Tag: Islamic Book

  • 180۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 13 | قدم بہ قدم

    180۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 13 | قدم بہ قدم

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے ایمان افروز سلسلے کی تیرہویں قسط پیشِ خدمت ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب کی زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کے ذریعے ہم رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوت و مخالفت کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات و اہم واقعات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ سمیت سیرتِ طیبہ کے اہم پہلوؤں کا مطالعہ کیا جائے گا۔

    اس سلسلے کا مقصد سیرتِ رسول ﷺ کو سمجھنا، آپ ﷺ کی مبارک زندگی سے رہنمائی حاصل کرنا اور اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا ہے۔

    ویڈیو پسند آئے تو اسے لائک اور شیئر کریں، اور مزید اقساط کے لیے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_بیان #اسلامی_کتاب #اسلامی_تعلیمات #مدینہ_منورہ #مکہ_مکرمہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicBook #IslamicHistory #MuhammadPBUH #SpreadIslam

  • 178۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 12 | قدم بہ قدم

    178۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 12 | قدم بہ قدم

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس ایمان افروز سلسلے کی بارہویں قسط پیشِ خدمت ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو آسان، جامع اور عام فہم انداز میں مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے۔

    اس سلسلے کا مقصد سیرتِ طیبہ ﷺ کا مطالعہ کرنا، آپ ﷺ کی مبارک زندگی کے اہم واقعات کو سمجھنا اور اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_بیان #اسلامی_کتاب #اسلامی_تعلیمات #مدینہ_منورہ #مکہ_مکرمہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicBook #IslamicHistory #MuhammadPBUH #SpreadIslam

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 11 | قدم بہ قدم

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 11 | قدم بہ قدم

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 11 | قدم بہ قدم

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کا یہ خوبصورت اور ایمان افروز سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم، از عبداللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوتِ اسلام کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتحِ مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

    اس قسط میں بھی سیرتِ طیبہ ﷺ کے مطالعے کے ذریعے آپ ﷺ کی مبارک زندگی کو سمجھنے اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب حاصل کیجیے۔

    📌 اگر یہ کاوش آپ کے لیے مفید ہو تو ویڈیو کو لائک کریں، دوسروں کے ساتھ شیئر کریں اور چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 نئی اقساط سے باخبر رہنے کے لیے بیل آئیکن دبائیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_کتاب #اسلامی_تعلیمات #مدینہ_منورہ #مکہ_مکرمہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicBook #IslamicHistory #MuhammadPBUH #IslamicEducation

  • 174۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 10 | قدم بہ قدم

    174۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 10 | قدم بہ قدم

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم | قسط نمبر 10

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس ایمان افروز سلسلے کی دسویں قسط پیش خدمت ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم، از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب کی زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کے واقعات کو مرحلہ وار سمجھنے اور ان سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوتِ اسلام، مخالفت کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات و اہم واقعات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ سمیت سیرتِ طیبہ کے اہم پہلوؤں کا مطالعہ کیا جائے گا۔

    سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی، اعلیٰ اخلاق اور تعلیمات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔

    📌 ویڈیو مکمل سماعت فرمائیں۔ اگر یہ کاوش پسند آئے تو لائک کریں، دوسروں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید اقساط سے مستفید ہونے کے لیے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 نئی ویڈیوز سے باخبر رہنے کے لیے بیل آئیکن بھی دبائیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ کو سمجھنے، اس سے محبت کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

    اردو ہیش ٹیگز:
    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_بیان #اسلامی_کتاب #اسلامی_تعلیمات #مدینہ_منورہ #مکہ_مکرمہ #قسط_نمبر_10

    English Hashtags:
    #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicBook #IslamicHistory #MuhammadPBUH #SpreadIslam #SeerahEpisode10

  • ۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 9 | قدم بہ قدم

    ۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 9 | قدم بہ قدم

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم | قسط نمبر 9

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس ایمان افروز سلسلے کی نویں قسط پیش خدمت ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم، از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کے واقعات کو آسان، سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہر شخص سیرتِ طیبہ ﷺ کو سمجھ سکے اور اس سے رہنمائی حاصل کر سکے۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوتِ اسلام، مخالفت کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ سمیت سیرتِ نبوی ﷺ کے اہم واقعات کا مطالعہ کیا جائے گا۔

    اس کاوش کا مقصد صرف سیرت کے واقعات سے واقفیت حاصل کرنا نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی سے رہنمائی لے کر اپنے اخلاق، کردار اور عملی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔

    📌 ویڈیو مکمل سماعت فرمائیں، پسند آئے تو لائک اور شیئر کریں، اور مزید اقساط سے مستفید ہونے کے لیے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ کو صحیح طور پر سمجھنے، اس سے محبت کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

    اردو ہیش ٹیگز:
    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_تعلیمات #اسلامی_کتاب #اسلامی_تاریخ #قسط_نمبر_9

    English Hashtags:
    #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicBook #IslamicHistory #SeerahEpisode9

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  5

    ملک شام کاایک یہودی عیص مکہ سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا۔وہ جب بھی کسی کام سے مکہ آتا، وہاں کے لوگوں سے ملتا تو ان سے کہتا۔

    بہت قریب کے زمانے میں تمہارے درمیان ایک بچہ پیدا ہوگا، سارا عرب اس کے راستے پر چلے گا۔ اس کے سامنے ذلیل اور پست ہوجائے گا۔وہ عجم اور اس کے شہروں کا بھی مالک ہوجائے گا۔یہی اس کا زمانہ ہے۔جو اس کی نبوت کے زمانے کو پائے گا اور اس کی پیروی کرے گا، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔جس خیر اور بھلائی کی وہ امید کرتاہے، وہ اس کو حاصل ہوگی اور جو شخص اس کی نبوت کا زمانہ پائے گا مگر اس کی مخالفت کرے گا، وہ اپنے مقصد اور آرزوؤں میں ناکام ہوگا۔

    مکہ معظمہ میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا، وہ یہودی اس بچے کے بارے میں تحقیق کرتا اور کہتا، ابھی وہ بچہ پیدا نہیں ہوا۔آخر جب نبی کریم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو عبدالمطلب اپنے گھر سے نکل کر اس یہودی کے پاس پہنچے۔اس کی عبادت گاہ کے دروازے پر پہنچ کر انہوں آواز دی۔عیص نے پوچھا۔

    کون ہے؟

    انہوں نے اپنا نام بتایا۔پھر اس سے پوچھا۔

    تم اس بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

    اس نے انہیں دیکھا، پھر بولا۔

    ہاں ! تم ہی اس کے باپ ہوسکتے ہو، بےشک وہ بچہ پیدا ہوگیا ہے جس کے بارے میں ، میں تم لوگوں سے کہا کرتا تھا۔وہ ستارہ آج طلوع ہوگیا ہے جو اس بچے کی پیدائش کی علامت ہے۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت اس بچے کو درد ہورہا ہے، یہ تکلیف اسے تین دن رہے گی، اور اس کے بعد یہ ٹھیک ہوجائے گا۔

    راہب نے جو یہ کہا تھا کہ بچہ تین دن تک تکلیف میں رہے گا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے تین دن تک دودھ نہیں پیا تھا اور یہودی نے جو یہ کہا تھا کہ ہاں ! آپ ہی اس کے باپ ہوسکتے ہیں ، اس سے یہ مراد ہے کہ عربوں میں دادا کو بھی باپ کہہ دیا جاتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک بار خود فرمایا تھا۔

    میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔

    یہودی نے عبدالمطلب سے یہ بھی کہا تھا۔

    اس بارے میں اپنی زبان بند رکھیں ، یعنی کسی کو کچھ نہ بتائیں ، ورنہ لوگ اس بچے سے زبردست حسد کریں گے، اتنا حسد کریں گے کہ آج تک کسی نے نہیں کیا اور اس کی اس قدر سخت مخالفت ہوگی کہ دنیا میں کسی اور کی اتنی مخالفت نہیں ہوئی۔

