Tag: Islamic Knowledge

  • 200۔ چاند کا دیکھنا فرضِ کفایہ ہے | حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم

    200۔ چاند کا دیکھنا فرضِ کفایہ ہے | حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم

    چاند دیکھنا اسلامی شریعت میں اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ رمضان المبارک، شوال اور ذوالحجہ کے آغاز کا تعلق چاند کی رؤیت سے ہے۔ اس مختصر اور اہم بیان میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم نے چاند دیکھنے کی شرعی حیثیت اور اس سے متعلق دینی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی ہے۔

    اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ رؤیتِ ہلال کے معاملے میں امتِ مسلمہ کی ذمہ داری کیا ہے اور شرعی احکام کے مطابق اس معاملے کو سمجھنا کیوں ضروری ہے۔ یہ بیان ہمیں دینی مسائل کا صحیح علم حاصل کرنے اور شریعت کی رہنمائی کے مطابق عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا صحیح علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی دینی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    #چاند_دیکھنا #فرض_کفایہ #رمضان_المبارک #شوال #ذوالحجہ #اسلامی_تعلیمات #علم_دین #بیان #اسلامی_بیان #علماء_کرام #فدا_محمد #MoonSighting #FardKifayah #Ramadan2026 #EidMoon #IslamicReminder #IslamicKnowledge #Deen #IslamicLecture #Ulama #IslamicGuidance

  • 191۔ ہمارا ایمان کیسے کامل ہو | حضرت ڈاکٹر مولانا عبید اللہ صاحب دامت برکاتہم

    191۔ ہمارا ایمان کیسے کامل ہو | حضرت ڈاکٹر مولانا عبید اللہ صاحب دامت برکاتہم

    ایمان کی تکمیل کیسے حاصل ہو؟ اس اہم اور اصلاحی موضوع پر حضرت ڈاکٹر مولانا عبید اللہ صاحب دامت برکاتہم کا نہایت فکر انگیز اور ایمان افروز بیان۔

    اس بیان میں ایمان کی حقیقت، ایمان کو مضبوط بنانے کے ذرائع، اعمالِ صالحہ کی اہمیت اور ایک مسلمان کی عملی زندگی میں ایمان کے تقاضوں کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ بیان ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینے، اپنے ایمان کو مضبوط بنانے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ایمان کو کامل کرنے، نیک اعمال اختیار کرنے اور دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    #ہمارا_ایمان #ایمان_کی_تکمیل #اصلاح_نفس #اسلامی_بیان #دینی_تعلیم #مولانا_عبیداللہ #اسلامی_رہنمائی #ایمان #CompleteFaith #Iman #IslamicLecture #IslamicGuidance #FaithInIslam #IslamicReminder #IslamicKnowledge #IslamicTalk

  • 182۔ تعلیم از نقشِ درویش — حضرت علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب دامت برکاتہم

    182۔ تعلیم از نقشِ درویش — حضرت علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب دامت برکاتہم

    اس بیان میں حضرت علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب دامت برکاتہم نے کتاب نقشِ درویش سے ایک اہم تعلیم پڑھ کر سنائی ہے۔ یہ کتاب ماہنامہ غزالی میں شائع ہونے والے حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم کے علمی، اصلاحی اور روحانی مضامین کا مجموعہ ہے، جنہیں یکجا کرکے کتابی شکل دی گئی ہے۔

    نقشِ درویش میں دین کی سمجھ، اصلاحِ نفس، تصوف، اخلاق اور عملی زندگی کی رہنمائی جیسے اہم موضوعات پر قیمتی مضامین شامل ہیں۔ ان تعلیمات کا مقصد انسان کی فکری و روحانی تربیت، اخلاق کی اصلاح اور زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے میں مدد دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان مفید تعلیمات سے فائدہ اٹھانے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    #نقش_درویش #ماہنامہ_غزالی #حضرت_علامہ_محمد_طفیل_کوہاٹی #ڈاکٹر_فدا_محمد #اصلاح_نفس #تصوف #دینی_تعلیم #اسلامی_بیان #NaqshEDarwaish #MahnamaGhazali #AllamaMuhammadTufailKohati #DrFidaMuhammad #IslamicLecture #Tasawwuf #IslamicTeachings #SelfReformation

  • 181۔ اعتکاف کی اقسام، مسجدِ شرعی اور مسجدِ عرفی — مولانا عزیز احمد صاحب

    181۔ اعتکاف کی اقسام، مسجدِ شرعی اور مسجدِ عرفی — مولانا عزیز احمد صاحب

    اس بیان میں حضرت مولانا عزیز احمد صاحب اعتکاف کی مختلف اقسام اور مسجدِ شرعی و مسجدِ عرفی کے فرق کو واضح فرماتے ہیں۔ اس کے ساتھ علمِ دین کی فرضیت، اہمیت اور مقصد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ دین کا بنیادی ضروری علم ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے، جبکہ تفصیلی دینی علم کا حصول فرضِ کفایہ ہے۔ مزید برآں تیمم کب کیا جاتا ہے، کن چیزوں سے تیمم جائز ہے اور تیمم ادا کرنے کا درست طریقہ بھی بیان کیا گیا ہے۔

    یہ بیان اعتکاف، علمِ دین اور طہارت کے بنیادی مسائل سمجھنے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کے لیے مفید ہے۔

    په دې بيان کې د اعتکاف ډولونه، د مسجد شرعي او عرفي توپير، د دين د علم فرضيت او اهميت بيان شوي دي. همدارنګه د تيمم د جواز حالتونه، احکام او طريقه هم روښانه شوې ده، ترڅو مسلمانان د دين اساسي مسائل زده کړي او عملي يې کړي.

    #اعتکاف #اعتکاف_کی_اقسام #مسجد_شرعی #مسجد_عرفی #علم_دین #فرض_عین #فرض_کفایہ #تیمم #تیمم_کا_طریقہ #اسلامی_تعلیمات #مولانا_عزیز_احمد #Itekaf #Itikaf #Masjid #IslamicKnowledge #IslamicEducation #Tayammum #IslamicTeachings

  • 179۔ پشتو میں زکوٰۃ کا بیان — حضرت علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب

    179۔ پشتو میں زکوٰۃ کا بیان — حضرت علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب

    په دې پښتو بيان کې حضرت علامه محمد طفيل کوهاټي صاحب د زکات د اهميت، د فرض کېدو د شرايطو، د زکات د مستحقينو او د زکات د ادا کولو د صحيح طريقې په اړه مهمې خبرې بيانوي.

    زکات د اسلام له مهمو ارکانو څخه يو ستر رکن دی. زکات د مال د پاکوالي، د بېوزلو او اړمنو د مرستې او د الله تعالی د رضا د ترلاسه کولو مهمه وسيله ده. په دې بيان کې به تاسو د زکات د احکامو، د زکات د ورکولو د وخت، مستحقو کسانو او د زکات په ادا کولو کې د اړينو احتياطونو په اړه ګټور معلومات ترلاسه کړئ.

    دا بيان د هغو مسلمانانو لپاره ګټور دی چې غواړي د زکات احکام په سمه توګه وپېژني او د شريعت له لارښوونو سره سم خپل زکات ادا کړي. بيان تر پايه واورئ او له نورو سره يې هم شريک کړئ.

    الله تعالی دې موږ ټولو ته د دين د احکامو د زده کړې او پرې د عمل کولو توفيق راکړي. آمين.

    #زکوٰۃ #زکوٰۃ_کے_احکام #زکوٰۃ_کی_اہمیت #اسلامی_تعلیمات #علامہ_محمد_طفیل #اسلامی_بیان #رمضان #دینی_بیان #صدقہ #اسلام #زکات #د_زکات_احکام #د_زکات_اهميت #اسلامي_بيان #علامه_محمد_طفيل #اسلامي_تعليمات #ديني_لارښوونه #مسلمانان #Zakat #ImportanceOfZakat #ZakatInIslam #IslamicLecture #IslamicTeachings #AllamaMuhammadTufail #IslamicReminder #CharityInIslam #IslamicKnowledge

