Tag: Palestine

  • فلسطین کی تاریخ — حصہ پنجم

    فلسطین کی تاریخ — حصہ پنجم

    بائیکاٹ، مقامی معیشت، حماس کے موقف اور فلسطین کے مسئلے میں مسلمانوں کے کردار تک

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔

    تحریری وضاحت

    یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔

    فلسطین کی تاریخ — حصہ پنجم

    بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان

    میکڈونلڈ کے مفت برگر اور بائیکاٹ کی مثال

    میکڈونلڈ میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، میرا بھائی گوجرانوالہ میں کام کرتا رہا، پنجاب میں وہ کام کرتا تھا مزدوری، اس کے ایک دوست ہے اس کے پاس تصویر بھیجی موبائل۔

    اچھا جی، گوجرانوالہ کے اندر میکڈونلڈ والوں نے مفت برگر کا سٹال لگایا ہے۔

    مفت!

    اور ساتھ ایک آدمی کا ریڑا ہے، جو ہم ہمارے مزدور لگاتے ہیں برگر کا، وہ سو روپے کا بیچ رہا ہے۔

    کوئی بندہ مفت لینے نہیں جا رہا، وہ سو والوں کے پاس سارے لوگ کھڑے ہیں۔

    مجھے بڑی خوشی ہوئی، الحمدللہ اور گوجرانوالہ کے لوگ بڑے غیرتی ہیں بھائی، وہ قاضی حمید اللہ صاحب کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے وہ میرا تھان ریس میں، وہ بڑے غیرتی لوگ ہیں یہ۔

    اور ماشاءاللہ مجھے بڑا بہت خوشی ہوئی کہ ماشاءاللہ ہمارے پنجاب کے بھائی انہوں نے ایک مثال قائم کی ہے کہ مفت اب یہودیوں کی چیز بٹ رہی ہے، وہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    دکانداروں اور مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی

    ایسی محنت کریں، دکانداروں سے ملاقات کریں۔

    ان کی رہنمائی کریں۔ دکانداروں کی ایک کانفرنس بلائیں۔

    اور ان کو جو متبادل چیزیں ہیں، ان کی بریفنگ دیں۔

    اور جتنی یہ متبادل چیزیں ہیں، ان کے مالکان تک ہماری ملکی سطح پر کوئی ایک وفد بن جائے۔

    ملکی سطح پر ڈیرہ سے اگر ہم آغاز کریں، اپنے سارے ساتھیوں سے ہر ہر شہر میں رابطہ کرکے، یا صوبائی سطح پر جتنی کمپنیاں ہیں ان کے پاس جائیں ہم۔

    کہ آپ ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔

    ہمارا پیسہ آپ کی جیب میں آئے گا، ہم آپ کے لیے پوری تحریک چلائیں گے، لیکن آپ ہمارے ساتھ معاہدہ کریں گے کہ ان کافروں سے کم از کم اپنا معیار وہ اونچا رکھیں گے۔

    کوالٹی اونچی رکھیں گے۔

    آج جس کو ہم کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں جی یہ اپنی کوالٹی کمزور ہے۔

    اور جو اس حوالے سے اسلامی تجارت کے اصول ہیں، خیانت، ملاوٹ، اس کی جو وعیدیں ہیں، اس کے لیے کوئی پروگرام بنائیں ہم، چھوٹی سطح پہ، جو چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں ہمارے ہاں چپس بناتی ہیں یا کوئی، ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ آپ اپنے کام کو بڑھائیں۔

    اور ان کے جو فارمولے ہیں، اس سے اچھے فارمولے ہمارے لوگوں کے پاس موجود ہیں، لیکن چونکہ ان کی سیل زیادہ ہے۔

    اس وجہ سے ہمارے لوگ وہ زیادہ اچھی اور معیاری چیز بناتے نہیں ہیں، کہ وہ پھر بکتی نہیں ہے ان کے مقابلے۔

    تو ان کو کہیں گے کہ اس ممبر و محراب سے ان کی کمر ہم توڑیں گے، تعلیمی اداروں میں یہ شعور ہم دیں گے، آپ اپنے ملک کو اٹھاؤ۔

    اپنی ملک کی معیشت کو اٹھاؤ، عزم کرو۔

    جب ہماری اپنی چیزیں ان شاءاللہ میدان میں آئیں گی اور جو مسلمان ممالک کی چیزیں ہیں۔

    ترکی اب اچھی چیزیں بنا رہا ہے، انڈونیشیا کی بڑی مارکیٹ میں اچھی چیزیں ہیں، ان کا تعارف کروائیں۔

    اسکولوں، مدارس اور مساجد میں شعوری تربیت

    تو ان شاءاللہ یہ اسکولوں کی سطح پر، یہ مقابلوں والی محنت، مدارس میں، مساجد میں اور اس طرح تاجروں کے ساتھ ملاقاتیں اور جن جن بھائیوں کے پاس ابھی تک شیزان تک پڑے ہوئے ہیں بھائی۔

    وہ اور تو یہ آپس میں مجمع، مجمع ہے، کسی پہ تنقید نہیں ہے، کیونکہ ہم آپس میں نا عوام نہیں ہیں، اس لیے ہم کھل کے باتیں کر سکتے ہیں۔

    میں اپنے تبلیغی مرکز جاتا ہوں نا کوہاٹ۔

    تو کوہاٹ کے تبلیغی مرکز کے کینٹین میں میرے بھائی نے شیزان کے کارٹن دیکھے، وہ تو عوام ہیں۔

    اس نے وہاں سے مجھے فون کیا بھائی نے اور چیخ رہا ہے، کہتا ہے ان کو کہو یہ ہٹاؤ ورنہ میں ابھی یہ ہنگامہ کھڑا کرتا ہوں۔

    ٹھیک ہے، اب وہ تو سارے فدائی ہوتے ہیں، ان کو تو سمجھانا، میں نے فورا اپنے وفاق المدارس کے مسئول کو فون کیا، میں نے کہا مرکز کے بڑوں سے کہیں کہ ان چیزوں کو یہاں سے ہٹائیں، یہ کسی کا سر پھوڑ دیں گے یہاں یہ لڑکے۔

    اب یہ نواقفیت میں انہوں نے لا کے رکھے ہوئے ہیں، اور وہ شیزان بیچ نہیں رہے، ان کے کارٹن پرانے پڑے ہوئے ہیں، جس پر شیزان کا اشتہار ہے، لکھا ہوا ہے۔

    تو وہ سادگی میں رکھا ہوگا، تبلیغی بھائی ہمارے سیدھے سادے سے ہوتے ہیں، تو لیکن وہ اچھا دو ہفتے بعد اس نے مجھے پھر کہا کہ پھر پڑا ہوا ہے۔

    پھر میں نے پھر گزارش کی کہ یار بڑوں سے کہیں کہ منع کریں صراحت کے ساتھ، اور وہ ان پڑھ ہیں بیچارے کینٹینوں والے، ان کو بتا دیں کہ یہ فوٹو دیکھ لو یہ فوٹو، یہ لگاؤ، اس فوٹو والی چیز یہاں نہیں رکھنی۔

    ورنہ یہاں یہ۔

    کوئی باقاعدہ ہنگامہ کھڑا کر دیں گے۔

    تو یہ ہمارے ہاں بھی ابھی تک سادگی میں یہ چیزیں چل رہی ہیں۔

    قادیانیت اور افریقہ میں سرگرمیاں

    تو ہم محنت کریں، کوشش کریں، قادیانیت، یہ اسرائیل، اسرائیل کا دایاں بازو ہے دنیا میں اس وقت، دایاں بازو، عالم اسلام میں۔

    اور افسوس یہ ہے کہ اسرائیل نے افریقہ میں قادیانیوں کا بہت بڑا جال بچھا دیا ہے۔

    بہت بڑا۔

    اور ہمارے لیے یہ المیہ ہے۔

    ہمیں اس پر اٹھنا چاہیے اور اس کی کوشش کرنی چاہیے، میرا ایک دوست ہے۔

    وہ میڈیسن کمپنی میں ہے۔

    تنزانیہ گیا۔

    اس نے کہا کہ میں نے اپنی کمپنی کے لیے اشتہار دیا، مقامی لوگوں کے لیے۔ تو سی وی آئی ایک حافظ کی۔ سی وی آئی ایک حافظ کی تو میں نے کہا کہ یہ حافظ کو رکھنا چاہیے۔

    تو میں نے اس کو انٹرویو کے لیے کال کی، بلایا۔

    جب اس کا انٹرویو میں نے لیا تو بڑا بڑے بڑا خوش ہوا، میں اردو جانتا تھا بندہ بھائی۔

    افریقی بندہ اردو جانتا ہے۔

    اچھا میں نے کہا کہ بھئی آپ کہاں پڑھے ہیں؟ پاکستان میں پڑھا ہوں، کہتا ہے اس سے تو اور خوشی ہوئی۔

    کہ ہمارے مدارس کا پڑھا ہوا ہے، اس میں نے کہا کہاں پڑھا ہے جی؟ ربوہ میں پڑھا ہوں۔

    تعلیمی ویزوں اور بیرونِ ملک دینی اداروں کا معاملہ

    اب اس ساتھی نے مجھے پچھلے سال کہا کہ میں نے پانچ خاندانوں کو تیار کیا ہے، ایک ایک بچے کا ویزے اور اس کا خرچہ پانچ لاکھ ہے، آپ اپنے ادارے میں وہ کریں، میں ان کو بھیجتا ہوں تاکہ ہم اپنے لوگ تیار کر کے وہاں بھیجیں۔

    یہاں تو سارے قادیانیوں کے اداروں کے پڑھے ہوئے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہی دین سکھا رہے ہیں۔

    اب میں نے اپنے بڑوں سے رابطہ کیا، وفاق والوں سے تو افسوس یہ ہے کہ ہمارا وہی مشرف کے دور سے جو ڈیڈلاک چل رہا ہے، وہ ابھی تک چل رہا ہے۔

    اور درمیان میں ہماری حکومت، جزوی حکومت بھی کچھ دور میں رہی، تو توقعات تھیں لیکن وقت شاید مختصر تھا۔

    تو یہ ڈیڈ لاک ابھی تک قائم ہے ہمارا، اللہ کرے یہ ختم ہو جائے اور وہ لوگ پڑھنے کے لیے آئیں۔

    اور کسی جگہ سے ہمیں اجازت نہ مل سکی تعلیمی ویزے کی۔

    تو وہ بچے ابھی تک بس وہاں ہیں اور قادیانیوں کے پاس اجازتیں ہیں۔

    میری اور آپ کی اجازت مشرف نے منسوخ کی ہوئی ہے، راستہ ہمارے لیے بند ہے۔

    اسرائیل، قادیانیت اور پاکستان کے ادارے

    تو اب وہاں قادیانیت اس سطح پر پھیلی ہوئی ہے کہ وہاں سے غریب غرباء بچوں کو اکٹھا کر کے، یہاں پڑھا کے اور جناب یہ پکی اسرائیلی ہیں، یہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں، یہی ہمارے وہ اداروں میں، میڈیا میں مختلف جگہوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، جو کبھی کبھی چونچلیں نکال کر اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔

    لیکن الحمدللہ، ان شاءاللہ ہمیں اپنے اداروں کے ان غیور افسران اور نوجوانوں پر اعتماد ہے اور بہت الحمدللہ غلبہ ہمارا ہے۔

    کہ وہ اپنے بانیان کے پیش کیے گئے مقدمے سے غداری نہیں ہونے دیں گے، ان شاءاللہ۔

    ان شاءاللہ نہیں ہونے دیں گے، یہ ہماری امید ہے۔

    یہ ظاہر ظاہر میں لوگ بکتے رہیں جو بکتے ہیں، بکواس کرتے رہیں، تو ان شاءاللہ یہ جو ہے وہ یہ کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

    حماس کے اقدام کے بارے میں گفتگو

    آخری بات، ایک بہت بڑا مغالطہ اس وقت یہ دیا جا رہا ہے کہ حماس کا یہ جو اقدام ہے۔

    ہم اس میں زور و شور سے اس کی تائید کیوں کر رہے ہیں، ہم نے تو پہلے یاسر عرفات کی کی تھی اور پھر وہ بھی جناب کس سطح پر آ گیا تھا اور یہ وہ بہت ساری باتیں ہیں، لیکن میں ایک بات آپ سے عرض کرتا ہوں۔

    حماس تو روز اول سے، وہ جس نظریے پر کھڑی ہے، وہ فلسطینیوں کے حقوق کی بجائے، وہ اپنی زمین کی واپسی کا مطالبہ کرتی ہے۔

    وہ یہ نہیں کہتی کہ ہمیں حقوق دیے جائیں، وہ کہتے ہیں ہمیں اپنی زمین دی جائے جو ہماری زمین تھی۔

    اور ظاہری بات ہے کہ وہ غاصب قوت ہے اسرائیل، وہ باہر سے مسلط کیے گئے ہیں، وہ لائے گئے ہیں۔

    اصل زمین تو فلسطینیوں کی ہے، ان کا حق ہے۔

    مزاحمت اور قومی ہیروز کی مثالیں

    دنیا کے اندر جو بھی غاصب قوت کے خلاف اٹھتا ہے، دنیا کی تاریخ دیکھ لیں، ہر قوم میں ان کو ہیرو کہا جاتا ہے، اس کو فریڈم فائٹر کہا جاتا ہے۔

    ہمارے، ہم نے کتنی جنگیں لڑی ہیں جو اب آج ہم حماس کو کہہ رہے ہیں کہ یہ بیوقوفی کر رہے ہیں، اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں تو ہم نے انگریزوں کے خلاف کتنی جنگیں لڑی ہیں؟ وہ سراج الدولہ سے شروع کرو۔

    اور جو ٹیپو سلطان لڑا ہے، وہ جیت گیا تھا؟ وہ، وہ ناکام ہو گیا تھا، بظاہر۔

    بظاہر تو ناکام ہو گیا، لیکن کیا ہم اس کو غدار لکھ لیں ہم؟

    یہ یہاں جو ہمارے بزرگ لڑتے رہے، فقیر ایپی اور جناب حاجی صاحب ترنگزئی، سرحد میں لڑتے رہے، سلطان محمد کھرل، جو ہے وہ اس میں لڑتا رہا، پنجاب میں لڑتا رہا، شہید ہوا اور جناب یہ حروں کی جو پیر پگاڑا کے دادا تھے، سندھ میں لڑتے رہے، وہ جو ہے وہ گرفتار ہوئے، شہید ہوئے، کیا یہ ہم سب قومی ہیرو جو ہمارے ملک میں، ہمارے صوبوں میں لڑتے رہے انگریز کے خلاف، ہم ان کو غدار لکھ دیں کہ یہ ناکام ہو گئے تھے، بے وقوف تھے؟ معاذ اللہ۔

