Tag: تاریخ فلسطین حصہ اول

  • فلسطین کی تاریخ — حصہ اول

    فلسطین کی تاریخ — حصہ اول

    مقرر: علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    تعارفِ علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم

    علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم عصرِ حاضر کے معروف عالم، محقق، مدرس، مصنف اور خطیب ہیں۔ آپ نے سنہ 2008ء میں دارالعلوم کراچی سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔ علمی و تحقیقی میدان میں آپ کی خصوصی دلچسپی علومِ ولی اللّٰہی، جدید فکری مسائل، ردِّ الحاد، تصنیف و تدوین اور اسلامی علوم کی تدریس سے وابستہ ہے۔ آپ ندوۃ التحقیق الاسلامی، کوہاٹ کے بانی اور سہ ماہی “البیان“ کے مدیر ہیں، جبکہ علمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اشرف لائبریری بھی قائم کی۔ آپ اپنے اکابر و مشائخ کے علمی ورثے کو محفوظ، مرتب اور مدون کرنے کے ساتھ دینی و فکری موضوعات پر مؤثر انداز میں علمی و اصلاحی گفتگو کرتے ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں آپ حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفۂ مجاز بھی ہیں۔

    تحریری وضاحت

    یہ تحریر علامہ محمد طفیل کوہاٹی دامت برکاتہم کے اس بیان کا تحریری متن ہے جو جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ارشاد فرمایا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے بیان کو آڈیو سے متن کی صورت میں منتقل کرکے مضمون کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں مقرر کے بیان اور گفتگو کو حتی الامکان اسی ترتیب اور الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔

    فلسطین کی تاریخ

    بمقام: جامع مسجد عید گاہ کلاں، ڈیرہ اسماعیل خان

    اما بعد!

    أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

    سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَىٰ صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِيمُ

    میرے انتہائی واجب الاحترام حضراتِ علمائے کرام! پہلے تو میں آپ حضرات سے پیشگی معذرت کرتا ہوں کہ آپ حضرات کا علم، عمل، تجربہ یہ بہت بڑا ہوا ہے اور میں ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ صحیح حقیقت میں میں بھی طالب علم ہوں اور بہت ساری چیزیں میں بھی سیکھ رہا ہوں۔ اس وقت بھی میں پڑھ رہا ہوں، بہت سے استادوں سے پڑھ رہا ہوں یا میرے ساتھی گواہ موجود ہیں کہ میں پڑھ رہا ہوں، میں طالب علم ہوں۔

    اس لیے یہ نہ تو کوئی بیان ہے، نہ کوئی تقریر ہے۔ آپ بس تقریر آپ نے قاری عرفان صاحب کی سن لی، بس بات وہی ہے جو انہوں نے فرمائی۔ یہ ہمارا آپس میں ایک مذاکرہ ہے اور مذاکرے میں کبھی کبھی بڑے حضرات چھوٹے کو بھی حکم دے دیتے ہیں کہ بھئی آپ بھی اپنا یاد سبق سنائیں۔

    تو ہم نے اپنے بڑوں سے فلسطین کے کاز اور مسئلے کے حوالے سے جو کچھ سنا ہے وہ سبق میں دہرا لوں گا، اب اللہ کرے کہ مجھے سارا یاد آ جائے اور صدیوں کا مسئلہ ہے، ایک صدی سوا صدی کا مسئلہ ہے، اتنی آسانی سے مختصر سے وقت میں سمٹنے والے بھی نہیں ہیں، تو کوشش کریں گے کہ وہ ہیڈلائن کی صورت میں ہم آپس میں مذاکرہ کرتے رہیں اور باتیں آپ کو بھی اس سے یاد آتی رہیں گی، اِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔

    میں نے اپنی آسانی کے لیے یہ کیا ہے کہ تھوڑا ابھی ایک گھنٹہ ڈیڑھ پہلے میں نے بیٹھ کے ذرا دماغ میں وہ معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ میرا حادثہ یہ ہے کہ میں بہت ساری باتیں یاد کر کے آتا ہوں، پھر بعد میں میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ یار وہ فلاں بات تو چھوٹ گئی، وہ بھی کرنی تھی اور قاری احسان صاحب نے پچھلی دفعہ ایک بیان میں مجھے کہا کہ جو اصل بات تھی وہ آپ نے چھوڑ دی۔

    تو اس وجہ سے میں نے یہ کیا کہ کیوں کہ بات سے بات نکلتی ہے تو ضروری باتیں بعض اوقات رہ جاتی ہیں تو میں نے ایک ترتیب لگائی ہے کہ میں نے کون کون سی بات عرض کرنی ہے۔

    اچھا میرے بھائیو یہ سب آپ حضرات کو معلوم ہے کہ فلسطین کی تاریخ شروع کہاں سے ہوتی ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت سے، کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سر زمین میں اولاً ہجرت فرمائی وہیں سے فلسطین کا تذکرہ شروع ہوا۔

    پھر بنی اسرائیل وہاں آباد ہوئے، حضرت اسحاق آباد ہوئے، پھر ان کے بیٹے حضرت ییعقوب جن کا لقب اسرائیل تھا، ان کی اولاد آباد ہوئی اور پھر بنی اسرائیل جو ہے وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی وجہ سے مصر گئے۔

    پھر مصر میں انہوں نے جو محکومی اور مقہوری کا دور گزارا ہے جس کے لیے اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے دو مشن تھے، ایک تو فرعون کو دعوتِ ایمان اور ایک بنی اسرائیل کا استخلاص، ان کی آزادی۔ یہ ایک سیاسی مشن تھا، ایک دعوتی مششن تھا۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس مشن پہ تیس سال کام کیا ہے، قبطیوں میں فرعونیوں میں تیس سال کام کیا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو یہ آزادی تھی، بنی اسرائیل کی آزادی کی جدوجہد ہے یہ قرآن پاک نے مختصر مختصر اشارات کی شکل میں بیان کی ہے، ان کی جو وہ تھی، حکمتِ عملی تھی…

    وہ بڑی عجیب ہے۔ فرعونی سیاست کبھی قرآن نے نقشہ کھینچا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حکمت عملی کبھی نقشہ کھینچا ہے کہ تیس سال انہوں نے کس انداز سے اس سماج اور معاشرت میں اپنی قوم کو آزادی دینے کے لیے محنت کی ہے۔ فرعون کی کابینہ تک انہوں نے اپنے لوگوں کو پہنچایا ہے، فرعون کی کوئی میٹنگ ان سے خفیہ نہیں تھی، ہر میٹنگ کی کارگزاری حضرت موسیٰ تک پہنچ جاتی تھی۔ بنی اسرائیلیوں کو فرعونی آبادیوں سے نکال کر انہوں نے نو آبادیاتی نظام قائم کر کے ان کی اپنی کالونیاں بنائی ہیں، قرآن میں اس کی طرف اشارات ہیں تاکہ اگر استخلاصِ وطن کا آخری مرحلہ ہو تو اپنی قوم ایک جگہ اکٹھی ہو اور یہاں سے نکلنا اور یہ ساری باتیں قرآنِ پاک آپ حضرات کے سامنے آپ یہ پوری جدوجہد آپ کے ساتھ۔

    اس طویل جدوجہد کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو جو آزادی ملی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ آپ ارضِ موعودہ کی طرف واپس جائیں گے۔ پھر حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے زمانے میں فلسطین ان کو دوبارہ مل گیا۔ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے جو حکومت ان کی قائم کی، اس کو بائبل کے اندر قاضیوں کا عہد کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ہر قبیلے کے گورنر بنائے تھے، وہ قاضی بھی ہوتے تھے، سیاسی گورنر بھی ہوتے تھے، وہی ان کا نظم، نظمِ حکومت چلاتے تھے۔

    بنی اسرائیل سے اللہ کے وعدے تھے کہ یہ برکت والی زمین اللہ نے آپ کو دی ہے، یہ مرکزِ کائنات ہے، مرکزِ ہدایت ہے، اقصی اور یہ مبارک خطہ اللہ نے یہاں برکات رکھیں، بے درپے یہاں انبیاء بھیجے اور اللہ کے پیغامِ ہدایت کا یہ مرکز رہا اور بنی اسرائیل کو اسی وجہ سے کہ چونکہ وہ اس وقت سارے عالمین پر فضیلت رکھتے تھے، اس مرکز کی تولیت بھی دی گئی تھی۔

    لیکن انہیں کہا گیا تھا کہ اگر آپ نے انحراف کیا اللہ تعالی کے دیے ہوئے دستور سے تو آپ پٹو گے اور یہ آپ کے ہاتھ سے جائے گا۔

    اور جس وقت پھر بنی اسرائیل اب اس منہج سے ہٹ گئے جس پر انہیں حضرت یوشع بن نون نے چھوڑا تھا تو اشدودی ان پہ غالب آ گئے—میں شارٹ شارٹ بیان کروں گا—اشدودیوں نے ان کو مہاجر کیمپوں کی طرف دھکیل دیا، علاقہ ان کا قبضہ کر لیا، اردن کے قریب پٹی پر ان کے سارے کیمپ تھے، پھر ان قاضیوں میں سے جو حضرت یوشع نے مقرر کیے تھے، ان میں سے ایک قاضی تھے سموئیل، اس کو اللہ تعالی نے نبی مبعوث کر دیا۔

    پھر جناب یہ بنی اسرائیل پھر اکٹھے ہو گئے، انہوں نے حضرت سموئیل سے گزارش کی کہ کوئی ہمارا حکمران مقرر کر دیں تاکہ ہم دوبارہ آزادی حاصل کر لیں۔ پھر جناب وہ محنت ہو گئی کہ طالوت کو انہوں نے مقرر کیا، پھر طالوت نے ایک مہاجر کیمپ سے اٹھی ہوئی تحریک اس کی بنیاد پہ اشدودیوں جیسی منظم حکومت کو شکست دے دی، ان کا جو حکمران تھا اس وقت جالوت، اس کو قتل کر دیا گیا، پھر طالوت کا جو نظمِ حکومت قائم ہوا، اس کو بعد میں حضرت داؤد علیہ السلام نے سنبھالا، پھر حضرت داؤد کے بعد حضرت سلیمان کے عہد میں تیسرے عہد میں یہ سلطنت بہت پھیل گئی اور اس کے جو حدود تھے، وہ اس وقت کی دریافت آبادی میں مکمل پھیل گئے تھے۔

    تو مہاجر کیمپ سے اٹھی ہوئی تحریک کو اللہ تعالی نے یہاں تک تیسری نسل میں پہنچا دیا۔ یہودی حضرت داؤد کو اور حضرت سلیمان کو نبی نہیں مانتے۔ یہ آپ حضرات کے علم میں ہوگا، وہ ان کو محض حکمران مانتے ہیں، کنگ ڈیویڈ، ان کا جو وہ ہے نظریہ حضرت داؤد کے بارے میں کہ وہ کنگ تھے، نبی ان کو نہیں مانتے۔

    تو بہرحال جو نظمِ حکومت ان کے لیے حضرت سلیمان نے قائم کیا تھا، حضرت سلیمان کی وفات کے بعد پھر ان کے جانشینوں نے اس کے حصے بخرے کر دیے، دو حصوں میں تقسیم ہو گئے، پھر ان پر اللہ تعالی نے ایرانی بادشاہ بختِ نصر کو مسلط کر دیا، اس نے ان کو مارا پیٹا، تورات کے نسخے جلا دیے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو معبد بنایا تھا—ہم تو مسجد کہیں گے، وہ اسے ٹیمپل کہتے ہیں—وہ معبد انہوں نے گرا دیا اور جو ہے وہ مسجدِ اقصی کی جو عمارت تھی، وہ انہوں نے گرا دی، بختِ نصر نے تباہی پھیر دی ان کے

    پھر جناب حضرت عزیر علیہ السلام جیسے آپ کو پتہ ہے آئے، پھر جناب کاتبِ عزرا کے نام سے بائبل میں ان کا ذکر ہے، پھر انہوں نے تورات لکھوا دی، اللہ تعالی نے دوبارہ ان کو اپنے علاقوں میں حکومت دے دی، پھر جناب یہ یہودیوں کا اقتدار چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہو گئے۔ حضرت عیسیٰ کے ساتھ جو مظالم انہوں نے کیے وہ تاریخ میں ہیں، آپ کے سامنے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو ظلم و ستم ان کے حواریوں کے ساتھ انہوں نے کیا، اللہ تعالی کے اس دستور کو جب انہوں نے ٹھکرایا تو ستر عیسوی میں ٹیٹس رومی پھر اللہ تعالی نے ان پر مسلط کر دیا اور اس نے ان کے ان کی وہ مرمت کی کہ یہودیوں کے ہاتھوں سے یہ سارا کچھ چھین کر اس نے رومی حکومت کے زیرِ دست کر دیا۔ پھر جناب یہی رومی بعد میں عیسائی ہو گئے تو یہ یہاں سے جب ٹیٹس رومی نے ان کو نکالا تو پھر یہ نہیں آ سکے اور پھر عیسائیوں کے پاس یہ مسلسل ان کا اقتدار رہا بیت المقدس کا یہ جو ایریا ہے۔

    یہ جو شہر ہے اس کو تاریخ میں ایلیہ، یروشلم، القدس مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ القدس ہماری اصطلاح ہے، میں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ یروشلم کی اصطلاح آپ استعمال نہ کریں، یہ یہودی اصطلاح ہے اور یہودی اس کو یروشلم کہتے ہیں، ہمارے ہاں یہ القدس ہے، بیت المقدس ہے، ہماری اپنی اصطلاح ہے، ہمیں اس کو ممتاز رکھنا چاہیے۔

    اس میں یہ پورا کمپلیکس ہے مسجدِ اقصی۔ اس کے اندر ایک چٹان ہے جس چٹان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج کا سفر ہوا تھا، اسی چٹان پر پھر عبدالملک بن مروان نے گنبد بنایا تھا اور عبدالملک بن مروان کے گنبد پر بعد میں عثمانیوں نے بھی کام کیا اور ابھی جو اردن کا بادشاہ گزرا ہے شاہ حسین، اس نے اس پر کئی من سونا چڑھایا ہے، یہ جو زرد گنبد آپ کو نظر آتا ہے۔

    اس کے ساتھ وہ جگہ ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صاف کروائی تھی اور وہاں حضرت عمر نے نماز پڑھی تھی، پھر حضرت عبدالملک بن مروان نے وہاں اچھی مسجد تعمیر کروائی جس کو مسجدِ اقصی کہا جاتا ہے، یہ جنوبی کنارہ ہے اس کا اس پورے کمپلیکس کا اور مسجدِ عمری بھی اسے کہا جاتا ہے، تو یہ پورا ایریا اقصی ہے۔

    اب اس میں یہ زرد گنبد دکھا دیتے ہیں، باقی ہم سمجھتے ہیں کہ یہ زرد گنبدی مسجدِ اقصی ہے۔ نہیں، یہ تو وہ جگہ ہے جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک معبد تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کے لیے جو جگہ منتخب کی تھی صحابہ کی رائے سے، وہ جنوبی کونے میں ہے، وہ جدا ہے اس سے۔ تو یہ پورا کمپلیکس جو ہے اس کو مسجدِ اقصی کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔

    اب میرے بھائیو، یہ جو مسلمانوں کا عہد آیا، دور آیا تو یہ عیسائیوں کے پاس تھا۔ یہودی آباد تھے مدینہ میں، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے روزِ اول سے ان کی آویزش رہی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کمر کسنے اور ان کو یعنی مطلب ہے ان کو باندھنے کے لیے میثاقِ مدینہ کے نام سے معاہدہ کیا، ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے لیکن انہوں نے ہر زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ غداری کی، یہاں تک کہ جب یہ میدانِ جنگ میں مایوس ہو گئے تو پھر یہودی جو سازش ہے، یہ اگر ساتھی میری طرف متوجہ رہیں، آنے والے ساتھی آتے رہیں گے، اِنْ شَاءَ اللّٰهُ، مجھے پتا ہے یہ باتیں ساری آپ کو معلوم ہیں، میں ویسے تکرار کی نیت سے کر رہا ہوں، ٹھیک ہے تو لیکن یہ ہوگا کہ ذرا مجھ پر مضمون کھلتا جائے گا، شاید کوئی ایسی بات آ جائے جو جانبین کے فائدے کی ہو، یہاں قرآنِ پاک نے شروع پاروں میں آپ مطالعہ کریں، قرآنِ پاک نے بڑے تفصیل سے کفار کا، کفار کا تو اجمالی، منافقین کا جن میں اکثریت یہود کی تھی اور پھر اہلِ کتاب کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

    قرآن کے اسلوب سے، قرآنِ مجید کے اسلوب سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن مسلمانوں کی ایک ایسی ذہنی، فکری، نظریاتی تربیت کرنا چاہتا ہے اہلِ کتاب کے حوالے سے…

    کہ گویا یہ اشارہ دے رہا ہے کہ ان کے ساتھ مقابلہ اور آویزش 1400 سال سے تو ہم دیکھ رہے ہیں، یہ چل رہی ہے اور قیامت تک پتا نہیں کب تک چلنی ہے تو یہ چلتی رہے گی۔

    تو قرآنِ پاک نے اس لیے یہودیوں کے جرائم، ان کی بیماریاں، ان کی نفسیات، ان کے امراض پوری ڈیٹیل اور تفصیل کے ساتھ ایک ایک کر کے بیان کیے۔ ایک ایک کر کے کہ اتنی تفصیل سے ان کو ڈسکس کرنے اور ان پر گفتگو کرنے کی وجہ کیا ہے؟

