نام نکلا، تلواریں اور زرہیں عبدالمطلب کے نام اور قریشیوں کے نام کے جو تیر تھے وہ کسی چیز پر نہ نکلے ۔  اس طرح فیصلہ ہوگیا ۔ عبدالمطلب نے کعبے کے دروازے کو سونے سے سجا دیا ۔

    زمزم کی کھدائی سے پہلے عبدالمطلب نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! اس کی کھدائی کو مجھ پر آسان کردے، میں اپنا ایک بیٹا تیرے راستے میں ذبح کروں گا ۔ اب جب کہ کنواں نکل آیا تو انہیں خواب میں حکم دیا گیا ۔

    “اپنی منت پوری کرو، یعنی ایک بیٹے کو ذبح کرو ۔”

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (جو اشتیاق احمدؒ     کا قلمی نام تھا)

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 1 | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ | خالد محمود

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 1 | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ | خالد محمود

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ — قسط نمبر 1

    الحمدللہ! اس سلسلے میں رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک زندگی اور سیرتِ طیبہ کو مرحلہ وار سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ سلسلہ معروف کتاب ’’سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم‘‘ از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کی مدد سے قارئین اور سامعین سیرتِ رسول ﷺ کے مختلف مراحل کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوتِ اسلام کے مراحل، مخالفتوں کا سامنا، ہجرتِ مدینہ، غزوات اور دیگر اہم واقعات، فتحِ مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے موضوعات پر گفتگو کی جائے گی۔

    سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ محض تاریخی واقعات جاننے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات، اخلاقِ کریمہ اور سنتِ مبارکہ کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

    📌 اگر یہ کاوش آپ کے لیے مفید ہو تو ویڈیو کو لائک کریں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 بیل آئیکن دبائیں تاکہ سلسلے کی نئی اقساط سے باخبر رہ سکیں۔

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_بیان #اسلامی_کتاب #اسلامی_تعلیمات #مدینہ_منورہ #مکہ_مکرمہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicBook #IslamicHistory