پشتو کی خوبصورت نعت „کہ صورت دہ محمد نہ وے پیدا“ پروفیسر ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب کی آواز میں پیش کی گئی ہے۔ اس نعت میں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت اور آپ ﷺ کے مقام و مرتبے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ سے سچی محبت، آپ ﷺ کی سنت پر عمل اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد سعید کی پُرسوز اور دلنشین آواز میں پیش کی گئی ایک خوبصورت پشتو نعتِ شریف۔ ”ما په زنځیر ور ولے رسول الله ﷺتہ“ محبت، عاجزی اور عقیدت کے گہرے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔
یہ روحانی نعت رسول اللہ ﷺ کے ایک سچے عاشق کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے اور ہمیں آپ ﷺ کی بے پایاں رحمت، شفقت اور ہدایت کی یاد دلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نعت کو سننے والوں کے دلوں میں سکون عطا فرمائے اور محبتِ رسول ﷺ کو مزید مضبوط فرمائے۔
اس خوبصورت نعت کو سماعت فرمائیں، اس کے روحانی پیغام پر غور کریں اور محبتِ خاتم النبیین ﷺ کو عام کرنے کے لیے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اس پُراثر اور ایمان افروز بیان میں اس شعر کے روحانی مفہوم پر گفتگو کی گئی ہے:
“یہ ہے دربار آقا کا، یہاں ملتا ہے بن مانگے ارے ناداں! یہاں دامن کو پھیلایا نہیں کرتے”
بیان میں مسجدِ نبوی ﷺ کی مقدس فضا اور حضور اکرم ﷺ سے محبت و عقیدت کے حوالے سے ادب، عاجزی اور روحانی کیفیت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مقدس مقامات کی حاضری محض ظاہری طلب تک محدود نہیں بلکہ محبت، اخلاص، ادب اور قلبی وابستگی بھی اس حاضری کی اہم روحانی قدریں ہیں۔
یہ بیان اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے، حضور اکرم ﷺ سے محبت و عقیدت بڑھانے اور مقدس مقامات کی حاضری کے آداب و روحانی کیفیت پر غور کی دعوت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سچی محبت، ادب و احترام، اخلاص اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور اپنے مقدس مقامات کی باادب حاضری نصیب فرمائے۔ آمین۔
حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اس مترنم اور ایمان افروز کلام میں اللہ تعالیٰ کی رحمت، مشیت اور اپنے بندوں کو اپنے در پر بلانے کی سعادت کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے اپنے در پر بلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بندے کا منتخب کیا جانا اس کے فضل و کرم اور ایک عظیم سعادت کی علامت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر دل سے راضی رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے وہی بہتر جانتا ہے جو انسان اپنے محدود علم کی وجہ سے نہیں جان سکتا۔
یہ مترنم کلام ہمیں عاجزی، شکر، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے در پر بلایا جانا ایک عظیم نعمت اور عزت ہے، جس پر بندے کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت سے اپنے در پر حاضری کی سعادت عطا فرمائے، اپنے فیصلوں پر راضی رہنے، شکر ادا کرنے اور ہر حال میں اس پر کامل توکل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اس ایمان افروز اور اصلاحی بیان میں اللہ تعالیٰ کی رحمت، مشیت اور بندے کو اپنے در پر بلانے کی سعادت کے بارے میں نہایت خوبصورت انداز میں گفتگو کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے اپنے در پر بلاتا ہے۔ یہ اس کے فضل و کرم اور عظیم رحمت کا فیصلہ ہے۔ کسی بندے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کیا جانا ایک بہت بڑی سعادت اور خوش نصیبی ہے۔
انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر دل سے راضی رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے وہی بہتر جانتا ہے جو بندہ خود نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر بھروسہ، اس کی نعمتوں پر شکر، اپنی کمزوری کا احساس اور اس کے سامنے عاجزی بندے کی زندگی کو ایمان اور سکون سے بھر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے در پر بلایا جانا معمولی بات نہیں بلکہ ایک عظیم نعمت اور عزت ہے۔ یہ بیان ہمیں اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ، صبر، شکر اور اس کے فیصلوں پر رضامندی کا درس دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت سے اپنے در پر حاضری کی سعادت عطا فرمائے، اپنے ہر فیصلے پر راضی رہنے، شکر ادا کرنے اور اس پر مکمل توکل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