Tag: خانہ کعبہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (حصہ اول): حضرت عبدالمطلب کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کے بچپن کے واقعات

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (حصہ اول): حضرت عبدالمطلب کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کے بچپن کے واقعات

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  8  ۔ حصہ اول

    حضرت آمنہ کے انتقال کے پانچ دن بعد ام ایمن آپ ﷺ  کو لے کر مکہ پہونچیں ۔ آپ ﷺ  کو عبدالمطلب کے حوالے کیا۔آپ ﷺ  کے یتیم ہوجانے کا انہیں اتنا صدمہ تھا کہ بیٹے کی وفات پر بھی اتنا نہیں ہوا تھا۔

    عبدالمطلب کے لیے کعبہ کے سائے میں ایک قالین بچھایا جاتا تھا۔ وہ اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ ان کا احترام اس قدر تھا کہ کوئی اور اس قالین پر بیٹھتا نہیں تھا، چنانچہ ان کے بیٹے اور قریش کے سردار اس قالین کے چاروں طرف بیٹھتے تھے، لیکن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں تشریف لاتے تو سیدھے اس قالین پر جا بیٹھتے۔ اس وقت آپ ﷺ  ایک تندرست لڑکے تھے، آپ ﷺ  کی عمر نو سال کے قریب ہو چلی تھی، آپ ﷺ  کے چچا ، عبدالمطلب کے ادب کی وجہ سے ، آپ کو اس قالین سے ہٹانا چاہتے تو عبدالمطلب کہتے ۔

    میرے بیٹےکو چھوڑ دو، اللّٰہ کی قسم۔  یہ بہت شان والا ہے۔

    پھر وہ آپ ﷺ  کو محبت سے اس فرش پر بٹھاتے، آپ کی کمر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے، آپ ﷺ  کی باتیں سن سن کر حد درجے خوش ہوتے رہتے۔

    کبھی وہ دوسروں سے کہتے۔

    میرے بیٹے کو یہیں بیٹھنے دو، اسے خود بھی احساس ہے کہ اس کی بڑی شان ہے، اور میری آرزو ہے یہ اتنا بلند رتبہ پائے جو کسی عرب کو اس سے پہلے حاصل نہ ہوا ہو اور نہ بعد میں کسی کو حاصل ہوسکے۔

    ایک بار انہوں نے یہ الفاظ کہے۔

    میرے بیٹے کو چھوڑ دو، اس کے مزاج میں طبعی طور بلندی ہے…. اس کی شان نرالی ہوگی۔

    یہاں تک کہ عمر کے آخری حصے میں حضرت عبدالمطلب کی آنکھیں جواب دے گئی تھیں ، آپ نابینا ہو گئے تھے۔ ایسی حالت میں ایک روز وہ اس قالین پر بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ  تشریف لے آئے اور سیدھے اس قالین پر جا پہنچے۔ ایک شخص نے آپ ﷺ  کو قالین سے کھینچ لیا۔ اس پر آپ ﷺ  رونے لگے، آپ  ﷺ کے رونے کی آواز سن کر عبدالمطلب بے چین ہوئے اور بولے۔

    میرا بیٹا کیوں رو رہا ہے۔

    آپ کے قالین پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ ہم نے اسے قالین سے اتار دیا ہے۔

    یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا۔

    میرے بیٹے کو قالین پر ہی بٹھا دو، یہ اپنا رتبہ پہچانتا ہے، میری دعا ہے کہ یہ اس رتبے کو پہنچے جو اس سے پہلے کسی عرب کو نہ ملا ہو، اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔

    اس کے بعد پھر کسی نے آپ ﷺ  کو قالین پر بیٹھنے سے نہیں روکا۔‌

    ایک روز بنو مدلج کے کچھ لوگ حضرت عبدالمطلب سے ملنے کے لئے آئے… ان کے پاس اس وقت آپ ﷺ بھی تشریف فرما تھے ۔بنو مدلج کے لوگوں نے آپ ﷺ  کو دیکھا، یہ لوگ قیافہ شناس تھے، آدمی کا چہرہ دیکھ کر اس کے مستقبل کے بارے میں اندازے بیان کرتے تھے۔انہوں نے عبدالمطلب سے کہا۔

    اس بچے کی حفاظت کریں ، اس لیے کہ مقام ابراہیم پر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم کا نشان ہے، اس بچے کے پاؤں کا نشان بالکل اس نشان سے ملتا جلتا ہے، اس قدر مشابہت ہم نے کسی اور کے پاؤں کے نشان میں نہیں دیکھی… ہمارا خیال ہے۔  یہ بچہ نرالی شان کا مالک ہوگا۔  اس لیے اس کی حفاظت کریں ۔

    مقام ابراہیم خانہ کعبہ میں وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ معجزے کے طور پر اس پتھر پر ابراہیم علیہ السلام کے پیروں کے نشان پڑگئے تھے۔ لوگ اس پتھر کی زیارت کرتے ہیں ۔ یہی مقام ابراہیم ہے۔ چونکہ آپ ﷺ  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں ، اس لیے ان کے پاؤں کی مشابہت آپ ﷺ  میں ہونا قدرتی بات تھی۔

    ایک روز حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں حجر اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ایسے میں ان کے پاس نجران کے عیسائی آگئے۔ان میں ایک پادری بھی تھا ۔ اس پادری نے عبدالمطلب سے کہا۔

    ہماری کتابوں میں ایک ایسے نبی کی علامات ہیں جو اسماعیل کی اولاد میں ہونا باقی ہے، یہ شہر اس کی جائے پیدائش ہوگا، اس کی یہ یہ نشانیاں ہوں گی۔

    ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ کوئی شخص آپ ﷺ  کو لے کر وہاں آپہنچا۔ پادری کی نظر جونہی آپ ﷺ  پر پڑی، وہ چونک اٹھا، آپ ﷺ  کی آنکھوں ، کمر اور پیروں کو دیکھ کر وہ چلا اٹھا۔

    وہ نبی یہی ہیں ، یہ تمہارے کیا لگتے ہیں ۔

    عبدالمطلب بولے

    یہ میرے بیٹے ہیں ۔

    اس پر وہ پادری بولا۔

    اوہ۔  تب یہ وہ نہیں ۔  اس لیے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے پہلے ہوجائے گا۔

    یہ سن کر عبدالمطلب بولے۔

    یہ دراصل میرا پوتا ہے،  اس کے باپ کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب یہ پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔

    اس پر پادری بولا۔

    ہاں ۔  یہ بات ہوئی نا۔ آپ اس کی پوری طرح حفاظت کریں ۔

    عبدالمطلب کی آپ ﷺ  سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کھانا کھانے بیٹھتے تو کہتے۔

    میرے بیٹے کو لے آؤ۔

    آپ ﷺ  تشریف لاتے تو عبدالمطلب آپ ﷺ  کو اپنے پاس بٹھاتے ۔ آپ ﷺ  کو اپنے ساتھ کھلاتے۔

    بہت زیادہ عمر والے ایک صحابی حیدہ بن معاویہ ؓ کہتے ہیں

    میں ایک مرتبہ اسلام سے پہلے، جاہلیت کے زمانے میں حج کے لئے مکہ معظمہ گیا۔وہاں بیت الله کا طواف کررہا تھا ۔ میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا، جو بہت بوڑھا اور بہت لمبے قد کا تھا۔ وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا۔اور کہہ رہا تھا، اے میرے پروردگار میری سواری کو محمد کی طرف پھیر دے اور اسے میرا دست و بازو بنادے۔میں نے اس بوڑھے کو جب یہ شعر پڑھتے سنا تو لوگوں سے پوچھا۔

    یہ کون ہے؟

    لوگوں نے بتایا یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ۔ انہوں نے اپنے پوتے کو اپنے ایک اونٹ کی تلاش میں بھیجا ہے۔ وہ اونٹ گم ہوگیا ہے، اور وہ پوتا ایسا ہے جب بھی کسی گم شدہ چیز کی تلاش میں اسے بھیجاجاتا ہے تو وہ چیز لے کر ہی آتا ہے۔ پوتے سے پہلے یہ اپنے بیٹوں کو اس اونٹ کی تلاش میں بھیج چکے ہیں ، لیکن وہ ناکام لوٹ آئے ہیں ، اب چونکہ پوتے کو گئے ہوئے دیر ہوگئی ہے، اس لئے پریشان ہے، اور دعا مانگ رہے  ہیں ۔

    تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اونٹ کو لئے تشریف لا رہے ہے۔عبدالمطلب نے آپ ﷺ  کو، دیکھ کر کہا ۔

    میرے بیٹے ۔  میں تمہارے لئے اس قدر فکر مند ہوگیا تھا کہ شاید اس کا اثر کبھی میرے دل سے نہ جائے۔

    عبدالمطلب کی بیوی کا نام رقیہ بنت ابو سیفی تھا ۔ وہ کہتی ہیں۔

    قریش کئی سال سے سخت قحط سالی کا شکار تھے۔  بارشیں بالکل بند تھیں ۔ سب لوگ پریشان تھے، اسی زمانے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا، کوئی شخص خواب میں کہہ رہا تھا۔

    اے قریش کے لوگو۔تم میں سے ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے، اس کے ظہور کا وقت آ گیا ہے۔ اس کے ذریعے تمہیں زندگی ملے گی، یعنی خوب بارشیں ہوں گی، سرسبزی اور شادابی ہوگی تم اپنے لوگوں میں سے ایک ایسا شخص تلاش کرو جو لمبے قد کا ہو، گورے رنگ کا ہو، اس کی پلکیں گھنی ہوں ، بھنویں اور ابرو ملے ہوئے ہوں ، وہ شخص اپنی تمام اولاد کے ساتھ نکلے اور تم میں سے ہر خاندان کا ایک آدمی نکلے، سب پاک صاف ہوں اور خوشبو لگائیں ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیں پھر سب جبل ابو قیس پر چڑھ جائیں . پھر وہ شخص جس کا حلیہ بتایا گیا ہے، آگے بڑھے اور بارش کی دعا مانگے اور تم سب آمین کہو تو بارش ہو جائے گی۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    کتاب کا  نام : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانی(عبد اللہ فارانی،   ہفتہ وار رسالہ “بچوں کا  اسلام” کے ایڈیٹر اشتیاق احمد رحمۃ اللہ علیہ  کا قلمی نام ہے)

    براہ   مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں ۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 3 | ولادتِ نبوی ﷺ، عام الفیل اور واقعۂ اصحابِ فیل

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 3 | ولادتِ نبوی ﷺ، عام الفیل اور واقعۂ اصحابِ فیل

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  3

    حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی آنول نال کٹی ہوئی تھی۔{آنول نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔}

    آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔عبدالمطلب یہ دیکھ کر بےحد حیران ہوئے اور خوش بھی۔وہ کہا کرتے تھے، میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔{الہدایہ}

    آپ کی پیدائش سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔بارشیں شروع ہوگئیں ، خشک سالی دور ہوگئی۔درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔

    پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔سر آسمان کی طرف تھا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔{طبقات}

    آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں ۔

    حضور انور ﷺ فرماتے ہیں :

    “جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔” ( طبقات )

    آپ ﷺ کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں :

    “محمد( ﷺ )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصریٰ میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں ۔”

    علامہ سہلی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کی تعریف کی۔ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں :

    “اللہ اکبر کبیرا   والحمدللہ کثیرا    وسبحان اللہ بکرۃ  و  اصیلا ۔”

    “اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ۔”

    آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔

    تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں ۔ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے، ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں ۔زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ آپ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔مطلب یہ کہ اس بارے میں بالکل صحیح  بات کسی کو معلوم نہیں ۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول کا تھا اور دن پیر کا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔پیر کے روز ہی آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔

    آپ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یعنی ہاتھیوں والے سال میں ۔اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔

    آپ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی ۔

    واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ

    ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا ۔  حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں ۔  اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا :

    ” یہ لوگ کہاں جاتے ہیں “

    اسے جواب ملا:

    ” بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں “

    اس نے پوچھا:

    ” بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے”

    اسے بتایا گیا :

    ” پتھروں کا ہے “

    اس نے پوچھا :

    ” اس کا لباس کیا “

    بتایا گیا

    ” ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے “

    ابرہہ عیسائی تھا ۔  ساری بات سن کر اس نے کہا:

    “مسیح کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا “

    اس طرح اس نے سرخ ” سفید ” زرد ” اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا – سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے اس میں سونے کے پترے جڑوائے – اس کے درمیان میں جواہر لگوائے – اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا – پردے لگوائے۔  وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا ۔  اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہوگئیں – یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔

    پھر لوگوں سے کہا:

    ” اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی،  میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوادیا ہے لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو ۔

    اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے ۔ اس میں اعتکاف کرتے رہے ۔  حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے۔

    عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نا  ہوسکی ۔  وہ اس مصنوعی خانۂ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا ۔ آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کرکے چھوڑے گا ۔ پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی ۔ ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا :

    “یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے،  میں اسے ڈھادوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑدوں گا “

    اس نے شام و حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں ،  اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے ۔  اس ہاتھی کا نام محمود تھا ۔  یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا ۔  یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں ۔  اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے ۔  ان میں عبدالمطلِّب کے اونٹ بھی تھے ۔

    نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ عبدالمطلِّب کا دوست تھا ۔ عبدالمطلِّب اس سے ملے ۔ اور انٹوں کے سلسلے میں بات کی ۔  نفیل نے ابرہہ سے کہا :

    ” قریش کا سردار عبدالمطلِّب ملنا چاہتا ہے  یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے ۔  شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے ۔ لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے ۔ لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے، انہیں عطیات دیتا ہے، کھانا کھلاتا ہے۔ “

    یہ گویا عبدالمطلِّب کا تعارف تھا ۔ ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلالیا  ۔ ابرہہ نے ان سے پوچھا

    ” بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں ؟”

    انہوں نے جواب دیا :

    ” میں چاہتا ہوں کہ  میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں “

    ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا ۔  اس نے کہا :

    ” مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار  ہیں۔  بہت عِزّت اور بزرگی کے مالک ہیں ۔ لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے۔ کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عِزّت وابستہ ہے ۔ لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے۔ یہ کیا بات ہوئی “

    اس کی بات سن کر عبدالمطلِّب بولے۔

    “آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں ۔ اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے ۔  وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا ۔  مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں”۔

    ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا :

    “ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں “

    جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے ” تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے ۔ ان پر نشان لگادیے  ۔  انہیں قربانی کے لیے وقف کرکے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو۔

    پھر عبدالمطلِّب حِرا پہاڑ پر چڑھ گئے ۔  ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے ۔  انہوں نے اللہ سے درخواست کی :

    “اے اللہ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔”

    ادھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں ۔آنکس چبھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھاسکیں ۔چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    مصنف : عبداللہ فارانی

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم