Tag: Palestine History Part 2

  • فلسطین کی تاریخ — حصہ دوم

    فلسطین کی تاریخ — حصہ دوم

    مسجدِ ضرار سے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال اور فلسطین کی زمینوں کی فروخت تک

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔

    تحریری وضاحت

    یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔

    فلسطین کی تاریخ — حصہ دوم

    بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان

    مسجدِ ضرار کا قیام

    ان کے لیے ایک اپوزیشن کھڑی کرنی چاہیے، ایک ایسی، ایک ایسی جماعت وہاں کھڑی کرنی چاہیے جو جماعت وہاں متفقہ فیصلوں پر تنقید کر سکے، رائے دے سکے۔

    اب ابو عامر نے یہ پورا منصوبہ کیا اور انہوں نے کہا بھئی مدینہ میں تو یہ چیز ناممکن ہے۔ پھر ان کا مشورہ یہ ہوا کہ چلو مدینہ میں ناممکن ہے، مدینہ سے باہر کوئی جگہ چنتے ہیں اور کام کا عنوان کیا رکھتے ہیں؟

    اب یہ نظمِ حکومت قائم ہو چکا ہے، مسلمان مضبوطی سے پاؤں جما چکے ہیں سیاسی اعتبار سے تو اب کام کا عنوان کیا رکھیں؟ انہوں نے کہا عنوان رفاہی رکھنا چاہیے، عنوان تعلیمی رکھنا چاہیے۔ تعلیم کے عنوان سے، رفاہی خدمت کے عنوان سے کام کریں گے۔ اس کے لیے انہوں نے مسجدِ ضرار قائم کی۔

    اور مسجدِ ضرار کا یہ ایجنڈا کیا تھا کہ جو لوگ کمزور ہوں گے، جو ضعیف ہوں گے، جو خواتین وہاں قبا نہیں جا سکیں گی، ان کی تعلیم، تربیت، عبادت کا یہ ایک مرکز ہوگا۔

    عنوان تعلیمی! اب یہودی سیاست کو بس خود ہی آپ سمجھ رہے ہیں، سمجھدار لوگ ہیں۔ دیکھیں کہ وہ جڑیں اسلامی خلافت میں کس طرح جماتی ہیں۔ عنوان کام کا کیا ہوگا؟ رفاہی۔ عنوان کام کا کیا ہوگا؟ تعلیمی۔ اور اس عنوان کو قانونی حیثیت دینے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا افتتاح کروائیں گے۔

    اب جب حضور ایک افتتاح کر لیں گے، ریاست اور اسٹیٹ کا سربراہ افتتاح کر لے گا، قانونی حیثیت خود بخود ہو جائے گی۔ پھر اہلِ قبا ان کی جماعت کو توڑیں گے۔

    ان کے لوگوں کو ترغیب دیں گے یار یہاں آسانی ہے، آپ کے گھر کے قریب ہے، وہی باتیں یہاں بھی ہو رہی ہیں، یہاں آؤ۔ مفت تعلیم ہے، مفت تربیت ہے، خواتین کو لاؤ، ایک خاتون کو بگاڑ دیا جائے نا، پورا خاندان بگڑ گیا۔

    اب جناب انہوں نے یہ ترتیب کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، تبوک کا معرکہ درپیش تھا، ساری تاریخ آپ حضرات کے سامنے ہے۔ حضور نے فرمایا: “تبوک سے واپسی پر میں افتتاح کرنے ضرور آؤں گا۔”

    اب جناب ان کو جو یہ اپروول مل گیا اوہو! وہ تو بڑے شادیانے بجانا شروع ہو گئے کہ کام تو ہو گیا ہمارا۔ ابو عامر نے پورا ایجنڈا دیا، قرآنِ پاک نے ان کی پوری سیاست کا پول کھولا۔ اور تبوک سے واپسی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہ وحی اتری۔ قاری صاحب وہ آیت پڑھیں:

    وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ

    (سورۃ التوبہ، آیت 107)

    مسجدِ ضرار کے چار مقاصد

    قرآن نے اس یہودی سیاست کے چار مقاصد بتائے کہ یہود جس وقت عالمِ اسلام میں کام کرے گا، ان چار سیاسی بنیادوں پہ کام کرے گا۔