    پوتے کے متعلق یہ باتیں سن کر عبدالمطلب نے عیص سے پوچھا۔

    اس بچے کی عمر کتنی ہوگی؟

    یہودی نے اس سوال کے جواب میں کہا۔

    اگر اس بچے کی عمر طبعی ہوئی تو بھی ستر سال تک نہیں ہوگی۔بلکہ اس سے پہلے ہی 61 یا 63 سال کی عمر میں وفات ہوجائے گی اور اس کی امت کی اوسط عمر بھی اتنی ہوگی، اس کی پیدائش کے وقت دنیا کے بت ٹوٹ کر گر جائیں گے۔

    یہ ساری علامات اس یہودی نے گزشتہ انبیاء کی پیش گوئیوں سے معلوم کی تھیں اور سب سب بالکل سچ ثابت ہوئیں ۔

    قریش کے کچھ لوگ عمرو بن نفیل اور عبداللہ بن جحش وغیرہ ایک بت کے پاس جایا کرتے تھے۔یہ اس رات بھی اس کے پاس گئے، جس رات آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔انہوں نے دیکھا وہ بت اوندھے منہ گرا پڑا ہے۔ان لوگوں کو یہ بات بری لگی، انہوں نے اس کو اٹھایا، سیدھا کردیا مگر وہ پھر گرگیا۔انہوں نے پھر اس کو سیدھا کیا، وہ پھر الٹا ہوگیا۔ان لوگوں کو بہت حیرت ہوئی، یہ بات بہت عجیب لگی۔تب اس بت سے آواز نکلی۔

    یہ ایک ایسے بچے کی پیدائش کی خبر ہے، جس کے نور سے مشرق اور مغرب میں زمین کے تمام گوشے منور ہوگئے ہیں ۔

    بت سے نکلنے والی آواز نے انہیں اور زیادہ حیرت زدہ کردیا۔

    اس کے علاوہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایران کے شہنشاہ کسریٰ نوشیرواں کا محل ہلنے لگا اور اس میں شگاف پڑگئے۔نوشیرواں کا یہ محل نہایت مضبوط تھا۔بڑے بڑے پتھروں اور چونے سے تعمیر کیا گیا تھا۔اس واقعے سے پوری سلطنت میں دہشت پھیل گئی۔شگاف پڑنے سے خوفناک آواز بھی نکلی تھی۔محل کے چودہ کنگرے ٹوٹ کر نیچے آگرے تھے۔

    آپ کی پیدائش پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ فارس کے تمام آتش کدوں کی وہ آگ بجھ گئی جس کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کو بجھنے نہیں دیتے تھے، لیکن اس رات میں ایک ہی وقت میں تمام کے تمام آتش کدوں کی آگ آناً فاناً بجھ گئی۔آگ کے پوجنے والوں میں رونا پیٹنا مچ گیا۔

    کسریٰ کو یہ تمام اطلاعات ملیں تو اس نے ایک کاہن کو بلایا۔اس نے اپنے محل میں شگاف پڑنے اور آتش کدوں کی آگ بجھنے کے واقعات اسے سناکر پوچھا۔

    آخر ایسا کیوں ہورہا ہے۔

    وہ کاہن خود تو جواب نہ دے سکا، تاہم اس نے کہا۔

    ان سوالات کے جوابات میرا ماموں دے سکتا ہے، اس کا نام سطیح ہے ۔

    نوشیرواں نے کہا

    ٹھیک ہے، تم جا کر ان سوالات کے جوابات لاؤ۔

    وہ گیا، سطیح سے ملا، اسے یہ واقعات سنائے، اس نے سن کر کہا۔

    ایک عصا والے نبی ظاہر ہوں گے جو عرب اور شام پر چھا جائیں گے اور جو کچھ ہونے والا ہے، ہو کر رہے گا۔

    اس نے یہ جواب کسریٰ کو بتایا ۔ اس وقت تک کسریٰ نے دوسرے کاہنوں سے بھی معلومات حاصل کر لی تھیں ، چنانچہ یہ سن کر اس نے کہا۔

    تب پھر ابھی وہ وقت آنے میں دیر ہے۔ (یعنی ان کا غلبہ میرے بعد ہو گا)

    پیدائش کے ساتویں دن عبدالمطلب نے آپﷺ  کا عقیقہ کیا اور نام  “محمد”   رکھا۔ عربوں میں اس سے پہلے یہ نام کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ قریش کو یہ نام عجیب سا لگا۔چنانچہ کچھ لوگوں نے عبدالمطلب سے کہا۔

    اے عبدالمطلب! کیا وجہ ہے کہ تم نے اس بچے کا نام اس کے باپ دادا کےنام پر نہیں رکھا بلکہ محمد رکھا ہے اور یہ نام نہ تمہارے باپ دادا میں سے کسی کا ہے نہ تمہاری قوم میں سے کسی کا ہے۔

    عبدالمطلب نے انہیں جواب دیا۔

    میری تمنا ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ اس بچے کی تعریف فرمائیں اور زمین پر لوگ اس کی تعریف کریں ۔

    محمد کے معنی ہیں جس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے۔

    اسی طرح والدہ کی طرف سے آپ کا نام احمد رکھا گیا۔ احمد نام بھی اس سے پہلے کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ مطلب یہ کہ ان دونوں ناموں کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی اور کوئی بھی یہ نام نہ رکھ سکا۔ احمد کا مطلب ہے سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔

    علامہ سہیلی نے لکھا ہے آپ ﷺ  احمد پہلے ہیں اور محمد بعد میں ۔ یعنی آپ ﷺ  کی تعریف دوسروں نے بعد میں کی، اس سے پہلے آپ ﷺ  کی شان یہ ہے کہ آپ ﷺ  اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ حمد و ثنا کرنے والے ہیں ۔ پرانی کتابوں میں آپ ﷺ  کا نام احمد ذکر کیا گیا ہے۔

    اپنی والدہ کے بعد آپ ﷺ  نے سب سے پہلے ثوبیہ کا دوھ پیا، ثوبیہ نبی کریم ﷺ کے چچا  ابو لہب کی باندی تھیں ۔ ان کو ابولہب نے آپ ﷺ  کی پیدائش کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا۔ ثوبیہ نے آپ ﷺ  کو چند دن تک دودھ پلایا۔ انہی دنوں ثوبیہ کے ہاں اپنا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ آپ ﷺ  کی والدہ نے آپ ﷺ  کو صرف نو دن تک دودھ پلایا۔ انکے بعد ثوبیہ نے پلایا۔ پھر دودھ پلانے کی باری حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی آئی۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اپنی بستی سے روانہ ہوئیں ۔ ان کے ساتھ ان کا دودھ پیتا  بچہ اور شوہر بھی تھے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا دوسری عورتوں کے بعد مکہ میں داخل ہوئیں ۔ ان کا خچر بہت کمزور اور مریل تھا ۔ ان کے ساتھ ان کی کمزور اور بوڑھی اونٹنی تھی۔ وہ بہت آہستہ چلتی تھی۔ ان کی وجہ سے حلیمہ رضی اللہ عنہا قافلے سے بہت پیچھے رہ جاتی تھیں ۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ سب سے آخر میں مکہ میں داخل ہوئیں ۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 1 | نسبِ رسول ﷺ اور کنویں زمزم کی دوبارہ کھدائی

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 1 | نسبِ رسول ﷺ اور کنویں زمزم کی دوبارہ کھدائی

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر 1

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ١۲ بیٹے تھے ۔ ان کی نسل اس قدر ہوئی کہ  مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی ۔ان کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں عدنان ہوئے ۔ عدنان کے بیٹے معد اور پوتے کا نام نزار تھا۔ نزار کے چار بیٹے تھے ۔ ان میں سے ایک کا نام مضر تھا ۔ مضر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے۔  یہ فہر بن مالک بھی کہلائے ۔ قریش کی اولاد بہت ہوئی ۔ ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی ۔ ان کی اولاد سے قصیّ نے اقتدار حاصل کیا ۔ قصیّ کے آگے تین بیٹے ہوئے ۔ ان میں سے ایک عبد مناف تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے ۔

    ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی۔   ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ۔  اس کا نام شیبہ رکھا گیا  ۔ یہ پیدا ہی ہوا تھا کہ ہاشم کا انتقال ہوگیا- ان کے بھائی مطلّب مکہ کے حاکم ہوئے ۔  ہاشم کا بیٹا مدینہ منورہ میں پرورش پاتا  رہا ۔  جب مطلّب کو معلوم ہوگیا کہ وہ جوان ہوگیا ہے تو بھتیجے کو لینے کے لیے خود مدینہ گئے ۔ اسے لے کر  مکہ مکرمہ پہنچے تو لوگوں نے خیال کیا  کہ یہ نوجوان ان کا غلام ہے ۔  مطلّب نے لوگوں کو بتایا ۔  یہ ہاشم کا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے ۔اس کے باوجود لوگوں نے اسے مطلّب کا غلام ہی کہنا شروع کردیا – اس طرح شیبہ کو عبدالمطلب کہا جانے لگا – انہی عبدالمطلب کے یہاں ابوطالب،  حمزہ، عبّاس،  عبداللہ،   ابولہب،  حارث،  زبیر،  ضرار، اور عبدالرحمٰن  پیدا ہوئے۔  ان کے بیٹے عبداللہ سے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے۔

    عبدالمطلب کے تمام بیٹوں میں حضرت عبداللہ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ پاکدامن تھے ۔ عبدالمطلب کو خواب میں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا گیا   یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے کنویں کو  اس کنویں کو قبیلہ جرہم کے سردار مضاض نے پاٹ دیا تھا ۔  قبیلہ جرہم کے لوگ اس زمانہ میں مکہ کے سردار تھے  بیت اللہ کے نگراں تھے ۔  انہوں نے بیت اللہ کی بے حرمتی شروع کردی ۔  ان کا سردار مضاض بن عمرو تھا ۔ وہ اچھا آدمی تھا  اس نے اپنے قبیلے کو سمجھایا کہ بیت اللہ کی بے حرمتی نہ کرو مگر ان پر اثر نہ ہوا  ۔  جب مضاض نے دیکھا کہ ان پر کوئی اثر نہ ہوا  تو قوم کو اس کے حال پر چھوڑ کر وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے تمام مال و دولت تلواریں اور زرہیں وغیرہ خانۂ کعبہ سے نکال کر زمزم کے کنویں میں ڈالدیں اور مٹی سے اسکو پاٹ دیا ۔ کنواں اس سے پہلے ہی خشک ہوچکا تھا۔

    اب اس کا نام و نشان مٹ گیا ۔  مدتوں یہ کنواں بند پڑا رہا اس کے بعد بنو خزاعہ نے بنو جرہم کو وہاں سے مار بھگایا ۔بنو خزاعہ اور قصیّ کی سرداری کا زمانہ اسی حالت میں گذرا ۔کنواں بند رہا یہاں تک کہ قصیّ کے بعد عبدالمطلب کا زمانہ آگیا۔  انہوں نے خواب دیکھا ۔ خواب میں انہیں زمزم کے کنویں کی جگہ دکھائی گئی اور اس کے کھودنے کا حکم دیا گیا۔

    حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ عبدالمطلب نے بتایا :

    ” میں حجر اسود کے مقام پر سورہا تھا کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا ۔  اس نے مجھ سے کہا “طیبہ کو کھودو “

    میں نے اس پوچھا “طیبہ کیا ہے؟”

    مگر وہ کچھ بتائے بغیر چلاگیا ۔  دوسری دفعہ رات پھر خواب میں وہی شخص آیا ” کہنے لگا “برہ کو کھودو “

    میں نے پوچھا “برّہ کیا ہے” وہ کچھ بتائے بغیر چلا گیا۔

    تیسری رات،  میں اپنے بستر پر سورہا تھا کہ پھر وہ شخص خواب میں آیا ۔  اُس نے کہا ” مضنونہ کھودو “

    میں نے پوچھا ” مضنونہ کیا ہے؟” وہ بتائے بغیر چلا گیا۔

    اس سے اگلی رات میں پھر بستر پر سورہا تھا کہ وہی شخص پھر آیا اور بولا “زم زم کھودو ” میں نے اس سے پوچھا “زم زم کیا ہے؟ ” اس بار اس نے کہا:

    ” زمزم وہ ہے جس کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا، جو حاجیوں کے بڑے بڑے مجموعوں کو سیراب کرتا ہے “

    عبدالمطلب کہتے ہیں ، میں نے اس سے پوچھا

    “یہ کنواں کس جگہ ہے؟ “

    اس نے بتایا ۔

    “جہاں گندگی اور خون پڑا ہے، اور کوّا ٹھونگیں مار رہا ہے۔”

    دوسرے دن عبدالمطلب اپنے بیٹے حارث کے ساتھ وہاں گئے ۔  اس وقت ان کے یہاں یہی ایک لڑکا تھا ۔  انہوں نے دیکھا وہاں گندگی اور خون پڑا تھا اور ایک کوّا ٹھونگیں مار رہا تھا،اس جگہ کے دونوں طرف بُت موجود تھے اور یہ گندگی اور خون دراصل ان بتوں پر قربان کئے جانے والے جانوروں کا تھا،  پوری نشانی مل گئی تو عبدالمطلب کدال لے آئے اور کھدائی کے لئے تیار ہوگئے لیکن اس وقت قریش وہاں آ پہنچے ۔ انہوں نے کہا :

    ” اللہ کی قسم ہم تمہیں یہاں کھدائی نہیں کرنے دیں گے، تم ہمارے ان دونوں بُتوں کے درمیاں کنواں کھودنا چاہتے ہو جہاں ہم ان کے لئے قربانیاں کرتے ہیں۔

    عبدالمطلب نے ان کی بات سن کر اپنے بیٹے حارث سے کہا :

    “تم ان لوگوں کو میرے قریب نہ آنے دو،  میں کھدائی کا کام کرتا رہوں گا اس لئے کہ مجھے جس کام کا حکم دیا گیا ہے میں اس کو ضرور پورا کروں گا۔ “

    قریش نے جب دیکھا کہ وہ باز آنے والے نہیں تو رک گئے ۔ آخر انھوں نے کھدائی شروع کردی ۔جلد ہی کنویں کے آثار نظر آنے لگے ۔  یہ دیکھ کر انہوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور پکار اٹھے

    ” یہ دیکھو یہ اسماعیل علیہ السلام کی تعمیر ہے “۔

    جب قریش نے یہ دیکھا کہ انہوں نے کنواں تلاش کرلیا تو ان کے پاس آگئے اور کہنے لگے :

    “عبدالمطلب اللہ کی قسم ” یہ ہمارے باپ اسماعیل علیہ السلام کا کنواں ہے اور اس پر ہمارا بھی حق ہے” ۔ اس لئے ہم اس میں تمہارے شریک ہوں گے ۔”

    یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا :

    ” میں تمہیں اس میں شریک نہیں کرسکتا ” یہ مجھ اکیلے کا کام ہے”

    اس پر قریش نے کہا :

    ” تب پھر اس معاملے میں ہم تم سے جھگڑا کریں گے”

    عبدالمطلب بولے :

    ” کسی سے فیصلہ کروالو “

    انہوں نے بنوسعد ابن ہزیم کی کاہنہ سے فیصلہ کرانا منظور کیا ۔  یہ کاہنہ ملک شام کے بالائی علاقے میں رہتی تھی ۔  آخر عبدالمطلب اور دوسرے قریش اس کی طرف روانہ ہوئے۔  عبدالمطلب کے ساتھ عبدمناف کے لوگوں کی ایک جماعت تھی۔