  • 177۔ وضو اور غسل کے لیے تیمم کن چیزوں سے ہوتا ہے — حضرت علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب دامت برکاتہم

    177۔ وضو اور غسل کے لیے تیمم کن چیزوں سے ہوتا ہے — حضرت علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب دامت برکاتہم

    تیمم اسلام میں طہارت حاصل کرنے کا ایک اہم شرعی طریقہ ہے، جس کی اجازت مخصوص حالات میں وضو یا غسل کے متبادل کے طور پر دی گئی ہے۔ اس بیان میں حضرت علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب دامت برکاتہم نے تیمم کی حقیقت، اس کے شرعی احکام اور اس سے متعلق اہم فقہی مسائل کو آسان اور علمی انداز میں بیان فرمایا ہے۔

    اس درس میں وضاحت کی گئی ہے کہ کن چیزوں سے تیمم کیا جا سکتا ہے، تیمم کا صحیح طریقہ کیا ہے اور کن حالات میں پانی استعمال نہ کر سکنے کی صورت میں تیمم کی اجازت ہوتی ہے۔ یہ بیان خصوصاً سفر کرنے والوں، بیماری میں مبتلا افراد اور تیمم کے شرعی مسائل سمجھنے کے خواہش مند مسلمانوں کے لیے مفید ہے۔

    دین کے احکام کو درست طور پر سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے اہم ہے۔ اس بیان کو سن کر تیمم سے متعلق بنیادی مسائل اور شرعی رہنمائی حاصل کیجیے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور شریعت کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

    #تیمم #وضو #غسل #مسائل_تیمم #فقہی_مسائل #اسلامی_بیان #علامہ_محمد_طفیل_کوہاٹی #Tayammum #Wudu #Ghusl #IslamicLecture #IslamicKnowledge #Fiqh #AllamaTufailKohati

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 4: اصحابِ فیل کی ہلاکت اور ولادتِ باسعادت کے واقعات

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 4: اصحابِ فیل کی ہلاکت اور ولادتِ باسعادت کے واقعات

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  4

    ابرہہ کے ہاتھی کو اٹھانے کی مسلسل کوشش جاری تھی کہ اچانک سمندر کی طرف سے ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے کچھ پرندوں کو بھیج دیا۔وہ ٹڈیوں کے جھنڈ کی طرح آئے ۔

    دوسری طرف عبدالمطلب مکہ میں داخل ہوئے ۔ حرم میں پہنچے اور کعبہ کے دروازے کی زنجیرپکڑ کر ابرہہ اور اس کے لشکر کے خلاف فتح کی دعا مانگی۔ان کی دعا کے الفاظ یہ تھے۔

    اے اللہ! یہ بندہ اپنے قافلے اور اپنی جماعت کی حفاظت کررہا ہے تو اپنے گھر یعنی بیت اللہ کی حفاظت فرما۔ابرہہ کا لشکر فتح نہ حاصل کرسکے۔ان کی طاقت تیری طاقت کے آگے کچھ بھی نہیں ، آج صلیب کامیاب نہ ہو۔صلیب کا لفظ اس لیے بولا کہ ابرہہ عیسائی تھا اور صلیب کو عیسائی اپنے نشان کے طور پر ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔

    اب انہوں نے اپنی قوم کو ساتھ لیا اور حرا پہاڑ پر چڑھ گئے، کیونکہ ان کا خیال تھا، وہ ابرہہ کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔

    اور پھر اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے۔یہ پرندے چڑیا سے قدرے بڑے تھے۔ان میں سے ہر پرندے نے تین تین پتھر اٹھائے ہوئے تھے، ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں ۔یہ پتھر پرندوں نے ابرہہ کے لشکر پر گرانے شروع کیے۔جونہی یہ پتھر ان پر گرے، ان کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، بالکل اسی طرح جیسے آج کسی جگہ اوپر سے بم گرایا جائے تو جسموں کے ٹکڑے اڑ جاتے ہیں ۔ابرہہ کا ہاتھی محمود البتہ ان کنکریوں سے محفوظ رہا۔باقی سب ہاتھی تہس نہس ہوگئے۔ یہ ہاتھی 13 عدد تھے۔سب کے سب کھائے ہوئے بھس کے مانند ہوگئے۔جیسا کہ سورۃ الفیل میں آتا ہے۔

    ابرہہ اور اس کے کچھ ساتھی تباہی کا یہ منظر دیکھ کر بری طرح بھاگے۔لیکن پرندوں نے ان کو بھی نہ چھوڑا۔ابرہہ کے بارے میں طبقات میں لکھا ہے کہ اس کے جسم کا ایک ایک عضو الگ ہوکر گرتا چلا گیا۔یعنی وہ بھاگ رہا تھا اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ الگ ہوکر گررہا تھا۔

    دوسری طرف عبدالمطلب اس انتظار میں تھے کہ کب حملہ ہوتا ہے، لیکن حملہ آور جب مکہ میں داخل نہ ہوئے تو وہ حالات معلوم کرنے کے لیے نیچے اترے۔مکہ سے باہر نکلے، تب انہوں نے دیکھا، سارا لشکر تباہ ہوچکا ہے۔خوب مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا۔بےشمار سامان ہاتھ آیا ، مال میں سونا چاندی بھی بےتحاشا تھا۔

    لشکر میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو واپس نہیں بھاگے تھے۔یہ مکہ میں رہ گئے تھے ان میں ابرہہ کے ہاتھی کا مہاوت بھی تھا جو محمود کو آگے لانے میں ناکام رہا تھا۔

    ہمارے نبی .حضرت محمد ﷺ اس واقعہ کے چند دن بعد پیدا ہوئے۔آپ ﷺ  جس مکان میں پیدا ہوئے، وہ صفا پہاڑی کے قریب تھا۔.حضرت کعب احبار رحمۃاللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہوگی، یہ  پہلے یہودی تھے، اس لئے  تورات پڑھا کرتے تھے۔

    دنیا میں آتے ہی حضور اکرم ﷺ روئے۔.حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی والدہ کہتی ہیں کہ جب .حضرت آمنہ کے ہاں ولادت ہوئی تو میں وہاں موجود تھی۔آپ ﷺ میرے ہاتھوں میں آئے۔یہ غالباً دایہ تھی۔ان کا نام شفا تھا۔فرماتی ہیں ۔  جب آپ ﷺ  میرے ہاتھوں میں آئے تو روئے۔

    آپ ﷺ  کے دادا عبدالمطلب کو آپ ﷺ  کی ولادت کی اطلاع دی گئی۔وہ اس وقت خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے۔اطلاع ملنے پر گھر آئے۔بچے کو گود میں لیا۔اس وقت آپ ﷺ  کی والدہ نے ان سے کہا۔

    یہ بچہ عجیب ہے، سجدے کی حالت میں پیدا ہوا ہے، یعنی پیدا ہوتے ہی اس نے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھا کر انگلی آسمان کی طرف اٹھائی۔

    عبدالمطلب نے آپ ﷺ  کو دیکھا۔اس کے بعد آپ ﷺ  کو کعبہ میں لے آئے۔آپ ﷺ  کو گود میں لئے  رہے اور طواف کرتے رہے۔پھر واپس لاکر حضرت آمنہ کو دیا۔آپ ﷺ  کو عرب کے دستور کے مطابق ایک برتن سے ڈھانپا گیا، لیکن وہ برتن ٹوٹ کر آپ ﷺ  کے اوپر سے ہٹ گیا۔اس وقت آپ ﷺ  اپنا انگوٹھا چوستے نظر آئے۔

    اس موقع پر شیطان بری طرح چیخا۔تفسیر ابن مخلد میں ہے کہ شیطان صرف چار مرتبہ چیخا، پہلی بار اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے اسے معلون ٹھہرایا، دوسری بار اس وقت جب اسے زمین پر اتارا گیا، تیسری بار اس وقت چیخا جب آنحضرت ﷺ کی پیدائش ہوئی اور چوتھی مرتبہ اس وقت جب نبی کریم ﷺ پر سورہ فاتحہ نازل ہوئی۔

