خانقاہ میں رمضان المبارک کے دوران دوسرے ختم القرآن کے بابرکت موقع پر حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت ایمان افروز اور اصلاحی اختتامی بیان فرمایا۔
اس خطاب میں قرآنِ کریم کی عظمت، رمضان المبارک کی برکتوں، عبادت کی اہمیت اور عملی زندگی میں قرآن و سنت کی تعلیمات اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔ حضرت صاحب نے توجہ دلائی کہ رمضان المبارک صرف عبادات کا مہینہ ہی نہیں بلکہ اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے، تقویٰ اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کا بہترین موقع بھی ہے۔
بیان میں نماز کی پابندی، ذکر و استغفار، قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق اور دین کی خدمت کے جذبے کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب دی گئی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا اختتامی بیان، جس میں حضرت صاحب نے اپنے بیان کا اختتام فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ دین کی باتیں سننے، سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا یہ ایمان افروز اور اصلاحی بیان 8 رمضان المبارک 1447ھ کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ارشاد فرمایا گیا۔ یہ ریاض میں آپ کا دوسرا خصوصی خطاب ہے، جس میں تصوف کی حقیقی روح کو واضح کرتے ہوئے سمجھایا گیا کہ تصوف انسان کے خیالات، نیتوں اور سوچ کی اصلاح کا نام ہے۔
اس بیان میں طلباء کرام کو خصوصی نصیحتیں فرمائی گئیں، عبادت کی دو بڑی قسموں کی وضاحت کی گئی اور براہِ راست عبادت کی دس اہم اقسام بیان کی گئیں۔ مزید برآں، موجودہ دور میں ٹچ موبائل اور لیپ ٹاپ کے غلط استعمال سے بچنے اور اپنی سوچ کو مثبت اور مفید خیالات کی طرف متوجہ کرنے کی عملی رہنمائی دی گئی۔
چند سبق آموز واقعات کے ذریعے فکرِ آخرت بیدار کرنے اور اپنی زندگی کی اصلاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ بیان بالخصوص نوجوانوں اور طلباء کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
📌 اس ایمان افروز بیان کو مکمل سنیے، دوسروں کے ساتھ شیئر کیجیے اور اس نیک پیغام کو عام کرنے میں حصہ لیجیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے خیالات، نیتوں اور اعمال کی اصلاح کرنے اور اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
English Description:
This inspiring and reformative bayan by Hazrat Dr. Fida Muhammad Sahib (Damat Barakatuhum Al-Aaliyah) was delivered in Riyadh, the capital of Saudi Arabia, on 8 Ramadan 1447 AH.
In this lecture, he explains the essence of Tasawwuf as the purification and correction of one’s thoughts, intentions, and mindset. The speech includes valuable advice for students, an explanation of different forms of worship, and practical guidance on avoiding the misuse of smartphones and laptops.
Through thought-provoking examples, the lecture encourages spiritual growth, positive thinking, self-reformation, and awareness of the Hereafter. It is especially beneficial for young people and students.
May Allah Almighty guide us towards righteous thoughts, sincere intentions, and good deeds. Ameen.
عقیدۂ توحید اسلام کی بنیاد اور انسانی زندگی کی اصل روح ہے۔ حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب، خلیفۂ مجاز حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ، کے اس ایمان افروز بیان میں عقیدۂ توحید کی حقیقت، اہمیت اور فرد و معاشرے پر اس کے گہرے اثرات کو مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اس خطاب میں واضح کیا گیا ہے کہ توحید محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک ایسا بنیادی اصول ہے جو انسان کی سوچ، کردار، عبادات، معاملات اور معاشرتی زندگی کی اصلاح کرتا ہے۔ جب انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یقین مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ خوف، لالچ اور غیر اللہ کی غلامی سے آزاد ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور حقیقی کامیابی کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔
عقیدۂ توحید انسان میں اخلاص، تقویٰ، توکل اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا کرتا ہے۔ یہ بیان ایمان کی مضبوطی، اصلاحِ نفس اور اسلامی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کے خواہش مند افراد کے لیے نہایت مفید ہے۔
مکمل بیان سماعت فرمائیں اور اس اہم دینی پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
عصرِ حاضر میں نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ، اس کی قوت اور روشن مستقبل ہوتے ہیں۔ اس فکر انگیز اسلامی بیان میں حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب نوجوانوں کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ موجودہ دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے نوجوانوں میں ایمان، کردار، علم اور شعور کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نوجوان نسل کی تربیت اور اصلاح وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوان اگر اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں، دینِ اسلام سے مضبوط تعلق قائم رکھیں اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور امتِ مسلمہ کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بیان نوجوانوں، والدین اور معاشرے کے تمام افراد کے لیے ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ مکمل بیان سماعت فرمائیں اور اس مفید پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
دنیا میں کامیابی، عزت اور مؤثر کردار کے لیے اعتبار اور تائید کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس بیان میں حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم اعتبار اور تائید کے مفہوم اور انسانی زندگی میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔
انسان کی سچائی، امانت داری، اخلاص اور اچھا کردار دوسروں کے دلوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ جب انسان اپنے قول و فعل میں سچا ہو اور معاملات میں دیانت داری اختیار کرے تو اس کی بات اور شخصیت قابلِ اعتبار بنتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایمان، نیک اعمال اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزارنا ضروری ہے۔
یہ بیان ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اعتماد، باہمی تعلقات اور کردار کی اصلاح کی اہمیت سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں، سچائی اور امانت داری کو اپنائیں اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، سچائی اور حسنِ کردار اختیار کرنے اور اپنی زندگی میں اعتماد و اعتبار قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
آج کل کے بڑے فتنے کون سے ہیں؟ | حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ
تفصیل (Description)
آج کل کے بڑے فتنے کون سے ہیں؟
حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ اس اہم بیان میں عصرِ حاضر کے فتنوں اور بالخصوص موبائل فون کے بے جا استعمال کے روحانی، اخلاقی اور معاشرتی نقصانات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
موبائل فون کا غیر ضروری استعمال انسان کے قیمتی وقت کے ضیاع، عبادات میں غفلت، اخلاقی بگاڑ اور خاندانی نظام کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔ بالخصوص نوجوانوں، طلبہ اور بچوں کو اس کے غلط استعمال سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بہت اہم ہے۔
اس بیان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو ضرورت اور اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ موبائل فون ہماری ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ ہو، نہ کہ ہماری زندگی، وقت اور ذہنی سکون پر حاوی ہو جائے۔
یہ بیان نوجوانوں، والدین، اساتذہ اور ہر اس شخص کے لیے مفید ہے جو اپنے وقت کی قدر، دینی زندگی کی حفاظت اور اخلاق و کردار کی بہتری چاہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عصرِ حاضر کے فتنوں کو سمجھنے، ان سے محفوظ رہنے اور اپنی زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اس بیان میں پشاور خانقاہ کے معمولات کا تذکرہ ہے۔ خانقاہوں میں دینی و اصلاحی معمولات کا مقصد انسان کی روحانی تربیت، ذکر و عبادت کی پابندی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔ ان معمولات کا تذکرہ ہمیں دینی ماحول سے وابستگی اور اپنی زندگی میں نیکی و اصلاح کو اہمیت دینے کی ترغیب دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نیک لوگوں کی صحبت سے فائدہ اٹھانے، دینی معمولات کی پابندی کرنے اور اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مولانا حیدر آبادی صاحب کا واقعہ: ’’چراغ کو بجھا دو‘‘
حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اس بیان میں مولانا حیدر آبادی صاحب سے متعلق ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس کا عنوان ہے: ’’چراغ کو بجھا دو‘‘۔
بزرگانِ دین کے واقعات میں ہمارے لیے نصیحت، حکمت اور اصلاح کا سامان موجود ہوتا ہے۔ ان واقعات کو سننے سے ہمیں اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے، دینی اقدار کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں اخلاص و احتیاط پیدا کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ اکابر کے حالات و واقعات محض قصے نہیں ہوتے، بلکہ ان میں زندگی کے لیے قیمتی اسباق پوشیدہ ہوتے ہیں۔
اس بیان کو توجہ سے سماعت فرمائیں اور اس میں بیان ہونے والی نصیحتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اپنے دوستوں، عزیزوں اور احباب کے ساتھ بھی شیئر کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی اس دینی و اصلاحی بیان سے مستفید ہو سکیں۔
مقرر: حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ
اللہ تعالیٰ ہمیں بزرگانِ دین کے واقعات سے نصیحت حاصل کرنے، اپنی اصلاح کرنے اور دین پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
علم انسان کی زندگی میں روشنی، شعور اور صحیح رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ دینِ اسلام نے علم حاصل کرنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، کیونکہ علم ہی کے ذریعے انسان حق و باطل میں فرق کرتا، دین کو سمجھتا اور اپنی زندگی کو صحیح خطوط پر استوار کرتا ہے۔
حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اس اصلاحی و دینی بیان میں علم کے حصول کے دو طریقوں کے موضوع پر رہنمائی پیش کی گئی ہے۔ علم حاصل کرنے کے لیے اخلاص، محنت، توجہ، اہلِ علم کی صحبت اور سیکھے ہوئے علم پر عمل کرنے کا جذبہ بہت اہم ہے۔ علم کا مقصد محض معلومات جمع کرنا نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کرنا، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا اور دوسروں تک صحیح بات پہنچانا بھی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ علم حاصل کرنے کے لیے سنجیدگی اختیار کریں، اہلِ علم سے رہنمائی لیں اور جو کچھ سیکھیں اسے اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی کوشش کریں۔ علم جب عمل کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے تو انسان کی شخصیت اور کردار میں مثبت تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم عطا فرمائے، علم حاصل کرنے کے صحیح طریقے اپنانے اور اپنے علم پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
مقرر: حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ
یہ بیان خود بھی سماعت فرمائیں اور اپنے دوستوں، عزیزوں اور دیگر احباب کے ساتھ بھی شیئر کریں۔