    جبکہ دیگر قبائل قریش کی بھی ایک ایک جماعت ساتھ تھی ۔ اس زمانہ میں ملک حجاز اور شام کے درمیان ایک بیابان میدان تھا ، وہاں کہیں پانی نہیں تھا ۔ اس میدان میں ان کا پانی ختم ہوگیا۔  سب لوگ پیاس سے بے حال ہوگئے، یہاں تک کہ انہیں اپنی موت کا یقین ہوگیا ۔  انہوں نے قریش کے دوسرے لوگوں سے پانی مانگا ۔ لیکن انہوں نے پانی دینے سے انکار کردیا۔ اب انہوں نےادھر ادھر پانی تلاش کرنے کا ارادہ کیا ۔

    عبدالمطلب اٹھ کر اپنی سواری کے پاس آئے،  جوں ہی ان کی سواری اٹھی، اس کے پاؤں کے نیچے سے پانی کا چشمہ ابل پڑا ۔  انہوں نے پانی کو دیکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا ۔ پھر عبد المطلب سواری سے اتر آئے ۔ سب نے خوب سیر ہوکر پانی پیا  اور اپنے مشکیزے بھر لیے ۔  اب انہوں نے قریش کی دوسری جماعت سے کہا:”آؤ تم بھی سیر ہوکر پانی پی لو ۔” اب وہ بھی آگے آئے اور خوب پانی پیا ۔  پانی پینے کے بعد وہ بولے:

    ” اللہ کی قسم…. اے عبدالمطلب! یہ تو تمہارے حق میں فیصلہ ہوگیا ۔  اب ہم زمزم کے بارے میں تم سے کبھی جھگڑا نہیں کریں گے ۔ جس ذات نے تمہیں اس بیابان میں سیراب کردیا،  وہی ذات تمہیں زمزم سے بھی سیراب کرے گا، اس لیے یہیں سے واپس چلو ۔”

    اس طرح قریش نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ عبدالمطلب پر مہربان ہے، لہٰذا ان سے جھگڑنا بے سود ہے اور کاہنہ کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ، چنانچہ سب لوگ واپس لوٹے ۔

    واپس آکر عبدالمطلب نے پھر کنویں کی کھدائی شروع کی ۔  ابھی تھوڑی سی کھدائی کی ہوگی کہ مال، دولت، تلواریں اور زرہیں نکل آئیں ۔ اس میں سونا اور چاندی وغیرہ بھی تھی ۔  یہ مال ودولت دیکھ کر قریش کے لوگوں کو لالچ نے آگھیرا ۔  انہوں نے عبدالمطلب سے کہا :

    “عبدالمطلب! اس میں ہمارا بھی حصہ ہے ۔”

    ان کی بات سن کر عبدالمطلب نے کہا :

    “نہیں ! اس میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ، تمہیں انصاف کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔  آؤ پانسو کے تیروں سے قرعہ ڈالیں ۔”

    انہوں نے ایسا کرنا منظور کرلیا ۔  دو تیر کعبے کے نام سے رکھے گئے،  دو عبدالمطلب کے اور دو قریش کے باقی لوگوں کے نام کے…. پانسہ پھینکا گیا تو مال اور دولت کعبہ کے نام نکلا، تلواریں اور زرہیں عبدالمطلب کے نام اور قریشیوں کے نام کے جو تیر تھے وہ کسی چیز پر نہ نکلے ۔  اس طرح فیصلہ ہوگیا ۔ عبدالمطلب نے کعبے کے دروازے کو سونے سے سجا دیا ۔

    زمزم کی کھدائی سے پہلے عبدالمطلب نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! اس کی کھدائی کو مجھ پر آسان کردے، میں اپنا ایک بیٹا تیرے راستے میں ذبح کروں گا ۔ اب جب کہ کنواں نکل آیا تو انہیں خواب میں حکم دیا گیا ۔

    “اپنی منت پوری کرو، یعنی ایک بیٹے کو ذبح کرو ۔”

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (جو اشتیاق احمدؒ     کا قلمی نام تھا)

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم