﷽
سیرت النبی ﷺ
قسط نمبر 8 ۔ حصہ اول
حضرت آمنہ کے انتقال کے پانچ دن بعد ام ایمن آپ ﷺ کو لے کر مکہ پہونچیں ۔ آپ ﷺ کو عبدالمطلب کے حوالے کیا۔آپ ﷺ کے یتیم ہوجانے کا انہیں اتنا صدمہ تھا کہ بیٹے کی وفات پر بھی اتنا نہیں ہوا تھا۔
عبدالمطلب کے لیے کعبہ کے سائے میں ایک قالین بچھایا جاتا تھا۔ وہ اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ ان کا احترام اس قدر تھا کہ کوئی اور اس قالین پر بیٹھتا نہیں تھا، چنانچہ ان کے بیٹے اور قریش کے سردار اس قالین کے چاروں طرف بیٹھتے تھے، لیکن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں تشریف لاتے تو سیدھے اس قالین پر جا بیٹھتے۔ اس وقت آپ ﷺ ایک تندرست لڑکے تھے، آپ ﷺ کی عمر نو سال کے قریب ہو چلی تھی، آپ ﷺ کے چچا ، عبدالمطلب کے ادب کی وجہ سے ، آپ کو اس قالین سے ہٹانا چاہتے تو عبدالمطلب کہتے ۔
میرے بیٹےکو چھوڑ دو، اللّٰہ کی قسم۔ یہ بہت شان والا ہے۔
پھر وہ آپ ﷺ کو محبت سے اس فرش پر بٹھاتے، آپ کی کمر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے، آپ ﷺ کی باتیں سن سن کر حد درجے خوش ہوتے رہتے۔
کبھی وہ دوسروں سے کہتے۔
میرے بیٹے کو یہیں بیٹھنے دو، اسے خود بھی احساس ہے کہ اس کی بڑی شان ہے، اور میری آرزو ہے یہ اتنا بلند رتبہ پائے جو کسی عرب کو اس سے پہلے حاصل نہ ہوا ہو اور نہ بعد میں کسی کو حاصل ہوسکے۔
ایک بار انہوں نے یہ الفاظ کہے۔
میرے بیٹے کو چھوڑ دو، اس کے مزاج میں طبعی طور بلندی ہے…. اس کی شان نرالی ہوگی۔
یہاں تک کہ عمر کے آخری حصے میں حضرت عبدالمطلب کی آنکھیں جواب دے گئی تھیں ، آپ نابینا ہو گئے تھے۔ ایسی حالت میں ایک روز وہ اس قالین پر بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ تشریف لے آئے اور سیدھے اس قالین پر جا پہنچے۔ ایک شخص نے آپ ﷺ کو قالین سے کھینچ لیا۔ اس پر آپ ﷺ رونے لگے، آپ ﷺ کے رونے کی آواز سن کر عبدالمطلب بے چین ہوئے اور بولے۔
میرا بیٹا کیوں رو رہا ہے۔
آپ کے قالین پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ ہم نے اسے قالین سے اتار دیا ہے۔
یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا۔
میرے بیٹے کو قالین پر ہی بٹھا دو، یہ اپنا رتبہ پہچانتا ہے، میری دعا ہے کہ یہ اس رتبے کو پہنچے جو اس سے پہلے کسی عرب کو نہ ملا ہو، اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔
اس کے بعد پھر کسی نے آپ ﷺ کو قالین پر بیٹھنے سے نہیں روکا۔
ایک روز بنو مدلج کے کچھ لوگ حضرت عبدالمطلب سے ملنے کے لئے آئے… ان کے پاس اس وقت آپ ﷺ بھی تشریف فرما تھے ۔بنو مدلج کے لوگوں نے آپ ﷺ کو دیکھا، یہ لوگ قیافہ شناس تھے، آدمی کا چہرہ دیکھ کر اس کے مستقبل کے بارے میں اندازے بیان کرتے تھے۔انہوں نے عبدالمطلب سے کہا۔
اس بچے کی حفاظت کریں ، اس لیے کہ مقام ابراہیم پر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم کا نشان ہے، اس بچے کے پاؤں کا نشان بالکل اس نشان سے ملتا جلتا ہے، اس قدر مشابہت ہم نے کسی اور کے پاؤں کے نشان میں نہیں دیکھی… ہمارا خیال ہے۔ یہ بچہ نرالی شان کا مالک ہوگا۔ اس لیے اس کی حفاظت کریں ۔
مقام ابراہیم خانہ کعبہ میں وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ معجزے کے طور پر اس پتھر پر ابراہیم علیہ السلام کے پیروں کے نشان پڑگئے تھے۔ لوگ اس پتھر کی زیارت کرتے ہیں ۔ یہی مقام ابراہیم ہے۔ چونکہ آپ ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں ، اس لیے ان کے پاؤں کی مشابہت آپ ﷺ میں ہونا قدرتی بات تھی۔
ایک روز حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں حجر اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ایسے میں ان کے پاس نجران کے عیسائی آگئے۔ان میں ایک پادری بھی تھا ۔ اس پادری نے عبدالمطلب سے کہا۔
ہماری کتابوں میں ایک ایسے نبی کی علامات ہیں جو اسماعیل کی اولاد میں ہونا باقی ہے، یہ شہر اس کی جائے پیدائش ہوگا، اس کی یہ یہ نشانیاں ہوں گی۔
ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ کوئی شخص آپ ﷺ کو لے کر وہاں آپہنچا۔ پادری کی نظر جونہی آپ ﷺ پر پڑی، وہ چونک اٹھا، آپ ﷺ کی آنکھوں ، کمر اور پیروں کو دیکھ کر وہ چلا اٹھا۔
وہ نبی یہی ہیں ، یہ تمہارے کیا لگتے ہیں ۔
عبدالمطلب بولے
یہ میرے بیٹے ہیں ۔
اس پر وہ پادری بولا۔
اوہ۔ تب یہ وہ نہیں ۔ اس لیے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے پہلے ہوجائے گا۔
یہ سن کر عبدالمطلب بولے۔
یہ دراصل میرا پوتا ہے، اس کے باپ کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب یہ پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔
اس پر پادری بولا۔
ہاں ۔ یہ بات ہوئی نا۔ آپ اس کی پوری طرح حفاظت کریں ۔
عبدالمطلب کی آپ ﷺ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کھانا کھانے بیٹھتے تو کہتے۔
میرے بیٹے کو لے آؤ۔
آپ ﷺ تشریف لاتے تو عبدالمطلب آپ ﷺ کو اپنے پاس بٹھاتے ۔ آپ ﷺ کو اپنے ساتھ کھلاتے۔
بہت زیادہ عمر والے ایک صحابی حیدہ بن معاویہ ؓ کہتے ہیں
میں ایک مرتبہ اسلام سے پہلے، جاہلیت کے زمانے میں حج کے لئے مکہ معظمہ گیا۔وہاں بیت الله کا طواف کررہا تھا ۔ میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا، جو بہت بوڑھا اور بہت لمبے قد کا تھا۔ وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا۔اور کہہ رہا تھا، اے میرے پروردگار میری سواری کو محمد کی طرف پھیر دے اور اسے میرا دست و بازو بنادے۔میں نے اس بوڑھے کو جب یہ شعر پڑھتے سنا تو لوگوں سے پوچھا۔
یہ کون ہے؟
لوگوں نے بتایا یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ۔ انہوں نے اپنے پوتے کو اپنے ایک اونٹ کی تلاش میں بھیجا ہے۔ وہ اونٹ گم ہوگیا ہے، اور وہ پوتا ایسا ہے جب بھی کسی گم شدہ چیز کی تلاش میں اسے بھیجاجاتا ہے تو وہ چیز لے کر ہی آتا ہے۔ پوتے سے پہلے یہ اپنے بیٹوں کو اس اونٹ کی تلاش میں بھیج چکے ہیں ، لیکن وہ ناکام لوٹ آئے ہیں ، اب چونکہ پوتے کو گئے ہوئے دیر ہوگئی ہے، اس لئے پریشان ہے، اور دعا مانگ رہے ہیں ۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اونٹ کو لئے تشریف لا رہے ہے۔عبدالمطلب نے آپ ﷺ کو، دیکھ کر کہا ۔
میرے بیٹے ۔ میں تمہارے لئے اس قدر فکر مند ہوگیا تھا کہ شاید اس کا اثر کبھی میرے دل سے نہ جائے۔
عبدالمطلب کی بیوی کا نام رقیہ بنت ابو سیفی تھا ۔ وہ کہتی ہیں۔
قریش کئی سال سے سخت قحط سالی کا شکار تھے۔ بارشیں بالکل بند تھیں ۔ سب لوگ پریشان تھے، اسی زمانے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا، کوئی شخص خواب میں کہہ رہا تھا۔
اے قریش کے لوگو۔تم میں سے ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے، اس کے ظہور کا وقت آ گیا ہے۔ اس کے ذریعے تمہیں زندگی ملے گی، یعنی خوب بارشیں ہوں گی، سرسبزی اور شادابی ہوگی تم اپنے لوگوں میں سے ایک ایسا شخص تلاش کرو جو لمبے قد کا ہو، گورے رنگ کا ہو، اس کی پلکیں گھنی ہوں ، بھنویں اور ابرو ملے ہوئے ہوں ، وہ شخص اپنی تمام اولاد کے ساتھ نکلے اور تم میں سے ہر خاندان کا ایک آدمی نکلے، سب پاک صاف ہوں اور خوشبو لگائیں ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیں پھر سب جبل ابو قیس پر چڑھ جائیں . پھر وہ شخص جس کا حلیہ بتایا گیا ہے، آگے بڑھے اور بارش کی دعا مانگے اور تم سب آمین کہو تو بارش ہو جائے گی۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔!
کتاب کا نام : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
مصنف : عبداللہ فارانی(عبد اللہ فارانی، ہفتہ وار رسالہ “بچوں کا اسلام” کے ایڈیٹر اشتیاق احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قلمی نام ہے)
براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں ۔ شکریہ
