حافظ زبیر صاحب کی خوبصورت آواز میں تلاوتِ قرآنِ پاک پیشِ خدمت ہے۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا مبارک کلام اور انسانیت کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اس کی تلاوت دلوں کو سکون، روح کو تازگی اور ایمان کو تقویت عطا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم پڑھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خانقاہ میں رمضان المبارک کے دوران دوسرے ختم القرآن کے بابرکت موقع پر حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت ایمان افروز اور اصلاحی اختتامی بیان فرمایا۔
اس خطاب میں قرآنِ کریم کی عظمت، رمضان المبارک کی برکتوں، عبادت کی اہمیت اور عملی زندگی میں قرآن و سنت کی تعلیمات اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔ حضرت صاحب نے توجہ دلائی کہ رمضان المبارک صرف عبادات کا مہینہ ہی نہیں بلکہ اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے، تقویٰ اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کا بہترین موقع بھی ہے۔
بیان میں نماز کی پابندی، ذکر و استغفار، قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق اور دین کی خدمت کے جذبے کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب دی گئی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں خانقاہ میں دوسرے ختمِ قرآنِ پاک کے موقع پر حافظ ڈاکٹر پروفیسر زبیر صاحب کی خوبصورت اور پرسوز آواز میں قرآنِ مجید کی روح پرور تلاوت پیشِ خدمت ہے۔
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے، جو انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور شفا ہے۔ قرآنِ پاک کی تلاوت دلوں کو سکون اور روح کو تازگی عطا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
سورۃ العادیات قرآنِ کریم کی 100ویں سورت ہے۔ یہ ایک مکی سورت ہے اور اس کی 11 آیات ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی تیز رفتار دوڑ کی قسم کے ذریعے انسان کی ناشکری اور مال و دولت کی محبت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس میں قیامت کے دن قبروں سے اٹھائے جانے اور دلوں کے راز ظاہر ہونے کا ذکر بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم پڑھنے، سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
سورۃ الناس د قرآن کریم وروستۍ سورت ده، چې انسان ته د شیطان له وسوسو څخه د پناه غوښتلو او د الله تعالی په حفاظت کې د اوسېدو درس ورکوي.
په دې بیان کې حضرت مولانا محمد طفیل کوهاټي صاحب د سورۃ الناس ژوره او ایماني تفسیر وړاندې کوي. د شیطان د وسوسو حقیقت، د انسان د نفس کمزوري او د الله تعالی ربوبیت، پاچاهي او الوهيت په ښکلي او ساده انداز بیان شوي دي. دا بیان د ایمان د پیاوړتیا او د زړه د اصلاح لپاره ګټور دی.
اردو تفصیل:
قرآن مجید کی آخری سورت سورۃ الناس انسان کو شیطان کے وسوسوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا درس دیتی ہے۔ اس بیان میں حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب نے نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں اس سورت کی تفسیر بیان فرمائی ہے۔
اس میں شیطان کے وسوسوں، انسان کی نفسی کمزوریوں اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، بادشاہی اور الوہیت کے مفہوم کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ بیان ایمان کی مضبوطی، دل کی اصلاح اور روحانی حفاظت کی اہمیت سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور ہر قسم کے وسوسوں سے اپنی پناہ میں رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
سورۃ التین کی خوبصورت تلاوت سماعت فرمائیں۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام اور انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اس کی تلاوت دلوں کو سکون بخشتی اور اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ کرتی ہے۔
سورۃ التین قرآنِ کریم کی 95ویں سورت ہے۔ اس مختصر مگر بامعنی سورت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اس کی قدر و منزلت کی طرف توجہ دلائی ہے، نیز ایمان اور نیک اعمال کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Listen to this beautiful recitation of Surah At-Tin from the Holy Quran.
رمضان المبارک قرآنِ کریم کا بابرکت مہینہ ہے، جو ہدایت، رحمت اور مغفرت کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اس بیان میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ رمضان المبارک میں قرآنِ کریم کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے اور بالخصوص نمازِ تراویح میں قرآنِ پاک کی تلاوت کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
قرآنِ کریم کی تلاوت، اس کے معانی کو سمجھنے، اس میں غور و فکر کرنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے سے انسان کی زندگی میں دینی و روحانی بہتری آتی ہے۔ رمضان المبارک ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے معمولات میں قرآنِ کریم کے لیے خصوصی وقت نکالیں اور اس کی ہدایات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ قرآنِ کریم کی تلاوت دلوں کو سکون، روح کو تازگی اور زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کا جذبہ عطا کرتی ہے۔
اس ویڈیو میں قرآنِ کریم کی سورۃ التوبہ کی تلاوت پیش کی جا رہی ہے۔ آئیے، قرآنِ کریم کی تلاوت سماعت کریں، اس کے پیغام پر غور کریں اور اپنی زندگیوں کو تعلیماتِ قرآن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
قاری صاحب کا نام دستیاب معلومات میں معلوم نہیں ہے۔
مزید بیانات، درسِ قرآن، تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعتِ رسول ﷺ سننے کے لیے ہمارے چینل اور ویب سائٹ سے وابستہ رہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اس اہم اور اصلاحی بیان میں نماز کے دوران قرآنِ کریم کی قراءت سے متعلق اہم مسائل کو واضح اور عملی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ قراءت میں ہونے والی عام غلطیوں، درست تلفظ کی اہمیت اور قراءت کی غلطیوں کے نماز پر پڑنے والے اثرات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھایا گیا ہے۔
اس کے ساتھ امت کے اکابر علماء اور بزرگوں کی زندگیوں سے سبق آموز واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں، جن سے نماز، قرآنِ کریم اور درست قراءت کے ساتھ ان کی گہری محبت، اہتمام اور احترام کا اندازہ ہوتا ہے۔
یہ بیان ائمہ کرام، طلبۂ علم اور تمام مسلمانوں کے لیے نہایت مفید ہے جو اپنی نماز کی ادائیگی کو درست اور بہتر بنانا چاہتے ہیں اور قرآنِ کریم کی صحیح قراءت کی اہمیت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے، نماز کو درست طریقے سے ادا کرنے اور اس کے تمام آداب و مسائل پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اس مفید بیان کو آخر تک سنیں، دوسروں تک پہنچائیں اور ثوابِ جاریہ میں حصہ لیں۔
حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب کے اس روحانی اور فکر انگیز بیان میں قرآنِ کریم کی روشنی میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کرتی ہیں۔
اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ درخت، پہاڑ، پرندے اور کائنات کی دوسری مخلوقات اپنے خالق و مالک کی حمد و تسبیح میں مصروف ہیں، اگرچہ انسان اپنے ظاہری حواس سے ان کی تسبیح کو محسوس نہیں کر پاتا۔ اس حقیقت پر غور کرنے سے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، محبت اور ذکر کا جذبہ مزید بڑھتا ہے۔
یہ بیان ہمیں اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ جب پوری کائنات اپنے رب کے سامنے عاجزی اور اطاعت کا اظہار کر رہی ہے تو انسان، جو اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق میں سے ہے، اسے بھی اپنے دل اور زبان کو ذکرِ الٰہی سے آباد رکھنا چاہیے۔