Tag: سیرت رسول اللہ ﷺ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے ہاں برکتیں اور واقعۂ شقِ صدر

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے ہاں برکتیں اور واقعۂ شقِ صدر

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر 6

    اس زمانے میں عرب کا دستور یہ تھاکہ جب ان کے ہاں کوئی بچہ ہوتا تو وہ دیہات سے آنیوالی دائیوں کے حوالے کردیتے تھے تاکہ دیہات میں بچے کی نشوونمابہتر ہواوروہ خالص عربی زبان سیکھ سکے۔

    دائیوں کا قافلہ مکہ میں داخل ہوا۔ انہوں نے ان گھروں کی تلاش شروع کی جن میں بچے پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح بہت سی دائیاں جناب عبد المطلب کے گھر بھی آئیں ۔ نبی کریم ﷺ کو دیکھالیکن جب انہیں معلوم ہواکہ یہ بچہ تو یتیم پیدا ہواہے تو اس خیال سے چھوڑکر آگے بڑھ گئیں کہ یتیم بچے کے گھرانے سے انہیں کیاملے گا۔ اس طرح دائیاں آتی رہیں ، جاتی رہیں کسی نے آپ ﷺ  کو دودھ پلانامنظور نہ کیااور کرتیں بھی کیسے؟ یہ سعادت تو حضرت حلیمہؓ کے حصے میں آناتھی۔

    جب حلیمہ ؓ مکہ پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا، سب عورتوں کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیاہے اور اب صرف وہ بغیر بچے کے رہ گئیں ہیں اور اب کوئی بچہ باقی نہیں بچا، ہاں ایک یتیم بچہ ضرور باقی ہے جسے دوسری عورتیں چھوڑ گئیں ہیں ۔

    حلیمہ سعدیہؓ نے اپنے شوہر عبد اللہ ابن حارث سے کہا۔

    خدا کی قسم۔  مجھے یہ بات بہت ناگوار گزر رہی ہے کہ میں بچے کے بغیر جاؤں دوسری سب عورتیں بچے لے کر جائیں ، یہ مجھے طعنے دیں گے، اس لیے کیوں نہ ہم اسی یتیم بچے کو لے لیں ۔

    عبداللہ بن حارث بولے۔

    کوئی حرج نہیں ۔  ہوسکتا ہے، اللہ اسی بچے کے ذریعے ہمیں خیروبرکت عطا فرمادیں ۔

    چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا عبدالمطلب کے گھر گئیں ۔جناب عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔پھر آمنہ انہیں بچے کے پاس لے آئیں ۔آپ ﷺ  اس وقت ایک اونی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔وہ چادر سفید رنگ کی تھی۔آپ ﷺ  کے نیچے ایک سبز رنگ کا ریشمی کپڑا تھا۔آپ ﷺ  سیدھے لیٹے ہوئے تھے، آپ ﷺ  کے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ  کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں ۔آپ ﷺ  اس وقت سوئے ہوئے تھے، انہوں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔لیکن جونہی انہوں نے پیار سے اپنا ہاتھ آپ ﷺ  کے سینے پر رکھا، آپ ﷺ  مسکرادیے اور آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔


    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔

    میں نے دیکھا، آپ ﷺ  کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا، میں نے آپ کو گود میں اٹھا کر آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ پر پیار کیا۔پھر میں نے آپ ﷺ  کی والدہ اور عبدالمطلب سے اجازت چاہی، بچے کو لئے قافلے میں آئی۔میں نے

    آپ ﷺ  کو دودھ پلانے کے لیے گود میں لٹایا  تو آپ ﷺ  دائیں طرف سے دودھ پینے لگے۔  پہلے میں نے بائیں طرف سے دودھ پلانا چاہا۔  لیکن آپ ﷺ  نے اس طرف سے دودھ نہ پیا، دائیں طرف سے آپ ﷺ  فوراً دودھ پینے لگے۔بعد میں بھی آپ ﷺ  کی یہی عادت رہی، آپ ﷺ  صرف دائیں طرف سے دودھ پیتے رہے، بائیں طرف سے میرا بچہ دودھ پیتا رہا۔

    پھر قافلہ روانہ ہوا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔

    میں اپنے خچر پر سوار ہوئی۔آپ کو ساتھ لے لیا۔اب جو ہمارا خچر چلا تو اس قدر تیز چلا کہ اس نے پورے قافلے کی سواریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔پہلے وہ مریل ہونے کی بنا پر سب سے پیچھے رہتا تھا۔میری خواتین ساتھی حیرانگی سے مخاطب ہوئیں ۔

    اے حلیمہ! یہ آج کیا ہورہا ہے، تمہارا خچر اس قدر تیز کیسے چل رہا ہے، کیا یہ وہی خچر ہے، جس پر تم آئیں تھیں اور جس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل تھا؟

    جواب میں میں نے  ان سے کہا۔

    بےشک۔   یہ وہی خچر ہے، اللہ کی قسم۔ اس کا معاملہ عجیب ہے۔

    پھر یہ لوگ بنو سعد کی بستی پہنچ گئے، ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔

    اس شام جب ہماری بکریاں چر کر واپس آئیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے تھے جب کہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ان میں سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا۔ہم نے اس دن اپنی بکریوں کا دودھ دوہا تو ہمارے سارے برتن بھرگئے اور ہم نے جان لیا کہ یہ ساری برکت اس بچے کی وجہ سے ہے۔آس پاس کی عورتوں میں بھی یہ بات پھیل گئی، ان کی بکریاں بدستور بہت کم دودھ دے رہی تھیں ۔

    غرض ہمارے گھر میں ہر طرف، ہر چیز میں برکت نظر آنے لگی۔دوسرے لوگ تعجب میں رہے۔اس طرح دو ماہ گزر گئے۔دو ماہ ہی میں آپ ﷺ  چلنے پھرنے لگے۔آپ ﷺ  آٹھ ماہ کے ہوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپ ﷺ  کی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں ۔نو ماہ کی عمر میں تو آپ ﷺ  بہت صاف گفتگو کرنے لگے۔

    اس دوران آپ ﷺ  کی بہت سی برکات دیکھنے میں آئیں ۔حلیمہ سعدیہؓ  فرماتی ہیں

    جب میں آپ ﷺ  کو اپنے گھر لے آئی تو بنو سعد کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا۔جس سے مشک کی خوشبو نہ آتی ہو، اس طرح سب لوگ آپ ﷺ  سے محبت کرنے لگے ۔جب ہم نے آپ ﷺ  کا دودھ چھڑایا تو آپ ﷺ  کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے

    اللہ اکبرکبیرا  والحمدللہ کثیرا   وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا

    یعنی اللہ تعالٰی بہت بڑاہے، اللہ تعالی کے لئے بے حد تعريف ہے، اور اس کےلئے صبح وشام پاکی ہے ۔

    پھر جب آپ ﷺ دو سال کے ہو گئے تو ہم آپ

    ﷺ  کو لےکر آپ ﷺ  کی والدہ کے پاس آئے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد بچوں کو ماں باپ کے حوالہ کردیا جاتاتھا ۔ادھر ہم آپ ﷺ کی برکات دیکھ چکےتھے اور ہماری آرزو تھی کہ ابھی آپﷺ  کچھ اور مدت ہمارے پاس رہیں ، چنانچہ ہم نے اس بارے میں آپ ﷺ  کی والدہ سے بات کی، ان سے یوں کہا۔

    آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بچےکو ایک سال اوراپنے پاس رکھیں ، میں ڈرتی ہوں ، کہیں اس پر مکہ کی بيماريوں اور آب و ہوا کااثر نہ ہوجائے ۔

    جب ہم نے ان سے باربار کہا تو حضرت آمنہ مان گئیں اورہم آپ ﷺ  کو پھر اپنے گھر لے آئے۔جب آپ ﷺ  کچھ بڑے ہو گئے تو باہر نکل کر بچو ں کو دیکھتے تھے ۔وہ آپ ﷺ  کو کھیلتے نظر آتے، آپ ﷺ  ان کے نزدیک نہ جاتے، ایک روز آپ ﷺ  نے مجھ سے پو چھا۔

    امی جان ۔  کیا بات ہے دن میں میرے بھائی بہن نظر نہیں آتے؟ آپ ﷺ  اپنے دودھ شریک بھائی عبداللہ اور بہنوں انیسہ اور شیما کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ; میں نے آپ ﷺ  کو بتایا،  وہ صبح سویرے بکریاں چرانے جاتےہیں ،  شام کے بعد گھر آتے ہیں ۔  یہ جان کر آپ ﷺ  نے فرمایا۔

    تب مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا کریں۔

    اسکے بعد آپ ﷺ  اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ جانے لگے ۔آپ ﷺ  خوش خوش جاتے اور واپس آتے، ایسے میں ایک دن میرے بچے خوف زدہ  انداز میں دوڑتے ہوئے آئے اور گھبرا کر بولے۔

    امی جان۔  جلدی چلئے۔   ورنہ بھائی محمد ﷺ ختم ہو جائیں گے۔

    یہ سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے، دوڑ کر وہاں پہنچے، ہم نے آپ ﷺ  کو دیکھا، آپ ﷺ  کھڑے ہوئے تھے، رنگ اڑا ہوا تھا، چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی ۔  اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ ﷺ  کو سینہ چاک کئے جانے سے کوئی تکلیف ہوئی تھی بلکہ ان فرشتوں کو دیکھ کر آپ ﷺ  کی حالت ہوئی تھی۔

    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، ہم نے آپ ﷺ  سے پوچھا۔

    کیا ہوا تھا؟

    آپ ﷺ  نے بتایا۔

    “میرے پاس دو آدمی آئے تھے ۔ وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔  (وہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے) ان دونوں میں سے ایک نے کہا۔کیا یہ وہی ہیں ؟

    دوسرے نے جواب دیا۔  ہاں یہ وہی ہیں۔

    پھر وہ دونوں میرے قریب آئے، مجھے پکڑا اور لٹادیا ۔  اس کے بعد انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے کوئی چیز تلاش کرنے لگے ۔ آخر انہیں وہ چیز مل گئی اور انہوں نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا، میں نہیں جانتا   وہ کیا چیز تھی۔

    اس چیز کے بارے میں دوسری روایات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ سا تھا ۔ یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ہے۔

    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، پھر ہم آپ ﷺ  کو گھر لے آئے ۔  اس وقت   میرے شوہر عبد اللہ بن حارث نے مجھے سے کہا۔

    حلیمہ! مجھے ڈر ہے، کہیں اس بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس لیے اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔

    میں نے کہا، ٹھیک ہے، پھر ہم آپ ﷺ  کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے ۔  جب میں مکہ کے بالائی علاقے میں پہنچی تو آپ  ﷺ اچانک غائب ہوگئے ۔  میں حواس باختہ ہوگئی۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  5

    ملک شام کاایک یہودی عیص مکہ سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا۔وہ جب بھی کسی کام سے مکہ آتا، وہاں کے لوگوں سے ملتا تو ان سے کہتا۔

    بہت قریب کے زمانے میں تمہارے درمیان ایک بچہ پیدا ہوگا، سارا عرب اس کے راستے پر چلے گا۔ اس کے سامنے ذلیل اور پست ہوجائے گا۔وہ عجم اور اس کے شہروں کا بھی مالک ہوجائے گا۔یہی اس کا زمانہ ہے۔جو اس کی نبوت کے زمانے کو پائے گا اور اس کی پیروی کرے گا، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔جس خیر اور بھلائی کی وہ امید کرتاہے، وہ اس کو حاصل ہوگی اور جو شخص اس کی نبوت کا زمانہ پائے گا مگر اس کی مخالفت کرے گا، وہ اپنے مقصد اور آرزوؤں میں ناکام ہوگا۔

    مکہ معظمہ میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا، وہ یہودی اس بچے کے بارے میں تحقیق کرتا اور کہتا، ابھی وہ بچہ پیدا نہیں ہوا۔آخر جب نبی کریم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو عبدالمطلب اپنے گھر سے نکل کر اس یہودی کے پاس پہنچے۔اس کی عبادت گاہ کے دروازے پر پہنچ کر انہوں آواز دی۔عیص نے پوچھا۔

    کون ہے؟

    انہوں نے اپنا نام بتایا۔پھر اس سے پوچھا۔

    تم اس بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

    اس نے انہیں دیکھا، پھر بولا۔

    ہاں ! تم ہی اس کے باپ ہوسکتے ہو، بےشک وہ بچہ پیدا ہوگیا ہے جس کے بارے میں ، میں تم لوگوں سے کہا کرتا تھا۔وہ ستارہ آج طلوع ہوگیا ہے جو اس بچے کی پیدائش کی علامت ہے۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت اس بچے کو درد ہورہا ہے، یہ تکلیف اسے تین دن رہے گی، اور اس کے بعد یہ ٹھیک ہوجائے گا۔

    راہب نے جو یہ کہا تھا کہ بچہ تین دن تک تکلیف میں رہے گا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے تین دن تک دودھ نہیں پیا تھا اور یہودی نے جو یہ کہا تھا کہ ہاں ! آپ ہی اس کے باپ ہوسکتے ہیں ، اس سے یہ مراد ہے کہ عربوں میں دادا کو بھی باپ کہہ دیا جاتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک بار خود فرمایا تھا۔

    میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔

    یہودی نے عبدالمطلب سے یہ بھی کہا تھا۔

    اس بارے میں اپنی زبان بند رکھیں ، یعنی کسی کو کچھ نہ بتائیں ، ورنہ لوگ اس بچے سے زبردست حسد کریں گے، اتنا حسد کریں گے کہ آج تک کسی نے نہیں کیا اور اس کی اس قدر سخت مخالفت ہوگی کہ دنیا میں کسی اور کی اتنی مخالفت نہیں ہوئی۔

    پوتے کے متعلق یہ باتیں سن کر عبدالمطلب نے عیص سے پوچھا۔

    اس بچے کی عمر کتنی ہوگی؟

    یہودی نے اس سوال کے جواب میں کہا۔

    اگر اس بچے کی عمر طبعی ہوئی تو بھی ستر سال تک نہیں ہوگی۔بلکہ اس سے پہلے ہی 61 یا 63 سال کی عمر میں وفات ہوجائے گی اور اس کی امت کی اوسط عمر بھی اتنی ہوگی، اس کی پیدائش کے وقت دنیا کے بت ٹوٹ کر گر جائیں گے۔

    یہ ساری علامات اس یہودی نے گزشتہ انبیاء کی پیش گوئیوں سے معلوم کی تھیں اور سب سب بالکل سچ ثابت ہوئیں ۔

    قریش کے کچھ لوگ عمرو بن نفیل اور عبداللہ بن جحش وغیرہ ایک بت کے پاس جایا کرتے تھے۔یہ اس رات بھی اس کے پاس گئے، جس رات آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔انہوں نے دیکھا وہ بت اوندھے منہ گرا پڑا ہے۔ان لوگوں کو یہ بات بری لگی، انہوں نے اس کو اٹھایا، سیدھا کردیا مگر وہ پھر گرگیا۔انہوں نے پھر اس کو سیدھا کیا، وہ پھر الٹا ہوگیا۔ان لوگوں کو بہت حیرت ہوئی، یہ بات بہت عجیب لگی۔تب اس بت سے آواز نکلی۔

    یہ ایک ایسے بچے کی پیدائش کی خبر ہے، جس کے نور سے مشرق اور مغرب میں زمین کے تمام گوشے منور ہوگئے ہیں ۔

    بت سے نکلنے والی آواز نے انہیں اور زیادہ حیرت زدہ کردیا۔

    اس کے علاوہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایران کے شہنشاہ کسریٰ نوشیرواں کا محل ہلنے لگا اور اس میں شگاف پڑگئے۔نوشیرواں کا یہ محل نہایت مضبوط تھا۔بڑے بڑے پتھروں اور چونے سے تعمیر کیا گیا تھا۔اس واقعے سے پوری سلطنت میں دہشت پھیل گئی۔شگاف پڑنے سے خوفناک آواز بھی نکلی تھی۔محل کے چودہ کنگرے ٹوٹ کر نیچے آگرے تھے۔

    آپ کی پیدائش پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ فارس کے تمام آتش کدوں کی وہ آگ بجھ گئی جس کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کو بجھنے نہیں دیتے تھے، لیکن اس رات میں ایک ہی وقت میں تمام کے تمام آتش کدوں کی آگ آناً فاناً بجھ گئی۔آگ کے پوجنے والوں میں رونا پیٹنا مچ گیا۔

    کسریٰ کو یہ تمام اطلاعات ملیں تو اس نے ایک کاہن کو بلایا۔اس نے اپنے محل میں شگاف پڑنے اور آتش کدوں کی آگ بجھنے کے واقعات اسے سناکر پوچھا۔

    آخر ایسا کیوں ہورہا ہے۔

    وہ کاہن خود تو جواب نہ دے سکا، تاہم اس نے کہا۔

    ان سوالات کے جوابات میرا ماموں دے سکتا ہے، اس کا نام سطیح ہے ۔

    نوشیرواں نے کہا

    ٹھیک ہے، تم جا کر ان سوالات کے جوابات لاؤ۔

    وہ گیا، سطیح سے ملا، اسے یہ واقعات سنائے، اس نے سن کر کہا۔

    ایک عصا والے نبی ظاہر ہوں گے جو عرب اور شام پر چھا جائیں گے اور جو کچھ ہونے والا ہے، ہو کر رہے گا۔

    اس نے یہ جواب کسریٰ کو بتایا ۔ اس وقت تک کسریٰ نے دوسرے کاہنوں سے بھی معلومات حاصل کر لی تھیں ، چنانچہ یہ سن کر اس نے کہا۔

    تب پھر ابھی وہ وقت آنے میں دیر ہے۔ (یعنی ان کا غلبہ میرے بعد ہو گا)

    پیدائش کے ساتویں دن عبدالمطلب نے آپﷺ  کا عقیقہ کیا اور نام  “محمد”   رکھا۔ عربوں میں اس سے پہلے یہ نام کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ قریش کو یہ نام عجیب سا لگا۔چنانچہ کچھ لوگوں نے عبدالمطلب سے کہا۔

    اے عبدالمطلب! کیا وجہ ہے کہ تم نے اس بچے کا نام اس کے باپ دادا کےنام پر نہیں رکھا بلکہ محمد رکھا ہے اور یہ نام نہ تمہارے باپ دادا میں سے کسی کا ہے نہ تمہاری قوم میں سے کسی کا ہے۔

    عبدالمطلب نے انہیں جواب دیا۔

    میری تمنا ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ اس بچے کی تعریف فرمائیں اور زمین پر لوگ اس کی تعریف کریں ۔

    محمد کے معنی ہیں جس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے۔

    اسی طرح والدہ کی طرف سے آپ کا نام احمد رکھا گیا۔ احمد نام بھی اس سے پہلے کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ مطلب یہ کہ ان دونوں ناموں کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی اور کوئی بھی یہ نام نہ رکھ سکا۔ احمد کا مطلب ہے سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔

    علامہ سہیلی نے لکھا ہے آپ ﷺ  احمد پہلے ہیں اور محمد بعد میں ۔ یعنی آپ ﷺ  کی تعریف دوسروں نے بعد میں کی، اس سے پہلے آپ ﷺ  کی شان یہ ہے کہ آپ ﷺ  اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ حمد و ثنا کرنے والے ہیں ۔ پرانی کتابوں میں آپ ﷺ  کا نام احمد ذکر کیا گیا ہے۔

    اپنی والدہ کے بعد آپ ﷺ  نے سب سے پہلے ثوبیہ کا دوھ پیا، ثوبیہ نبی کریم ﷺ کے چچا  ابو لہب کی باندی تھیں ۔ ان کو ابولہب نے آپ ﷺ  کی پیدائش کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا۔ ثوبیہ نے آپ ﷺ  کو چند دن تک دودھ پلایا۔ انہی دنوں ثوبیہ کے ہاں اپنا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ آپ ﷺ  کی والدہ نے آپ ﷺ  کو صرف نو دن تک دودھ پلایا۔ انکے بعد ثوبیہ نے پلایا۔ پھر دودھ پلانے کی باری حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی آئی۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اپنی بستی سے روانہ ہوئیں ۔ ان کے ساتھ ان کا دودھ پیتا  بچہ اور شوہر بھی تھے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا دوسری عورتوں کے بعد مکہ میں داخل ہوئیں ۔ ان کا خچر بہت کمزور اور مریل تھا ۔ ان کے ساتھ ان کی کمزور اور بوڑھی اونٹنی تھی۔ وہ بہت آہستہ چلتی تھی۔ ان کی وجہ سے حلیمہ رضی اللہ عنہا قافلے سے بہت پیچھے رہ جاتی تھیں ۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ سب سے آخر میں مکہ میں داخل ہوئیں ۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 4: اصحابِ فیل کی ہلاکت اور ولادتِ باسعادت کے واقعات

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 4: اصحابِ فیل کی ہلاکت اور ولادتِ باسعادت کے واقعات

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  4

    ابرہہ کے ہاتھی کو اٹھانے کی مسلسل کوشش جاری تھی کہ اچانک سمندر کی طرف سے ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے کچھ پرندوں کو بھیج دیا۔وہ ٹڈیوں کے جھنڈ کی طرح آئے ۔

    دوسری طرف عبدالمطلب مکہ میں داخل ہوئے ۔ حرم میں پہنچے اور کعبہ کے دروازے کی زنجیرپکڑ کر ابرہہ اور اس کے لشکر کے خلاف فتح کی دعا مانگی۔ان کی دعا کے الفاظ یہ تھے۔

    اے اللہ! یہ بندہ اپنے قافلے اور اپنی جماعت کی حفاظت کررہا ہے تو اپنے گھر یعنی بیت اللہ کی حفاظت فرما۔ابرہہ کا لشکر فتح نہ حاصل کرسکے۔ان کی طاقت تیری طاقت کے آگے کچھ بھی نہیں ، آج صلیب کامیاب نہ ہو۔صلیب کا لفظ اس لیے بولا کہ ابرہہ عیسائی تھا اور صلیب کو عیسائی اپنے نشان کے طور پر ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔

    اب انہوں نے اپنی قوم کو ساتھ لیا اور حرا پہاڑ پر چڑھ گئے، کیونکہ ان کا خیال تھا، وہ ابرہہ کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔

    اور پھر اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے۔یہ پرندے چڑیا سے قدرے بڑے تھے۔ان میں سے ہر پرندے نے تین تین پتھر اٹھائے ہوئے تھے، ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں ۔یہ پتھر پرندوں نے ابرہہ کے لشکر پر گرانے شروع کیے۔جونہی یہ پتھر ان پر گرے، ان کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، بالکل اسی طرح جیسے آج کسی جگہ اوپر سے بم گرایا جائے تو جسموں کے ٹکڑے اڑ جاتے ہیں ۔ابرہہ کا ہاتھی محمود البتہ ان کنکریوں سے محفوظ رہا۔باقی سب ہاتھی تہس نہس ہوگئے۔ یہ ہاتھی 13 عدد تھے۔سب کے سب کھائے ہوئے بھس کے مانند ہوگئے۔جیسا کہ سورۃ الفیل میں آتا ہے۔

    ابرہہ اور اس کے کچھ ساتھی تباہی کا یہ منظر دیکھ کر بری طرح بھاگے۔لیکن پرندوں نے ان کو بھی نہ چھوڑا۔ابرہہ کے بارے میں طبقات میں لکھا ہے کہ اس کے جسم کا ایک ایک عضو الگ ہوکر گرتا چلا گیا۔یعنی وہ بھاگ رہا تھا اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ الگ ہوکر گررہا تھا۔

    دوسری طرف عبدالمطلب اس انتظار میں تھے کہ کب حملہ ہوتا ہے، لیکن حملہ آور جب مکہ میں داخل نہ ہوئے تو وہ حالات معلوم کرنے کے لیے نیچے اترے۔مکہ سے باہر نکلے، تب انہوں نے دیکھا، سارا لشکر تباہ ہوچکا ہے۔خوب مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا۔بےشمار سامان ہاتھ آیا ، مال میں سونا چاندی بھی بےتحاشا تھا۔

    لشکر میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو واپس نہیں بھاگے تھے۔یہ مکہ میں رہ گئے تھے ان میں ابرہہ کے ہاتھی کا مہاوت بھی تھا جو محمود کو آگے لانے میں ناکام رہا تھا۔

    ہمارے نبی .حضرت محمد ﷺ اس واقعہ کے چند دن بعد پیدا ہوئے۔آپ ﷺ  جس مکان میں پیدا ہوئے، وہ صفا پہاڑی کے قریب تھا۔.حضرت کعب احبار رحمۃاللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہوگی، یہ  پہلے یہودی تھے، اس لئے  تورات پڑھا کرتے تھے۔

    دنیا میں آتے ہی حضور اکرم ﷺ روئے۔.حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی والدہ کہتی ہیں کہ جب .حضرت آمنہ کے ہاں ولادت ہوئی تو میں وہاں موجود تھی۔آپ ﷺ میرے ہاتھوں میں آئے۔یہ غالباً دایہ تھی۔ان کا نام شفا تھا۔فرماتی ہیں ۔  جب آپ ﷺ  میرے ہاتھوں میں آئے تو روئے۔

    آپ ﷺ  کے دادا عبدالمطلب کو آپ ﷺ  کی ولادت کی اطلاع دی گئی۔وہ اس وقت خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے۔اطلاع ملنے پر گھر آئے۔بچے کو گود میں لیا۔اس وقت آپ ﷺ  کی والدہ نے ان سے کہا۔

    یہ بچہ عجیب ہے، سجدے کی حالت میں پیدا ہوا ہے، یعنی پیدا ہوتے ہی اس نے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھا کر انگلی آسمان کی طرف اٹھائی۔

    عبدالمطلب نے آپ ﷺ  کو دیکھا۔اس کے بعد آپ ﷺ  کو کعبہ میں لے آئے۔آپ ﷺ  کو گود میں لئے  رہے اور طواف کرتے رہے۔پھر واپس لاکر حضرت آمنہ کو دیا۔آپ ﷺ  کو عرب کے دستور کے مطابق ایک برتن سے ڈھانپا گیا، لیکن وہ برتن ٹوٹ کر آپ ﷺ  کے اوپر سے ہٹ گیا۔اس وقت آپ ﷺ  اپنا انگوٹھا چوستے نظر آئے۔

    اس موقع پر شیطان بری طرح چیخا۔تفسیر ابن مخلد میں ہے کہ شیطان صرف چار مرتبہ چیخا، پہلی بار اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے اسے معلون ٹھہرایا، دوسری بار اس وقت جب اسے زمین پر اتارا گیا، تیسری بار اس وقت چیخا جب آنحضرت ﷺ کی پیدائش ہوئی اور چوتھی مرتبہ اس وقت جب نبی کریم ﷺ پر سورہ فاتحہ نازل ہوئی۔

    اس موقع پر حضرت حسان بن ثابت ؓ کہتے ہیں

    میں آٹھ سال کا تھا، جو کچھ دیکھتا اور سنتا تھا، اس کو سمجھتا تھا ۔ایک صبح میں نے یثرب یعنی مدینہ منورہ میں ایک یہودی کو دیکھا، وہ ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ کر چلا رہا تھا۔لوگ اس یہودی کے گرد جمع ہوگئے اور بولے

    کیا بات ہے، کیوں چیخ رہے ہو؟

    یہودی نے جواب دیا

    احمد کا ستارہ طلوع ہوگیا ہے اور وہ آج رات پیدا ہوگئے ہیں ۔

    حضرت حسان بن ثابت ؓ بعد میں 60 سال کی عمر میں مسلمان ہوئے تھے۔120 سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی۔گویا ایمان کی حالت میں 60 سال زندہ رہے۔بہت اچھے شاعر تھے۔نبی کریم ﷺ کی اپنے اشعار میں تعریف کیا کرتے تھے اور دشمنوں کی برائی اشعار میں بیان کرتے تھے۔غزوات کے موقع پر اشعار کے ذریعے مسلمانوں کو جوش دلاتے تھے۔اسی بنیاد پر انہیں شاعر رسول کا خطاب ملا تھا۔

    حضرت کعب احبار رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کی ولادت کے وقت کی خبر دے دی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔اس سلسلے میں انہوں نے فرمایا تھا۔

    تمہارے نزدیک جو مشہور چمک دار ستارہ ہے، جب وہ حرکت میں آئے گا، تو وہی وقت رسول اللہ ﷺ کی پیدائش کا ہوگا۔

    یہ خبر بنی اسرائیل کے علماء ایک دوسرے کو دیتے چلے آئے تھے اور اس طرح بنی اسرائیل کو بھی آنحضرت کی ولادت کا وقت یعنی اس کی علامت معلوم تھی۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عالم مکہ میں رہتا تھا، جب وہ رات آئی جس میں آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے تو وہ قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس نے کہا۔

    کیا تمہارے ہاں آج کوئی بچہ پیدا ہوا ہے۔

    لوگوں نے کہا

    ہمیں تو معلوم نہیں ۔

    اس پر اس یہودی نے کہا۔

    میں جو کچھ کہتا ہوں ، اسے اچھی طرح سن لو، آج اس امت کا آخری نبی پیدا ہوگیا ہے اور قریش کے لوگو! وہ تم میں سے ہے، یعنی وہ قریشی ہے۔اس کے کندھے کے پاس ایک علامت ہے( یعنی مہر نبوت)اس میں بہت زیادہ بال ہیں ۔یعنی گھنے بال ہیں اور یہ نبوت کا نشان ہے۔نبوت کی دلیل ہے۔اس بچے کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ  دو رات تک دودھ نہیں پیے گا۔ان باتوں کا ذکر اس کی نبوت کی علامات کے طور پر پرانی کتب میں موجود ہے۔

    علامہ ابن حجرنے لکھاہےکہ یہ بات درست ہے، آپ نے دودن تک دودھ نہیں پیاتھا-

    یہودی عالم نے جب یہ باتیں بتائیں تولوگ وہاں سے اٹھ گئے-انہیں یہودی کی باتیں سن کر بہت حیرت ہوئی تھی-جب وہ لوگ اپنے گھروں میں پہنچےتوان میں سے ہر ایک نے اس کی باتیں اپنے گھرکےافرادکوبتائیں ، عورتوں کوچونکہ حضرت آمنہ کےہاں بیٹاپیداہونےکی خبرہوچکی تھی، اس لیے انہوں نے اپنےمردوں کوبتایا۔

    یہودی نے کہاذراچل کر مجھے وہ بچہ دکھاؤ۔

    لوگ اسےساتھ لیےحضرت آمنہ کےگھرکےباہرآئے، ان سے بچہ دکھانےکی درخواست کی۔آپ نے بچےکوکپڑے سےنکال کرانہیں دےدیا۔لوگوں نے آپ کےکندھے پرسے کپڑاہٹایا۔ یہودی کی نظر جونہی مہرنبوت پر پڑی، وہ فوراًبےہوش ہوکرگر پڑا، اسے ہوش آیا تو  لوگوں نے اس سےپوچھا۔

    تمہیں کیاہوگیاتھا۔

    جواب میں اس نےکہا

    میں اس غم سے بےہوش ہواتھاکہ میری قوم میں سےنبوت ختم ہوگئی۔ اور اے قریشیو! اللہ کی قسم! یہ بچہ تم پر زبردست غلبہ حاصل کرےگا اور اس کی شہرت مشرق سے مغرب تک پھیل جائےگی۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    مصنف : عبداللہ فارانی

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کریں ۔  اگلی قسط کا انتظار کریں

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 2 | حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کے واقعات اور ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 2 | حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کے واقعات اور ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  2

    عبدالمطلب کو یہ حکم اسوقت دیا گیا  جب وہ اپنی منّت بھول چکے تھے ۔  پہلے خواب میں ان سے کہا گیا  ” منّت پوری کرو ”  انھوں نے ایک مینڈھا ذبح کرکے غریبوں کو کھلادیا ۔  پھر خواب آیا   “اس سے بڑی پیش کرو ” اس مرتبہ انھوں نے ایک بیل ذبح کردیا ۔  خواب میں پھر یہی کہا گیا اس سے بھی بڑی پیش کرو ۔  اب انھوں نے اونٹ ذبح کیا ۔ پھر خواب آیا  اس سے بھی بڑی چیز پیش کرو ۔  انھوں نے پوچھا    ۔ اس سے بھی بڑی چیز کیا ہے ۔  تب کہا گیا

     اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ذبح کرو جیسا کہ تم نے منّت مانی تھی۔

    اب انھیں اپنی منّت یاد آئی ۔  اپنے بیٹوں کو جمع کیا ۔  ان سے منّت کا ذکر کیا ۔ سب کے سر جھُک گئے  ۔ کون خود کو ذبح کرواتا ” آخر عبداللہ بولے

    ” ابّاجان آپ مجھے ذبح کردیں”

    یہ سب سے چھوٹے تھے ۔  سب سے خوبصورت تھے ۔  سب سے زیادہ محبّت بھی عبدالمطلِّب کو انہی سے تھی لہٰذا انھوں نے قرعہ اندازی کرنے کا ارادہ کیا ۔ تمام بیٹوں کے نام لکھ کر قرعہ ڈالا گیا ۔  عبداللہ کا نام نکلا  اب انھوں نے چُھری لی  “عبداللہ کو بازو سے پکڑا  اور انھیں ذبح کرنے کے لیے نیچے لٹادیا۔

    جونہی باپ نے بیٹے کو لٹایا  ۔ عبّاس سے ضبط نہ ہوسکا، فوراً آگے بڑھے اور بھائی کو کھینچ لیا  ۔ اس وقت یہ خود بھی چھوٹے سے تھے ۔ ادھر باپ نے عبداللہ کو کھینچا  ۔ اس کھینچا تانی میں عبداللہ کے چہرے پر خراشیں بھی آئیں  ۔ ان خراشوں کے نشانات مرتے دم تک باقی رہے۔

    اسی دوران بنو مخزوم کے لوگ آگئے انھوں نے کہا

    آپ اس طرح بیٹے کو ذبح نہ کریں ،  اس کی ماں کی زندگی خراب ہوجائے گی، اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے بیٹے کا فدیہ دے دیں۔

    اب سوال یہ تھا کہ فدیہ کیا  دیا جائے، اس کی ترکیب یہ بتائی گئی کہ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر دس اونٹ لکھے جائیں، دوسرے پر عبداللہ کا نام لکھا جائے،  اگر دس اونٹ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ قربان کردئے جائیں،  اگر عبداللہ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ کا اضافہ کردیا جائے ۔  پھر بیِس اونٹ والی پرچی اور عبداللہ والی پرچی ڈالی جائے ۔  اب اگر بیِس اونٹ والی پرچی نکلے تو بیِس اونٹ قربان کردئے جائیں ،  ورنہ دس اونٹ اور بڑھادئیے جائیں ، اس طرح دس دس کرکے اونٹ بڑھاتے جائیں۔

    عبدالمطلب نے ایسا ہی کیا ہے  ۔دس دس اونٹ بڑھاتے چلے گئے ۔ ہر بار عبداللہ کا نام نکلتا چلا گیا ،  یہاں تک اونٹوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی ۔  تب کہیں جاکر اونٹوں والی پرچی نکلی ۔  اس طرح ان کی جان کے بدلے سو اونٹ قربان کیے گئے ۔  عبدالمطلب کو اب پورا اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالٰی نے عبداللہ کے بدلہ سو اونٹوں کی قربانی منظور کرلی ہے ۔  انھوں نے کعبے کے پاس سو اونٹ قربان کیے اور کسی کو کھانے سے نہ روکا ۔ سب انسانوں ،  جانوروں اور پرندوں نے ان کو کھایا ۔

    امام زہری کہتے ہیں کہ عبدالمطلِّب پہلا آدمی ہے جنہوں نے آدمی کی جان کی قیمت سو اونٹ دینے کا طریقہ شروع کیا ۔ اس سے پہلے دس اونٹ دیے جاتے تھے ۔ اس کے بعد یہ طریقہ سارے عرب میں جاری ہوگیا ۔ گویا قانون بن گیا کہ آدمی کا فدیہ سو اونٹ ہے۔نبی کریم ﷺ کے سامنے جب یہ ذکر آیا تو آپ نے اس فدیہ کی تصدیق فرمائی، یعنی فرمایا کہ یہ درست ہے۔

    اور اسی بنیاد پر نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں 

    میں دو ذبیحوں یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت عبداللہ کی اولاد ہوں۔

    حضرت عبداللہ قریش میں سب سے زیادہ حسین تھے ان کا چہرہ روشن ستارہ کی مانند تھا قریش کی بہت سی لڑکیاں ان سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر حضرت عبداللہ کی حضرت آمنہ سے شادی ہوئی۔

    حضرت آمنہ وہب بن عبدمناف بن زہرہ کی بیٹی تھیں شادی کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔

    یہ شادی کے لئے اپنے والد کے ساتھ جارہے تھے راستہ میں ایک عورت کعبہ کے پاس بیٹھی نظر آئی، یہ عورت ورقہ بن نوفل کی بہن تھی۔ورقہ بن نوفل قریش کے ایک بڑے عالم تھے۔ورقہ بن نوفل سے ان کی بہن نے سن رکھا تھا کہ وقت کے آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہےاور انکی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہوگی کہ ان کے والد کے چہرے میں نبوت کا نور چمکتا ہوگا۔جونہی اس نے عبداللہ کو دیکھا فوراًﹰ اس کے ذہن میں یہ بات آئی، اس نے سوچا ہونہ ہو یہ وہ شخص ہے جو پیدا ہونے والے نبی کے باپ ہوں گے ۔چنانچہ اس نے کہا:

    اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو۔ میں بدلہ میں تمہیں اتنے ہی اونٹ دوں گی۔ جتنے تمہاری جان کے بدلے میں ذبح کئے گئے تھے۔

    اس پر انہوں نے جواب دیا

    میں اپنے باپ کے ساتھ ہوں ۔ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔نہ ان سے الگ ہوسکتا ہوں اور میرے والد باعزت آدمی ہیں ، اپنی قوم کے سردار ہیں ۔

    بہر حال ان کی شادی حضرت آمنہ سے ہوگئی۔آپ قریش کی عورتوں میں نسب اور مقام کے اعتبار سے افضل تھیں ۔

    حضرت آمنہ، حضرت عبداللٰہ کے گھر آگئیں ۔ آپ فرماتی ہیں۔

    جب میں ماں بننے والی ہوئی تو میرے پاس ایک شخص آیا، یعنی ایک فرشتہ انسانی شکل میں آیا ۔  اس وقت میں جاگنے اور سونے کے درمیانی حالت میں تھی(عام طور پر اس حالت کو غنودگی کہا جاتا ہے) ۔ اس نے مجھ سے کہا

    کیا  تمہیں معلوم ہے، تم اس امت کی سردار اور نبی کی ماں بننے والی ہو۔

    اس کے بعد وہ پھر اس وقت آیا  ۔جب نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم پیدا ہونے والے تھے ۔  اس مرتبہ اس نے کہا

    جب تمہارے ہاں پیدائش ہو تو کہنا

    میں اس بچے کے لیے اللٰہ کی پناہ چاہتی ہوں ، ہر حسد کرنے والے کے شر اور برائی سے ۔ پھر تم اس بچے کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ ان کا نام تورات میں احمد ہے اور زمین اور آسمان والے ان کی تعریف کرتے ہیں ، جب کہ قرآن میں ان کا نام محمد ہے، اور قرآن ان کی کتاب ہے ۔ (البدایہ والنہایہ)

    ایک روایت کے مطابق فرشتے نے ان سے یہ کہا۔

    تم وقت کے سردار کی ماں بننے والی ہو، اس بچے کی نشانی یہ ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک نور ظاہر ہوگا، جس سے ملک شام اور بصرٰی کے محلات بھر جائیں گے ۔  جب وہ بچہ پیدا ہوجائے گا تو اس کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ تورات میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں ، اور انجیل میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں اور قرآن میں ان کا نام محمد ہے ۔ (البدایہ والنہایہ)

    حضرت عبداللٰہ کے چہرے میں جو نورچمکتا تھا، شادی کے بعد وہ حضرت آمنہ کے چہرے میں آگیا تھا ۔

    امام زہری فرماتے ہیں ، حاکم نے یہ روایت بیان کی ہےاوراس کوصحیح قراردیا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور نبی کریم صلی اللٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا

    اے اللٰہ کے رسول! ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتایئے ۔

    آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

    میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں ، اپنے بھائی عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور خوشخبری ہوں ، جب میں اپنی والدہ کے شکم میں آیا تو انہوں نے دیکھا، گویا ان سے ایک نور ظاہر ہوا ہے جس سے ملک شام میں بصرٰی کے محلات روشن ہوگئے ۔ “

    حضرت آمنہ نے حضرت حلیمہ سعدیہ سے فرمایا تھا:

    “میرے اس بچے کی شان نرالی ہے، یہ میرے پیٹ میں تھے تو مجھے کوئی بوجھ اور تھکن محسوس نہیں ہوئی۔”

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ آخری پیغمبر ہیں جنہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشخبری سنائی ہے ۔  اس بشارت کا ذکر قرآن میں بھی ہے، سورہ صف میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں

    اور اسی طرح وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات آچکی ہے، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والا ہے ، ان کا نامِ مبارک احمد ہوگا، میں ان کی بشارت دینے والا ہوں ۔

    اب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ بشارت سناچکے تھے، اس لیے ہر دور کے لوگ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد کا بےچینی سے انتظار کررہے تھے، ادھرآپ کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت عبداللّٰہ انتقال کرگئے ۔  سابقہ کتب میں آپ کی نبوت کی ایک علامت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ آپ کے والد کا انتقال آپ کی ولادت سے پہلے ہوجائے گا ۔ حضرت عبداللہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے گئے تھے، اس دوران بیمار ہوگئے اور کمزور ہوکر واپس لوٹے ۔  قافلہ مدینہ منورہ سے گزرا تو حضرت عبداللہ اپنی ننھیال یعنی بنو نجار کے ہاں ٹھہرے۔  ان کی والدہ بنو نجار سے تھیں ، ایک ماہ تک بیمار رہے اور انتقال کرگئے – انہیں یہیں دفن کردیا گیا ۔

    تجارتی قافلہ جب حضرت عبداللہ کے بغیر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبدالمطلب کو پتا چلا کہ ان کے بیٹے عبداللہ بیمار ہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں اپنی ننھیال میں ہیں تو انہیں لانے کے لیے عبدالمطلب نے اپنے بیٹے زبیر کو بھیجا – جب یہ وہاں پہنچے تو عبداللہ کا انتقال ہوچکا تھا ۔  مطلب یہ کہ آپ ﷺ اس دنیا میں اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد تشریف لائے ۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    مصنف : عبداللہ فارانی

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم