بائیکاٹ، معاشی شعور اور فلسطین کے مسئلے میں مسلمانوں کے کردار تک

تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم
علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔
تحریری وضاحت
یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔
فلسطین کی تاریخ — حصہ چہارم
بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان
بائیکاٹ کے حوالے سے گفتگو
منظرنامہ تھا اب اس وقت جو مجھے ساتھیوں نے انفرادی ملاقاتوں میں کہا تھا کہ آپ بائیکاٹ پہ گفتگو جو ہے وہ زیادہ ہو جائے تو میرے خیال میں تو حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب نے یہ اعلان فرما دیا ہے کہ دیکھیں فلسطین کی جو صورتحال ہے اس میں ہم میں سے ہر شخص، ہر مسلمان دنیا کا وہ اپنے درجے میں اس فریضے کا مخاطب ہے۔ اب میں اپنا کردار بہ حیثیت پاکستانی شہری، بہ حیثیت مسلمان طے کروں کہ میں کیا کردار ادا کر سکتا ہوں۔
بائیکاٹ اور جنگی پالیسی
بائیکاٹ یہ ہمیشہ جنگی پالیسیوں کا حصہ رہا ہے۔ دو واقعات بطور مثال مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بھی چند دن پہلے بیان کیے تھے، انہی کو میں بیان کر دیتا ہوں چونکہ مذاکرہ ہے، آپ حضرات کی نظر سے گزرے بھی ہوں گے۔
کہ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے مدینہ ہجرت کر کے، تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصار کے سردار، اوس کے سردار، وہ تشریف لائے عمرہ کرنے۔ تو ابو جہل موقعوں کی تلاش میں رہتا تھا، لانجہ مار آدمی تھا، لانجہ بنانے کے لیے آگے آگے کہ بھئی آپ اتنے اطمینان سے یہاں عمرہ کر رہے ہیں، آپ نے ہمارے دشمنوں کو وہاں پناہ دی۔
تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بات کی، یعنی اسلام کی دفاعی پالیسی کا بنیادی اصول ہے وہ۔ انہوں نے کہا دیکھیں میں یہاں اطمینان سے عمرہ کر رہا ہوں، آپ کے قافلے میرے راستے پہ اطمینان سے شام اور یمن جاتے ہیں۔ اگر آپ نے مجھے یہاں چھیڑا تو آپ کے قافلوں کے راستے میں بند کر دوں گا، شام سے ایک دانہ بھی آپ تک نہیں پہنچ سکے گا۔
وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ
وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ۔ سورہ التوبہ، آیت 5۔ ان کافروں کے لیے ہر مرصد کو بند کرنا ہے۔
ہمارے دادا شیخ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان کا سفر ہوا 1957 میں فلسطین کا، یوگوسلاویہ کا، جرمنی کا، ترکی کا، اور بڑا عجیب ان کا سفرنامہ بھی ہے وہ میں نے مکالات اشرف میں چھاپا ہے، “جادۂ حبیب” کے نام سے۔
وہ سمندری سفر تھا تو حضرت نے فرمایا کہ جب سمندر میں ہم ان راستوں سے گزرے جو دنیا کی سب سے مضبوط، مصروف تجارتی گزرگاہیں ہیں دنیا کے، سمندر میں، ساری مسلمانوں کی حدود میں، ساری۔ اور روزانہ جہاز اس یورپ کے اس سے گزرتے ہیں تجارتی۔
حضرت فرماتے ہیں کہ اس دن مجھے اس آیت کا مفہوم سمجھ میں آیا وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ کہ بھئی ان کا ہر مرصد بند کر دو، بیٹھ جاؤ یہاں پر، اگر حضرت سعد بن عبادہ راستے بند کرنے کی دھمکی نہ دیتے تو ابو جہل کا جو ویژن تھا اپنا عسکری وہ جاری رکھتا، وہ وہیں ٹھہر گیا۔
سمندری، فضائی اور بری راستوں کا سوال
آج ہماری گزارش ہے ابنائے باسفورس کس کے پاس ہے، خلیج عدن کس کے پاس ہے، یہ سمندری گزرگاہیں ہماری کس کے پاس ہیں؟
غزہ سارا، غزہ کا تو بری راستہ صرف 20 کلومیٹر ہے جو مسلمان ریاست میں سر کے ساتھ لگتا ہے، باقی تو سارا سمندر ہے اس کے ساتھ، غزہ کی پٹی کے ساتھ، یہ راستے کس کے ہیں؟
ایک گولی چلانے کی ضرورت نہیں ہوگی اگر مسلمان اسرائیل کے لیے اپنے بحری راستوں کو بند کر دیں، اگر مسلمان اپنے فضائی راستوں کو بند کر دیں، اگر مسلمان اپنے بری راستوں کو بند کر دیں۔
اسرائیل کو چاروں طرف سے جن ممالک نے گھیرا ہوا ہے، سوریا، جورڈن، اردن، کون ہے؟ مسلمان، مصر، مسلمان، لبنان، مسلمانوں کی اچھی خاصی قوت، تو کیا چاروں طرف یہ مسلمان نہیں پڑے ہوئے؟ اسرائیل کے، فلسطینیوں کو تو اسرائیل نے گھیرا ہے، اسرائیل کو کس نے گھیرا ہوا ہے؟
یہ بلکہ وہ تو بہت قریب اب یہاں سے ہم چلیں نا ڈیرہ اسماعیل خان سے اور اسرائیل جانا چاہیں تو راستے میں کوئی کسی ایک کافر کہلانے والے سے ہماری ملاقات نہیں ہوگی، سیدھے ہی پہنچ جائیں گے یہودی تک۔
راستے میں ایک بھی وہ نہیں ہے جو خود کو کافر کہتا ہو، جتنے ہیں اسلام کے تابعدار ہیں، جتنے ہیں خود کو مسلمان کہلانے والے ہیں، یہاں ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر گوگل پہ چیک کر لیں، ڈیرہ اسماعیل خان سے لیں اور اسرائیل تک 5 ہزار سے کچھ ادھر ادھر کلومیٹر کا فاصلہ ہے، اور وہاں تک دیکھیں کوئی ایک کافر سے بھی ہماری ملاقات نہیں ہوگی، میں جا سکتا ہوں، آپ جا سکتے ہیں۔
کیا راستے اور پھر یہ یورپ کی مدد کیسے پہنچ رہی ہے؟ امریکہ کی مدد کیسے پہنچ رہی ہے؟ وہ میرے اور آپ کے راستے استعمال کر رہا ہے۔
تو حضرت سعد بن عبادہ نے جو اصول دیا کہ اگر آپ ہمیں چھیڑیں گے تو ہم آپ کی گزرگاہوں کو بند کر دیں گے۔ آج اس ہتھیار کو مسلمان اگر آزما لیں، ایک گولی چلانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، اسرائیل بھوک سے بھی مر جائے گا۔
اسرائیل کے پاس ایک کارتوس بھی نہیں پہنچ سکے گا۔ سارا تو ہمارے راستوں سے پہنچ رہا ہے۔
قرآن پاک اور دشمن کے اڈے
وجہ کیا ہے؟ قرآن پاک کھول لیں 1400 سال پہلے:
وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ
“اور اس شخص کی گھات میں لگنا جو اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ چکا ہے”
انہوں نے اپنے مورچے بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس اڈے ہیں، ارصاد ہیں ان کے پاس۔ قرآن نے تو بہت پہلے بتا دیا تھا کہ یہودی سیاست کی بنیاد یہی ہے کہ وہ اس وقت تک آپ کے قلب تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ پہلے اپنے اڈے نہ بنا لے۔ وہ بن چکے ہیں۔
حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ
حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ یمامہ کا واقعہ آپ کے ہاں ہے کہ وہ گرفتار ہو گئے تھے پھر مسجد نبوی لائے گئے تھے، پھر جو ہے رہا کر دیے گئے تھے، پھر واپس آئے، مسلمان ہوئے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرے کی اجازت چاہی۔
پھر تشریف لے گئے مکہ عمرہ کرنے کے لیے۔ مشرکین کو اطلاع ہو گئی تھی کہ یہ تو بندہ مسلمان ہو گیا ہے، انہوں نے طعن و تشنیع کی اور انہوں نے بحث کرنی چاہی، انہوں نے راستہ روکنا چاہا تو حضرت نے کیا فرمایا کہ ساری گندم تمہاری یمامہ سے آتی ہے۔ اگر میرا راستہ روکا تو میں ایک دانہ، ایک دانہ یمامہ سے یہاں تک آنے نہیں دوں گا۔
اور جا کے بند بھی کر دیا تھا تو یہ سب نے گھٹنے ٹیکے کہ نہیں ٹیکے؟
مغربی ممالک، وسائل اور معاشی مفادات
آج اس پورے یورپ کے پاس، اس کے پاس تو کوئی موسم نہیں ہے یار، وہ تو سردی سے مر گئے ہیں، وہ تو سورج کے لیے ترستے ہیں۔ یہ یہ اجناس، یہ چیزیں، یہ یہ یہ کہاں سے پہنچ رہی ہیں جی؟
دنیا میں سب سے زیادہ سونا مالی سے نکلتا ہے۔ اسلامی ملک ہے۔ فرانس سالوں سے امن کے نام پر وہاں ڈیرے ڈال کے موجود ہے۔
آپ کے خلیجوں میں امریکہ کب سے آکے موجود ہے کیونکہ تیل نکل رہا ہے۔ جہاں دنیا کے اندر کوئی تیل ہے، سونا ہے، معدنیات ہیں، ذخائر ہیں، وہاں پہلے اپنے لوگ کھڑے کرتا ہے اور جناب گتھم گتھہ کر دیتا ہے ان کو اور عنوانات بھی عنوان یاد رکھیں، عنوان مسجد کا ہو گا، عنوان جہاد کا ہو گا، عنوان مقدس ہی ہو گا، یہ یاد رکھیں یہ یہودی سیاست کا حصہ ہے اور پھر امن کے نام پر خود آ کے وہاں بیٹھ جاتا ہے۔
اور وہاں سے پھر لوٹتا رہتا ہے۔
حکمرانوں سے اپیل اور قانونی دائرۂ اختیار
چلیں جی، راستے بند کرنا اور غذائی اجناس بند کرنا یہ تو چلو میرے اور آپ کے بس کی بات نہیں ہے، یہ تو حکمرانوں کی ہے کہ ہم حکمرانوں سے اپیل کریں، احتجاج کریں اور اپنی جو قانونی دائرہ اختیار ہے، اس میں ان کو ذرا بیدار کرنے کی کوشش کریں کہ یہ آپ کر سکتے ہیں۔
روزمرہ مصنوعات اور بائیکاٹ
لیکن یہ جو میں اور آپ یہودی کو چندہ دیتے ہیں، یہ بات آپ کو ذرا شاید بری لگے گی۔
ابھی چند دن پہلے ایک اجتماع پر میں گیا لکی مروت میں بیان کے لیے۔ جنگ جاری ہے، جگہ جگہ جناب آواز اٹھ رہی ہے، ماشاءاللہ ڈیرے والے تو بہت آگے ہیں۔ کھانا لایا گیا، مولوی صاحبان نے اتنی پیپسی کی بوتل لا کے میرے سامنے رکھ دی۔
اب میرا تو نوالہ بھی نیچے نہ اترے یار، کیا کریں ہم اس کو؟
اللہ کے بندے، یہ یہودیوں کو آپ نے اپنا چندہ دے دیا ہے۔
یہ جو ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں پاکستان کے اندر، کوئی چند سال پہلے یہ جو لاہور میں، یہ جو ہماری تاجروں کی ایک تنظیم ہے، ان کے صدر کا ایک انٹرویو میں نے پڑھا تھا۔ اس نے کہا کہ اگر پاکستان تین ماہ ان چیزوں پر پابندی لگائے، صرف تین مہینے کا انہوں نے کہا تھا، جو ہم باہر سے لاتے ہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی، تین مہینے اگر ہم ان پر پابندی لگائیں، ہمارا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 100 روپے تک گر آئے گا۔ ہمارا اتنا زر مبادلہ اس پہ خرچ ہو رہا ہے۔
شعور ہی نہیں ہے؟ سیاست تو میں نے زندہ باد مردہ باد کا نام بنا دیا ہے، یہ تو سیاسی شعور ہی میرے اندر نہیں ہے کہ میرے وسائل کیا ہیں، میرا زر مبادلہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟
درآمدات اور زرِ مبادلہ
جس وقت کرونا کی وباء آ گئی تھی، اور اس وقت پھر یہ حکمران سر جوڑ کے بیٹھ گئے کہ بھئی کچھ چیزیں باہر سے کم کرنی چاہیے منگوانا، تاکہ زر مبادلہ کو بچایا جا سکے اور افراطِ زر کو کنٹرول کیا جا سکے، تو جو وہ فہرست میں نے دیکھی تھی، جو شائع ہوئی تھی، پاکستان میں آتا کیا کیا ہے؟
کتے اور بلیاں نہانے کا شیمپو فرانس سے آتا ہے۔ اس کنگال ملک میں، جہاں کا مزدور بھی ٹیکس دے رہا ہے، جہاں کا ریڑی بان بھی ٹیکس دے رہا ہے، جہاں کی مسجد کا مولوی اور امام بھی ٹیکس دے رہا ہے، اور میں اور آپ جو ٹیکس دے رہے ہیں، تو کس لیے دے رہے ہیں؟
میرا جو قرضہ آتا ہے، آپ کا قرضہ آتا ہے تو کیا ہم یہ قرضہ واپس کرتے ہیں؟ نہیں بھئی، اس قرضے پہ جو سود چڑھتا ہے، نا اس سود کی قسطیں میں اور آپ واپس کر رہے ہیں۔
میں اور آپ سود واپس کرتے ہیں، ماننا چاہیے ہمیں، اور میری اور آپ کی غفلت ہے، اس پہ ہمیں خود کو مجرم سمجھنا چاہیے یار۔
میں بڑوں سے نہیں کہہ رہا، یہ اپنے جو میرے دوست بیٹھے ہوئے ہیں، ہمیں اپنے آپ کو مجرم سمجھنا چاہیے کہ میں سود واپس کر رہا ہوں سود، وہ سود جس کی ایک پائی کھانا وہ 70 بدکاریوں کے برابر ہے۔
وہ ساری چیزیں آپ کے سامنے ہیں، وہ میں اور آپ واپس کر رہے ہیں۔
ملٹی نیشنل مصنوعات کا بائیکاٹ
تو ہمیں جھکڑ لیا گیا تو بھئی نیسلے، میکڈونلڈ، پیپسی، کوکا کولا، ان کی مصنوعات، پوری فہرستیں وہ بن گئی ہیں الحمدللہ۔
آپ میں سے جو ساتھی کمپیوٹر کے ماہر ہیں، ایک ایک کمپنی کو چیک کریں آپ۔ یوٹیوب، وہ اس پہ گوگل پہ یا کہیں بھی آپ دیکھیں۔
اس کو چیک کریں کون سی کمپنی اس وقت ان لوگوں کو، دیکھیں یا اسرائیل کی براہ راست مصنوعات 037 کے کوڈ سے دنیا میں چلتی ہے وہ پاکستان میں نہیں آ سکتی۔ کیونکہ پاکستان تو اسرائیل کو الحمدللہ تسلیم ہی نہیں کرتا۔ تو اسرائیلی مصنوعات یہاں نہیں آ سکتی۔
یہودی کمپنیاں جنہوں نے اپنی فرنچائز کھولی ہوئی ہیں برطانیہ میں، امریکہ میں، یورپی ممالک میں، وہاں سے چیزیں آئیں گی۔
ٹھیک ہے جی؟ تو یہ بہت سارے لوگوں نے مجھے کہا جی اسرائیلیوں کی تو کوئی چیز ملتی نہیں پاکستان میں، آپ کس بائیکاٹ کی بات کر رہے ہیں؟ تو اس مغالطے سے نکلنا چاہیے۔
یہ جتنی کمپنیاں ہیں معیشت پر انہی کا قبضہ ہے، صیہونیوں کا قبضہ ہے۔
یونی لیور، اس کی بہت ساری مصنوعات ہیں، بسکٹوں تک اور جناب شیمپو تک اور صابنوں تک اور ہر چیز پر۔
ٹریڈ مارک، فرنچائز اور رقم کی منتقلی
بعض حضرات پوچھتے ہیں کہ جی یہ تو ہمارے یہاں بنتے ہیں، پاکستان میں بنتی ہے، تو بھئی بنتی تو ساری چیزیں پاکستان میں ہیں، یہ ان کا جو تجارتی نشان ہے جس کو ٹریڈ مارک کہتے ہیں، اس میں باقاعدہ فیسیں دیتے ہیں، فارمولے کی فیس دیتے ہیں۔ پیسہ پھر بھی ان کے پاس جا رہا ہے۔
ٹیکس اور بائیکاٹ
ہمارا جو وزیر مذہبی امور ہے، تو محترم کی خدمت میں گزارش ہے اس نے بہت ہی احمقانہ قسم کا بیان دیا۔ کہا کہ جناب یہ کمپنیاں ٹیکس بہت دیتی ہیں، اس لیے ان سے بائیکاٹ کی بات نہ کی جائے۔
ٹیکس بہت دیتی ہیں۔ اب ایک بندہ جو ہے وہ معاذاللہ بات بری ہے ہماری ماں کی عزت کے لیے کھڑا ہے، بہن کی عزت پامال کرنے کے لیے کھڑا ہے، بچوں کو وہاں ٹکڑے کر رہا ہے، بھائیوں کے سینے ہمارے چھلنی کر رہا ہے، اس کا بائیکاٹ نہ کرو کیوں جی؟
وہ ہدیہ بھیج رہا ہے جی ہمیں۔ لاحول ولا قوۃ۔ پتہ نہیں یہ لیول کہاں تک گر گیا ہے لوگوں کا۔ مادیت سے تو اوپر نظر ہی نہیں اٹھتی۔
بائیکاٹ اور معاشی شعور
تو اس کو تو یہ بائیکاٹ کے مسئلے کو تو اتنا دیوانوں کی طرح چلانا چاہیے۔ ایسے چلانا چاہیے نا کہ لوگ ہمیں سمجھیں کہ یہ تو پاگل ہو گئے یار، اس بندے کو ہو کیا گیا ہے۔
اور یہ ہمارے حضرت صاحب بہت پہلے سے یہ کہا کرتے تھے، جس وقت افغانستان پہ حملہ ہوا اس زمانے سے یہ پیپسی، کوکا کولا اور یہ انگریزی مصنوعات الحمدللہ یہ ہم نے اپنی زندگی سے نکال لی تھیں۔
اور چیزوں کے بارے میں معلوم، ایک دفعہ ہم نے اپنے حضرت سے کہا کہ آپ کے لیے ڈائیو پہ ٹکٹ کرواتے ہیں، ڈائیو ابھی پاکستان نے خریدی، اس وقت کوریا کے پاس تھی۔ تو حضرت نے فرمایا کوئی اور گاڑی نہیں جاتی؟ ہم نے کہا جی جاتی تو ہے لیکن یہ ذرا آرام دہ ہے۔
تو حضرت نے فرمایا کہ بھئی وہ فلائنگ کوچ ٹھیک ہے، میں اپنا پیسہ کافر کے جیب میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں اپنا پیسہ کافر کے جیب میں نہیں ڈالنا چاہتا۔
تو یہ معاشی شعور، غذائی شعور یہ ہمارے اندر اپنی نسل میں پیدا کریں۔
آپ کو کھانا کیا چاہیے یار اس پیپسی میں ہے کیا؟ اس کوکا کولا میں ہے کیا؟ یہ تو صحت کے لیے بھی تباہی ہے۔
ایمان اور دین کے نقطہ نظر سے جو مادی لوگ دیکھتے نہیں ہیں، چلو جناب آپ اپنی صحت کو تو دیکھیں۔
ہمارے ایک دوست ہیں ڈاکٹر منیب حسین، یہ کڈنی اسپتال جو ہمارے صوبے کا ہے، اس کے رجسٹرار ہیں۔ اس نے مجھے کہا مولانا ہمارے کلینکس ان کولڈ ڈرنکس کی وجہ سے آباد ہیں۔ ہمارے کلینکس اس کولڈ ڈرنکس کی وجہ سے آباد ہیں۔
یہ کولڈ ڈرنکس لوگ پینا چھوڑ دیں، ہمارے گردے کے مریض ختم ہو جائیں گے۔
مسجد کی سطح پر شعوری تربیت
یہ حال ہے جی۔ اور یہ چیز ہم سے ہمارے اور آپ کے جیب سے پیسے تو ہر مسجد کے اندر جو لائحہ عمل ہے، جو میرے آپ کے بہت اچھا ہوگا، ویسے میں اپنے ہر مسجد میں آپ اس طرح کریں کہ میں بھیج دوں گا اب آپ لوگوں کے پاس ہوں گی بھی، جو متبادل مصنوعات ہیں اور جو ان کی ہیں ان کی فہرستیں بنا کے ہر مسجد میں تقسیم کریں اور ساتھیوں کو کہیں کہ گھر میں لگائیں۔
اور بچوں کو شعور دیں اس کا، بلکہ مسجد کی سطح پہ اس کا مقابلہ منعقد کروائیں۔
کوئز مقابلہ بچوں میں کہ کون سی، کون سا بچہ جو ہے وہ بتائے گا سب سے زیادہ کہ کون کون سے صابن یہودی ہیں؟ یہودی کمپنیوں کے۔ کون کون سے بسکٹ یہودی کمپنی کے ہیں؟
اچھا جی، یہودی مصنوعات استعمال کرنا کیا ہے؟ سوالات دو، پرچے بناؤ، مدرسوں میں، اسکولوں میں، شعوری تربیت بچوں کی شروع کر دو یہودی مصنوعات کے حوالے سے اور اس کی معیشت کے حوالے سے۔
اور وار کرو، یہ آپ کا پہلا قدم ہوگا ان شاء اللہ، اور یہ جو نسل ہم تیار کریں گے، یہودی مفت بھی اپنی چیزیں بانٹے گا یہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ان شاء اللہ۔
