Tag: فلسطین کی تاریخ حصہ سوم

  • فلسطین کی تاریخ — حصہ سوم

    فلسطین کی تاریخ — حصہ سوم

    فلسطین کی زمینوں کی فروخت سے اسرائیل کے قیام اور پاکستان کے

    فلسطین کے مسئلے میں کردار تک

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔

    تحریری وضاحت

    یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔

    فلسطین کی تاریخ — حصہ سوم

    بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان

    علماء کی جدوجہد اور عزالدین القسام رحمہ اللہ علیہ

    علماء اٹھے۔

    اس وقت مسجد کا ایک امام تھا۔

    اور شام کا عزالدین القسام رحمہ اللہ علیہ مسجد کا امام اٹھا، اس نے جہادی تحریک بھی برپا کی، محنت بھی اپنے بیچارے نے شروع کر دی، جتنا ہمارے علماء کر سکتے ہیں معاشرے میں، انہوں نے ایک استفتاء تیار کیا اور کہا کہ یہ پورے عالم اسلام میں بھیجیں گے تاکہ یہ فتویٰ حاصل کیا جا سکے اور مسلمانوں کو ڈرایا جا سکے کہ یہ زمین بیچنا ناجائز ہے۔

    الازہر سے جواز کا فتویٰ ملا۔

    اس وقت عالم اسلام میں صرف ہمارے اکابر تھے، جنہوں نے یہ فتویٰ دیا، آج بھی امداد الفتاویٰ میں وہ فتویٰ حضرت امداد الفتاویٰ میں امداد الاحکام میں علیحدہ سے بھی چھپا ہے۔

    حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ فتویٰ موجود ہے۔

    دیوبند سے جو فتویٰ گیا کہ یہودیوں کو زمین بیچنا حرام ہے۔

    حرام ہے، اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا کہ جو شخص، جو مسلمان یہودی کو زمین بیچے، زجراً فی القول اس کی تکفیر بھی کی جا سکتی ہے۔

    اس کی تکفیر بھی کی جا سکتی ہے۔

    یہ ہمارے حضرات کی بصیرت تھی الحمدللہ! یہ ویسے جملہ معترضہ کے طور پر کہ ہمارے اکابر کی نگاہ اس وقت کہاں تک پہنچ رہی تھی کہ یہ کیا فساد بننے والا ہے۔

    فلسطین میں یہودی آبادی کا بڑھنا اور اسرائیل کا قیام

    بہر حال، زمینیں بکتی گئیں۔

    جس وقت اعلانِ بالفور ہو رہا تھا، اس وقت ان کی تعداد چھ یا سات فیصد تھی۔

    یہودیوں کی وہاں۔

    جیسے ہی برطانیہ آ گیا اور برطانیہ نے اعلان کیا، اگلے دو مہینوں میں 2,600 سے ان کی تعداد 83,000 پر پہنچ گئی۔

    اور پھر بڑھتی رہی، بڑھتی رہی، بڑھتی رہی، یہاں تک کہ مئی 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر کے برطانیہ درمیان سے نکل گیا اور سارا کچھ جناب ڈال دیا اقوام متحدہ کے اس میں کہ میں اس کے انتداب سے برطرف ہو رہا ہوں، اب یہ جانے اور ان کا کام جانے۔

    اور اسرائیل کے قیام کا اعلان ہو گیا۔

    فلسطینی تحریکیں اور عرب حکمرانوں کا کردار

    اب میرے بھائیو! خود ہمارا کیا کردار رہا اس حوالے سے؟

    عزالدین القسام شہید رحمۃ اللہ علیہ 1935 کو شہید کر دیے گئے تھے، بعد میں بھی تحریکیں اٹھتی رہیں۔

    جیسے 1948 ہی میں فلسطینی تحریک اٹھی۔

    1949 میں اٹھی۔

    لیکن آپ کو افسوس ہوگا کہ اس وقت کے اردن کے شاہ عبداللہ نے انہی فلسطینی مجاہدین کے کمر میں چھری گھونپی اور ان کے ساتھ غداری کی۔

    1965 میں، 67 میں جو جنگیں ہوئیں پھر پی ایل او قائم کی گئی، بڑی طویل تاریخ ہے اور 67 میں جو ہے وہ یاسر عرفات اٹھا، الفتح اس نے بنائی۔

    اس کے جو ہے، اس کو سب سے بڑا خطرہ اس وقت کہ اردن کے بادشاہ نے وہ جو ہے اس کو اپنا خطرہ سمجھا اور جناب! ان کے خلاف اردن کے اندر آپریشن شروع کر دیا، فلسطینیوں کے خلاف۔

