Tag: حضرت آمنہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 7: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے واقعات اور حضرت آمنہ کی وفات

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 7: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے واقعات اور حضرت آمنہ کی وفات

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  7

    حلیمہ سعدیہؓ  فرماتی ہیں۔  میں پریشانی کی حالت میں مکہ پہنچی، آپ کے دادا عبدالمطلب کے پاس پہنچتے ہی میں نے کہا۔

    میں آج رات محمد کو لے کر آرہی تھی، جب میں بالائی علاقے میں پہنچی تو وہ اچانک کہیں گم ہوگئے۔ اب خدا کی قسم میں نہیں جانتی، وہ کہاں ہیں ؟

    عبدالمطلب یہ سن کر فورا کعبہ کے پاس کھڑے ہوگئے، انہوں نے آپ کے مل جانے کے لئے دعا کی۔ پھر آپ کی تلاش میں روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ ورقہ بن نوفل بھی تھے۔ غرض دونوں تلاش کرتے کرتے تہامہ کی وادی میں پہنچے۔ ایک درخت کے نیچے انہیں ایک لڑکا کھڑا نظر آیا۔ اس درخت کی شاخیں بہت گھنی تھیں ۔ عبدالمطلب نے پوچھا۔  لڑکے تم کون ہو؟

    حضور ﷺ چونکہ اس وقت تک قد نکال چکے تھے، اس لئے عبدالمطلب پہچان نہ سکے۔ آپ ﷺ  کا قد تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ جواب میں آپ ﷺ  نے فرمایا۔

    میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ۔

    یہ سن کر عبدالمطلب بولے۔

    تم پر میری جان قربان، میں ہی تمہارا دادا عبدالمطلب ہوں ۔

    پھر انہوں نے آپ ﷺ  کو اٹھاکر سینے سے لگایا اور رونے لگے، آپ ﷺ  کو گھوڑے پر اپنے آگے بٹھایا اور مکہ کی طرف چلے۔ گھر آکر انہوں نے بکریاں اور گائیں ذبح کیں اور مکے والوں کی دعوت کی۔

    آپ ﷺ  کے مل جانے کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ   حضرت آمنہ کے پاس آئیں تو انہوں نے پوچھا۔

    حلیمہ۔   اب آپ بچے کو کیوں لے آئیں ، آپ کی تو خواہش تھی کہ یہ ابھی آپ کے پاس اور رہیں ؟

    انہوں نے جواب دیا۔

    یہ اب بڑے ہوگئے ہیں اور اللہ کی قسم میں اپنی ذمے داری پوری کرچکی ہوں ، میں خوف محسوس کرتی رہتی ہوں ، کہیں انہیں کوئی حادثہ نہ پیش آجائے، لہٰذا انہیں آپ کے سپرد کرتی ہوں ۔

    حضرت آمنہ کو یہ جواب سن کر حیرت ہوئی۔ بولیں۔

    مجھے سچ سچ بتاؤ ماجرا کیا ہے؟

    تب انہوں نے سارا حال کہہ سنایا۔ حلیمہ سعدیہؓ  نے دراصل کئی عجیب وغریب واقعات دیکھے تھے۔ ان واقعات کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہوگئی تھیں ، پھر سینۂ مبارک چاک کئے جانے والا واقعہ پیش آیا تو وہ آپ ﷺ  کو فوری طور پر واپس کرنے پر مجبور ہوئیں ۔ وہ چند واقعات حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا اس طرح بیان کرتی ہیں۔

    ایک مرتبہ یہودیوں کی ایک جماعت میرے پاس سے گزری۔ یہ لوگ آسمانی کتاب تورات کو ماننے کا دعوی کرتے تھے، میں نے ان سے کہا، کیا آپ لوگ میرے اس بیٹے کے بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں ؟

    ساتھ ہی میں نے حضور اکرم ﷺ کی پیدائش کے بارے میں انہیں تفصیلات سنائیں ۔ یہودی تفصیلات سن کر آپس میں کہنے لگے۔

    اس بچے کو قتل کردینا چاہئے۔

    یہ کہہ کر انہوں نے پوچھا

    کیا یہ بچہ یتیم ہے؟

    میں نے ان کی بات سن لی تھی کہ وہ ان کے قتل کا ارادہ کر رہے ہیں ، سو میں نے جلدی سے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