    اس موقع پر حضرت حسان بن ثابت ؓ کہتے ہیں

    میں آٹھ سال کا تھا، جو کچھ دیکھتا اور سنتا تھا، اس کو سمجھتا تھا ۔ایک صبح میں نے یثرب یعنی مدینہ منورہ میں ایک یہودی کو دیکھا، وہ ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ کر چلا رہا تھا۔لوگ اس یہودی کے گرد جمع ہوگئے اور بولے

    کیا بات ہے، کیوں چیخ رہے ہو؟

    یہودی نے جواب دیا

    احمد کا ستارہ طلوع ہوگیا ہے اور وہ آج رات پیدا ہوگئے ہیں ۔

    حضرت حسان بن ثابت ؓ بعد میں 60 سال کی عمر میں مسلمان ہوئے تھے۔120 سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی۔گویا ایمان کی حالت میں 60 سال زندہ رہے۔بہت اچھے شاعر تھے۔نبی کریم ﷺ کی اپنے اشعار میں تعریف کیا کرتے تھے اور دشمنوں کی برائی اشعار میں بیان کرتے تھے۔غزوات کے موقع پر اشعار کے ذریعے مسلمانوں کو جوش دلاتے تھے۔اسی بنیاد پر انہیں شاعر رسول کا خطاب ملا تھا۔

    حضرت کعب احبار رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کی ولادت کے وقت کی خبر دے دی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔اس سلسلے میں انہوں نے فرمایا تھا۔

    تمہارے نزدیک جو مشہور چمک دار ستارہ ہے، جب وہ حرکت میں آئے گا، تو وہی وقت رسول اللہ ﷺ کی پیدائش کا ہوگا۔

    یہ خبر بنی اسرائیل کے علماء ایک دوسرے کو دیتے چلے آئے تھے اور اس طرح بنی اسرائیل کو بھی آنحضرت کی ولادت کا وقت یعنی اس کی علامت معلوم تھی۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عالم مکہ میں رہتا تھا، جب وہ رات آئی جس میں آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے تو وہ قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس نے کہا۔

    کیا تمہارے ہاں آج کوئی بچہ پیدا ہوا ہے۔

    لوگوں نے کہا

    ہمیں تو معلوم نہیں ۔

    اس پر اس یہودی نے کہا۔

    میں جو کچھ کہتا ہوں ، اسے اچھی طرح سن لو، آج اس امت کا آخری نبی پیدا ہوگیا ہے اور قریش کے لوگو! وہ تم میں سے ہے، یعنی وہ قریشی ہے۔اس کے کندھے کے پاس ایک علامت ہے( یعنی مہر نبوت)اس میں بہت زیادہ بال ہیں ۔یعنی گھنے بال ہیں اور یہ نبوت کا نشان ہے۔نبوت کی دلیل ہے۔اس بچے کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ  دو رات تک دودھ نہیں پیے گا۔ان باتوں کا ذکر اس کی نبوت کی علامات کے طور پر پرانی کتب میں موجود ہے۔

    علامہ ابن حجرنے لکھاہےکہ یہ بات درست ہے، آپ نے دودن تک دودھ نہیں پیاتھا-

    یہودی عالم نے جب یہ باتیں بتائیں تولوگ وہاں سے اٹھ گئے-انہیں یہودی کی باتیں سن کر بہت حیرت ہوئی تھی-جب وہ لوگ اپنے گھروں میں پہنچےتوان میں سے ہر ایک نے اس کی باتیں اپنے گھرکےافرادکوبتائیں ، عورتوں کوچونکہ حضرت آمنہ کےہاں بیٹاپیداہونےکی خبرہوچکی تھی، اس لیے انہوں نے اپنےمردوں کوبتایا۔

    یہودی نے کہاذراچل کر مجھے وہ بچہ دکھاؤ۔

    لوگ اسےساتھ لیےحضرت آمنہ کےگھرکےباہرآئے، ان سے بچہ دکھانےکی درخواست کی۔آپ نے بچےکوکپڑے سےنکال کرانہیں دےدیا۔لوگوں نے آپ کےکندھے پرسے کپڑاہٹایا۔ یہودی کی نظر جونہی مہرنبوت پر پڑی، وہ فوراًبےہوش ہوکرگر پڑا، اسے ہوش آیا تو  لوگوں نے اس سےپوچھا۔

    تمہیں کیاہوگیاتھا۔

    جواب میں اس نےکہا

    میں اس غم سے بےہوش ہواتھاکہ میری قوم میں سےنبوت ختم ہوگئی۔ اور اے قریشیو! اللہ کی قسم! یہ بچہ تم پر زبردست غلبہ حاصل کرےگا اور اس کی شہرت مشرق سے مغرب تک پھیل جائےگی۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    مصنف : عبداللہ فارانی

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کریں ۔  اگلی قسط کا انتظار کریں

  • اسلام کا تعلیمی نظام | حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب

    اسلام کا تعلیمی نظام | حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب

    اسلام کا تعلیمی نظام صرف دنیاوی کامیابی حاصل کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد انسان کی دینی و اخلاقی تربیت، مضبوط کردار کی تعمیر اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جذبہ پیدا کرنا بھی ہے۔

    حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب کے اس بیان میں اسلامی نظامِ تعلیم کے بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات، دینی اور عصری علوم میں توازن، اخلاق و کردار کی تعمیر اور اساتذہ کا احترام ایک مثالی تعلیمی نظام کے اہم پہلو ہیں۔

    یہ بیان یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی علم کے ساتھ نیک کردار، اسلامی اقدار اور دین پر عمل کرنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    ہیش ٹیگز

    #اسلام_کا_تعلیمی_نظام #اسلامی_تعلیم #قرآن_و_سنت #دینی_و_دنیاوی_تعلیم #کردار_سازی #حضرت_مولانا_محمد_طفیل_کوہاٹی #IslamicEducation #IslamicEducationSystem #IslamicBayan #QuranAndSunnah #DeenAndDunya #CharacterBuilding

  • آدم علیہ السلام کی وفات تک اولاد کتنی تھی؟ | حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم

    آدم علیہ السلام کی وفات تک اولاد کتنی تھی؟ | حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم

    حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان اور اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ انسانی نسل کا آغاز آپ علیہ السلام سے ہوا۔ اس بیان میں حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد اور ان کی وفات تک اولاد کی تعداد کے بارے میں گفتگو فرماتے ہیں۔

    انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات اور اسلامی تاریخ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے مستند دینی روایات اور اہلِ علم کی رہنمائی سے استفادہ کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی مبارک زندگیوں سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

    ہیش ٹیگز

    #حضرت_آدم_علیہ_السلام #آدم_علیہ_السلام #اولاد_آدم #اسلامی_بیان #حضرت_ڈاکٹر_فدا_محمد #اسلامی_معلومات #انبیائے_کرام #دینی_تعلیمات #IslamicBayan #ProphetAdam #IslamicKnowledge #DrFidaMuhammad

  • ضروری دین تین چیزیں ہیں

    ضروری دین تین چیزیں ہیں

    اس لیکچر میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب ضروری چیزوں یعنی فرض، واجب اور سنتِ مؤکدہ کی وضاحت فرماتے ہیں۔
    بیان میں اسلامی احکام کی اہمیت، ان کی ترتیب اور روزمرہ زندگی میں ان پر عمل کی ضرورت کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہر مسلمان کے لیے دین کی بنیادی تعلیمات کو سمجھنے اور اپنے اعمال کی اصلاح کے لیے ایک مفید بیان ہے۔

    #ضروری_دین #فرض #واجب #سنت_مؤکدہ #دین_اسلام #اسلامی_بیان #اسلامی_تعلیمات #حضرت_ڈاکٹر_فدا_محمد #DrFidaMuhammad #IslamicLecture #Fard #Wajib #SunnatEMuakkadah #IslamicKnowledge #Bayan #IslamicGuidance #Deen #MuslimLife