    اور ان کو وہاں سے اپنے مراکز تیونس منتقل کرنے پڑے۔

    یہ ہمارا کردار ہے۔

    انور سادات اور عرب دنیا کا کردار

    انور سادات ایک جوش کے ساتھ اٹھا تھا اسرائیل کے خلاف، وہ شخص کس پوزیشن پہ آیا؟ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پوزیشن پہ آیا۔

    انور سادات کو گولی مار دی گئی۔

    شاہ عبداللہ کو گولی مار دی گئی۔

    اس سے آپ اندازہ کریں، ایک تو یہ منظر نامہ تھا، اندر بھی تحریک چل رہی تھی۔

    وہ کون تھے؟ وہ عوام تھے۔

    وہ نہیں مانتے تھے کہ بھئی! ہمارے حکمران اپنا وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈالیں۔

    پھر 1971 میں ہم نے کیا کیا؟ خود ہمارے اپنے اس وقت کے ڈکٹیٹر، اپنے تئیں امیرالمومنین کہلانے والے کیا انہوں نے فلسطینی مجاہدین کے خلاف اردن کا ساتھ نہیں دیا؟

    1971 میں ہم نے کیا کیا؟

    حتیٰ کہ یاسر عرفات اس موڑ پہ آ گیا کہ 88 میں اس نے دو ریاستی فارمولے کو اوسلو معاہدے کے تحت قبول کر لیا۔

    وہ جو ہیرو تھا، وہ اس موڑ پہ کیوں آیا؟

    بہت سے اسباب ہو گئے، غداریاں، سب کچھ، لیکن عربوں کی منافقت۔

    اس کاز کے ساتھ عربوں کی منافقت۔

    اس کو ہم نکال نہیں سکتے، تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔

    وہ ہر چیز کا کچا چٹھا کھولتی ہے، میں بہت

    یہ منافقت نے ان لوگوں کو وہاں تک پہنچایا کہ جس وقت انور سادات قتل ہوا ہے اس وقت نہ مصر میں کوئی ماتم کرنے والا تھا نہ کوئی جنازہ پڑھنے کے لیے بھی کوئی تیار نہیں تھا۔

    حماس، محمود عباس اور بہائی مذہب

    اور پھر اس کے بعد یاسر عرفات کے بعد اوسلو معاہدہ کروا کے جس شخص کو سامنے لایا گیا محمود عباس بہائی مذہب کا ہے۔

    جس طرح ہمارے ہاں قادیانی ہیں اس طرح عرب میں قادیانیوں کا متبادل بہائیوں کو کھڑا کیا گیا ہے۔

    وہاں حماس 87 میں قائم ہوئی، اس کے خلاف جن لوگوں کو صف اول میں وہاں قیادت دی گئی، محمود عباس اور اس طرح ان کی اکثر یہ بہائیوں پر مشتمل ہے۔

    جیسے ہمارے ہاں قادیانیوں کو ہمارے اداروں میں گھسایا گیا ہے پاکستان کا تشخص مٹانے کے لیے اور پاکستان کا تشخص پامال کرنے کے لیے اور پاکستان کی جو عالمی سیاست میں ایک حیثیت تھی اس کو مجروح کرنے کے لیے ویسے وہاں ہو گیا۔

    وہ بہائی مذہب کا آدمی ہے وہ تو ان کے ایجنڈے پہ چلے گا وہ پکا کافر ہے جس طرح قادیانی کافر ہیں۔

    پاکستان کا فلسطین کے مسئلے میں کردار

    تو میرے بھائی یہ تو عرب تھے ہمارا کیا رہا؟ پاکستان کا فلسطین کے کاز کے حوالے سے کیا ہو رہا؟

    علامہ اقبال مرحوم وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے خود فلسطین کا دورہ کیا مفتی اعظم امین الحسینی سے ملاقات کی اور یہاں آ کر اس نے مسلم لیگ کے اندر اس حوالے سے ایک بیداری پیدا کی۔

    ابوالکلام آزاد وہ آدمی تھے جس نے شیخ محمد عبدہ اور علامہ رشید رضا مصری ان لوگوں سے رابطے کیے ان کے خطوط موجود ہیں اور اس مسئلے میں انہوں نے عالم عرب کو اٹھانے اور اس کی فکر کی اور ان اس وقت کانگریس میں جو علماء تھے وہ بھی مسلم لیگ میں جو سنجیدہ حضرات تھے وہ بھی۔

    یہ اس بات پر متفق تھے کہ اسرائیل کا وجود عالم اسلام کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناح اور فلسطین

    اور قائداعظم محمد علی جناح کے سینکڑوں بیانات ہیں جس میں انہوں نے اسرائیل کا وجود مسترد کیا، روزویلٹ کے نام ان کا جو خط ہے امریکی صدر کے نام ریکارڈ پر موجود ہے، اس میں اسرائیل کو ناجائز بچہ کہا گیا یورپ کا۔

    جس وقت پاکستان کو وجود ملا اور ہمارے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان مرحوم امریکہ کا دورہ کرنے گئے، پہلا دورہ لیاقت علی خان صاحب کی تقریر کے بعد جو کانگریسی پارٹی کی صدر نے امریکی کانگریس کے صدر نے جو تقریر کی آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔

    اس پوری تقریر کا لب لباب کیا تھا؟ کہ لیاقت علی خان کو کہا گیا کہ ہم پاکستان نوزائیدہ ریاست ہے، ہم آپ کو یہ یہ یہ یہ یہ دیں گے، آپ اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔

    لیاقت علی خان مرحوم نے ایک جملے میں جواب دیا تھا: مسٹر جنٹلمین، اوور سول ناٹ فار سیل۔

    صاحب بہادر! ہماری روح برائے فروخت نہیں ہے۔

    فلسطین ہمارا روحانی مسئلہ ہے۔

    یہ ہمارا مذہبی مسئلہ ہے۔

    میں اپنے روح اور مذہب کو نہیں بیچ سکتا۔

    پاکستان کے اندر دو مختلف رخ

    یہ کس کا بیانیہ ہے؟ قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان مرحوم لیکن دوسری سائیڈ پہ آئیں۔

    سر ظفر اللہ خان پہلا قادیانی وزیر خارجہ وہ اس نے 1952 میں امریکہ کے اندر اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔

    1953 میں وزیر خارجہ نے ہمارے جو قادیانی وزیر خارجہ تھے اس نے ملاقات کی اور باقاعدہ ان کو سراہا، اسرائیل کو سراہا اور ان کے لیے راہ ہموار کرنے کی جناب! یقین دہانیاں کروائی گئیں۔

    تو یعنی مطلب ہے دو رخ چلتے رہے اور رخ بھی آپ پہچان لو کون ہے؟

    کون اسرائیل کے پلڑے میں وزن ڈال رہا تھا پاکستان بننے کے ساتھ؟ کون اسرائیل کے سامنے سینہ تان کے امریکہ کا امریکہ کے ایوانوں میں کہہ رہا تھا کہ ہماری روح برائے فروخت نہیں ہے؟ دونوں دیکھ لو دونوں چہرے۔

    اور آج بھی دیکھ لو جو کہہ رہے ہیں کہ ہم ہماری روح برائے فروخت نہیں ہے، یہ وہ ہے جو بانیان پاکستان کے بیانیے پہ آج تک کھڑے ہیں۔

    اور جو کہہ رہے ہیں کہ یار! دو ریاستی فارمولا قبول کر لیا جائے، جنگیں تو ہماری انڈیا سے بھی ہوئی ہیں، سفارتی تعلقات تو ہمارے ہندوستان سے بھی ہیں، تو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کیا قیامت آ جائے گی؟ جان لو۔

    کہ یہ ظفراللہ قادیانی کا سلسلہ ہے۔

    کیونکہ پاکستان کے بنتے ہی دونوں تصویریں ہمارے سامنے آ گئی تھیں۔

    نہر سویز اور پاکستان کا مؤقف

    پھر جو جمال عبدالناصر کے خلاف نہر سویز کے معاملے میں اسرائیل نے اقدامات کیے اور جنگیں ہوئیں۔

    پاکستان کے ہائی کمیشن میں ایک قادیانی تھا عثمان۔

    اس نے باقاعدہ اسرائیل کو تھپکی لگائی کہ اچھا کیا آپ نے مصر کو ڈنڈا دیا۔

    لیں پوری تاریخ لیں۔

    کہ کیا یعنی مطلب ہے ہر چہرہ آپ کو نظر آ جائے گا، پاکستان میں بھی دو طرفہ باتیں رہی ہیں اور آج بھی ہیں۔

    موجودہ حالات اور اسرائیل سے سفارتی تعلقات کا سوال

    اور آج تو جو ہے وہ بہت زیادہ آپ دیکھ رہے ہیں چینلوں پر، بلکہ ہمارے محترم وزیراعظم صاحب نے بھی بیان دیا ہے۔

    وزیراعظم صاحب! آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں، آپ ہمارے قوم کے بڑے ہیں، مجھ سے تو عمر میں بھی بڑے ہیں۔