    یہ کون سا فلسفہ ہے؟

    بھائی، آپ ان کا تعاون نہیں کر سکتے، آپ ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے، تو کم از کم یہ بک بک تو نہ کریں یار۔

    اب دیکھ رہے ہیں، آپ سن رہے ہیں، ہر دانشور اپنی دانشوری بگھارنے کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔

    تو ہم حماس کی حمایت، وہ اپنا دینی، ایمانی فریضہ سمجھتے ہیں۔

    اور حماس کے موقف سے پیچھے ہٹنا، اپنے دین کے ساتھ اور اپنے بانیان پاکستان کے نظریے اور پاکستان کے بنیادی تشخص اور اقدار کے ساتھ غداری سمجھتے ہیں۔

    ہم اس کو غدار پاکستان سمجھتے ہیں، جو اس وقت کہتا ہے کہ حماس بے وقوف ہے، اور حماس جو ہے وہ احمق ہے، اور ان لوگوں نے ویسے ہی جنگ کھڑی کر کے فلسطین کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں۔

    ارے بھئی وہ شیروں کی طرح سینہ تان کے میدانوں میں اتر رہے ہیں، اور ان پہ ادھر کپکپی طاری ہے؟

    ان کی ٹانگیں ادھر کانپ رہی ہیں؟

    بھئی آپ کو کیا ہے؟

    آپ ان کے ساتھ لڑ نہیں سکتے، ان کے حق میں کوئی تعاون نہیں کر سکتے، ان کا مالی تعاون نہیں کر سکتے، ان کے لیے دعا نہیں کر سکتے، تو یہ اپنا منہ تو بند رکھ سکتے ہو؟ یہ بند کر دو۔

    ان کے کاز کو نقصان تو نہ پہنچاؤ، حوصلے تو مسلمانوں کے پست نہ کرو، یہ 1400 سالہ تاریخ ہے مسلمانوں کی، اسلام کبھی بھی وہ ایسے پرامن حالات میں نہیں رہا، وہ ہمیشہ کرائسس سے اٹھا ہے۔

    بحرانوں میں اسلام کی قوت

    وہ کرائسس سے اٹھا ہے، وہ بحرانوں سے اٹھا ہے، بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ آئے تھے، ان کے سامنے کوئی کم بحران تھے؟

    حضرت ابوبکر صدیق نے جس دن پہلے، پہلے دن وہ مسجد نبوی میں اپنی خلافت کا منصب سنبھال کے انہوں نے بیعت لی اور بیٹھے ہیں، اس دن کے کرائسس یاد ہیں آپ کو؟ کتنے کرائسس تھے؟

    ان بحرانوں کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں؟ صحابہ فرماتے ہیں کہ ثقیف اور قریش کے علاوہ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں تھا جس میں مرتد نہ ہوگئے ہوں لوگ۔

    سارا عرب ارتداد اس میں پھیل گیا سوائے دو قبیلوں کے، یہ کوئی کم بحران تھا؟

    اسلام ہمیشہ اس نے اپنا رنگ، اپنی قوت، اپنی طاقت، اپنا معجزہ، ان کرائسس کے اندر دکھایا ہے۔

    كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ، یہ اسی فلسطین کے اندر سے اٹھنے والے طالوت کے ساتھ اللہ کی مدد کا وعدہ تھا۔

    یہ مہاجر کیمپ سے اٹھنے والی تحریک کے ساتھ اللہ کا وعدہ تھا، حماس بھی جبالیہ کے مہاجر کیمپ سے اٹھی ہوئی تحریک ہے۔

    یہ بھی جبالیہ کے مہاجر کیمپ سے اٹھی ہوئی تحریک ہے اور ہمیں اللہ کی نصرت اور مدد پہ یقین ہے اس وعدے پہ۔

    ان شاءاللہ یہ کم جماعتیں غالب آئیں گیں اور اگر کربلا برپا ہو گیا، وہ سارے شہید ہو گئے، کوئی پروا نہیں، ان شاءاللہ فلسطین کا اگر بچہ بچہ قربانی دے گا اور یہ اسرائیلی گھر گھر بھی گھس جائیں گے، ان شاءاللہ وہ گوریلا جنگ چھیڑے گی کہ نیتن یاہو اپنے پیدائش کے دن پہ لعنت کرے گا۔

    احمد ابو قدامہ رحمتہ اللہ علیہ کا حوالہ

    مجھے آج بھی خان یونس میں احمد ابو قدامہ رحمتہ اللہ علیہ کی وہ تقریب یاد ہے، اس نے کہا تھا اے نیتن یاہو! اپنے ارادوں سے باز آ جاؤ، باز آ جاؤ اپنے ارادوں سے، ورنہ ہم تل ابیب تک وہ جنگ برپا کریں گے کہ تو اپنے پیدا ہونے کے دن پہ لعنت کرے گا، اپنی ماں پہ لعنت کرے گا جس نے تجھے جنا ہے۔

    وہ الفاظ اس شہید کے مجھے یاد ہیں۔

    شیخ عبدالعزیز رنتیسی شہید کا حوالہ

    شیخ یاسین کے جنازے پر شیخ عبدالعزیز رنتیسی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی تقریر مجھے یاد ہے، اس نے اپنے ساتھ گاڑ کے ہاتھ سے کلاشینکوف لے کر کہا تھا:

    ہذا ھو الطریق، ہذا ھو الطریق، ہذا ھو الطریق!

    ہاتھ بلند کریں آپ! ہذا ھو الطریق، ہذا ھو الطریق!

    یہی راستہ ہے، یہودی نفسیات ہے، اس کے گردن پر آپ پاؤں رکھیں گے، یہ تیرے قدموں میں گرے گا، اس کو آپ رگڑیں گے، یہ تیرے قدموں میں گرے گا، اس کو آپ جو ہے روندیں گے، یہ تیرے قدموں میں گرے گا۔

    خیبر کا دن

    خیبر کا دن یاد کر لو، جب میرا نبی خیبر میں داخل ہو رہا تھا، کیا نعرہ تھا؟

    اللہ اکبر! خَرِبَتْ خَيْبَرُ!

    اللہ اکبر! خَرِبَتْ خَيْبَرُ!

    اللہ اکبر! خَرِبَتْ خَيْبَرُ!

    إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنذَرِينَ، ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بری ہوتی ہے، جن کے صحن میں ہم قدم رکھتے ہیں، آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متوالوں نے اسرائیل کے صحن میں قدم رکھا ہے، ان شاءاللہ ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بری ہوگی، بڑی بری ہوگی ان شاءاللہ، اللہ کے وعدوں پر یقین رکھے، بزدلی، بزدلی، ہیجڑاپن، بے غیرتی، یہ وہ جو چاروں طرف پڑے ہوئے ہیں، یہ ان کو زیب دیتی ہے، مجھے اور آپ کو زیب نہیں دیتی جو ہر حدیث کی کتاب میں کتاب الجہاد پڑھتے ہیں، جو قرآن پاک کی آیات جہاد پر ایمان رکھتے ہیں، جو یقین رکھتے ہیں، جس نے دنیا کے طاقتوں کو یہاں ناچتا ہوا دیکھا ہے اپنے پڑوس میں، اس کے سامنے یہ باتیں بے معنیٰ ہیں، یہ بزدلی کی باتیں ہیں، یہ بے غیرتی کی باتیں ہیں۔

    ابابیل اور اللہ کی حفاظت

    مجھے ایک دوست نے کہا کہ جناب چاروں طرف لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے اندر کوئی بیداری پیدا نہیں ہو رہی، میں نے کہا دیکھو ابراہا آیا تھا بیت اللہ پر حملہ کرنے کے لیے، مشرکین مکہ جنگجو لوگ تھے، لیکن اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت کا احسان مشرکین کا نہیں لیا، ابابیلوں سے وہ کام لیا، یہ اللہ کا گھر ہے، اس کی حفاظت یہ ہیجڑے اور بے غیرت اور دلے نہیں کریں گے، اس کی حفاظت اللہ کے وہ ابابیل کریں گے، اللہ کے وہ مجاہد کریں گے، جن کو اللہ چنے گا، اللہ ان لوگوں کو نہیں چنے گا اپنے گھر کی حفاظت کے لیے، تو ان شاءاللہ آپ کا اللہ کے وعدوں پر مجھ سے زیادہ مضبوط یقین اور ایمان ہے، ان شاءاللہ۔

    معاشی تعاون اور ایک ڈالر کی مثال

    یاد رکھیں، اسرائیل، فلسطین کے حماس کا بجٹ، اگر ہر مسلمان سال میں ایک ڈالر ان کو دے، ایک ڈالر، یہ خود حماس کے جو حکومت آئی تھی، اس کے وزیر خارجہ کا یہاں بیان تھا پاکستان میں، کہ اگر عالم اسلام کا ہر مسلمان ہمیں سال میں ایک ڈالر دے۔

    ہماری معاشی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔

    ہمیں اسرائیل کے راستے بند کر دے وہ، معاشی بائیکاٹ کر دے، سارے راستے بند کر دے، ہمیں ضرورت نہیں پڑے گی، تو ان شاءاللہ عزم ہے نا ان شاءاللہ کہ سال میں ایک ڈالر تو پہنچائیں گے ان کو۔

    ہر بندہ ایک ڈالر تو سال میں پہنچا سکتا ہے بھائی۔

    آخری پیغام

    اور ان شاءاللہ یہودی مصنوعات کی کمر توڑنی ہے، یہی ہمارا اس وقت میدان ہے اور اس میں ہم نے جم کے ان شاءاللہ کام کرنا ہے، وقت مکمل ہو گیا وما علینا الا البلاغ۔

  • فلسطین کی تاریخ — حصہ چہارم

    فلسطین کی تاریخ — حصہ چہارم

    بائیکاٹ، معاشی شعور اور فلسطین کے مسئلے میں مسلمانوں کے کردار تک

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔

    تحریری وضاحت

    یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔

    فلسطین کی تاریخ — حصہ چہارم

    بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان

    بائیکاٹ کے حوالے سے گفتگو

    منظرنامہ تھا اب اس وقت جو مجھے ساتھیوں نے انفرادی ملاقاتوں میں کہا تھا کہ آپ بائیکاٹ پہ گفتگو جو ہے وہ زیادہ ہو جائے تو میرے خیال میں تو حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب نے یہ اعلان فرما دیا ہے کہ دیکھیں فلسطین کی جو صورتحال ہے اس میں ہم میں سے ہر شخص، ہر مسلمان دنیا کا وہ اپنے درجے میں اس فریضے کا مخاطب ہے۔ اب میں اپنا کردار بہ حیثیت پاکستانی شہری، بہ حیثیت مسلمان طے کروں کہ میں کیا کردار ادا کر سکتا ہوں۔

    بائیکاٹ اور جنگی پالیسی

    بائیکاٹ یہ ہمیشہ جنگی پالیسیوں کا حصہ رہا ہے۔ دو واقعات بطور مثال مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بھی چند دن پہلے بیان کیے تھے، انہی کو میں بیان کر دیتا ہوں چونکہ مذاکرہ ہے، آپ حضرات کی نظر سے گزرے بھی ہوں گے۔

    کہ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے مدینہ ہجرت کر کے، تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصار کے سردار، اوس کے سردار، وہ تشریف لائے عمرہ کرنے۔ تو ابو جہل موقعوں کی تلاش میں رہتا تھا، لانجہ مار آدمی تھا، لانجہ بنانے کے لیے آگے آگے کہ بھئی آپ اتنے اطمینان سے یہاں عمرہ کر رہے ہیں، آپ نے ہمارے دشمنوں کو وہاں پناہ دی۔

    تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بات کی، یعنی اسلام کی دفاعی پالیسی کا بنیادی اصول ہے وہ۔ انہوں نے کہا دیکھیں میں یہاں اطمینان سے عمرہ کر رہا ہوں، آپ کے قافلے میرے راستے پہ اطمینان سے شام اور یمن جاتے ہیں۔ اگر آپ نے مجھے یہاں چھیڑا تو آپ کے قافلوں کے راستے میں بند کر دوں گا، شام سے ایک دانہ بھی آپ تک نہیں پہنچ سکے گا۔

    وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ

    وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ۔ سورہ التوبہ، آیت 5۔ ان کافروں کے لیے ہر مرصد کو بند کرنا ہے۔

    ہمارے دادا شیخ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان کا سفر ہوا 1957 میں فلسطین کا، یوگوسلاویہ کا، جرمنی کا، ترکی کا، اور بڑا عجیب ان کا سفرنامہ بھی ہے وہ میں نے مکالات اشرف میں چھاپا ہے، “جادۂ حبیب” کے نام سے۔

    وہ سمندری سفر تھا تو حضرت نے فرمایا کہ جب سمندر میں ہم ان راستوں سے گزرے جو دنیا کی سب سے مضبوط، مصروف تجارتی گزرگاہیں ہیں دنیا کے، سمندر میں، ساری مسلمانوں کی حدود میں، ساری۔ اور روزانہ جہاز اس یورپ کے اس سے گزرتے ہیں تجارتی۔

    حضرت فرماتے ہیں کہ اس دن مجھے اس آیت کا مفہوم سمجھ میں آیا وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ کہ بھئی ان کا ہر مرصد بند کر دو، بیٹھ جاؤ یہاں پر، اگر حضرت سعد بن عبادہ راستے بند کرنے کی دھمکی نہ دیتے تو ابو جہل کا جو ویژن تھا اپنا عسکری وہ جاری رکھتا، وہ وہیں ٹھہر گیا۔

    سمندری، فضائی اور بری راستوں کا سوال

    آج ہماری گزارش ہے ابنائے باسفورس کس کے پاس ہے، خلیج عدن کس کے پاس ہے، یہ سمندری گزرگاہیں ہماری کس کے پاس ہیں؟

    غزہ سارا، غزہ کا تو بری راستہ صرف 20 کلومیٹر ہے جو مسلمان ریاست میں سر کے ساتھ لگتا ہے، باقی تو سارا سمندر ہے اس کے ساتھ، غزہ کی پٹی کے ساتھ، یہ راستے کس کے ہیں؟

    ایک گولی چلانے کی ضرورت نہیں ہوگی اگر مسلمان اسرائیل کے لیے اپنے بحری راستوں کو بند کر دیں، اگر مسلمان اپنے فضائی راستوں کو بند کر دیں، اگر مسلمان اپنے بری راستوں کو بند کر دیں۔

    اسرائیل کو چاروں طرف سے جن ممالک نے گھیرا ہوا ہے، سوریا، جورڈن، اردن، کون ہے؟ مسلمان، مصر، مسلمان، لبنان، مسلمانوں کی اچھی خاصی قوت، تو کیا چاروں طرف یہ مسلمان نہیں پڑے ہوئے؟ اسرائیل کے، فلسطینیوں کو تو اسرائیل نے گھیرا ہے، اسرائیل کو کس نے گھیرا ہوا ہے؟

    یہ بلکہ وہ تو بہت قریب اب یہاں سے ہم چلیں نا ڈیرہ اسماعیل خان سے اور اسرائیل جانا چاہیں تو راستے میں کوئی کسی ایک کافر کہلانے والے سے ہماری ملاقات نہیں ہوگی، سیدھے ہی پہنچ جائیں گے یہودی تک۔

    راستے میں ایک بھی وہ نہیں ہے جو خود کو کافر کہتا ہو، جتنے ہیں اسلام کے تابعدار ہیں، جتنے ہیں خود کو مسلمان کہلانے والے ہیں، یہاں ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر گوگل پہ چیک کر لیں، ڈیرہ اسماعیل خان سے لیں اور اسرائیل تک 5 ہزار سے کچھ ادھر ادھر کلومیٹر کا فاصلہ ہے، اور وہاں تک دیکھیں کوئی ایک کافر سے بھی ہماری ملاقات نہیں ہوگی، میں جا سکتا ہوں، آپ جا سکتے ہیں۔

    کیا راستے اور پھر یہ یورپ کی مدد کیسے پہنچ رہی ہے؟ امریکہ کی مدد کیسے پہنچ رہی ہے؟ وہ میرے اور آپ کے راستے استعمال کر رہا ہے۔

    تو حضرت سعد بن عبادہ نے جو اصول دیا کہ اگر آپ ہمیں چھیڑیں گے تو ہم آپ کی گزرگاہوں کو بند کر دیں گے۔ آج اس ہتھیار کو مسلمان اگر آزما لیں، ایک گولی چلانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، اسرائیل بھوک سے بھی مر جائے گا۔

    اسرائیل کے پاس ایک کارتوس بھی نہیں پہنچ سکے گا۔ سارا تو ہمارے راستوں سے پہنچ رہا ہے۔

    قرآن پاک اور دشمن کے اڈے

    وجہ کیا ہے؟ قرآن پاک کھول لیں 1400 سال پہلے:

    وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ

    “اور اس شخص کی گھات میں لگنا جو اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ چکا ہے”

    انہوں نے اپنے مورچے بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس اڈے ہیں، ارصاد ہیں ان کے پاس۔ قرآن نے تو بہت پہلے بتا دیا تھا کہ یہودی سیاست کی بنیاد یہی ہے کہ وہ اس وقت تک آپ کے قلب تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ پہلے اپنے اڈے نہ بنا لے۔ وہ بن چکے ہیں۔

    حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ

    حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ یمامہ کا واقعہ آپ کے ہاں ہے کہ وہ گرفتار ہو گئے تھے پھر مسجد نبوی لائے گئے تھے، پھر جو ہے رہا کر دیے گئے تھے، پھر واپس آئے، مسلمان ہوئے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرے کی اجازت چاہی۔

    پھر تشریف لے گئے مکہ عمرہ کرنے کے لیے۔ مشرکین کو اطلاع ہو گئی تھی کہ یہ تو بندہ مسلمان ہو گیا ہے، انہوں نے طعن و تشنیع کی اور انہوں نے بحث کرنی چاہی، انہوں نے راستہ روکنا چاہا تو حضرت نے کیا فرمایا کہ ساری گندم تمہاری یمامہ سے آتی ہے۔ اگر میرا راستہ روکا تو میں ایک دانہ، ایک دانہ یمامہ سے یہاں تک آنے نہیں دوں گا۔

    اور جا کے بند بھی کر دیا تھا تو یہ سب نے گھٹنے ٹیکے کہ نہیں ٹیکے؟

    مغربی ممالک، وسائل اور معاشی مفادات

    آج اس پورے یورپ کے پاس، اس کے پاس تو کوئی موسم نہیں ہے یار، وہ تو سردی سے مر گئے ہیں، وہ تو سورج کے لیے ترستے ہیں۔ یہ یہ اجناس، یہ چیزیں، یہ یہ یہ کہاں سے پہنچ رہی ہیں جی؟

    دنیا میں سب سے زیادہ سونا مالی سے نکلتا ہے۔ اسلامی ملک ہے۔ فرانس سالوں سے امن کے نام پر وہاں ڈیرے ڈال کے موجود ہے۔

    آپ کے خلیجوں میں امریکہ کب سے آکے موجود ہے کیونکہ تیل نکل رہا ہے۔ جہاں دنیا کے اندر کوئی تیل ہے، سونا ہے، معدنیات ہیں، ذخائر ہیں، وہاں پہلے اپنے لوگ کھڑے کرتا ہے اور جناب گتھم گتھہ کر دیتا ہے ان کو اور عنوانات بھی عنوان یاد رکھیں، عنوان مسجد کا ہو گا، عنوان جہاد کا ہو گا، عنوان مقدس ہی ہو گا، یہ یاد رکھیں یہ یہودی سیاست کا حصہ ہے اور پھر امن کے نام پر خود آ کے وہاں بیٹھ جاتا ہے۔

    اور وہاں سے پھر لوٹتا رہتا ہے۔

    حکمرانوں سے اپیل اور قانونی دائرۂ اختیار

    چلیں جی، راستے بند کرنا اور غذائی اجناس بند کرنا یہ تو چلو میرے اور آپ کے بس کی بات نہیں ہے، یہ تو حکمرانوں کی ہے کہ ہم حکمرانوں سے اپیل کریں، احتجاج کریں اور اپنی جو قانونی دائرہ اختیار ہے، اس میں ان کو ذرا بیدار کرنے کی کوشش کریں کہ یہ آپ کر سکتے ہیں۔

    روزمرہ مصنوعات اور بائیکاٹ

    لیکن یہ جو میں اور آپ یہودی کو چندہ دیتے ہیں، یہ بات آپ کو ذرا شاید بری لگے گی۔

    ابھی چند دن پہلے ایک اجتماع پر میں گیا لکی مروت میں بیان کے لیے۔ جنگ جاری ہے، جگہ جگہ جناب آواز اٹھ رہی ہے، ماشاءاللہ ڈیرے والے تو بہت آگے ہیں۔ کھانا لایا گیا، مولوی صاحبان نے اتنی پیپسی کی بوتل لا کے میرے سامنے رکھ دی۔

    اب میرا تو نوالہ بھی نیچے نہ اترے یار، کیا کریں ہم اس کو؟

    اللہ کے بندے، یہ یہودیوں کو آپ نے اپنا چندہ دے دیا ہے۔

    یہ جو ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں پاکستان کے اندر، کوئی چند سال پہلے یہ جو لاہور میں، یہ جو ہماری تاجروں کی ایک تنظیم ہے، ان کے صدر کا ایک انٹرویو میں نے پڑھا تھا۔ اس نے کہا کہ اگر پاکستان تین ماہ ان چیزوں پر پابندی لگائے، صرف تین مہینے کا انہوں نے کہا تھا، جو ہم باہر سے لاتے ہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی، تین مہینے اگر ہم ان پر پابندی لگائیں، ہمارا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 100 روپے تک گر آئے گا۔ ہمارا اتنا زر مبادلہ اس پہ خرچ ہو رہا ہے۔

    شعور ہی نہیں ہے؟ سیاست تو میں نے زندہ باد مردہ باد کا نام بنا دیا ہے، یہ تو سیاسی شعور ہی میرے اندر نہیں ہے کہ میرے وسائل کیا ہیں، میرا زر مبادلہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟

    درآمدات اور زرِ مبادلہ

    جس وقت کرونا کی وباء آ گئی تھی، اور اس وقت پھر یہ حکمران سر جوڑ کے بیٹھ گئے کہ بھئی کچھ چیزیں باہر سے کم کرنی چاہیے منگوانا، تاکہ زر مبادلہ کو بچایا جا سکے اور افراطِ زر کو کنٹرول کیا جا سکے، تو جو وہ فہرست میں نے دیکھی تھی، جو شائع ہوئی تھی، پاکستان میں آتا کیا کیا ہے؟

    کتے اور بلیاں نہانے کا شیمپو فرانس سے آتا ہے۔ اس کنگال ملک میں، جہاں کا مزدور بھی ٹیکس دے رہا ہے، جہاں کا ریڑی بان بھی ٹیکس دے رہا ہے، جہاں کی مسجد کا مولوی اور امام بھی ٹیکس دے رہا ہے، اور میں اور آپ جو ٹیکس دے رہے ہیں، تو کس لیے دے رہے ہیں؟

    میرا جو قرضہ آتا ہے، آپ کا قرضہ آتا ہے تو کیا ہم یہ قرضہ واپس کرتے ہیں؟ نہیں بھئی، اس قرضے پہ جو سود چڑھتا ہے، نا اس سود کی قسطیں میں اور آپ واپس کر رہے ہیں۔

    میں اور آپ سود واپس کرتے ہیں، ماننا چاہیے ہمیں، اور میری اور آپ کی غفلت ہے، اس پہ ہمیں خود کو مجرم سمجھنا چاہیے یار۔

    میں بڑوں سے نہیں کہہ رہا، یہ اپنے جو میرے دوست بیٹھے ہوئے ہیں، ہمیں اپنے آپ کو مجرم سمجھنا چاہیے کہ میں سود واپس کر رہا ہوں سود، وہ سود جس کی ایک پائی کھانا وہ 70 بدکاریوں کے برابر ہے۔

    وہ ساری چیزیں آپ کے سامنے ہیں، وہ میں اور آپ واپس کر رہے ہیں۔

    ملٹی نیشنل مصنوعات کا بائیکاٹ

    تو ہمیں جھکڑ لیا گیا تو بھئی نیسلے، میکڈونلڈ، پیپسی، کوکا کولا، ان کی مصنوعات، پوری فہرستیں وہ بن گئی ہیں الحمدللہ۔

    آپ میں سے جو ساتھی کمپیوٹر کے ماہر ہیں، ایک ایک کمپنی کو چیک کریں آپ۔ یوٹیوب، وہ اس پہ گوگل پہ یا کہیں بھی آپ دیکھیں۔

    اس کو چیک کریں کون سی کمپنی اس وقت ان لوگوں کو، دیکھیں یا اسرائیل کی براہ راست مصنوعات 037 کے کوڈ سے دنیا میں چلتی ہے وہ پاکستان میں نہیں آ سکتی۔ کیونکہ پاکستان تو اسرائیل کو الحمدللہ تسلیم ہی نہیں کرتا۔ تو اسرائیلی مصنوعات یہاں نہیں آ سکتی۔

    یہودی کمپنیاں جنہوں نے اپنی فرنچائز کھولی ہوئی ہیں برطانیہ میں، امریکہ میں، یورپی ممالک میں، وہاں سے چیزیں آئیں گی۔

    ٹھیک ہے جی؟ تو یہ بہت سارے لوگوں نے مجھے کہا جی اسرائیلیوں کی تو کوئی چیز ملتی نہیں پاکستان میں، آپ کس بائیکاٹ کی بات کر رہے ہیں؟ تو اس مغالطے سے نکلنا چاہیے۔

    یہ جتنی کمپنیاں ہیں معیشت پر انہی کا قبضہ ہے، صیہونیوں کا قبضہ ہے۔

    یونی لیور، اس کی بہت ساری مصنوعات ہیں، بسکٹوں تک اور جناب شیمپو تک اور صابنوں تک اور ہر چیز پر۔

    ٹریڈ مارک، فرنچائز اور رقم کی منتقلی

    بعض حضرات پوچھتے ہیں کہ جی یہ تو ہمارے یہاں بنتے ہیں، پاکستان میں بنتی ہے، تو بھئی بنتی تو ساری چیزیں پاکستان میں ہیں، یہ ان کا جو تجارتی نشان ہے جس کو ٹریڈ مارک کہتے ہیں، اس میں باقاعدہ فیسیں دیتے ہیں، فارمولے کی فیس دیتے ہیں۔ پیسہ پھر بھی ان کے پاس جا رہا ہے۔

    ٹیکس اور بائیکاٹ

    ہمارا جو وزیر مذہبی امور ہے، تو محترم کی خدمت میں گزارش ہے اس نے بہت ہی احمقانہ قسم کا بیان دیا۔ کہا کہ جناب یہ کمپنیاں ٹیکس بہت دیتی ہیں، اس لیے ان سے بائیکاٹ کی بات نہ کی جائے۔

    ٹیکس بہت دیتی ہیں۔ اب ایک بندہ جو ہے وہ معاذاللہ بات بری ہے ہماری ماں کی عزت کے لیے کھڑا ہے، بہن کی عزت پامال کرنے کے لیے کھڑا ہے، بچوں کو وہاں ٹکڑے کر رہا ہے، بھائیوں کے سینے ہمارے چھلنی کر رہا ہے، اس کا بائیکاٹ نہ کرو کیوں جی؟

    وہ ہدیہ بھیج رہا ہے جی ہمیں۔ لاحول ولا قوۃ۔ پتہ نہیں یہ لیول کہاں تک گر گیا ہے لوگوں کا۔ مادیت سے تو اوپر نظر ہی نہیں اٹھتی۔

    بائیکاٹ اور معاشی شعور

    تو اس کو تو یہ بائیکاٹ کے مسئلے کو تو اتنا دیوانوں کی طرح چلانا چاہیے۔ ایسے چلانا چاہیے نا کہ لوگ ہمیں سمجھیں کہ یہ تو پاگل ہو گئے یار، اس بندے کو ہو کیا گیا ہے۔

    اور یہ ہمارے حضرت صاحب بہت پہلے سے یہ کہا کرتے تھے، جس وقت افغانستان پہ حملہ ہوا اس زمانے سے یہ پیپسی، کوکا کولا اور یہ انگریزی مصنوعات الحمدللہ یہ ہم نے اپنی زندگی سے نکال لی تھیں۔

    اور چیزوں کے بارے میں معلوم، ایک دفعہ ہم نے اپنے حضرت سے کہا کہ آپ کے لیے ڈائیو پہ ٹکٹ کرواتے ہیں، ڈائیو ابھی پاکستان نے خریدی، اس وقت کوریا کے پاس تھی۔ تو حضرت نے فرمایا کوئی اور گاڑی نہیں جاتی؟ ہم نے کہا جی جاتی تو ہے لیکن یہ ذرا آرام دہ ہے۔

    تو حضرت نے فرمایا کہ بھئی وہ فلائنگ کوچ ٹھیک ہے، میں اپنا پیسہ کافر کے جیب میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں اپنا پیسہ کافر کے جیب میں نہیں ڈالنا چاہتا۔

    تو یہ معاشی شعور، غذائی شعور یہ ہمارے اندر اپنی نسل میں پیدا کریں۔

    آپ کو کھانا کیا چاہیے یار اس پیپسی میں ہے کیا؟ اس کوکا کولا میں ہے کیا؟ یہ تو صحت کے لیے بھی تباہی ہے۔

    ایمان اور دین کے نقطہ نظر سے جو مادی لوگ دیکھتے نہیں ہیں، چلو جناب آپ اپنی صحت کو تو دیکھیں۔

    ہمارے ایک دوست ہیں ڈاکٹر منیب حسین، یہ کڈنی اسپتال جو ہمارے صوبے کا ہے، اس کے رجسٹرار ہیں۔ اس نے مجھے کہا مولانا ہمارے کلینکس ان کولڈ ڈرنکس کی وجہ سے آباد ہیں۔ ہمارے کلینکس اس کولڈ ڈرنکس کی وجہ سے آباد ہیں۔

    یہ کولڈ ڈرنکس لوگ پینا چھوڑ دیں، ہمارے گردے کے مریض ختم ہو جائیں گے۔

    مسجد کی سطح پر شعوری تربیت

    یہ حال ہے جی۔ اور یہ چیز ہم سے ہمارے اور آپ کے جیب سے پیسے تو ہر مسجد کے اندر جو لائحہ عمل ہے، جو میرے آپ کے بہت اچھا ہوگا، ویسے میں اپنے ہر مسجد میں آپ اس طرح کریں کہ میں بھیج دوں گا اب آپ لوگوں کے پاس ہوں گی بھی، جو متبادل مصنوعات ہیں اور جو ان کی ہیں ان کی فہرستیں بنا کے ہر مسجد میں تقسیم کریں اور ساتھیوں کو کہیں کہ گھر میں لگائیں۔

    اور بچوں کو شعور دیں اس کا، بلکہ مسجد کی سطح پہ اس کا مقابلہ منعقد کروائیں۔

    کوئز مقابلہ بچوں میں کہ کون سی، کون سا بچہ جو ہے وہ بتائے گا سب سے زیادہ کہ کون کون سے صابن یہودی ہیں؟ یہودی کمپنیوں کے۔ کون کون سے بسکٹ یہودی کمپنی کے ہیں؟

    اچھا جی، یہودی مصنوعات استعمال کرنا کیا ہے؟ سوالات دو، پرچے بناؤ، مدرسوں میں، اسکولوں میں، شعوری تربیت بچوں کی شروع کر دو یہودی مصنوعات کے حوالے سے اور اس کی معیشت کے حوالے سے۔

    اور وار کرو، یہ آپ کا پہلا قدم ہوگا ان شاء اللہ، اور یہ جو نسل ہم تیار کریں گے، یہودی مفت بھی اپنی چیزیں بانٹے گا یہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ان شاء اللہ۔

  • فلسطین کی تاریخ — حصہ سوم

    فلسطین کی تاریخ — حصہ سوم

    فلسطین کی زمینوں کی فروخت سے اسرائیل کے قیام اور پاکستان کے

    فلسطین کے مسئلے میں کردار تک

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔

    تحریری وضاحت

    یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔

    فلسطین کی تاریخ — حصہ سوم

    بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان

    علماء کی جدوجہد اور عزالدین القسام رحمہ اللہ علیہ

    علماء اٹھے۔

    اس وقت مسجد کا ایک امام تھا۔

    اور شام کا عزالدین القسام رحمہ اللہ علیہ مسجد کا امام اٹھا، اس نے جہادی تحریک بھی برپا کی، محنت بھی اپنے بیچارے نے شروع کر دی، جتنا ہمارے علماء کر سکتے ہیں معاشرے میں، انہوں نے ایک استفتاء تیار کیا اور کہا کہ یہ پورے عالم اسلام میں بھیجیں گے تاکہ یہ فتویٰ حاصل کیا جا سکے اور مسلمانوں کو ڈرایا جا سکے کہ یہ زمین بیچنا ناجائز ہے۔

    الازہر سے جواز کا فتویٰ ملا۔

    اس وقت عالم اسلام میں صرف ہمارے اکابر تھے، جنہوں نے یہ فتویٰ دیا، آج بھی امداد الفتاویٰ میں وہ فتویٰ حضرت امداد الفتاویٰ میں امداد الاحکام میں علیحدہ سے بھی چھپا ہے۔

    حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ فتویٰ موجود ہے۔

    دیوبند سے جو فتویٰ گیا کہ یہودیوں کو زمین بیچنا حرام ہے۔

    حرام ہے، اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا کہ جو شخص، جو مسلمان یہودی کو زمین بیچے، زجراً فی القول اس کی تکفیر بھی کی جا سکتی ہے۔

    اس کی تکفیر بھی کی جا سکتی ہے۔

    یہ ہمارے حضرات کی بصیرت تھی الحمدللہ! یہ ویسے جملہ معترضہ کے طور پر کہ ہمارے اکابر کی نگاہ اس وقت کہاں تک پہنچ رہی تھی کہ یہ کیا فساد بننے والا ہے۔

    فلسطین میں یہودی آبادی کا بڑھنا اور اسرائیل کا قیام

    بہر حال، زمینیں بکتی گئیں۔

    جس وقت اعلانِ بالفور ہو رہا تھا، اس وقت ان کی تعداد چھ یا سات فیصد تھی۔

    یہودیوں کی وہاں۔

    جیسے ہی برطانیہ آ گیا اور برطانیہ نے اعلان کیا، اگلے دو مہینوں میں 2,600 سے ان کی تعداد 83,000 پر پہنچ گئی۔

    اور پھر بڑھتی رہی، بڑھتی رہی، بڑھتی رہی، یہاں تک کہ مئی 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر کے برطانیہ درمیان سے نکل گیا اور سارا کچھ جناب ڈال دیا اقوام متحدہ کے اس میں کہ میں اس کے انتداب سے برطرف ہو رہا ہوں، اب یہ جانے اور ان کا کام جانے۔

    اور اسرائیل کے قیام کا اعلان ہو گیا۔

    فلسطینی تحریکیں اور عرب حکمرانوں کا کردار

    اب میرے بھائیو! خود ہمارا کیا کردار رہا اس حوالے سے؟

    عزالدین القسام شہید رحمۃ اللہ علیہ 1935 کو شہید کر دیے گئے تھے، بعد میں بھی تحریکیں اٹھتی رہیں۔

    جیسے 1948 ہی میں فلسطینی تحریک اٹھی۔

    1949 میں اٹھی۔

    لیکن آپ کو افسوس ہوگا کہ اس وقت کے اردن کے شاہ عبداللہ نے انہی فلسطینی مجاہدین کے کمر میں چھری گھونپی اور ان کے ساتھ غداری کی۔

    1965 میں، 67 میں جو جنگیں ہوئیں پھر پی ایل او قائم کی گئی، بڑی طویل تاریخ ہے اور 67 میں جو ہے وہ یاسر عرفات اٹھا، الفتح اس نے بنائی۔

    اس کے جو ہے، اس کو سب سے بڑا خطرہ اس وقت کہ اردن کے بادشاہ نے وہ جو ہے اس کو اپنا خطرہ سمجھا اور جناب! ان کے خلاف اردن کے اندر آپریشن شروع کر دیا، فلسطینیوں کے خلاف۔

    اور ان کو وہاں سے اپنے مراکز تیونس منتقل کرنے پڑے۔

    یہ ہمارا کردار ہے۔

    انور سادات اور عرب دنیا کا کردار

    انور سادات ایک جوش کے ساتھ اٹھا تھا اسرائیل کے خلاف، وہ شخص کس پوزیشن پہ آیا؟ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پوزیشن پہ آیا۔

    انور سادات کو گولی مار دی گئی۔

    شاہ عبداللہ کو گولی مار دی گئی۔

    اس سے آپ اندازہ کریں، ایک تو یہ منظر نامہ تھا، اندر بھی تحریک چل رہی تھی۔

    وہ کون تھے؟ وہ عوام تھے۔

    وہ نہیں مانتے تھے کہ بھئی! ہمارے حکمران اپنا وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈالیں۔

    پھر 1971 میں ہم نے کیا کیا؟ خود ہمارے اپنے اس وقت کے ڈکٹیٹر، اپنے تئیں امیرالمومنین کہلانے والے کیا انہوں نے فلسطینی مجاہدین کے خلاف اردن کا ساتھ نہیں دیا؟

    1971 میں ہم نے کیا کیا؟

    حتیٰ کہ یاسر عرفات اس موڑ پہ آ گیا کہ 88 میں اس نے دو ریاستی فارمولے کو اوسلو معاہدے کے تحت قبول کر لیا۔

    وہ جو ہیرو تھا، وہ اس موڑ پہ کیوں آیا؟

    بہت سے اسباب ہو گئے، غداریاں، سب کچھ، لیکن عربوں کی منافقت۔

    اس کاز کے ساتھ عربوں کی منافقت۔

    اس کو ہم نکال نہیں سکتے، تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔

    وہ ہر چیز کا کچا چٹھا کھولتی ہے، میں بہت

    یہ منافقت نے ان لوگوں کو وہاں تک پہنچایا کہ جس وقت انور سادات قتل ہوا ہے اس وقت نہ مصر میں کوئی ماتم کرنے والا تھا نہ کوئی جنازہ پڑھنے کے لیے بھی کوئی تیار نہیں تھا۔

    حماس، محمود عباس اور بہائی مذہب

    اور پھر اس کے بعد یاسر عرفات کے بعد اوسلو معاہدہ کروا کے جس شخص کو سامنے لایا گیا محمود عباس بہائی مذہب کا ہے۔

    جس طرح ہمارے ہاں قادیانی ہیں اس طرح عرب میں قادیانیوں کا متبادل بہائیوں کو کھڑا کیا گیا ہے۔

    وہاں حماس 87 میں قائم ہوئی، اس کے خلاف جن لوگوں کو صف اول میں وہاں قیادت دی گئی، محمود عباس اور اس طرح ان کی اکثر یہ بہائیوں پر مشتمل ہے۔

    جیسے ہمارے ہاں قادیانیوں کو ہمارے اداروں میں گھسایا گیا ہے پاکستان کا تشخص مٹانے کے لیے اور پاکستان کا تشخص پامال کرنے کے لیے اور پاکستان کی جو عالمی سیاست میں ایک حیثیت تھی اس کو مجروح کرنے کے لیے ویسے وہاں ہو گیا۔

    وہ بہائی مذہب کا آدمی ہے وہ تو ان کے ایجنڈے پہ چلے گا وہ پکا کافر ہے جس طرح قادیانی کافر ہیں۔

    پاکستان کا فلسطین کے مسئلے میں کردار

    تو میرے بھائی یہ تو عرب تھے ہمارا کیا رہا؟ پاکستان کا فلسطین کے کاز کے حوالے سے کیا ہو رہا؟

    علامہ اقبال مرحوم وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے خود فلسطین کا دورہ کیا مفتی اعظم امین الحسینی سے ملاقات کی اور یہاں آ کر اس نے مسلم لیگ کے اندر اس حوالے سے ایک بیداری پیدا کی۔

    ابوالکلام آزاد وہ آدمی تھے جس نے شیخ محمد عبدہ اور علامہ رشید رضا مصری ان لوگوں سے رابطے کیے ان کے خطوط موجود ہیں اور اس مسئلے میں انہوں نے عالم عرب کو اٹھانے اور اس کی فکر کی اور ان اس وقت کانگریس میں جو علماء تھے وہ بھی مسلم لیگ میں جو سنجیدہ حضرات تھے وہ بھی۔

    یہ اس بات پر متفق تھے کہ اسرائیل کا وجود عالم اسلام کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناح اور فلسطین

    اور قائداعظم محمد علی جناح کے سینکڑوں بیانات ہیں جس میں انہوں نے اسرائیل کا وجود مسترد کیا، روزویلٹ کے نام ان کا جو خط ہے امریکی صدر کے نام ریکارڈ پر موجود ہے، اس میں اسرائیل کو ناجائز بچہ کہا گیا یورپ کا۔

    جس وقت پاکستان کو وجود ملا اور ہمارے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان مرحوم امریکہ کا دورہ کرنے گئے، پہلا دورہ لیاقت علی خان صاحب کی تقریر کے بعد جو کانگریسی پارٹی کی صدر نے امریکی کانگریس کے صدر نے جو تقریر کی آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔

    اس پوری تقریر کا لب لباب کیا تھا؟ کہ لیاقت علی خان کو کہا گیا کہ ہم پاکستان نوزائیدہ ریاست ہے، ہم آپ کو یہ یہ یہ یہ یہ دیں گے، آپ اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔

    لیاقت علی خان مرحوم نے ایک جملے میں جواب دیا تھا: مسٹر جنٹلمین، اوور سول ناٹ فار سیل۔

    صاحب بہادر! ہماری روح برائے فروخت نہیں ہے۔

    فلسطین ہمارا روحانی مسئلہ ہے۔

    یہ ہمارا مذہبی مسئلہ ہے۔

    میں اپنے روح اور مذہب کو نہیں بیچ سکتا۔

    پاکستان کے اندر دو مختلف رخ

    یہ کس کا بیانیہ ہے؟ قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان مرحوم لیکن دوسری سائیڈ پہ آئیں۔

    سر ظفر اللہ خان پہلا قادیانی وزیر خارجہ وہ اس نے 1952 میں امریکہ کے اندر اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔

    1953 میں وزیر خارجہ نے ہمارے جو قادیانی وزیر خارجہ تھے اس نے ملاقات کی اور باقاعدہ ان کو سراہا، اسرائیل کو سراہا اور ان کے لیے راہ ہموار کرنے کی جناب! یقین دہانیاں کروائی گئیں۔

    تو یعنی مطلب ہے دو رخ چلتے رہے اور رخ بھی آپ پہچان لو کون ہے؟

    کون اسرائیل کے پلڑے میں وزن ڈال رہا تھا پاکستان بننے کے ساتھ؟ کون اسرائیل کے سامنے سینہ تان کے امریکہ کا امریکہ کے ایوانوں میں کہہ رہا تھا کہ ہماری روح برائے فروخت نہیں ہے؟ دونوں دیکھ لو دونوں چہرے۔

    اور آج بھی دیکھ لو جو کہہ رہے ہیں کہ ہم ہماری روح برائے فروخت نہیں ہے، یہ وہ ہے جو بانیان پاکستان کے بیانیے پہ آج تک کھڑے ہیں۔

    اور جو کہہ رہے ہیں کہ یار! دو ریاستی فارمولا قبول کر لیا جائے، جنگیں تو ہماری انڈیا سے بھی ہوئی ہیں، سفارتی تعلقات تو ہمارے ہندوستان سے بھی ہیں، تو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کیا قیامت آ جائے گی؟ جان لو۔

    کہ یہ ظفراللہ قادیانی کا سلسلہ ہے۔

    کیونکہ پاکستان کے بنتے ہی دونوں تصویریں ہمارے سامنے آ گئی تھیں۔

    نہر سویز اور پاکستان کا مؤقف

    پھر جو جمال عبدالناصر کے خلاف نہر سویز کے معاملے میں اسرائیل نے اقدامات کیے اور جنگیں ہوئیں۔

    پاکستان کے ہائی کمیشن میں ایک قادیانی تھا عثمان۔

    اس نے باقاعدہ اسرائیل کو تھپکی لگائی کہ اچھا کیا آپ نے مصر کو ڈنڈا دیا۔

    لیں پوری تاریخ لیں۔

    کہ کیا یعنی مطلب ہے ہر چہرہ آپ کو نظر آ جائے گا، پاکستان میں بھی دو طرفہ باتیں رہی ہیں اور آج بھی ہیں۔

    موجودہ حالات اور اسرائیل سے سفارتی تعلقات کا سوال

    اور آج تو جو ہے وہ بہت زیادہ آپ دیکھ رہے ہیں چینلوں پر، بلکہ ہمارے محترم وزیراعظم صاحب نے بھی بیان دیا ہے۔

    وزیراعظم صاحب! آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں، آپ ہمارے قوم کے بڑے ہیں، مجھ سے تو عمر میں بھی بڑے ہیں۔

    دونوں حوالوں سے میرے لیے قابل احترام ہیں۔

    لیکن میں آپ سے پاکستان کے ایک آزاد شہری کی حیثیت سے یہ درخواست کروں گا کہ میں آپ کے بارے میں یہ بدگمانی تو نہیں کر سکتا کہ آپ کی نظر تاریخ پر نہیں ہوگی۔

    آپ کن کی بولی بول رہے ہیں؟

    یا آپ کی کیا مجبوری ہے؟

    یہ مسئلہ تو ہمارا روحانی ہے، یہ تو ہمارے قائدین اور بانیان نے طے کر لیا ہے، یہ مسئلہ تو ہمارا مذہبی ہے، ہم شروطِ عمریہ کے پابند ہیں۔

    یہ مذہبی مسئلہ ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنا اسلام سے غداری ہے، چاہے وہ یاسر عرفات تسلیم کرے، چاہے حسنی مبارک تسلیم کرے، چاہے انور سادات تسلیم کرے، چاہے محمود عباس تسلیم کرے۔

    چاہے پورا عرب اس کو تسلیم کر لے، کیا یہ اس کو پورے اسلام کے لٹریچر میں دیکھ لیں کیا مسلمانوں کا وہ طبقہ نہیں رہا جس نے اس کو اسلام سے غداری سمجھا؟ آپ کے بانیانِ پاکستان ان کا کیا کہتے ہیں؟

    قائداعظم محمد علی جناح اور موجودہ سیاسی مؤقف

    پھر وزیراعظم صاحب کا ایک انٹرویو میں نے سنا۔

    وزیراعظم صاحب نے اس میں گفتگو میں صحافی کو یہ اس طرح کی گفتگو کی کہ میں اسے مغالطہ ہی کہوں گا۔

    یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی کہ دیکھیں قائداعظم محمد علی جناح کے دور کے جو حالات تھے، وہ جس نتیجے پر پہنچے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ ہم اس نتیجے پر پہنچیں۔

    تو دیکھیں، قائداعظم محمد علی جناح ہو، لیاقت علی خان مرحوم ہو، ان کے ساتھ آپ سیاسی نتائج میں اختلاف کر سکتے ہیں۔

    کہ وہ کسی سیاسی مسئلے میں ایک نتیجے پر اس وقت کے حساب سے پہنچے تھے، آج سیاسی تقاضے بدل گئے ہیں۔

    آپ یہ دیکھیں کہ محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اور جو ہے وہ اپنے لیاقت علی خان مرحوم نے اس مسئلے کو سیاسی تناظر میں لیا یا مذہبی تناظر میں لیا؟

    اگر وہ مذہبی تناظر میں تھا تو کیا مذہب بدل گیا ہمارا؟

    یعنی مذہب بدل گیا ہے؟ یا تو کہہ دو کہ پاکستان کی آئین کی لوح پہ جو لکھا ہے کہ قرآن اور سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں ہوگا اور مذہب کی اولیت، یا تو کہہ دو کہ جی وہ بدل گیا ہے، تاکہ معاملہ صاف ہو جائے۔

    اور ہم جو ہے وہ کسی پوزیشن کے اندر ہو کے پھر آپ سے گفتگو کریں گے، جناب یہ کیا ہے؟ ڈیبیٹ کا طریقہ کار ہی یہی ہے کہ پوزیشن تو واضح ہو۔

    تو میری عاجزانہ درخواست ہے کہ ہمارے قوم کے بڑوں کو کیا ہو گیا؟

    کیا ان کی نظر اپنی تاریخ پہ نہیں ہے، اپنے تراث پہ نہیں ہے؟ وہ کتنی تاویلیں کریں گے اور یار! ہم کتنا گریں گے اور؟

    ہم اور کتنا گریں گے؟

    بعین ہی یہی بیانات پرویز مشرف صاحب نے دیے تھے۔

    انہوں نے یہی کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات میں حرج کیا ہے؟

    ٹھیک ہے؟

    انڈیا، بھئی! انڈیا کا معاملہ ہے، اسرائیل کا معاملہ، آپ ان کو ساتھ میں لا رہے ہیں؟

    عجیب بات ہے!

    آپ چلو مذہب سے تو آپ ماشاءاللہ، مذہب کے ساتھ تو جتنی وابستگی ہے وہ ہے، لیکن نظریہ پاکستان، اس کے بانی ان کو دیکھیں، انہوں نے مسئلہ اسرائیل کو کس تناظر میں لیا ہے؟

    اس سے تو یو ٹرن نہ لیں۔

    یو ٹرن کا سیزن ہے۔

    سیزن ہی ہے ہر بات سے یو ٹرن۔

    تو بہرحال میرے بھائیو! یہ پورا ایک

  • فلسطین کی تاریخ — حصہ دوم

    فلسطین کی تاریخ — حصہ دوم

    مسجدِ ضرار سے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال اور فلسطین کی زمینوں کی فروخت تک

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔

    تحریری وضاحت

    یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔

    فلسطین کی تاریخ — حصہ دوم

    بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان

    مسجدِ ضرار کا قیام

    ان کے لیے ایک اپوزیشن کھڑی کرنی چاہیے، ایک ایسی، ایک ایسی جماعت وہاں کھڑی کرنی چاہیے جو جماعت وہاں متفقہ فیصلوں پر تنقید کر سکے، رائے دے سکے۔

    اب ابو عامر نے یہ پورا منصوبہ کیا اور انہوں نے کہا بھئی مدینہ میں تو یہ چیز ناممکن ہے۔ پھر ان کا مشورہ یہ ہوا کہ چلو مدینہ میں ناممکن ہے، مدینہ سے باہر کوئی جگہ چنتے ہیں اور کام کا عنوان کیا رکھتے ہیں؟

    اب یہ نظمِ حکومت قائم ہو چکا ہے، مسلمان مضبوطی سے پاؤں جما چکے ہیں سیاسی اعتبار سے تو اب کام کا عنوان کیا رکھیں؟ انہوں نے کہا عنوان رفاہی رکھنا چاہیے، عنوان تعلیمی رکھنا چاہیے۔ تعلیم کے عنوان سے، رفاہی خدمت کے عنوان سے کام کریں گے۔ اس کے لیے انہوں نے مسجدِ ضرار قائم کی۔

    اور مسجدِ ضرار کا یہ ایجنڈا کیا تھا کہ جو لوگ کمزور ہوں گے، جو ضعیف ہوں گے، جو خواتین وہاں قبا نہیں جا سکیں گی، ان کی تعلیم، تربیت، عبادت کا یہ ایک مرکز ہوگا۔

    عنوان تعلیمی! اب یہودی سیاست کو بس خود ہی آپ سمجھ رہے ہیں، سمجھدار لوگ ہیں۔ دیکھیں کہ وہ جڑیں اسلامی خلافت میں کس طرح جماتی ہیں۔ عنوان کام کا کیا ہوگا؟ رفاہی۔ عنوان کام کا کیا ہوگا؟ تعلیمی۔ اور اس عنوان کو قانونی حیثیت دینے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا افتتاح کروائیں گے۔

    اب جب حضور ایک افتتاح کر لیں گے، ریاست اور اسٹیٹ کا سربراہ افتتاح کر لے گا، قانونی حیثیت خود بخود ہو جائے گی۔ پھر اہلِ قبا ان کی جماعت کو توڑیں گے۔

    ان کے لوگوں کو ترغیب دیں گے یار یہاں آسانی ہے، آپ کے گھر کے قریب ہے، وہی باتیں یہاں بھی ہو رہی ہیں، یہاں آؤ۔ مفت تعلیم ہے، مفت تربیت ہے، خواتین کو لاؤ، ایک خاتون کو بگاڑ دیا جائے نا، پورا خاندان بگڑ گیا۔

    اب جناب انہوں نے یہ ترتیب کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، تبوک کا معرکہ درپیش تھا، ساری تاریخ آپ حضرات کے سامنے ہے۔ حضور نے فرمایا: “تبوک سے واپسی پر میں افتتاح کرنے ضرور آؤں گا۔”

    اب جناب ان کو جو یہ اپروول مل گیا اوہو! وہ تو بڑے شادیانے بجانا شروع ہو گئے کہ کام تو ہو گیا ہمارا۔ ابو عامر نے پورا ایجنڈا دیا، قرآنِ پاک نے ان کی پوری سیاست کا پول کھولا۔ اور تبوک سے واپسی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہ وحی اتری۔ قاری صاحب وہ آیت پڑھیں:

    وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ

    (سورۃ التوبہ، آیت 107)

    مسجدِ ضرار کے چار مقاصد

    قرآن نے اس یہودی سیاست کے چار مقاصد بتائے کہ یہود جس وقت عالمِ اسلام میں کام کرے گا، ان چار سیاسی بنیادوں پہ کام کرے گا۔

    نمبر ایک: وہ ایک جماعت کھڑی کرے گا، آپ میں سے کھڑی کرے گا۔ انتہائی اچھے عنوان پہ کھڑی کرے گا، مسجد کا عنوان ہوگا، تعلیم کا عنوان ہوگا، تربیت کا عنوان ہوگا، آپ کے معاشرتی ضروریات کا عنوان ہوگا۔

    آپ کی معاشرتی ضرورت ہوگی وہ، آپ کی معاشی ضروریات کا عنوان ہوگا، آپ کی سماجی ضروریات کا عنوان ہوگا، آپ کی ضرورت ہوگی وہ معاشرے کو، اس عنوان سے قائم کر کے کیا کرے گا؟ پہلا کام: ضرارًا۔ پہلا کام یہ ہے کہ اس کا مقصد وہ جو مخلص مسلمانوں کا مرکز ہے قبا، اس کو تکلیف پہنچانا ہے۔

    وہ کبھی بھی، وہ آپ کو جو پیکج دے رہا ہے، یاد رکھیں کہ اس میں آپ کی تکلیف ہے۔ اس کا مقصد ہی مخلص مومنین کو تکلیف دینا ہے۔ ایسے ایسے ایسی ترتیبات شروع کرے گا، ایسے کام شروع کرے گا، مخلص مسلمانوں کی کمر توڑ دے گا، ان کو تکلیف دے گا، ان کو اذیت دے گا، ان کے راستوں میں روڑے اٹکائے گا، جو صحیح مخلصانہ کام ہو رہے ہیں، مخلصانہ شخصیات ہیں، ان کا راستہ روکے گا، ان کے لیے اذیت کا باعث ہوگی یہ چیز۔

    آپ اپنے نظمِ سیاست میں خود سوچتے جائیں اور قرآن کھولیں کہ قرآن اس یہودی سیاست سے کیسے پردہ چاک کرتا ہے؟ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: کفرًا۔ یہ کفر کا ایجنڈا لے کر چلیں گے، یہ سب کچھ کفر کے باعث ہے۔ ان کے پاس اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہوگا۔ کفر جس طرح کا کام چاہے گا ان سے، وہ اسی طرح کا کام کریں گے۔ ان کی سیاست ہی اپنے وقت کے مقتدر کفریہ طاقتوں کے ایجنڈے کے تحت ہوگی۔

    وہ کہیں گے کہ فلاں مسئلے کے خلاف بیان دے دیں، یہ بیان دے دیں گے۔

    فلاں مسئلے کے خلاف جناب من آپ نے نوجوانوں میں یہ چیز عام کر دیں وہ وہ عام کر دیں گے، آپ کو کہیں گے کہ جناب میڈیا میں یہ چیز چلائیں آپ وہی چلائیں گے، آپ کا اپنا کوئی بیانیہ نہیں ہوگا وہ کفر کا بیانیہ لے کر چلیں گے، یہ دوسرا۔

    تیسرا، وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ، وہ مسلمانوں کے باہمی چھوٹے چھوٹے ایشو، ان کو چھوٹی چھوٹی باتیں، اختلافِ رائے، اختلافِ رائے کو ایشو بنا دیں گے۔

    ایشو بنا کر مسلمانوں میں تفریق پیدا کر دیں گے، اپوزیشن کھڑی کر دیں گے، آپ کے لیے مخالفت کھڑی کر دیں گے اور جناب جب کسی کام میں اختلافِ رائے ایشو بن جائے، چوک و چوراہوں پر آ جائے، وہ کام نہیں ہوتا۔

    یہ خلافت کا مزاج ہی نہیں ہے بھئی! خلافت میں یہ تصور ہی نہیں ہے۔

    اسلام کے نظمِ سیاست میں اس چیز کا تصور نہیں ہے، کیونکہ یہاں تو بھئی میری، میں نے پارٹی کو بچانا ہے، اگر حکومت درست کام کرے گی میں اس پر بھی تنقید کروں گا، غلط کرے گی تو اس پہ ویسے بھی کروں گا۔

    ادھر جناب اپوزیشن اگر ٹھیک بات بھی کرے گی تو حکومت کی کوشش یہ ہوگی کہ یہ ٹھیک کو بھی رد کر دیا جائے اور ٹھیک تو اس کی غلط تو اس کی ویسے بھی رد ہے۔

    یہ جو نظمِ سیاست ہے یہودی یہ یہ تیسرا کام، چوتھا، وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ، یہ جگہ بالآخر جب ان کو سیاسی عصبیت مل جائے تو یہودیوں نے اس جگہ کو مورچہ بنانا ہے، مورچہ، حربی کافروں کا مورچہ، ان لوگوں کا مورچہ، ان لوگوں کا اڈا جو لوگ اللہ اور رسول کے ساتھ پہلے سے لڑ رہے ہیں، جو بازنطینی اور جو جناب یہودی وہ اللہ اور رسول کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، ان منافقین نے یہ نظمِ سیاست کھڑا کر کے ان کو اڈے دینے ہیں۔

    یہ ان کو راستے فراہم کریں گے، یہ ان کو لاجسٹک سپورٹ دیں گے، یہ ان کو اڈے دیں گے، یہ ان کو بری راستے، بحری راستے، فضائی راستے دیں گے، تب وہ آپ تک پہنچیں گے۔

    ان کا آخری مقصد یہ ہے، قرآن نے پوری ان کی سیاست کا پول کھولا ہے کہ نہیں؟

    آپ دیکھ لیں، اپنے عہد میں دیکھ لیں، آج کفر اسی سیاسی یہودی، اسی سیاسی ایجنڈے پر عالمِ اسلام کے اندر کام کر رہا ہے، نہیں کر رہا؟

    مجرم میں اور آپ ہیں، آپس میں ہیں، قرآن نے تو ہمیں 1400 سال پہلے بتایا ہوا ہے، کیا قرآن پاک ہم نہیں پڑھتے؟ ہم نہیں پڑھاتے؟ کیا یہ آیات ہمارے سامنے نہیں ہیں؟ کیا ہم نے یہودیوں کے اس نظمِ سیاست سے اللہ نے 1400 سال پہلے پردہ نہیں اٹھایا؟ ہم نے کیا پیش بندی کی ہے؟

    میں بہت چھوٹا آدمی ہوں اور میں ہاتھ جوڑتا ہوں آپ کے سامنے، لیکن کیا زندہ باد مردہ باد سے ہم سارا کام چلا لیں گے؟

    لائحہ عمل کیا ہے ہمارے پاس؟ پیش بندی، اب دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ وحی اتری، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچنے کا انتظار بھی نہیں کیا، وہاں سے حضرت معان بن عدی اور مالک بن دخشوم کو بھیجا کہ میں مدینہ میں داخل ہوں تو اس سے پہلے یہ مسجد زمین سے ملی ہوئی ہو۔

    تو کسی کو مالک بن دخشوم بننا پڑے گا نا، کسی کو تو حضرت معان بن عدی بننا پڑے گا، اب جناب یہودی نے اس ترتیب پر کام چھوڑا نہیں ہے، جا کے حضرت عثمان کے دور میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔

    انہوں نے پھر مصر کو چنا ہے، دور دراز علاقوں کو چنا ہے، مدینہ سے دور مراکز چنے ہیں، عبداللہ بن سبا کی تحریک یہی، یہودی تحریک تھی، اس نے پوزیشن کھڑی کی کہ نہیں کھڑی کی؟ ہڑتالیں ہونے لگی کہ نہیں ہونے لگی حضرت عثمان کے دور میں؟ اس کے نتائج آپ دیکھ رہے ہیں۔

    بیت المقدس اور شروطِ عمریہ

    تو میرے بھائیو! یہ یہی یہودی سیاست ہے، قرآن پاک نے اس کا پورا نقشہ ہمارے سامنے بتایا، یہود ان 14 سوا چودہ پندرہ سو سالوں میں تو آپ پوری تاریخ اٹھا کے دیکھیں، ایک دن بھی آرام سے نہیں بیٹھے۔

    پھر یہودی پٹتے رہے ہیں ساری دنیا میں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جس وقت بیت المقدس ہم نے لیا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی چابیاں لینے گئے تو جو شروطِ عمریہ طے ہوئی عیسائیوں کے ساتھ، اس میں ایک شق حضرت عمر کے سامنے انہوں نے یہ رکھی کہ یہ بیت المقدس ہم کو آپ کو اس شرط پر حوالے کر رہے ہیں، بہت ساری شروط ہیں، وہ آپ لوگوں نے پڑھی ہوں گی، اس کو پڑھیں، کتابوں میں، ہزارہا کتابوں میں یہ چھپ چکی ہے، تاریخ کی، فقہ کی، اور جو ہے نا قانون بین الاقوام کا اور دنیا کی ہر زبان میں ان کے ترجمے موجود ہیں۔

    اس میں ایک شرط کیا تھی، حضرت عمر کے سامنے انہوں نے کیا رکھی؟

    کہ یہودیوں کو یہاں بسنے نہیں دیا جائے گا۔

    اس شرط پر ہم آپ کو بیت المقدس حوالے کرتے ہیں۔

    مسلمانوں نے، حضرت عمر نے اس شرط پر بیت المقدس عیسائیوں سے لیا کہ یہاں یہودی آبادکاری نہیں ہوگی۔

    عیسائیوں نے لگائی یہ شرط۔

    اور ہم نے قبول کی۔

    اور اس پر عیسائیوں کے اس وقت کے رہنماؤں کے دستخط ہیں، حضرت عمر کے دستخط ہیں، حضرت امین الامہ ابو عبیدہ بن جراح کے دستخط ہیں، سیف اللہ خالد بن ولید کے دستخط ہیں۔

    اور اس امت کے حلال و حرام کے سب بڑے عالم “أَعْلَمُكُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ” معاذ بن جبل کے دستخط ہیں، رضی اللہ عنہ۔

    یہ اجماع ہے۔

    یہ نہیں مل سکتے یہودیوں کو۔

    اگر آج کوئی اٹھ کے کہتا ہے کہ بھئی ٹو نیشن، دو ریاستی حل، بھئی یہ دین سے غداری ہے۔

    فلسطینی بھی مان لیں اسرائیل کو، ہم نہیں مان سکتے۔

    تم نہیں مان سکتے جی، یہ تو طے ہے۔

    بیت اللہ کی مرکزیت

    پھر جناب یہ اب بہت سارے لوگ ہمارے اندر اٹھ گئے ہیں، بھی تولیت کا حق۔

    اللہ کے بندے یہ تو کامن سینس کی بات ہے۔

    عقلِ عام کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرکزیت بیت المقدس سے کام منتقل کر دی بیت اللہ۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ بیت اللہ کو ٹھہرا کیونکہ جغرافیائی اعتبار سے بھی یہ نافِ زمین ہے۔

    زمین کا ناف ہے مکہ۔

    اور هُدًى لِلنَّاسِ ہے۔

    جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہے، اسی طرح یہ مرکزِ ہدایت بھی خاتم المراکز ہے، یہ آخری مرکزِ ہدایت ہے بیت اللہ۔

    جب یہ آپ کا عقیدہ ہے، میرا عقیدہ ہے کہ اسلام عالمگیر مذہب ہے، تا قیامت کے لیے ہے۔ عالمگیریت کا اصول یہ ہوتا ہے کہ جو مرکز عالمگیر طے ہو جائے، دنیا کے تمام مراکزِ ہدایت اس کے تابع ہو جاتے ہیں۔

    اور جو مرکز کے متولی ہوتے ہیں، وہ باقی مراکز کے بھی متولی ہوتے ہیں بھائی۔

    خود بخود وہ متولی ہو گئے۔

    پھر جو شروطِ عمریہ ہے، اس میں تولیت ہم نے لے لی۔

    اس پر اجماع ہو گیا وہ ہمارے ہاتھ میں اور مسلمان۔

    جتنے بھی گئے گزرے ہوں تاریخ میں، پوری تاریخ آپ مطالعہ کریں۔

    درمیان کا جو عرصہ ہے، جو عیسائیوں نے دوبارہ ہم سے لیا اور پھر صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی جہاد کی برکت سے دوبارہ۔

    اس تھوڑے سے وقفے کے کہ مسلمان ہر دور میں انہوں نے تمام تر کمزوریوں کے باوجود بیت المقدس، حرمین ان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

    سلطنتِ عثمانیہ کا زوال

    اب آتے ہیں آخری دور کی طرف۔

    مسلمانوں کی آخری سیاسی وحدت سلطنتِ عثمانیہ تھی۔

    سلطنتِ عثمانیہ کا زوال بھی بڑا تدریجی ہے۔

    بایزید یلدرم بجلی کے کڑک اور طوفان کی طرح وسطی یورپ تک پہنچ گیا تھا۔

    مسلمانوں نے ویانا کا محاصرہ کیا ہوا تھا، ویانا یورپ کا مرکز ہے۔

    پیچھے سے سینٹرل ایشیا سے خرابزی اٹھتا ہے۔

    تیمور لنگ۔

    اور جناب اس نے جا کے پیچھے سے حملہ کر دیا۔

    وہ دفاع کے لیے پیچھے مڑا، مغربی طاقتوں نے پیچھے سے حملہ کیا، یلدرم درمیان میں پھنس گیا اور جناب گرفتار ہو گیا، وہ جو پوری تاریخ آپ کے سامنے ہے۔

    پھر وسطی یورپ کے جتنے مفتوحہ علاقے تھے، ایک ایک عثمانیوں کے اس دور کی تاریخ پڑھیں۔

    عثمانیوں نے بہت جگری سے ان کا دفاع کیا ہے۔

    لیکن ادھر سینٹرل ایشیا کے رافضی اٹھ گئے تھے ان کے خلاف۔

    بیڑا غرق ہو گیا جناب، سارے علاقے چھن گئے۔

    اور یہ قوم بھی آپ کو تاریخ میں ان ان مواقع پر اب دیکھتے رہیں گے کہ کیا، تاریخ ہم مٹا تو نہیں سکتے نا!

    وہ تو سبق ہے، وہ تو ہر ایک کے کردار کو کھول رہی ہے۔

    تو بہرحال یہ لوگ رفتہ رفتہ رفتہ رفتہ یہ علاقے خالی کرتے گئے۔

    یہاں تک کہ سلطان عبدالحمید کا دور آیا۔

    اور پھر جناب جنگِ عظیم اول میں آپ حضرات جانتے ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ ان کا جرمنی کے ساتھ اتحاد تھا، انگریزوں کے خلاف تھے، پھر جنگِ عظیم کے خاتمہ پہ جرمنی کو شکست ہو گئی تو خلافتِ عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔

    یورپ کے جو ممالک تھے، بلغاریہ، یونان، یہاں تک کہ سلطنتِ عثمانیہ اس وقت بھی موجود تھی۔ وہ علیحدہ ممالک ٹھہر گئے۔ یہ جو خطہ تھا، اس خطے کے اندر اردن اور عراق انگریزوں کو ملا، اور جو ہے لبنان اور شام جو ہے سوریہ یہ فرانس نے لیا، اور یہ جو چھوٹا سا علاقہ تھا، یہ 1917 یا 18 میں جو آخری جنگ ہوئی، تو دسمبر کا مہینہ تھا، آٹھ اور نو دسمبر کی درمیانی رات ترکوں نے ترکوں کے خلاف مقامی بغاوت عربوں کی برپا کر دی برطانیہ نے۔

    ساری بغاوت کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ شریفِ مکہ نے جو بغاوت کی، ہمارے اکابر اس میں گرفتار ہوئے۔ اس نے لارنس آف عربیہ کی شکل میں یہ جو لوگ کھڑے کیے اور وہی ان کی منافقانہ سیاست، وہ ایک اپوزیشن کھڑی کر دی، وہ بغاوت تک ان پہ کھڑا کر دیا، انہوں نے ہی برطانیہ کو اڈے دیے، تو ترکوں نے اس لیے خالی کر دیا بیت المقدس کو کہ اس مقدس زمین پر خون نہیں بہانا چاہیے۔

    وہ نکل گئے فوجیں، برطانیہ آگیا۔ برطانیہ نے آتے ہی اعلانِ بالفور کے ذریعے اس زمین کو کس کو دینے کا پروانہ جاری کر دیا؟ یہودیوں کو۔

    سلطان عبدالحمید خان اور ڈاکٹر ہرزل

    اب اس سے پہلے، 1917 یا 18 سے پہلے یہ جدوجہد شروع ہوئی ہے جناب جو سلطان عبدالحمید خان کے ساتھ ان کے مذاکرات شروع ہوئے، ڈاکٹر ہرزل کے، وہ 1901 میں شروع ہوئے۔

    1901 میں ہرزل خود ملا اور اس نے اشاروں اشاروں میں یہ بات کی کہ یہاں ہمیں زمین خریدنے کی اجازت دی جائے۔ سلطان عبدالحمید خان نے کہا کہ فلسطین میرے باپ کی جاگیر نہیں ہے، میں شروطِ عمریہ کا پابند ہوں۔ میں ایک انچ زمین بھی تمہیں نہیں بیچ سکتا۔

    پھر 1902 میں ڈاکٹر ہرزل نے علیحدہ وفد بنایا، سلطان عبدالحمید خان نے اس سے ملاقات نہیں کی اور اس وفد کی وزراء سلطنتِ عثمانیہ کے وزراء سے ملاقات کی۔ انہوں نے ان کے سامنے یہ رشوت کی پیشکش رکھی کہ آپ کا سارا قرضہ بھی معاف کیا جاتا ہے، آئندہ 10 سال آپ کی جتنی معاشی ضروریات ہیں وہ ہم پوری کرنے کے لیے تیار ہیں، آپ زمین خریدنے کی اجازت دے دیں۔

    یہ وہ مرحلہ ہے جس مرحلے پر آج ہمیں کھڑا کیا گیا ہے، جس مرحلے پر آج ہم کھڑے ہیں۔ پہلے ان کو گرداب میں پھنسایا گیا، قرضوں میں پھنسایا گیا، یہودیوں کے وہ مقروض تھے، انگریزوں کے وہ مقروض تھے اور جناب ان کو کہا گیا کہ قرضے سارے معاف کرتے ہیں تو سلطان عبدالحمید خان نے اپنے وزراء سے کہا کہ انہیں جواب دے دو کہ میں فلسطین کا ایک انچ بھی کسی یہودی کو فروخت نہیں کر سکتا۔

    آپ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کر لیں۔

    اب جناب! یہودی سیاست! سلطان عبدالحمید خان وہ وفد نکلتے ہوئے، اس وفد کا جو سربراہ ڈاکٹر ہرزل نے بھیجا تھا، اس نے کہا کہ آپ اس کا نتیجہ، سلطان کو کہیں کہ اس کا نتیجہ آپ عنقریب دیکھ لیں۔

    سلطان عبدالحمید خان نکلا، تو جناب! سلطنتِ عثمانیہ میں یہود نے تعلیم کے عنوان پر، رفاہی کاموں کے عنوان پر، معاشی سہولیات اور فیسیلٹیز لوگوں کو دینے کے عنوان پر اپنی جو این جی اوز پھیلائی تھیں، اپنے جو ادارے پھیلائے تھے، ان اداروں نے جا کے لڑکے جو فرانس میں داخل کروائے تھے ترکوں کے، ان وہ جو وہاں سے تعلیم تربیت لے کر آئے تھے، وہ ان کے معصوم نمائندے بن کر عبدالحمید خان کے خلاف کھڑے ہو گئے۔

    وہی پالیسی جس سے 1400 سال پہلے قرآن نے پردہ اٹھایا۔ اسی پالیسی پہ، یہی پالیسی ہے یہود کی، میں اور آپ اب بھی سوئے ہوئے ہیں، میرا اور آپ کا حکمران بھی ابھی سویا ہوا ہے، اور اسی پالیسی کے مطابق سلطان عبدالحمید خان کو معزول کر دیا گیا، پھر جیل میں ڈال دیا گیا، جو شخص معزولی کا پروانہ لے کر آیا عبدالحمید خان صاحب کے پاس، وہ وہ تھا جس نے 1902 میں یہودیوں کے وفد کی قیادت کی تھی۔

    اور آپ کو تعجب ہوگا کہ وہ وہی شخص تھا جو اسرائیل کا پہلا صدر بھی بنا۔ یہ پوری یعنی مطلب ہے کہ بہت ہی افسوسناک ہماری تاریخ ہے، لیکن ہمیں یہ سامنے رکھنی چاہیے۔

    سلطان عبدالحمید خان جیل میں چلا گیا، بعد والوں نے زمینیں بیچنا شروع کر دیں یہودیوں کو۔ 1908 میں، 1908 میں شروع ہو گئی زمینیں فروخت ہونا۔

  • فلسطین کی تاریخ — حصہ اول

    فلسطین کی تاریخ — حصہ اول

    مقرر: علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔

    تحریری وضاحت

    یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔

    فلسطین کی تاریخ

    بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان

    اما بعد!

    أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

    سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَىٰ صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِيمُ

    میرے انتہائی واجب الاحترام حضراتِ علمائے کرام! پہلے تو میں آپ حضرات سے پیشگی معذرت کرتا ہوں کہ آپ حضرات کا علم، عمل، تجربہ یہ بہت بڑا ہوا ہے اور میں ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ صحیح حقیقت میں میں بھی طالب علم ہوں اور بہت ساری چیزیں میں بھی سیکھ رہا ہوں۔ اس وقت بھی میں پڑھ رہا ہوں، بہت سے استادوں سے پڑھ رہا ہوں یا میرے ساتھی گواہ موجود ہیں کہ میں پڑھ رہا ہوں، میں طالب علم ہوں۔

    اس لیے یہ نہ تو کوئی بیان ہے، نہ کوئی تقریر ہے۔ آپ بس تقریر آپ نے قاری عرفان صاحب کی سن لی، بس بات وہی ہے جو انہوں نے فرمائی۔ یہ ہمارا آپس میں ایک مذاکرہ ہے اور مذاکرے میں کبھی کبھی بڑے حضرات چھوٹے کو بھی حکم دے دیتے ہیں کہ بھئی آپ بھی اپنا یاد سبق سنائیں۔

    تو ہم نے اپنے بڑوں سے فلسطین کے کاز اور مسئلے کے حوالے سے جو کچھ سنا ہے وہ سبق میں دہرا لوں گا، اب اللہ کرے کہ مجھے سارا یاد آ جائے اور صدیوں کا مسئلہ ہے، ایک صدی سوا صدی کا مسئلہ ہے، اتنی آسانی سے مختصر سے وقت میں سمٹنے والے بھی نہیں ہیں، تو کوشش کریں گے کہ وہ ہیڈلائن کی صورت میں ہم آپس میں مذاکرہ کرتے رہیں اور باتیں آپ کو بھی اس سے یاد آتی رہیں گی، اِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔

    میں نے اپنی آسانی کے لیے یہ کیا ہے کہ تھوڑا ابھی ایک گھنٹہ ڈیڑھ پہلے میں نے بیٹھ کے ذرا دماغ میں وہ معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ میرا حادثہ یہ ہے کہ میں بہت ساری باتیں یاد کر کے آتا ہوں، پھر بعد میں میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ یار وہ فلاں بات تو چھوٹ گئی، وہ بھی کرنی تھی اور قاری احسان صاحب نے پچھلی دفعہ ایک بیان میں مجھے کہا کہ جو اصل بات تھی وہ آپ نے چھوڑ دی۔

    تو اس وجہ سے میں نے یہ کیا کہ کیوں کہ بات سے بات نکلتی ہے تو ضروری باتیں بعض اوقات رہ جاتی ہیں تو میں نے ایک ترتیب لگائی ہے کہ میں نے کون کون سی بات عرض کرنی ہے۔

    اچھا میرے بھائیو یہ سب آپ حضرات کو معلوم ہے کہ فلسطین کی تاریخ شروع کہاں سے ہوتی ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت سے، کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سر زمین میں اولاً ہجرت فرمائی وہیں سے فلسطین کا تذکرہ شروع ہوا۔

    پھر بنی اسرائیل وہاں آباد ہوئے، حضرت اسحاق آباد ہوئے، پھر ان کے بیٹے حضرت ییعقوب جن کا لقب اسرائیل تھا، ان کی اولاد آباد ہوئی اور پھر بنی اسرائیل جو ہے وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی وجہ سے مصر گئے۔

    پھر مصر میں انہوں نے جو محکومی اور مقہوری کا دور گزارا ہے جس کے لیے اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے دو مشن تھے، ایک تو فرعون کو دعوتِ ایمان اور ایک بنی اسرائیل کا استخلاص، ان کی آزادی۔ یہ ایک سیاسی مشن تھا، ایک دعوتی مششن تھا۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس مشن پہ تیس سال کام کیا ہے، قبطیوں میں فرعونیوں میں تیس سال کام کیا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو یہ آزادی تھی، بنی اسرائیل کی آزادی کی جدوجہد ہے یہ قرآن پاک نے مختصر مختصر اشارات کی شکل میں بیان کی ہے، ان کی جو وہ تھی، حکمتِ عملی تھی…

    وہ بڑی عجیب ہے۔ فرعونی سیاست کبھی قرآن نے نقشہ کھینچا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حکمت عملی کبھی نقشہ کھینچا ہے کہ تیس سال انہوں نے کس انداز سے اس سماج اور معاشرت میں اپنی قوم کو آزادی دینے کے لیے محنت کی ہے۔ فرعون کی کابینہ تک انہوں نے اپنے لوگوں کو پہنچایا ہے، فرعون کی کوئی میٹنگ ان سے خفیہ نہیں تھی، ہر میٹنگ کی کارگزاری حضرت موسیٰ تک پہنچ جاتی تھی۔ بنی اسرائیلیوں کو فرعونی آبادیوں سے نکال کر انہوں نے نو آبادیاتی نظام قائم کر کے ان کی اپنی کالونیاں بنائی ہیں، قرآن میں اس کی طرف اشارات ہیں تاکہ اگر استخلاصِ وطن کا آخری مرحلہ ہو تو اپنی قوم ایک جگہ اکٹھی ہو اور یہاں سے نکلنا اور یہ ساری باتیں قرآنِ پاک آپ حضرات کے سامنے آپ یہ پوری جدوجہد آپ کے ساتھ۔

    اس طویل جدوجہد کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو جو آزادی ملی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ آپ ارضِ موعودہ کی طرف واپس جائیں گے۔ پھر حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے زمانے میں فلسطین ان کو دوبارہ مل گیا۔ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے جو حکومت ان کی قائم کی، اس کو بائبل کے اندر قاضیوں کا عہد کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ہر قبیلے کے گورنر بنائے تھے، وہ قاضی بھی ہوتے تھے، سیاسی گورنر بھی ہوتے تھے، وہی ان کا نظم، نظمِ حکومت چلاتے تھے۔

    بنی اسرائیل سے اللہ کے وعدے تھے کہ یہ برکت والی زمین اللہ نے آپ کو دی ہے، یہ مرکزِ کائنات ہے، مرکزِ ہدایت ہے، اقصی اور یہ مبارک خطہ اللہ نے یہاں برکات رکھیں، بے درپے یہاں انبیاء بھیجے اور اللہ کے پیغامِ ہدایت کا یہ مرکز رہا اور بنی اسرائیل کو اسی وجہ سے کہ چونکہ وہ اس وقت سارے عالمین پر فضیلت رکھتے تھے، اس مرکز کی تولیت بھی دی گئی تھی۔

    لیکن انہیں کہا گیا تھا کہ اگر آپ نے انحراف کیا اللہ تعالی کے دیے ہوئے دستور سے تو آپ پٹو گے اور یہ آپ کے ہاتھ سے جائے گا۔

    اور جس وقت پھر بنی اسرائیل اب اس منہج سے ہٹ گئے جس پر انہیں حضرت یوشع بن نون نے چھوڑا تھا تو اشدودی ان پہ غالب آ گئے—میں شارٹ شارٹ بیان کروں گا—اشدودیوں نے ان کو مہاجر کیمپوں کی طرف دھکیل دیا، علاقہ ان کا قبضہ کر لیا، اردن کے قریب پٹی پر ان کے سارے کیمپ تھے، پھر ان قاضیوں میں سے جو حضرت یوشع نے مقرر کیے تھے، ان میں سے ایک قاضی تھے سموئیل، اس کو اللہ تعالی نے نبی مبعوث کر دیا۔

    پھر جناب یہ بنی اسرائیل پھر اکٹھے ہو گئے، انہوں نے حضرت سموئیل سے گزارش کی کہ کوئی ہمارا حکمران مقرر کر دیں تاکہ ہم دوبارہ آزادی حاصل کر لیں۔ پھر جناب وہ محنت ہو گئی کہ طالوت کو انہوں نے مقرر کیا، پھر طالوت نے ایک مہاجر کیمپ سے اٹھی ہوئی تحریک اس کی بنیاد پہ اشدودیوں جیسی منظم حکومت کو شکست دے دی، ان کا جو حکمران تھا اس وقت جالوت، اس کو قتل کر دیا گیا، پھر طالوت کا جو نظمِ حکومت قائم ہوا، اس کو بعد میں حضرت داؤد علیہ السلام نے سنبھالا، پھر حضرت داؤد کے بعد حضرت سلیمان کے عہد میں تیسرے عہد میں یہ سلطنت بہت پھیل گئی اور اس کے جو حدود تھے، وہ اس وقت کی دریافت آبادی میں مکمل پھیل گئے تھے۔

    تو مہاجر کیمپ سے اٹھی ہوئی تحریک کو اللہ تعالی نے یہاں تک تیسری نسل میں پہنچا دیا۔ یہودی حضرت داؤد کو اور حضرت سلیمان کو نبی نہیں مانتے۔ یہ آپ حضرات کے علم میں ہوگا، وہ ان کو محض حکمران مانتے ہیں، کنگ ڈیویڈ، ان کا جو وہ ہے نظریہ حضرت داؤد کے بارے میں کہ وہ کنگ تھے، نبی ان کو نہیں مانتے۔

    تو بہرحال جو نظمِ حکومت ان کے لیے حضرت سلیمان نے قائم کیا تھا، حضرت سلیمان کی وفات کے بعد پھر ان کے جانشینوں نے اس کے حصے بخرے کر دیے، دو حصوں میں تقسیم ہو گئے، پھر ان پر اللہ تعالی نے ایرانی بادشاہ بختِ نصر کو مسلط کر دیا، اس نے ان کو مارا پیٹا، تورات کے نسخے جلا دیے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو معبد بنایا تھا—ہم تو مسجد کہیں گے، وہ اسے ٹیمپل کہتے ہیں—وہ معبد انہوں نے گرا دیا اور جو ہے وہ مسجدِ اقصی کی جو عمارت تھی، وہ انہوں نے گرا دی، بختِ نصر نے تباہی پھیر دی ان کے

    پھر جناب حضرت عزیر علیہ السلام جیسے آپ کو پتہ ہے آئے، پھر جناب کاتبِ عزرا کے نام سے بائبل میں ان کا ذکر ہے، پھر انہوں نے تورات لکھوا دی، اللہ تعالی نے دوبارہ ان کو اپنے علاقوں میں حکومت دے دی، پھر جناب یہ یہودیوں کا اقتدار چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہو گئے۔ حضرت عیسیٰ کے ساتھ جو مظالم انہوں نے کیے وہ تاریخ میں ہیں، آپ کے سامنے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو ظلم و ستم ان کے حواریوں کے ساتھ انہوں نے کیا، اللہ تعالی کے اس دستور کو جب انہوں نے ٹھکرایا تو ستر عیسوی میں ٹیٹس رومی پھر اللہ تعالی نے ان پر مسلط کر دیا اور اس نے ان کے ان کی وہ مرمت کی کہ یہودیوں کے ہاتھوں سے یہ سارا کچھ چھین کر اس نے رومی حکومت کے زیرِ دست کر دیا۔ پھر جناب یہی رومی بعد میں عیسائی ہو گئے تو یہ یہاں سے جب ٹیٹس رومی نے ان کو نکالا تو پھر یہ نہیں آ سکے اور پھر عیسائیوں کے پاس یہ مسلسل ان کا اقتدار رہا بیت المقدس کا یہ جو ایریا ہے۔

    یہ جو شہر ہے اس کو تاریخ میں ایلیہ، یروشلم، القدس مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ القدس ہماری اصطلاح ہے، میں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ یروشلم کی اصطلاح آپ استعمال نہ کریں، یہ یہودی اصطلاح ہے اور یہودی اس کو یروشلم کہتے ہیں، ہمارے ہاں یہ القدس ہے، بیت المقدس ہے، ہماری اپنی اصطلاح ہے، ہمیں اس کو ممتاز رکھنا چاہیے۔

    اس میں یہ پورا کمپلیکس ہے مسجدِ اقصی۔ اس کے اندر ایک چٹان ہے جس چٹان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج کا سفر ہوا تھا، اسی چٹان پر پھر عبدالملک بن مروان نے گنبد بنایا تھا اور عبدالملک بن مروان کے گنبد پر بعد میں عثمانیوں نے بھی کام کیا اور ابھی جو اردن کا بادشاہ گزرا ہے شاہ حسین، اس نے اس پر کئی من سونا چڑھایا ہے، یہ جو زرد گنبد آپ کو نظر آتا ہے۔

    اس کے ساتھ وہ جگہ ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صاف کروائی تھی اور وہاں حضرت عمر نے نماز پڑھی تھی، پھر حضرت عبدالملک بن مروان نے وہاں اچھی مسجد تعمیر کروائی جس کو مسجدِ اقصی کہا جاتا ہے، یہ جنوبی کنارہ ہے اس کا اس پورے کمپلیکس کا اور مسجدِ عمری بھی اسے کہا جاتا ہے، تو یہ پورا ایریا اقصی ہے۔

    اب اس میں یہ زرد گنبد دکھا دیتے ہیں، باقی ہم سمجھتے ہیں کہ یہ زرد گنبدی مسجدِ اقصی ہے۔ نہیں، یہ تو وہ جگہ ہے جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک معبد تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کے لیے جو جگہ منتخب کی تھی صحابہ کی رائے سے، وہ جنوبی کونے میں ہے، وہ جدا ہے اس سے۔ تو یہ پورا کمپلیکس جو ہے اس کو مسجدِ اقصی کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔

    اب میرے بھائیو، یہ جو مسلمانوں کا عہد آیا، دور آیا تو یہ عیسائیوں کے پاس تھا۔ یہودی آباد تھے مدینہ میں، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے روزِ اول سے ان کی آویزش رہی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کمر کسنے اور ان کو یعنی مطلب ہے ان کو باندھنے کے لیے میثاقِ مدینہ کے نام سے معاہدہ کیا، ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے لیکن انہوں نے ہر زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ غداری کی، یہاں تک کہ جب یہ میدانِ جنگ میں مایوس ہو گئے تو پھر یہودی جو سازش ہے، یہ اگر ساتھی میری طرف متوجہ رہیں، آنے والے ساتھی آتے رہیں گے، اِنْ شَاءَ اللّٰهُ، مجھے پتا ہے یہ باتیں ساری آپ کو معلوم ہیں، میں ویسے تکرار کی نیت سے کر رہا ہوں، ٹھیک ہے تو لیکن یہ ہوگا کہ ذرا مجھ پر مضمون کھلتا جائے گا، شاید کوئی ایسی بات آ جائے جو جانبین کے فائدے کی ہو، یہاں قرآنِ پاک نے شروع پاروں میں آپ مطالعہ کریں، قرآنِ پاک نے بڑے تفصیل سے کفار کا، کفار کا تو اجمالی، منافقین کا جن میں اکثریت یہود کی تھی اور پھر اہلِ کتاب کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

    قرآن کے اسلوب سے، قرآنِ مجید کے اسلوب سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن مسلمانوں کی ایک ایسی ذہنی، فکری، نظریاتی تربیت کرنا چاہتا ہے اہلِ کتاب کے حوالے سے…

    کہ گویا یہ اشارہ دے رہا ہے کہ ان کے ساتھ مقابلہ اور آویزش 1400 سال سے تو ہم دیکھ رہے ہیں، یہ چل رہی ہے اور قیامت تک پتا نہیں کب تک چلنی ہے تو یہ چلتی رہے گی۔

    تو قرآنِ پاک نے اس لیے یہودیوں کے جرائم، ان کی بیماریاں، ان کی نفسیات، ان کے امراض پوری ڈیٹیل اور تفصیل کے ساتھ ایک ایک کر کے بیان کیے۔ ایک ایک کر کے کہ اتنی تفصیل سے ان کو ڈسکس کرنے اور ان پر گفتگو کرنے کی وجہ کیا ہے؟

    دراصل مسلمانوں کو فکری طور پر تیار کرنا ہے کہ اس حوالے سے آپ پوری طرح بیدار رہیں۔ اس قوم کی نفسیات کو آپ سمجھ لیں۔ اس قوم سے آپ کا مقابلہ بڑا تادیر رہے گا اور بڑا گرم مقابلہ رہے گا۔

    تو اس لیے مسلمانوں کو اس حوالے سے بڑا بیدار کیا گیا۔ آپ قرآنِ پاک میں دیکھیں بنی اسرائیل کا جتنا تذکرہ ہے اتنا تذکرہ کسی اور قوم کا نہیں۔ واضح اشارہ ہے اس میں کہ ہمیں اس قوم کے حوالے سے کبھی بھی سونا نہیں چاہیے، بیدار رہنا چاہیے۔

    اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی سرگرمیاں حضور علیہ السلام کے دور میں کیا تھیں؟ آپ کے سامنے ہیں ساری۔ آخری کوشش اس کی طرف میں اشارہ کروں گا جس سے قرآنِ پاک نے ان کے پورے سیاسی نظم سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہودی سیاست ہے کیا اصل میں؟

    مدینہ کے اندر ایک آدمی تھا ابو عامر، راہب ہو گیا تھا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے، یہ غسیل الملائکہ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد تھے۔ پھر وہ جناب وہاں سے جا کے مکہ بیٹھ گیا، ہر جنگ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ شریک رہا، سازشیں رہیں۔ یہودیوں کا یعنی ایک مہرہ تھا اور یہودیوں اور مشرکین کے درمیان پل تھا۔

    جس وقت مکہ فتح ہو گیا اور اس کے پاس کوئی سیاسی پناہ نہیں رہی تو یہ بازنطین چلا گیا اور جا کے بازنطینیوں، انگریزوں کے پاس روم میں بیٹھ گیا۔ پھر اس نے یہودیوں سے یہودی تو پٹ پٹ کے نکل گئے تھے مدینہ سے، یہودیوں نے جو منافق چھوڑے تھے مدینہ میں ان کا وجود تھا۔

    اس نے بڑی طویل مشاورت کی، یہ تکون تھا۔ بازنطینی عیسائی، ابو عامر جو بنیادی طور پر تھا راہب پھر مشرکین ان سب کا معاون رہا۔ تیسرا یہود۔ اس تکون نے یہ مشورہ کیا کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ یہ کیوں پھیل رہے ہیں مسلسل؟ مدینہ کی ریاست ان کے ہاتھ میں آگئی اور پھیلتی جا رہی ہے تو مکہ بھی ان کے ہاتھ میں آ گیا، عرب قبائل بھی ان کے تابع ہو گئے، یہ آخر ان کے پاس ہے کیا؟ اس نتیجے پر پہنچے کہ انہوں نے جو نظمِ سیاسی قائم کیا ہوا ہے، اس نظمِ سیاسی کی اساس وہ وحدتِ کلمہ اور وحدتِ فکر پر ہے۔

    ان کی شورائیت ہے، شوریٰ کے اندر یہ بحث بھی کرتے ہیں، مباحثہ بھی کرتے ہیں، تنقید بھی کرتے ہیں۔ لیکن شوریٰ میں جو بات طے ہو جائے، اس آخری بات پر سب کا ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ جب بندہ شوریٰ سے باہر نکلتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے کہ میری رائے بھی اس کے مخالف تھی۔

    اس کو پتہ ہی نہیں ہوتا پھر۔ لہذا نہ تو ان کے جو سلطنت کے امور ہیں، سیاسی، عسکری، معاشی، ان کے بارے میں نہ تو ان کی گفتگو چو پالوں پر ہوتی ہے، نہ چوراہوں پر ہوتی ہے، نہ سڑکوں پر ہوتی ہے، وہاں اپوزیشن کا کوئی تصور نہیں ہے۔

    ان کے جو نظمِ خلافت یا نظمِ حکومت ہے، اس میں اپوزیشن کا تصور نہیں۔ اس میں اختلافِ رائے صرف شوریٰ تک ہے، شوریٰ سے باہر اختلافِ رائے کا تصور ہی نہیں۔

    سب ایک ہوتے ہیں، بس جو امیر کا فیصلہ ہوتا ہے، سب اس کے تابع ہوتے ہیں، بھلے بندے نے شوریٰ میں خوب بحث کی ہو، باہر کچھ نہیں کہے گا۔

    جاری ہے۔۔۔

  • فلسطین کی تاریخ حصہ پنجم (آخری)

    فلسطین کی تاریخ حصہ پنجم (آخری)

    فلسطین کی تاریخ

    فلسطین کی سرزمین اسلامی تاریخ، انبیائے کرام علیہم السلام کی نسبت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی وجہ سے امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔

    اس سلسلۂ بیان میں حضرت علامہ محمد طفیل صاحب دامت برکاتہم العالیہ فلسطین کی تاریخ اور اس خطے کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ فلسطین کی تاریخی حیثیت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت، اور اس سرزمین سے وابستہ اسلامی تاریخ کو سمجھنے کے لیے یہ سلسلۂ بیانات مفید ہے۔

    فلسطین کی تاریخ کو جاننا صرف ماضی کے واقعات سے واقفیت حاصل کرنا نہیں بلکہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور اسلامی تاریخ سے اپنے تعلق کو سمجھنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تاریخ کو سمجھنے، حقائق سے آگاہ ہونے اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    جزاکم اللہ خیراً

    ہیش ٹیگز:

    #فلسطین_کی_تاریخ #فلسطین #بیت_المقدس #مسجد_اقصیٰ #اسلامی_تاریخ #تاریخ_اسلام #فلسطین_کی_اہمیت #اسلامی_بیان #دینی_بیان #حضرت_علامہ_محمد_طفیل_صاحب #HistoryOfPalestine #Palestine #AlAqsaMosque #BaitulMaqdis #IslamicHistory #HistoryOfIslam #PalestineHistory #IslamicBayan #IslamicReminder #MuhammadTufailKohati

  • فلسطین کی تاریخ حصہ چہارم

    فلسطین کی تاریخ حصہ چہارم

    فلسطین کی تاریخ

    فلسطین کی سرزمین اسلامی تاریخ، انبیائے کرام علیہم السلام کی نسبت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی وجہ سے امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔

    اس سلسلۂ بیان میں حضرت علامہ محمد طفیل صاحب دامت برکاتہم العالیہ فلسطین کی تاریخ اور اس خطے کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ فلسطین کی تاریخی حیثیت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت، اور اس سرزمین سے وابستہ اسلامی تاریخ کو سمجھنے کے لیے یہ سلسلۂ بیانات مفید ہے۔

    فلسطین کی تاریخ کو جاننا صرف ماضی کے واقعات سے واقفیت حاصل کرنا نہیں بلکہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور اسلامی تاریخ سے اپنے تعلق کو سمجھنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تاریخ کو سمجھنے، حقائق سے آگاہ ہونے اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    جزاکم اللہ خیراً

    ہیش ٹیگز:

    #فلسطین_کی_تاریخ #فلسطین #بیت_المقدس #مسجد_اقصیٰ #اسلامی_تاریخ #تاریخ_اسلام #فلسطین_کی_اہمیت #اسلامی_بیان #دینی_بیان #حضرت_علامہ_محمد_طفیل_صاحب #HistoryOfPalestine #Palestine #AlAqsaMosque #BaitulMaqdis #IslamicHistory #HistoryOfIslam #PalestineHistory #IslamicBayan #IslamicReminder #MuhammadTufailKohati

  • فلسطین کی تاریخ حصہ سوم

    فلسطین کی تاریخ حصہ سوم

    فلسطین کی تاریخ

    فلسطین کی سرزمین اسلامی تاریخ، انبیائے کرام علیہم السلام کی نسبت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی وجہ سے امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔

    اس سلسلۂ بیان میں حضرت علامہ محمد طفیل صاحب دامت برکاتہم العالیہ فلسطین کی تاریخ اور اس خطے کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ فلسطین کی تاریخی حیثیت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت، اور اس سرزمین سے وابستہ اسلامی تاریخ کو سمجھنے کے لیے یہ سلسلۂ بیانات مفید ہے۔

    فلسطین کی تاریخ کو جاننا صرف ماضی کے واقعات سے واقفیت حاصل کرنا نہیں بلکہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور اسلامی تاریخ سے اپنے تعلق کو سمجھنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تاریخ کو سمجھنے، حقائق سے آگاہ ہونے اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    جزاکم اللہ خیراً

    ہیش ٹیگز:

    #فلسطین_کی_تاریخ #فلسطین #بیت_المقدس #مسجد_اقصیٰ #اسلامی_تاریخ #تاریخ_اسلام #فلسطین_کی_اہمیت #اسلامی_بیان #دینی_بیان #حضرت_علامہ_محمد_طفیل_صاحب #HistoryOfPalestine #Palestine #AlAqsaMosque #BaitulMaqdis #IslamicHistory #HistoryOfIslam #PalestineHistory #IslamicBayan #IslamicReminder #MuhammadTufailKohati

  • فلسطین کی تاریخ حصہ دوم

    فلسطین کی تاریخ حصہ دوم

    فلسطین کی تاریخ

    فلسطین کی سرزمین اسلامی تاریخ، انبیائے کرام علیہم السلام کی نسبت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی وجہ سے امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔

    اس سلسلۂ بیان میں حضرت علامہ محمد طفیل صاحب دامت برکاتہم العالیہ فلسطین کی تاریخ اور اس خطے کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ فلسطین کی تاریخی حیثیت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت، اور اس سرزمین سے وابستہ اسلامی تاریخ کو سمجھنے کے لیے یہ سلسلۂ بیانات مفید ہے۔

    فلسطین کی تاریخ کو جاننا صرف ماضی کے واقعات سے واقفیت حاصل کرنا نہیں بلکہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور اسلامی تاریخ سے اپنے تعلق کو سمجھنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تاریخ کو سمجھنے، حقائق سے آگاہ ہونے اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    جزاکم اللہ خیراً

    ہیش ٹیگز:

    #فلسطین_کی_تاریخ #فلسطین #بیت_المقدس #مسجد_اقصیٰ #اسلامی_تاریخ #تاریخ_اسلام #فلسطین_کی_اہمیت #اسلامی_بیان #دینی_بیان #حضرت_علامہ_محمد_طفیل_صاحب #HistoryOfPalestine #Palestine #AlAqsaMosque #BaitulMaqdis #IslamicHistory #HistoryOfIslam #PalestineHistory #IslamicBayan #IslamicReminder #MuhammadTufailKohati

  • فلسطین کی تاریخ حصہ اول

    فلسطین کی تاریخ حصہ اول

    فلسطین کی تاریخ

    فلسطین کی سرزمین اسلامی تاریخ، انبیائے کرام علیہم السلام کی نسبت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی وجہ سے امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔

    اس سلسلۂ بیان میں حضرت علامہ محمد طفیل صاحب دامت برکاتہم العالیہ فلسطین کی تاریخ اور اس خطے کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ فلسطین کی تاریخی حیثیت، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی اہمیت، اور اس سرزمین سے وابستہ اسلامی تاریخ کو سمجھنے کے لیے یہ سلسلۂ بیانات مفید ہے۔

    فلسطین کی تاریخ کو جاننا صرف ماضی کے واقعات سے واقفیت حاصل کرنا نہیں بلکہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور اسلامی تاریخ سے اپنے تعلق کو سمجھنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تاریخ کو سمجھنے، حقائق سے آگاہ ہونے اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    جزاکم اللہ خیراً

    ہیش ٹیگز:

    #فلسطین_کی_تاریخ #فلسطین #بیت_المقدس #مسجد_اقصیٰ #اسلامی_تاریخ #تاریخ_اسلام #فلسطین_کی_اہمیت #اسلامی_بیان #دینی_بیان #حضرت_علامہ_محمد_طفیل_صاحب #HistoryOfPalestine #Palestine #AlAqsaMosque #BaitulMaqdis #IslamicHistory #HistoryOfIslam #PalestineHistory #IslamicBayan #IslamicReminder #MuhammadTufailKohati