    نہیں ۔ یہ ہے اس بچے کے باپ۔

    تب انہوں نے کہا۔

    اگر یہ بچہ یتیم ہوتا تو ہم ضرور اسے قتل کر دیتے۔

    یہ بات انہوں نے اس لیے کہی کہ انہوں نے پرانی کتابوں میں پڑھ رکھا تھا کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں ، ان کا دین سارے عالم میں پھیل جائے گا، ہر طرف ان کا بول بالا ہو گا، ان کی پیدائش اور بچپن کی یہ یہ علامات ہوں گی اور یہ کہ وہ یتیم ہوں گے. اب چونکہ ان سے حلیمہ سعدیہؓ  نے یہ کہہ دیا کہ یہ بچہ یتیم نہیں ہے تو انہوں نے خیال کر لیا کہ یہ وہ بچہ نہیں ہے۔ اس طرح انہوں نے بچے کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

    اسی طرح ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا، ایک مرتبہ وہ آپ ﷺ  کو عکاظ کے میلے میں لے آئیں ۔ جاہلیت کے دور میں یہاں بہت مشہور میلہ لگتا تھا۔  یہ میلہ طائف اور نخلہ کے درمیان میں لگتا تھا۔  عرب کے لوگ حج کرنے آتے تو شوال کا مہینہ اس میلے میں گزارتے، کھیلتے کودتے اور اپنی بڑائیاں بیان کرتے۔ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ  کو لیے بازار میں گھوم رہی تھیں کہ ایک کاہن کی نظر آپ ﷺ  پر پڑی. اسے آپ ﷺ  میں نبوت کی تمام علامات نظر آ گئیں ۔  اس نے پکار کر کہا۔

    لوگو، اس بچے کو مار ڈالو۔

    حلیمہؓ  اس کاہن کی بات سن کر گھبرا گئیں اور جلدی سے وہاں سے سرک گئیں ۔  اس طرح اللہ تعالٰی نے حضور ﷺ کی حفاظت فرمائی۔

    میلے میں موجود لوگوں نے کاہن کی آواز سن کر ادھر ادھر دیکھا کہ کس بچے کو قتل کرنے کے لیے کہا گیا ہے، مگر انہیں وہاں کوئی بچہ نظر نہیں آیا۔  اب لوگوں نے کاہن سے پوچھا

    کیا بات ہے، آپ کس بچے کو مار ڈالنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔

    اس نے ان لوگوں کو بتایا۔

    میں نے ابھی ایک لڑکے کو دیکھا ہے، معبودوں کی قسم وہ تمہارے دین کے ماننے والوں کو قتل کرے گا، تمہارے بتوں کو توڑے گا اور وہ تم سب پر غالب آئے گا۔

    یہ سن کر لوگ آپ ﷺ  کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑے لیکن ناکام رہے، حلیمہ سعدیہ آپ ﷺ کو لیے واپس آ رہی تھیں کہ ذی الحجاز سے ان کا گزر ہوا۔ یہاں بھی میلہ لگا ہوا تھا۔ اس بازار میں ایک نجومی تھا۔  لوگ اس کے پاس اپنے بچوں کو لے کر آتے تھے وہ بچوں کو دیکھ کر ان کی قسمت کے بارے میں اندازے لگاتا تھا۔ حلیمہ سعدیہؓ  اس کے نزدیک سے گزریں تو نجومی کی نظر حضور اکرم ﷺ پر پڑی، نجومی کو آپ ﷺ کی مہر نبوت نظر آ گئی، ساتھ ہی آپ ﷺ کی آنکھوں کی خاص سرخی اس نے دیکھ لی۔  وہ چلا  اٹھا۔

    اے عرب کے لوگو!  اس لڑکے کو قتل کر دو۔  یہ یقیناً تمہارے دین کے ماننے والوں کو قتل کرے گا، تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔  یہ کہتے ہوئے وہ آپ ﷺ  کی طرف جھپٹا لیکن اسی وقت وہ پاگل ہو گیا اور اسی پاگل پن میں مر گیا۔

    ایک اور واقعہ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ حبشہ کے عیسائیوں کی ایک جماعت حضور اکرم ﷺ کے پاس سے گزری۔  اس وقت آپ ﷺ حلیمہ سعدیہ ؓ کے ساتھ تھے اور وہ آپ ﷺ  کو آپ  کی والدہ کے حوالے کرنے جا رہی تھیں . ان عیسائیوں نے آپ ﷺ کے مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت کو دیکھا اور آپ ﷺ کی آنکھوں کی سرخی کو بھی دیکھا، انہوں نے حلیمہ سعدیہؓ  سے پوچھا۔

    کیا اس بچے کی آنکھوں میں کوئی تکلیف ہے؟

    انہوں نے جواب میں کہا۔

    نہيں، کوئی تکلیف نہیں۔  یہ سرخی تو ان کی آنکھوں میں قدرتی ہے۔

    ان عیسائیوں نے کہا۔

    تب اس بچے کو ہمارے حوالے کردو، ہم اسے اپنے ملک لے جائیں گے۔  یہ بچہ پیغمبر اور بڑی شان والا ہے ۔ہم اس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں ۔

    حلیمہ سعدیہ ؓ یہ سنتے ہی وہاں سے جلدی سےدور چلی گئیں ، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی والدہ کے پاس پہنچا دیا ۔

    ان واقعات میں جو سب سے اہم واقعہ ہے۔  وہ سینہ مبارک چاک کرنے والا تھا ۔ روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشانات موجود تھے جیساکہ آج کل ڈاکٹر حضرات آپریشن کے بعد ٹانکے لگاتے ہیں ، ٹانکے کھول دیئے جانے کے بعد بھی سلائی کے نشانات موجود رہتے ہیں ۔ اس واقعے کے بعد حلیمہ سعدیہؓ  اور  ان کے خاوند نے فیصلہ کیا کہ اب بچے کو اپنے پاس نہیں رکھنا چاہیے۔

    جب حضرت حلیمہ سعدیہؓ  نے آپ ﷺ کو حضرت آمنہ کے حوالہ کیا، اس وقت آپ ﷺ کی عمر ۴سال تھی ۔ ایک روایت یہ ملتی ہے کہ اس وقت عمر شریف پانچ سال تھی، ایک تیسری روایت کے مطابق عمر مبارک چھ سال ہو چکی تھی ۔

    جب حلیمہ سعدیہؓ  نے آپ صلی الله علیہ و سلم کو حضرت آمنہ کے حوالے کیا، تو اس کے کچھ دنوں بعد حضرت آمنہ انتقال کر گئیں ،والدہ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ حضرت آمنہ کی وفات مکہ اور مدینہ کے درمیان ابواء کے مقام پر ہوئی ۔آپ کو یہیں دفن کیا گیا۔

    ہوا  یہ کہ آپ ﷺ کی والدہ آپ ﷺ کو لے کر اپنے میکے مدینہ منورہ گئیں ۔آپ ﷺ کے ساتھ ام ایمن  رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ام ایمنؓ  کہتی ہیں ، ایک دن مدینہ کے دو یہودی میرے پاس آئے اور بولے۔

    ذرا محمد کو ہمارے سامنے لاؤ، ہم انہیں دیکھنا چاہتے ہیں وہ آپ ﷺ کو ان کے سامنے لے آئیں ۔انہوں نے اچھی طرح دیکھا پھر ایک نے اپنے ساتھی سے کہا۔

    یہ اس امت کا نبی ہے، اور یہ شہر ان کی ہجرت گاہ ہے، یہاں زبردست جنگ ہوگی، قیدی پکڑے جائیں گے۔

    آپ ﷺ کی والدہ کو یہودیوں کی اس بات کا پتہ چلا تو آپ ڈر گئیں اور آپ ﷺ کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئیں۔   مگر راستے ہی میں ابواء کے مقام پر وفات پاگئیں ۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  5

    ملک شام کاایک یہودی عیص مکہ سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا۔وہ جب بھی کسی کام سے مکہ آتا، وہاں کے لوگوں سے ملتا تو ان سے کہتا۔

    بہت قریب کے زمانے میں تمہارے درمیان ایک بچہ پیدا ہوگا، سارا عرب اس کے راستے پر چلے گا۔ اس کے سامنے ذلیل اور پست ہوجائے گا۔وہ عجم اور اس کے شہروں کا بھی مالک ہوجائے گا۔یہی اس کا زمانہ ہے۔جو اس کی نبوت کے زمانے کو پائے گا اور اس کی پیروی کرے گا، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔جس خیر اور بھلائی کی وہ امید کرتاہے، وہ اس کو حاصل ہوگی اور جو شخص اس کی نبوت کا زمانہ پائے گا مگر اس کی مخالفت کرے گا، وہ اپنے مقصد اور آرزوؤں میں ناکام ہوگا۔

    مکہ معظمہ میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا، وہ یہودی اس بچے کے بارے میں تحقیق کرتا اور کہتا، ابھی وہ بچہ پیدا نہیں ہوا۔آخر جب نبی کریم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو عبدالمطلب اپنے گھر سے نکل کر اس یہودی کے پاس پہنچے۔اس کی عبادت گاہ کے دروازے پر پہنچ کر انہوں آواز دی۔عیص نے پوچھا۔

    کون ہے؟

    انہوں نے اپنا نام بتایا۔پھر اس سے پوچھا۔

    تم اس بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

    اس نے انہیں دیکھا، پھر بولا۔

    ہاں ! تم ہی اس کے باپ ہوسکتے ہو، بےشک وہ بچہ پیدا ہوگیا ہے جس کے بارے میں ، میں تم لوگوں سے کہا کرتا تھا۔وہ ستارہ آج طلوع ہوگیا ہے جو اس بچے کی پیدائش کی علامت ہے۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت اس بچے کو درد ہورہا ہے، یہ تکلیف اسے تین دن رہے گی، اور اس کے بعد یہ ٹھیک ہوجائے گا۔

    راہب نے جو یہ کہا تھا کہ بچہ تین دن تک تکلیف میں رہے گا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے تین دن تک دودھ نہیں پیا تھا اور یہودی نے جو یہ کہا تھا کہ ہاں ! آپ ہی اس کے باپ ہوسکتے ہیں ، اس سے یہ مراد ہے کہ عربوں میں دادا کو بھی باپ کہہ دیا جاتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک بار خود فرمایا تھا۔

    میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔

    یہودی نے عبدالمطلب سے یہ بھی کہا تھا۔

    اس بارے میں اپنی زبان بند رکھیں ، یعنی کسی کو کچھ نہ بتائیں ، ورنہ لوگ اس بچے سے زبردست حسد کریں گے، اتنا حسد کریں گے کہ آج تک کسی نے نہیں کیا اور اس کی اس قدر سخت مخالفت ہوگی کہ دنیا میں کسی اور کی اتنی مخالفت نہیں ہوئی۔

    پوتے کے متعلق یہ باتیں سن کر عبدالمطلب نے عیص سے پوچھا۔

    اس بچے کی عمر کتنی ہوگی؟

    یہودی نے اس سوال کے جواب میں کہا۔

    اگر اس بچے کی عمر طبعی ہوئی تو بھی ستر سال تک نہیں ہوگی۔بلکہ اس سے پہلے ہی 61 یا 63 سال کی عمر میں وفات ہوجائے گی اور اس کی امت کی اوسط عمر بھی اتنی ہوگی، اس کی پیدائش کے وقت دنیا کے بت ٹوٹ کر گر جائیں گے۔

    یہ ساری علامات اس یہودی نے گزشتہ انبیاء کی پیش گوئیوں سے معلوم کی تھیں اور سب سب بالکل سچ ثابت ہوئیں ۔

    قریش کے کچھ لوگ عمرو بن نفیل اور عبداللہ بن جحش وغیرہ ایک بت کے پاس جایا کرتے تھے۔یہ اس رات بھی اس کے پاس گئے، جس رات آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔انہوں نے دیکھا وہ بت اوندھے منہ گرا پڑا ہے۔ان لوگوں کو یہ بات بری لگی، انہوں نے اس کو اٹھایا، سیدھا کردیا مگر وہ پھر گرگیا۔انہوں نے پھر اس کو سیدھا کیا، وہ پھر الٹا ہوگیا۔ان لوگوں کو بہت حیرت ہوئی، یہ بات بہت عجیب لگی۔تب اس بت سے آواز نکلی۔

    یہ ایک ایسے بچے کی پیدائش کی خبر ہے، جس کے نور سے مشرق اور مغرب میں زمین کے تمام گوشے منور ہوگئے ہیں ۔

    بت سے نکلنے والی آواز نے انہیں اور زیادہ حیرت زدہ کردیا۔

    اس کے علاوہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایران کے شہنشاہ کسریٰ نوشیرواں کا محل ہلنے لگا اور اس میں شگاف پڑگئے۔نوشیرواں کا یہ محل نہایت مضبوط تھا۔بڑے بڑے پتھروں اور چونے سے تعمیر کیا گیا تھا۔اس واقعے سے پوری سلطنت میں دہشت پھیل گئی۔شگاف پڑنے سے خوفناک آواز بھی نکلی تھی۔محل کے چودہ کنگرے ٹوٹ کر نیچے آگرے تھے۔

    آپ کی پیدائش پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ فارس کے تمام آتش کدوں کی وہ آگ بجھ گئی جس کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کو بجھنے نہیں دیتے تھے، لیکن اس رات میں ایک ہی وقت میں تمام کے تمام آتش کدوں کی آگ آناً فاناً بجھ گئی۔آگ کے پوجنے والوں میں رونا پیٹنا مچ گیا۔

    کسریٰ کو یہ تمام اطلاعات ملیں تو اس نے ایک کاہن کو بلایا۔اس نے اپنے محل میں شگاف پڑنے اور آتش کدوں کی آگ بجھنے کے واقعات اسے سناکر پوچھا۔

    آخر ایسا کیوں ہورہا ہے۔

    وہ کاہن خود تو جواب نہ دے سکا، تاہم اس نے کہا۔

    ان سوالات کے جوابات میرا ماموں دے سکتا ہے، اس کا نام سطیح ہے ۔

    نوشیرواں نے کہا

    ٹھیک ہے، تم جا کر ان سوالات کے جوابات لاؤ۔

    وہ گیا، سطیح سے ملا، اسے یہ واقعات سنائے، اس نے سن کر کہا۔

    ایک عصا والے نبی ظاہر ہوں گے جو عرب اور شام پر چھا جائیں گے اور جو کچھ ہونے والا ہے، ہو کر رہے گا۔

    اس نے یہ جواب کسریٰ کو بتایا ۔ اس وقت تک کسریٰ نے دوسرے کاہنوں سے بھی معلومات حاصل کر لی تھیں ، چنانچہ یہ سن کر اس نے کہا۔

    تب پھر ابھی وہ وقت آنے میں دیر ہے۔ (یعنی ان کا غلبہ میرے بعد ہو گا)

    پیدائش کے ساتویں دن عبدالمطلب نے آپﷺ  کا عقیقہ کیا اور نام  “محمد”   رکھا۔ عربوں میں اس سے پہلے یہ نام کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ قریش کو یہ نام عجیب سا لگا۔چنانچہ کچھ لوگوں نے عبدالمطلب سے کہا۔

    اے عبدالمطلب! کیا وجہ ہے کہ تم نے اس بچے کا نام اس کے باپ دادا کےنام پر نہیں رکھا بلکہ محمد رکھا ہے اور یہ نام نہ تمہارے باپ دادا میں سے کسی کا ہے نہ تمہاری قوم میں سے کسی کا ہے۔

    عبدالمطلب نے انہیں جواب دیا۔

    میری تمنا ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ اس بچے کی تعریف فرمائیں اور زمین پر لوگ اس کی تعریف کریں ۔

    محمد کے معنی ہیں جس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے۔

    اسی طرح والدہ کی طرف سے آپ کا نام احمد رکھا گیا۔ احمد نام بھی اس سے پہلے کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ مطلب یہ کہ ان دونوں ناموں کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی اور کوئی بھی یہ نام نہ رکھ سکا۔ احمد کا مطلب ہے سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔

    علامہ سہیلی نے لکھا ہے آپ ﷺ  احمد پہلے ہیں اور محمد بعد میں ۔ یعنی آپ ﷺ  کی تعریف دوسروں نے بعد میں کی، اس سے پہلے آپ ﷺ  کی شان یہ ہے کہ آپ ﷺ  اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ حمد و ثنا کرنے والے ہیں ۔ پرانی کتابوں میں آپ ﷺ  کا نام احمد ذکر کیا گیا ہے۔