    نمبر ایک: وہ ایک جماعت کھڑی کرے گا، آپ میں سے کھڑی کرے گا۔ انتہائی اچھے عنوان پہ کھڑی کرے گا، مسجد کا عنوان ہوگا، تعلیم کا عنوان ہوگا، تربیت کا عنوان ہوگا، آپ کے معاشرتی ضروریات کا عنوان ہوگا۔

    آپ کی معاشرتی ضرورت ہوگی وہ، آپ کی معاشی ضروریات کا عنوان ہوگا، آپ کی سماجی ضروریات کا عنوان ہوگا، آپ کی ضرورت ہوگی وہ معاشرے کو، اس عنوان سے قائم کر کے کیا کرے گا؟ پہلا کام: ضرارًا۔ پہلا کام یہ ہے کہ اس کا مقصد وہ جو مخلص مسلمانوں کا مرکز ہے قبا، اس کو تکلیف پہنچانا ہے۔

    وہ کبھی بھی، وہ آپ کو جو پیکج دے رہا ہے، یاد رکھیں کہ اس میں آپ کی تکلیف ہے۔ اس کا مقصد ہی مخلص مومنین کو تکلیف دینا ہے۔ ایسے ایسے ایسی ترتیبات شروع کرے گا، ایسے کام شروع کرے گا، مخلص مسلمانوں کی کمر توڑ دے گا، ان کو تکلیف دے گا، ان کو اذیت دے گا، ان کے راستوں میں روڑے اٹکائے گا، جو صحیح مخلصانہ کام ہو رہے ہیں، مخلصانہ شخصیات ہیں، ان کا راستہ روکے گا، ان کے لیے اذیت کا باعث ہوگی یہ چیز۔

    آپ اپنے نظمِ سیاست میں خود سوچتے جائیں اور قرآن کھولیں کہ قرآن اس یہودی سیاست سے کیسے پردہ چاک کرتا ہے؟ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: کفرًا۔ یہ کفر کا ایجنڈا لے کر چلیں گے، یہ سب کچھ کفر کے باعث ہے۔ ان کے پاس اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہوگا۔ کفر جس طرح کا کام چاہے گا ان سے، وہ اسی طرح کا کام کریں گے۔ ان کی سیاست ہی اپنے وقت کے مقتدر کفریہ طاقتوں کے ایجنڈے کے تحت ہوگی۔

    وہ کہیں گے کہ فلاں مسئلے کے خلاف بیان دے دیں، یہ بیان دے دیں گے۔

    فلاں مسئلے کے خلاف جناب من آپ نے نوجوانوں میں یہ چیز عام کر دیں وہ وہ عام کر دیں گے، آپ کو کہیں گے کہ جناب میڈیا میں یہ چیز چلائیں آپ وہی چلائیں گے، آپ کا اپنا کوئی بیانیہ نہیں ہوگا وہ کفر کا بیانیہ لے کر چلیں گے، یہ دوسرا۔

    تیسرا، وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ، وہ مسلمانوں کے باہمی چھوٹے چھوٹے ایشو، ان کو چھوٹی چھوٹی باتیں، اختلافِ رائے، اختلافِ رائے کو ایشو بنا دیں گے۔

    ایشو بنا کر مسلمانوں میں تفریق پیدا کر دیں گے، اپوزیشن کھڑی کر دیں گے، آپ کے لیے مخالفت کھڑی کر دیں گے اور جناب جب کسی کام میں اختلافِ رائے ایشو بن جائے، چوک و چوراہوں پر آ جائے، وہ کام نہیں ہوتا۔

    یہ خلافت کا مزاج ہی نہیں ہے بھئی! خلافت میں یہ تصور ہی نہیں ہے۔

    اسلام کے نظمِ سیاست میں اس چیز کا تصور نہیں ہے، کیونکہ یہاں تو بھئی میری، میں نے پارٹی کو بچانا ہے، اگر حکومت درست کام کرے گی میں اس پر بھی تنقید کروں گا، غلط کرے گی تو اس پہ ویسے بھی کروں گا۔

    ادھر جناب اپوزیشن اگر ٹھیک بات بھی کرے گی تو حکومت کی کوشش یہ ہوگی کہ یہ ٹھیک کو بھی رد کر دیا جائے اور ٹھیک تو اس کی غلط تو اس کی ویسے بھی رد ہے۔

    یہ جو نظمِ سیاست ہے یہودی یہ یہ تیسرا کام، چوتھا، وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ، یہ جگہ بالآخر جب ان کو سیاسی عصبیت مل جائے تو یہودیوں نے اس جگہ کو مورچہ بنانا ہے، مورچہ، حربی کافروں کا مورچہ، ان لوگوں کا مورچہ، ان لوگوں کا اڈا جو لوگ اللہ اور رسول کے ساتھ پہلے سے لڑ رہے ہیں، جو بازنطینی اور جو جناب یہودی وہ اللہ اور رسول کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، ان منافقین نے یہ نظمِ سیاست کھڑا کر کے ان کو اڈے دینے ہیں۔

    یہ ان کو راستے فراہم کریں گے، یہ ان کو لاجسٹک سپورٹ دیں گے، یہ ان کو اڈے دیں گے، یہ ان کو بری راستے، بحری راستے، فضائی راستے دیں گے، تب وہ آپ تک پہنچیں گے۔

    ان کا آخری مقصد یہ ہے، قرآن نے پوری ان کی سیاست کا پول کھولا ہے کہ نہیں؟

    آپ دیکھ لیں، اپنے عہد میں دیکھ لیں، آج کفر اسی سیاسی یہودی، اسی سیاسی ایجنڈے پر عالمِ اسلام کے اندر کام کر رہا ہے، نہیں کر رہا؟

    مجرم میں اور آپ ہیں، آپس میں ہیں، قرآن نے تو ہمیں 1400 سال پہلے بتایا ہوا ہے، کیا قرآن پاک ہم نہیں پڑھتے؟ ہم نہیں پڑھاتے؟ کیا یہ آیات ہمارے سامنے نہیں ہیں؟ کیا ہم نے یہودیوں کے اس نظمِ سیاست سے اللہ نے 1400 سال پہلے پردہ نہیں اٹھایا؟ ہم نے کیا پیش بندی کی ہے؟

    میں بہت چھوٹا آدمی ہوں اور میں ہاتھ جوڑتا ہوں آپ کے سامنے، لیکن کیا زندہ باد مردہ باد سے ہم سارا کام چلا لیں گے؟

    لائحہ عمل کیا ہے ہمارے پاس؟ پیش بندی، اب دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ وحی اتری، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچنے کا انتظار بھی نہیں کیا، وہاں سے حضرت معان بن عدی اور مالک بن دخشوم کو بھیجا کہ میں مدینہ میں داخل ہوں تو اس سے پہلے یہ مسجد زمین سے ملی ہوئی ہو۔

    تو کسی کو مالک بن دخشوم بننا پڑے گا نا، کسی کو تو حضرت معان بن عدی بننا پڑے گا، اب جناب یہودی نے اس ترتیب پر کام چھوڑا نہیں ہے، جا کے حضرت عثمان کے دور میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔

    انہوں نے پھر مصر کو چنا ہے، دور دراز علاقوں کو چنا ہے، مدینہ سے دور مراکز چنے ہیں، عبداللہ بن سبا کی تحریک یہی، یہودی تحریک تھی، اس نے پوزیشن کھڑی کی کہ نہیں کھڑی کی؟ ہڑتالیں ہونے لگی کہ نہیں ہونے لگی حضرت عثمان کے دور میں؟ اس کے نتائج آپ دیکھ رہے ہیں۔

    بیت المقدس اور شروطِ عمریہ

    تو میرے بھائیو! یہ یہی یہودی سیاست ہے، قرآن پاک نے اس کا پورا نقشہ ہمارے سامنے بتایا، یہود ان 14 سوا چودہ پندرہ سو سالوں میں تو آپ پوری تاریخ اٹھا کے دیکھیں، ایک دن بھی آرام سے نہیں بیٹھے۔

    پھر یہودی پٹتے رہے ہیں ساری دنیا میں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جس وقت بیت المقدس ہم نے لیا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی چابیاں لینے گئے تو جو شروطِ عمریہ طے ہوئی عیسائیوں کے ساتھ، اس میں ایک شق حضرت عمر کے سامنے انہوں نے یہ رکھی کہ یہ بیت المقدس ہم کو آپ کو اس شرط پر حوالے کر رہے ہیں، بہت ساری شروط ہیں، وہ آپ لوگوں نے پڑھی ہوں گی، اس کو پڑھیں، کتابوں میں، ہزارہا کتابوں میں یہ چھپ چکی ہے، تاریخ کی، فقہ کی، اور جو ہے نا قانون بین الاقوام کا اور دنیا کی ہر زبان میں ان کے ترجمے موجود ہیں۔

    اس میں ایک شرط کیا تھی، حضرت عمر کے سامنے انہوں نے کیا رکھی؟

    کہ یہودیوں کو یہاں بسنے نہیں دیا جائے گا۔

    اس شرط پر ہم آپ کو بیت المقدس حوالے کرتے ہیں۔

    مسلمانوں نے، حضرت عمر نے اس شرط پر بیت المقدس عیسائیوں سے لیا کہ یہاں یہودی آبادکاری نہیں ہوگی۔

    عیسائیوں نے لگائی یہ شرط۔

    اور ہم نے قبول کی۔

    اور اس پر عیسائیوں کے اس وقت کے رہنماؤں کے دستخط ہیں، حضرت عمر کے دستخط ہیں، حضرت امین الامہ ابو عبیدہ بن جراح کے دستخط ہیں، سیف اللہ خالد بن ولید کے دستخط ہیں۔

    اور اس امت کے حلال و حرام کے سب بڑے عالم “أَعْلَمُكُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ” معاذ بن جبل کے دستخط ہیں، رضی اللہ عنہ۔

    یہ اجماع ہے۔

    یہ نہیں مل سکتے یہودیوں کو۔

    اگر آج کوئی اٹھ کے کہتا ہے کہ بھئی ٹو نیشن، دو ریاستی حل، بھئی یہ دین سے غداری ہے۔

    فلسطینی بھی مان لیں اسرائیل کو، ہم نہیں مان سکتے۔

    تم نہیں مان سکتے جی، یہ تو طے ہے۔

    بیت اللہ کی مرکزیت

    پھر جناب یہ اب بہت سارے لوگ ہمارے اندر اٹھ گئے ہیں، بھی تولیت کا حق۔

    اللہ کے بندے یہ تو کامن سینس کی بات ہے۔

    عقلِ عام کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرکزیت بیت المقدس سے کام منتقل کر دی بیت اللہ۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ بیت اللہ کو ٹھہرا کیونکہ جغرافیائی اعتبار سے بھی یہ نافِ زمین ہے۔

    زمین کا ناف ہے مکہ۔

    اور هُدًى لِلنَّاسِ ہے۔

    جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہے، اسی طرح یہ مرکزِ ہدایت بھی خاتم المراکز ہے، یہ آخری مرکزِ ہدایت ہے بیت اللہ۔

    جب یہ آپ کا عقیدہ ہے، میرا عقیدہ ہے کہ اسلام عالمگیر مذہب ہے، تا قیامت کے لیے ہے۔ عالمگیریت کا اصول یہ ہوتا ہے کہ جو مرکز عالمگیر طے ہو جائے، دنیا کے تمام مراکزِ ہدایت اس کے تابع ہو جاتے ہیں۔

    اور جو مرکز کے متولی ہوتے ہیں، وہ باقی مراکز کے بھی متولی ہوتے ہیں بھائی۔

    خود بخود وہ متولی ہو گئے۔

    پھر جو شروطِ عمریہ ہے، اس میں تولیت ہم نے لے لی۔

    اس پر اجماع ہو گیا وہ ہمارے ہاتھ میں اور مسلمان۔

    جتنے بھی گئے گزرے ہوں تاریخ میں، پوری تاریخ آپ مطالعہ کریں۔

    درمیان کا جو عرصہ ہے، جو عیسائیوں نے دوبارہ ہم سے لیا اور پھر صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی جہاد کی برکت سے دوبارہ۔

    اس تھوڑے سے وقفے کے کہ مسلمان ہر دور میں انہوں نے تمام تر کمزوریوں کے باوجود بیت المقدس، حرمین ان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

    سلطنتِ عثمانیہ کا زوال

    اب آتے ہیں آخری دور کی طرف۔

    مسلمانوں کی آخری سیاسی وحدت سلطنتِ عثمانیہ تھی۔

    سلطنتِ عثمانیہ کا زوال بھی بڑا تدریجی ہے۔

    بایزید یلدرم بجلی کے کڑک اور طوفان کی طرح وسطی یورپ تک پہنچ گیا تھا۔

    مسلمانوں نے ویانا کا محاصرہ کیا ہوا تھا، ویانا یورپ کا مرکز ہے۔

    پیچھے سے سینٹرل ایشیا سے خرابزی اٹھتا ہے۔

    تیمور لنگ۔

    اور جناب اس نے جا کے پیچھے سے حملہ کر دیا۔

    وہ دفاع کے لیے پیچھے مڑا، مغربی طاقتوں نے پیچھے سے حملہ کیا، یلدرم درمیان میں پھنس گیا اور جناب گرفتار ہو گیا، وہ جو پوری تاریخ آپ کے سامنے ہے۔

    پھر وسطی یورپ کے جتنے مفتوحہ علاقے تھے، ایک ایک عثمانیوں کے اس دور کی تاریخ پڑھیں۔

    عثمانیوں نے بہت جگری سے ان کا دفاع کیا ہے۔

    لیکن ادھر سینٹرل ایشیا کے رافضی اٹھ گئے تھے ان کے خلاف۔

    بیڑا غرق ہو گیا جناب، سارے علاقے چھن گئے۔

    اور یہ قوم بھی آپ کو تاریخ میں ان ان مواقع پر اب دیکھتے رہیں گے کہ کیا، تاریخ ہم مٹا تو نہیں سکتے نا!

    وہ تو سبق ہے، وہ تو ہر ایک کے کردار کو کھول رہی ہے۔

    تو بہرحال یہ لوگ رفتہ رفتہ رفتہ رفتہ یہ علاقے خالی کرتے گئے۔

    یہاں تک کہ سلطان عبدالحمید کا دور آیا۔

    اور پھر جناب جنگِ عظیم اول میں آپ حضرات جانتے ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ ان کا جرمنی کے ساتھ اتحاد تھا، انگریزوں کے خلاف تھے، پھر جنگِ عظیم کے خاتمہ پہ جرمنی کو شکست ہو گئی تو خلافتِ عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔

    یورپ کے جو ممالک تھے، بلغاریہ، یونان، یہاں تک کہ سلطنتِ عثمانیہ اس وقت بھی موجود تھی۔ وہ علیحدہ ممالک ٹھہر گئے۔ یہ جو خطہ تھا، اس خطے کے اندر اردن اور عراق انگریزوں کو ملا، اور جو ہے لبنان اور شام جو ہے سوریہ یہ فرانس نے لیا، اور یہ جو چھوٹا سا علاقہ تھا، یہ 1917 یا 18 میں جو آخری جنگ ہوئی، تو دسمبر کا مہینہ تھا، آٹھ اور نو دسمبر کی درمیانی رات ترکوں نے ترکوں کے خلاف مقامی بغاوت عربوں کی برپا کر دی برطانیہ نے۔

    ساری بغاوت کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ شریفِ مکہ نے جو بغاوت کی، ہمارے اکابر اس میں گرفتار ہوئے۔ اس نے لارنس آف عربیہ کی شکل میں یہ جو لوگ کھڑے کیے اور وہی ان کی منافقانہ سیاست، وہ ایک اپوزیشن کھڑی کر دی، وہ بغاوت تک ان پہ کھڑا کر دیا، انہوں نے ہی برطانیہ کو اڈے دیے، تو ترکوں نے اس لیے خالی کر دیا بیت المقدس کو کہ اس مقدس زمین پر خون نہیں بہانا چاہیے۔

    وہ نکل گئے فوجیں، برطانیہ آگیا۔ برطانیہ نے آتے ہی اعلانِ بالفور کے ذریعے اس زمین کو کس کو دینے کا پروانہ جاری کر دیا؟ یہودیوں کو۔

    سلطان عبدالحمید خان اور ڈاکٹر ہرزل

    اب اس سے پہلے، 1917 یا 18 سے پہلے یہ جدوجہد شروع ہوئی ہے جناب جو سلطان عبدالحمید خان کے ساتھ ان کے مذاکرات شروع ہوئے، ڈاکٹر ہرزل کے، وہ 1901 میں شروع ہوئے۔

    1901 میں ہرزل خود ملا اور اس نے اشاروں اشاروں میں یہ بات کی کہ یہاں ہمیں زمین خریدنے کی اجازت دی جائے۔ سلطان عبدالحمید خان نے کہا کہ فلسطین میرے باپ کی جاگیر نہیں ہے، میں شروطِ عمریہ کا پابند ہوں۔ میں ایک انچ زمین بھی تمہیں نہیں بیچ سکتا۔

    پھر 1902 میں ڈاکٹر ہرزل نے علیحدہ وفد بنایا، سلطان عبدالحمید خان نے اس سے ملاقات نہیں کی اور اس وفد کی وزراء سلطنتِ عثمانیہ کے وزراء سے ملاقات کی۔ انہوں نے ان کے سامنے یہ رشوت کی پیشکش رکھی کہ آپ کا سارا قرضہ بھی معاف کیا جاتا ہے، آئندہ 10 سال آپ کی جتنی معاشی ضروریات ہیں وہ ہم پوری کرنے کے لیے تیار ہیں، آپ زمین خریدنے کی اجازت دے دیں۔

    یہ وہ مرحلہ ہے جس مرحلے پر آج ہمیں کھڑا کیا گیا ہے، جس مرحلے پر آج ہم کھڑے ہیں۔ پہلے ان کو گرداب میں پھنسایا گیا، قرضوں میں پھنسایا گیا، یہودیوں کے وہ مقروض تھے، انگریزوں کے وہ مقروض تھے اور جناب ان کو کہا گیا کہ قرضے سارے معاف کرتے ہیں تو سلطان عبدالحمید خان نے اپنے وزراء سے کہا کہ انہیں جواب دے دو کہ میں فلسطین کا ایک انچ بھی کسی یہودی کو فروخت نہیں کر سکتا۔

    آپ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کر لیں۔

    اب جناب! یہودی سیاست! سلطان عبدالحمید خان وہ وفد نکلتے ہوئے، اس وفد کا جو سربراہ ڈاکٹر ہرزل نے بھیجا تھا، اس نے کہا کہ آپ اس کا نتیجہ، سلطان کو کہیں کہ اس کا نتیجہ آپ عنقریب دیکھ لیں۔

    سلطان عبدالحمید خان نکلا، تو جناب! سلطنتِ عثمانیہ میں یہود نے تعلیم کے عنوان پر، رفاہی کاموں کے عنوان پر، معاشی سہولیات اور فیسیلٹیز لوگوں کو دینے کے عنوان پر اپنی جو این جی اوز پھیلائی تھیں، اپنے جو ادارے پھیلائے تھے، ان اداروں نے جا کے لڑکے جو فرانس میں داخل کروائے تھے ترکوں کے، ان وہ جو وہاں سے تعلیم تربیت لے کر آئے تھے، وہ ان کے معصوم نمائندے بن کر عبدالحمید خان کے خلاف کھڑے ہو گئے۔

    وہی پالیسی جس سے 1400 سال پہلے قرآن نے پردہ اٹھایا۔ اسی پالیسی پہ، یہی پالیسی ہے یہود کی، میں اور آپ اب بھی سوئے ہوئے ہیں، میرا اور آپ کا حکمران بھی ابھی سویا ہوا ہے، اور اسی پالیسی کے مطابق سلطان عبدالحمید خان کو معزول کر دیا گیا، پھر جیل میں ڈال دیا گیا، جو شخص معزولی کا پروانہ لے کر آیا عبدالحمید خان صاحب کے پاس، وہ وہ تھا جس نے 1902 میں یہودیوں کے وفد کی قیادت کی تھی۔

    اور آپ کو تعجب ہوگا کہ وہ وہی شخص تھا جو اسرائیل کا پہلا صدر بھی بنا۔ یہ پوری یعنی مطلب ہے کہ بہت ہی افسوسناک ہماری تاریخ ہے، لیکن ہمیں یہ سامنے رکھنی چاہیے۔

    سلطان عبدالحمید خان جیل میں چلا گیا، بعد والوں نے زمینیں بیچنا شروع کر دیں یہودیوں کو۔ 1908 میں، 1908 میں شروع ہو گئی زمینیں فروخت ہونا۔