    دراصل مسلمانوں کو فکری طور پر تیار کرنا ہے کہ اس حوالے سے آپ پوری طرح بیدار رہیں۔ اس قوم کی نفسیات کو آپ سمجھ لیں۔ اس قوم سے آپ کا مقابلہ بڑا تادیر رہے گا اور بڑا گرم مقابلہ رہے گا۔

    تو اس لیے مسلمانوں کو اس حوالے سے بڑا بیدار کیا گیا۔ آپ قرآنِ پاک میں دیکھیں بنی اسرائیل کا جتنا تذکرہ ہے اتنا تذکرہ کسی اور قوم کا نہیں۔ واضح اشارہ ہے اس میں کہ ہمیں اس قوم کے حوالے سے کبھی بھی سونا نہیں چاہیے، بیدار رہنا چاہیے۔

    اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی سرگرمیاں حضور علیہ السلام کے دور میں کیا تھیں؟ آپ کے سامنے ہیں ساری۔ آخری کوشش اس کی طرف میں اشارہ کروں گا جس سے قرآنِ پاک نے ان کے پورے سیاسی نظم سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہودی سیاست ہے کیا اصل میں؟

    مدینہ کے اندر ایک آدمی تھا ابو عامر، راہب ہو گیا تھا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے، یہ غسیل الملائکہ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد تھے۔ پھر وہ جناب وہاں سے جا کے مکہ بیٹھ گیا، ہر جنگ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ شریک رہا، سازشیں رہیں۔ یہودیوں کا یعنی ایک مہرہ تھا اور یہودیوں اور مشرکین کے درمیان پل تھا۔

    جس وقت مکہ فتح ہو گیا اور اس کے پاس کوئی سیاسی پناہ نہیں رہی تو یہ بازنطین چلا گیا اور جا کے بازنطینیوں، انگریزوں کے پاس روم میں بیٹھ گیا۔ پھر اس نے یہودیوں سے یہودی تو پٹ پٹ کے نکل گئے تھے مدینہ سے، یہودیوں نے جو منافق چھوڑے تھے مدینہ میں ان کا وجود تھا۔

    اس نے بڑی طویل مشاورت کی، یہ تکون تھا۔ بازنطینی عیسائی، ابو عامر جو بنیادی طور پر تھا راہب پھر مشرکین ان سب کا معاون رہا۔ تیسرا یہود۔ اس تکون نے یہ مشورہ کیا کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ یہ کیوں پھیل رہے ہیں مسلسل؟ مدینہ کی ریاست ان کے ہاتھ میں آگئی اور پھیلتی جا رہی ہے تو مکہ بھی ان کے ہاتھ میں آ گیا، عرب قبائل بھی ان کے تابع ہو گئے، یہ آخر ان کے پاس ہے کیا؟ اس نتیجے پر پہنچے کہ انہوں نے جو نظمِ سیاسی قائم کیا ہوا ہے، اس نظمِ سیاسی کی اساس وہ وحدتِ کلمہ اور وحدتِ فکر پر ہے۔

    ان کی شورائیت ہے، شوریٰ کے اندر یہ بحث بھی کرتے ہیں، مباحثہ بھی کرتے ہیں، تنقید بھی کرتے ہیں۔ لیکن شوریٰ میں جو بات طے ہو جائے، اس آخری بات پر سب کا ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ جب بندہ شوریٰ سے باہر نکلتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے کہ میری رائے بھی اس کے مخالف تھی۔

    اس کو پتہ ہی نہیں ہوتا پھر۔ لہذا نہ تو ان کے جو سلطنت کے امور ہیں، سیاسی، عسکری، معاشی، ان کے بارے میں نہ تو ان کی گفتگو چو پالوں پر ہوتی ہے، نہ چوراہوں پر ہوتی ہے، نہ سڑکوں پر ہوتی ہے، وہاں اپوزیشن کا کوئی تصور نہیں ہے۔

    ان کے جو نظمِ خلافت یا نظمِ حکومت ہے، اس میں اپوزیشن کا تصور نہیں۔ اس میں اختلافِ رائے صرف شوریٰ تک ہے، شوریٰ سے باہر اختلافِ رائے کا تصور ہی نہیں۔

    سب ایک ہوتے ہیں، بس جو امیر کا فیصلہ ہوتا ہے، سب اس کے تابع ہوتے ہیں، بھلے بندے نے شوریٰ میں خوب بحث کی ہو، باہر کچھ نہیں کہے گا۔

    جاری ہے۔۔۔