    اپنی والدہ کے بعد آپ ﷺ  نے سب سے پہلے ثوبیہ کا دوھ پیا، ثوبیہ نبی کریم ﷺ کے چچا  ابو لہب کی باندی تھیں ۔ ان کو ابولہب نے آپ ﷺ  کی پیدائش کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا۔ ثوبیہ نے آپ ﷺ  کو چند دن تک دودھ پلایا۔ انہی دنوں ثوبیہ کے ہاں اپنا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ آپ ﷺ  کی والدہ نے آپ ﷺ  کو صرف نو دن تک دودھ پلایا۔ انکے بعد ثوبیہ نے پلایا۔ پھر دودھ پلانے کی باری حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی آئی۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اپنی بستی سے روانہ ہوئیں ۔ ان کے ساتھ ان کا دودھ پیتا  بچہ اور شوہر بھی تھے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا دوسری عورتوں کے بعد مکہ میں داخل ہوئیں ۔ ان کا خچر بہت کمزور اور مریل تھا ۔ ان کے ساتھ ان کی کمزور اور بوڑھی اونٹنی تھی۔ وہ بہت آہستہ چلتی تھی۔ ان کی وجہ سے حلیمہ رضی اللہ عنہا قافلے سے بہت پیچھے رہ جاتی تھیں ۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ سب سے آخر میں مکہ میں داخل ہوئیں ۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 2 | حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کے واقعات اور ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 2 | حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کے واقعات اور ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  2

    عبدالمطلب کو یہ حکم اسوقت دیا گیا  جب وہ اپنی منّت بھول چکے تھے ۔  پہلے خواب میں ان سے کہا گیا  ” منّت پوری کرو ”  انھوں نے ایک مینڈھا ذبح کرکے غریبوں کو کھلادیا ۔  پھر خواب آیا   “اس سے بڑی پیش کرو ” اس مرتبہ انھوں نے ایک بیل ذبح کردیا ۔  خواب میں پھر یہی کہا گیا اس سے بھی بڑی پیش کرو ۔  اب انھوں نے اونٹ ذبح کیا ۔ پھر خواب آیا  اس سے بھی بڑی چیز پیش کرو ۔  انھوں نے پوچھا    ۔ اس سے بھی بڑی چیز کیا ہے ۔  تب کہا گیا

     اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ذبح کرو جیسا کہ تم نے منّت مانی تھی۔

    اب انھیں اپنی منّت یاد آئی ۔  اپنے بیٹوں کو جمع کیا ۔  ان سے منّت کا ذکر کیا ۔ سب کے سر جھُک گئے  ۔ کون خود کو ذبح کرواتا ” آخر عبداللہ بولے

    ” ابّاجان آپ مجھے ذبح کردیں”

    یہ سب سے چھوٹے تھے ۔  سب سے خوبصورت تھے ۔  سب سے زیادہ محبّت بھی عبدالمطلِّب کو انہی سے تھی لہٰذا انھوں نے قرعہ اندازی کرنے کا ارادہ کیا ۔ تمام بیٹوں کے نام لکھ کر قرعہ ڈالا گیا ۔  عبداللہ کا نام نکلا  اب انھوں نے چُھری لی  “عبداللہ کو بازو سے پکڑا  اور انھیں ذبح کرنے کے لیے نیچے لٹادیا۔

    جونہی باپ نے بیٹے کو لٹایا  ۔ عبّاس سے ضبط نہ ہوسکا، فوراً آگے بڑھے اور بھائی کو کھینچ لیا  ۔ اس وقت یہ خود بھی چھوٹے سے تھے ۔ ادھر باپ نے عبداللہ کو کھینچا  ۔ اس کھینچا تانی میں عبداللہ کے چہرے پر خراشیں بھی آئیں  ۔ ان خراشوں کے نشانات مرتے دم تک باقی رہے۔

    اسی دوران بنو مخزوم کے لوگ آگئے انھوں نے کہا

    آپ اس طرح بیٹے کو ذبح نہ کریں ،  اس کی ماں کی زندگی خراب ہوجائے گی، اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے بیٹے کا فدیہ دے دیں۔

    اب سوال یہ تھا کہ فدیہ کیا  دیا جائے، اس کی ترکیب یہ بتائی گئی کہ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر دس اونٹ لکھے جائیں، دوسرے پر عبداللہ کا نام لکھا جائے،  اگر دس اونٹ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ قربان کردئے جائیں،  اگر عبداللہ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ کا اضافہ کردیا جائے ۔  پھر بیِس اونٹ والی پرچی اور عبداللہ والی پرچی ڈالی جائے ۔  اب اگر بیِس اونٹ والی پرچی نکلے تو بیِس اونٹ قربان کردئے جائیں ،  ورنہ دس اونٹ اور بڑھادئیے جائیں ، اس طرح دس دس کرکے اونٹ بڑھاتے جائیں۔

    عبدالمطلب نے ایسا ہی کیا ہے  ۔دس دس اونٹ بڑھاتے چلے گئے ۔ ہر بار عبداللہ کا نام نکلتا چلا گیا ،  یہاں تک اونٹوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی ۔  تب کہیں جاکر اونٹوں والی پرچی نکلی ۔  اس طرح ان کی جان کے بدلے سو اونٹ قربان کیے گئے ۔  عبدالمطلب کو اب پورا اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالٰی نے عبداللہ کے بدلہ سو اونٹوں کی قربانی منظور کرلی ہے ۔  انھوں نے کعبے کے پاس سو اونٹ قربان کیے اور کسی کو کھانے سے نہ روکا ۔ سب انسانوں ،  جانوروں اور پرندوں نے ان کو کھایا ۔

    امام زہری کہتے ہیں کہ عبدالمطلِّب پہلا آدمی ہے جنہوں نے آدمی کی جان کی قیمت سو اونٹ دینے کا طریقہ شروع کیا ۔ اس سے پہلے دس اونٹ دیے جاتے تھے ۔ اس کے بعد یہ طریقہ سارے عرب میں جاری ہوگیا ۔ گویا قانون بن گیا کہ آدمی کا فدیہ سو اونٹ ہے۔نبی کریم ﷺ کے سامنے جب یہ ذکر آیا تو آپ نے اس فدیہ کی تصدیق فرمائی، یعنی فرمایا کہ یہ درست ہے۔

    اور اسی بنیاد پر نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں 

    میں دو ذبیحوں یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت عبداللہ کی اولاد ہوں۔

    حضرت عبداللہ قریش میں سب سے زیادہ حسین تھے ان کا چہرہ روشن ستارہ کی مانند تھا قریش کی بہت سی لڑکیاں ان سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر حضرت عبداللہ کی حضرت آمنہ سے شادی ہوئی۔

    حضرت آمنہ وہب بن عبدمناف بن زہرہ کی بیٹی تھیں شادی کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔

    یہ شادی کے لئے اپنے والد کے ساتھ جارہے تھے راستہ میں ایک عورت کعبہ کے پاس بیٹھی نظر آئی، یہ عورت ورقہ بن نوفل کی بہن تھی۔ورقہ بن نوفل قریش کے ایک بڑے عالم تھے۔ورقہ بن نوفل سے ان کی بہن نے سن رکھا تھا کہ وقت کے آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہےاور انکی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہوگی کہ ان کے والد کے چہرے میں نبوت کا نور چمکتا ہوگا۔جونہی اس نے عبداللہ کو دیکھا فوراًﹰ اس کے ذہن میں یہ بات آئی، اس نے سوچا ہونہ ہو یہ وہ شخص ہے جو پیدا ہونے والے نبی کے باپ ہوں گے ۔چنانچہ اس نے کہا:

    اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو۔ میں بدلہ میں تمہیں اتنے ہی اونٹ دوں گی۔ جتنے تمہاری جان کے بدلے میں ذبح کئے گئے تھے۔

    اس پر انہوں نے جواب دیا

    میں اپنے باپ کے ساتھ ہوں ۔ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔نہ ان سے الگ ہوسکتا ہوں اور میرے والد باعزت آدمی ہیں ، اپنی قوم کے سردار ہیں ۔

    بہر حال ان کی شادی حضرت آمنہ سے ہوگئی۔آپ قریش کی عورتوں میں نسب اور مقام کے اعتبار سے افضل تھیں ۔

    حضرت آمنہ، حضرت عبداللٰہ کے گھر آگئیں ۔ آپ فرماتی ہیں۔

    جب میں ماں بننے والی ہوئی تو میرے پاس ایک شخص آیا، یعنی ایک فرشتہ انسانی شکل میں آیا ۔  اس وقت میں جاگنے اور سونے کے درمیانی حالت میں تھی(عام طور پر اس حالت کو غنودگی کہا جاتا ہے) ۔ اس نے مجھ سے کہا

    کیا  تمہیں معلوم ہے، تم اس امت کی سردار اور نبی کی ماں بننے والی ہو۔

    اس کے بعد وہ پھر اس وقت آیا  ۔جب نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم پیدا ہونے والے تھے ۔  اس مرتبہ اس نے کہا

    جب تمہارے ہاں پیدائش ہو تو کہنا

    میں اس بچے کے لیے اللٰہ کی پناہ چاہتی ہوں ، ہر حسد کرنے والے کے شر اور برائی سے ۔ پھر تم اس بچے کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ ان کا نام تورات میں احمد ہے اور زمین اور آسمان والے ان کی تعریف کرتے ہیں ، جب کہ قرآن میں ان کا نام محمد ہے، اور قرآن ان کی کتاب ہے ۔ (البدایہ والنہایہ)

    ایک روایت کے مطابق فرشتے نے ان سے یہ کہا۔

    تم وقت کے سردار کی ماں بننے والی ہو، اس بچے کی نشانی یہ ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک نور ظاہر ہوگا، جس سے ملک شام اور بصرٰی کے محلات بھر جائیں گے ۔  جب وہ بچہ پیدا ہوجائے گا تو اس کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ تورات میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں ، اور انجیل میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں اور قرآن میں ان کا نام محمد ہے ۔ (البدایہ والنہایہ)

    حضرت عبداللٰہ کے چہرے میں جو نورچمکتا تھا، شادی کے بعد وہ حضرت آمنہ کے چہرے میں آگیا تھا ۔

    امام زہری فرماتے ہیں ، حاکم نے یہ روایت بیان کی ہےاوراس کوصحیح قراردیا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور نبی کریم صلی اللٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا

    اے اللٰہ کے رسول! ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتایئے ۔

    آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

    میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں ، اپنے بھائی عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور خوشخبری ہوں ، جب میں اپنی والدہ کے شکم میں آیا تو انہوں نے دیکھا، گویا ان سے ایک نور ظاہر ہوا ہے جس سے ملک شام میں بصرٰی کے محلات روشن ہوگئے ۔ “

    حضرت آمنہ نے حضرت حلیمہ سعدیہ سے فرمایا تھا:

    “میرے اس بچے کی شان نرالی ہے، یہ میرے پیٹ میں تھے تو مجھے کوئی بوجھ اور تھکن محسوس نہیں ہوئی۔”

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ آخری پیغمبر ہیں جنہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشخبری سنائی ہے ۔  اس بشارت کا ذکر قرآن میں بھی ہے، سورہ صف میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں

    اور اسی طرح وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات آچکی ہے، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والا ہے ، ان کا نامِ مبارک احمد ہوگا، میں ان کی بشارت دینے والا ہوں ۔

    اب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ بشارت سناچکے تھے، اس لیے ہر دور کے لوگ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد کا بےچینی سے انتظار کررہے تھے، ادھرآپ کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت عبداللّٰہ انتقال کرگئے ۔  سابقہ کتب میں آپ کی نبوت کی ایک علامت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ آپ کے والد کا انتقال آپ کی ولادت سے پہلے ہوجائے گا ۔ حضرت عبداللہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے گئے تھے، اس دوران بیمار ہوگئے اور کمزور ہوکر واپس لوٹے ۔  قافلہ مدینہ منورہ سے گزرا تو حضرت عبداللہ اپنی ننھیال یعنی بنو نجار کے ہاں ٹھہرے۔  ان کی والدہ بنو نجار سے تھیں ، ایک ماہ تک بیمار رہے اور انتقال کرگئے – انہیں یہیں دفن کردیا گیا ۔

    تجارتی قافلہ جب حضرت عبداللہ کے بغیر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبدالمطلب کو پتا چلا کہ ان کے بیٹے عبداللہ بیمار ہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں اپنی ننھیال میں ہیں تو انہیں لانے کے لیے عبدالمطلب نے اپنے بیٹے زبیر کو بھیجا – جب یہ وہاں پہنچے تو عبداللہ کا انتقال ہوچکا تھا ۔  مطلب یہ کہ آپ ﷺ اس دنیا میں اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد تشریف لائے ۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    مصنف : عبداللہ فارانی

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم