حضرت علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب، خلیفہ مجاز حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ، کے اس ایمان افروز بیان میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت، رسول اللہ ﷺ سے محبت و عقیدت، اہل بیت اطہار سے احترام و محبت اور امت مسلمہ کے لیے خیر خواہی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ بیان میں آپؓ کی انتظامی صلاحیتوں، حکمت، صبر اور اسلام کے لیے خدمات کا بھی ذکر ہے۔ یہ بیان اسلامی تاریخ کو سمجھنے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام و کردار کو جاننے کے لیے اہم ہے۔
مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب کا طالب علموں سے سال کی اختتامی تقریب کے موقع پر خصوصی خطاب، جس میں طلبہ کو تعلیم، تربیت، اخلاق اور علم کے حصول کے حوالے سے نہایت اہم اور اصلاحی نصائح فرمائی گئی ہیں۔
اس خطاب میں مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب نے طلبہ کو تاکید فرمائی کہ تعلیم کے حصول میں استقامت اختیار کریں، بلاوجہ تعلیمی ادارے تبدیل نہ کریں اور ایک جگہ رہ کر اپنی تعلیم کو مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا احترام، بڑوں کی اطاعت، عاجزی و انکساری اور اچھے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین فرمائی۔
طلبہ کو محنت، نظم و ضبط، صبر اور اخلاص کے ساتھ علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی، کیونکہ حقیقی کامیابی صرف علم حاصل کرنے میں نہیں بلکہ علم کے ساتھ اچھے اخلاق، ادب اور عمل پیدا کرنے میں ہے۔
یہ اہم اور اصلاحی خطاب طلبہ، والدین اور اساتذہ سب کے لیے ایک قیمتی رہنمائی ہے، جس میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تعلیم و تربیت، ادب و احترام اور کامیاب طالب علمی کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع حاصل کرنے، اپنے اساتذہ کا ادب کرنے، بڑوں کا احترام کرنے اور حاصل کیے ہوئے علم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں اسلام کی آمد اور وہاں کے لوگوں کے قبولِ اسلام کے حوالے سے یہ ایک اہم تاریخی اور معلوماتی بیان ہے۔
اس مختصر بیان میں علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب، خلیفہ مجاز حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع 29 اور 30 ہجری میں اسلام میں داخل ہوئے۔ یہ موضوع ہمارے خطے کی اسلامی تاریخ اور دینِ اسلام کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
اسلامی تاریخ کے ایسے واقعات ہمیں اپنے علاقے کے دینی پس منظر، اسلاف کی قربانیوں اور اسلام کی تعلیمات سے اپنے تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی صحیح سمجھ، اپنے اسلاف کی دینی خدمات کو یاد رکھنے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
ویڈیو نمبر: 11 عنوان: خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع 29 اور 30 ہجری میں اسلام میں داخل ہوئے مقرر: علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب، خلیفہ مجاز حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ تاریخ: 22 دسمبر 2025
علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب کا یہ تحقیقی اور علمی خطاب “الحاد کا تعارف” عصرِ حاضر کے اہم فکری چیلنجز میں سے ایک، یعنی الحاد، ا جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔
اس خطاب میں الحادی فکر کے تاریخی پس منظر، جدید الحاد اور فطرت پرستی، مادیت اور تشکیک جیسے اہم فلسفیانہ تصورات کو آسان اور مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ علامہ صاحب علمِ کلام اور عقلی استدلال کی روشنی میں خالقِ کائنات کے وجود کے دلائل پیش کرتے ہوئے اسلام، عقل اور جدید سائنس کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہیں۔
یہ خطاب خصوصاً نوجوانوں اور طلبہ کے لیے مفید ہے، کیونکہ اس میں جدید الحادی افکار کو سمجھنے اور ان کا علمی و عقلی انداز میں سامنا کرنے کے لیے اہم فکری رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