    دونوں حوالوں سے میرے لیے قابل احترام ہیں۔

    لیکن میں آپ سے پاکستان کے ایک آزاد شہری کی حیثیت سے یہ درخواست کروں گا کہ میں آپ کے بارے میں یہ بدگمانی تو نہیں کر سکتا کہ آپ کی نظر تاریخ پر نہیں ہوگی۔

    آپ کن کی بولی بول رہے ہیں؟

    یا آپ کی کیا مجبوری ہے؟

    یہ مسئلہ تو ہمارا روحانی ہے، یہ تو ہمارے قائدین اور بانیان نے طے کر لیا ہے، یہ مسئلہ تو ہمارا مذہبی ہے، ہم شروطِ عمریہ کے پابند ہیں۔

    یہ مذہبی مسئلہ ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنا اسلام سے غداری ہے، چاہے وہ یاسر عرفات تسلیم کرے، چاہے حسنی مبارک تسلیم کرے، چاہے انور سادات تسلیم کرے، چاہے محمود عباس تسلیم کرے۔

    چاہے پورا عرب اس کو تسلیم کر لے، کیا یہ اس کو پورے اسلام کے لٹریچر میں دیکھ لیں کیا مسلمانوں کا وہ طبقہ نہیں رہا جس نے اس کو اسلام سے غداری سمجھا؟ آپ کے بانیانِ پاکستان ان کا کیا کہتے ہیں؟

    قائداعظم محمد علی جناح اور موجودہ سیاسی مؤقف

    پھر وزیراعظم صاحب کا ایک انٹرویو میں نے سنا۔

    وزیراعظم صاحب نے اس میں گفتگو میں صحافی کو یہ اس طرح کی گفتگو کی کہ میں اسے مغالطہ ہی کہوں گا۔

    یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی کہ دیکھیں قائداعظم محمد علی جناح کے دور کے جو حالات تھے، وہ جس نتیجے پر پہنچے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ ہم اس نتیجے پر پہنچیں۔

    تو دیکھیں، قائداعظم محمد علی جناح ہو، لیاقت علی خان مرحوم ہو، ان کے ساتھ آپ سیاسی نتائج میں اختلاف کر سکتے ہیں۔

    کہ وہ کسی سیاسی مسئلے میں ایک نتیجے پر اس وقت کے حساب سے پہنچے تھے، آج سیاسی تقاضے بدل گئے ہیں۔

    آپ یہ دیکھیں کہ محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اور جو ہے وہ اپنے لیاقت علی خان مرحوم نے اس مسئلے کو سیاسی تناظر میں لیا یا مذہبی تناظر میں لیا؟

    اگر وہ مذہبی تناظر میں تھا تو کیا مذہب بدل گیا ہمارا؟

    یعنی مذہب بدل گیا ہے؟ یا تو کہہ دو کہ پاکستان کی آئین کی لوح پہ جو لکھا ہے کہ قرآن اور سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں ہوگا اور مذہب کی اولیت، یا تو کہہ دو کہ جی وہ بدل گیا ہے، تاکہ معاملہ صاف ہو جائے۔

    اور ہم جو ہے وہ کسی پوزیشن کے اندر ہو کے پھر آپ سے گفتگو کریں گے، جناب یہ کیا ہے؟ ڈیبیٹ کا طریقہ کار ہی یہی ہے کہ پوزیشن تو واضح ہو۔

    تو میری عاجزانہ درخواست ہے کہ ہمارے قوم کے بڑوں کو کیا ہو گیا؟

    کیا ان کی نظر اپنی تاریخ پہ نہیں ہے، اپنے تراث پہ نہیں ہے؟ وہ کتنی تاویلیں کریں گے اور یار! ہم کتنا گریں گے اور؟

    ہم اور کتنا گریں گے؟

    بعین ہی یہی بیانات پرویز مشرف صاحب نے دیے تھے۔

    انہوں نے یہی کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات میں حرج کیا ہے؟

    ٹھیک ہے؟

    انڈیا، بھئی! انڈیا کا معاملہ ہے، اسرائیل کا معاملہ، آپ ان کو ساتھ میں لا رہے ہیں؟

    عجیب بات ہے!

    آپ چلو مذہب سے تو آپ ماشاءاللہ، مذہب کے ساتھ تو جتنی وابستگی ہے وہ ہے، لیکن نظریہ پاکستان، اس کے بانی ان کو دیکھیں، انہوں نے مسئلہ اسرائیل کو کس تناظر میں لیا ہے؟

    اس سے تو یو ٹرن نہ لیں۔

    یو ٹرن کا سیزن ہے۔

    سیزن ہی ہے ہر بات سے یو ٹرن۔

    تو بہرحال میرے بھائیو! یہ پورا ایک