حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا مختصر مگر نہایت مؤثر بیان، جس میں گناہوں پر استغفار کی اہمیت، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور توبہ کی قبولیت کا دل کو چھو لینے والا پیغام دیا گیا ہے۔ یہ مختصر بیان ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور کثرتِ استغفار کی ترغیب دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ اور کثرتِ استغفار کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پاکستان میں شرعی حکومتوں کی آخری یادگار ریاستیں تھیں — اس تاریخی اور فکر انگیز موضوع پر حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بصیرت افروز بیان فرمایا ہے۔ اس خطاب میں برصغیر کی ان ریاستوں کا ذکر کیا گیا ہے جہاں اسلامی نظامِ حکومت قائم تھا، اور ان کے خاتمے کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
یہ بیان تاریخ، عبرت اور فکری رہنمائی کا اہم ذریعہ ہے۔ مکمل بیان سنیں، غور کریں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
میجر جنرل (ر) پرنسپل خیبر میڈیکل کالج کی فرض شناسی، دیانت داری اور اصول پسندی کے ایمان افروز واقعات حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی زبانی۔ یہ بیان ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک ذمہ دار عہدے پر فائز شخص اگر اپنے فرائض اللہ کی رضا کے لیے انجام دے تو اس کا کردار نسلوں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔ یہ واقعات طلبہ، اساتذہ، ڈاکٹرز اور ہر ذمہ دار فرد کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھیں۔ فائدہ ہو تو لائک، شیئر اور چینل کو سبسکرائب کریں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
اس اہم اور فکر انگیز بیان میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ شریعت کے خلاف قانون سازی اور ایمان سے متعلق ایک اہم اسلامی مسئلے کی وضاحت فرماتے ہیں۔ بیان میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی بالادستی، احکامِ الٰہی کے خلاف قانون سازی کے اسلامی نقطۂ نظر اور ایمان کی حفاظت کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ بیان طلبۂ علم اور ہر اس مسلمان کے لیے اہم ہے جو دین، شریعت اور اپنے ایمان کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہے۔
اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے — یہ جملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت مہلت کے بعد آتی ہے، اور جب آتی ہے تو کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ اس پُراثر بیان میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ظلم، غرور اور غفلت کے انجام کو نہایت حکمت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ یہ خطاب ایمان کو تازہ کرنے، نیت کی اصلاح اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اس بابرکت بیان میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اس حقیقت کو مؤثر انداز میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو تقویٰ کے نتیجے میں فراست عطا فرماتا ہے۔ تقویٰ دل کو نور بخشتا ہے، جس کے ذریعے مومن حق و باطل، درست و غلط اور خیر و شر میں فرق کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔ یہ بیان ایمان کی مضبوطی، باطنی بصیرت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو بڑھانے کے لیے نہایت مفید ہے۔
اس بیان میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں پیش آنے والی مشکلات، محنت، صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کے واقعات بیان فرمائے ہیں۔ یہ سبق آموز گفتگو طلبہ و طالبات کے لیے حوصلہ، امید اور علم و اخلاق پر ثابت قدمی کا پیغام ہے۔
دنیا میں سب سے قیمتی چیز کی ساخت و پرداخت ۔ بدن کی ساخت کے ماہر کا بیان
رمضان المبارک صرف روحانی تزکیہ اور عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ جسمانی نظم و ضبط، اعتدال اور صحت کا بھی اہم موقع ہے۔ اس بیان میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ انسانی جسم کی ساخت و پرداخت اور اس کی حفاظت کے حوالے سے اہم اور مفید گفتگو فرماتے ہیں۔
بیان میں روزے کے دوران جسمانی صحت، ذہنی یکسوئی، کھانے پینے میں اعتدال، جسم کی مناسب نگہداشت اور روزمرہ معمولات کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ترتیب دینے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ ساتھ ہی روزے کی حکمت اور اس کے ذریعے انسان میں پیدا ہونے والے نظم و ضبط اور روحانی و جسمانی فوائد کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
یہ بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اسلام انسان کی روحانی اصلاح کے ساتھ ساتھ اس کے جسم اور صحت کے بارے میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اعتدال، پاکیزگی، صحت کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ایک مسلمان کے لیے نہایت اہم ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے، اپنے جسم و جان کی حفاظت کرنے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تاریخِ بیان: 24 جنوری 2026 مقرر: حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ
اس علمی اور اصلاحی بیان میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تصوف اور تزکیۂ نفس کے حقیقی مفہوم کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ تصوف محض ظاہری اعمال اور رسوم کا نام نہیں بلکہ دل کو گناہوں، نفس کی خواہشات، تکبر اور دنیا کی غیر ضروری محبت سے پاک کرنے اور اخلاص، عاجزی، اللہ تعالیٰ کی محبت اور سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی سے آراستہ کرنے کا ایک اہم عمل ہے۔
اس بیان میں سلسلۂ اویسیہ اور سلسلۂ قدامیہ کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور تزکیۂ نفس، محاسبۂ نفس اور ذکرِ الٰہی کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔
قرآن و سنت کی رہنمائی اور اکابرِ صالحین کے طریقے پر چلتے ہوئے اپنے باطن کی اصلاح کرنا، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنا ہر مسلمان کے لیے نہایت اہم ہے۔
یہ بیان ان تمام لوگوں کے لیے مفید ہے جو اپنی باطنی اصلاح، روحانی توازن، تزکیۂ نفس اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کی اصلاح، دل کی پاکیزگی، اخلاص، عاجزی اور سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اس inspiring اور اصلاحی بیان میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے داعیانہ اخلاق اور دعوتِ دین کے مبارک طریقۂ کار کو بیان فرماتے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ نے دعوتِ دین کے میدان میں صبر، حکمت، نرمی، برداشت اور اعلیٰ اخلاق کا ایسا مثالی نمونہ پیش فرمایا جو آج بھی پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
اس بیان میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سختی یا جبر کے ذریعے نہیں بلکہ رحمت، صبر، حکمت، عفو و درگزر اور بہترین اخلاق کے ذریعے لوگوں کے دل جیتے۔ آپ ﷺ کی دعوت میں محبت، خیر خواہی اور اخلاص نمایاں تھا، جس نے بہت سے لوگوں کو غور و فکر اور اصلاح کی طرف متوجہ کیا۔
یہ بیان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی اسلامی دعوت صرف الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے کردار، عمل، حسنِ اخلاق اور بہترین برتاؤ کے ذریعے بھی پیش کی جاتی ہے۔
طلبۂ سیرت، داعیانِ دین اور ہر اس مسلمان کے لیے یہ بیان نہایت مفید ہے جو اپنی روزمرہ زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ اور حسنِ اخلاق کو اختیار کرنا چاہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ کے مبارک اخلاق کو سمجھنے، اپنی زندگی میں اپنانے اور حکمت و حسنِ اخلاق کے ساتھ دین کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