اس بیان میں حضرت ڈاکٹر طارق دامت برکاتہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات کے استعمال اور ان کے ترک کرنے کے موضوع پر گفتگو فرماتے ہیں۔ اس بیان میں اس مسئلے کی اہمیت اور اس حوالے سے شرعی و اخلاقی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
دینی معاملات میں کسی چیز کے واجب ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ مستند شرعی دلائل اور اہلِ علم کی رہنمائی کی روشنی میں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اس ویڈیو میں حضرت ڈاکٹر طارق دامت برکاتہم، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے کلام کی تشریح فرماتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کا کلام مسلمانوں کو خودی، ایمان، عمل، بلند حوصلے اور اسلامی تعلیمات سے وابستگی کا درس دیتا ہے۔ اس بیان میں کلامِ اقبال کے پیغام کو سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے اور اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بدبخت اور نیک بخت کی حقیقت کیا ہے؟ دنیا کی عارضی نعمتیں اور آخرت کی دائمی نعمتیں کس کے حصے میں آتی ہیں؟
اس مؤثر اور فکر انگیز بیان میں مفتی ارشاد حکیم صاحب قرآن و سنت کی روشنی میں واضح فرماتے ہیں کہ اصل کامیابی اور حقیقی خوش نصیبی کس کو نصیب ہوتی ہے۔ یہ بیان انسان کو دنیا کی حقیقت سمجھا کر آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے اور ایمان، تقویٰ اور عملِ صالح کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
دنیا کی زندگی عارضی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی دائمی ہے۔ حقیقی کامیابی اسی شخص کے حصے میں آتی ہے جو ایمان و عملِ صالح کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور آخرت سنوارنے کی فکر کرتا ہے۔ یہ بیان ہر اس شخص کے لیے مفید ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتا ہے۔
روژه صرف د لوږې او تندې نوم نه دی، بلکې دا د تقویٰ، صبر او نفس د اصلاح جامع نظام دی۔
اس ایمان افروز بیان میں ماسٹر عزیز احمد صاحب قرآنِ کریم کے عظیم پیغام کی روشنی میں روزے کی حقیقت، اس کے مقصد اور تقویٰ کے اثرات کو نہایت سادہ اور دل نشیں انداز میں بیان فرماتے ہیں۔
دا بیان انسان ته ښيي چې روژه څنګه د ګناهونو څخه د ځان ساتلو، د اخلاقو د سمون او د الله تعالیٰ د قرب حاصلولو وسیله ګرځي۔
روزے کا اصل مقصد صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں، بلکہ اپنے نفس کی اصلاح، گناہوں سے بچنا، صبر پیدا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ یہ بیان سنیں، اس پر عمل کریں اور ثواب کی نیت سے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
ٹیکنالوجی موجودہ دور میں ملک و ملت کی ترقی، تعلیم کے فروغ اور معاشرتی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس بیان کے دوسرے حصے میں حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت اور اس کے مثبت استعمال کے حوالے سے قیمتی رہنمائی فرماتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کو دینی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرکے قوم کی تعمیر، علمی ترقی اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں، اساتذہ اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ جدید علوم و فنون سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی صلاحیتوں کو ملک و ملت کی بہتری اور امتِ مسلمہ کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔
یہ بیان ان تمام افراد کے لیے مفید ہے جو تعلیم، ٹیکنالوجی اور قومی ترقی کے باہمی تعلق کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
بیان سماعت فرمائیں اور اس کے پیغام کو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع حاصل کرنے اور اسے دین و ملت کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عنوانِ بیان: ٹیکنالوجی ملک و ملت کی ترقی کے لیے ایک اہم فریضہ ہے — حصہ دوم
مقرر: حضرت مولانا محمد طفیل کوہاٹی صاحب دامت برکاتہم العالیہ
ٹیکنالوجی آج کے دور میں محض سہولت نہیں بلکہ ملک و ملت کی ترقی کا ایک اہم ذریعہ اور ذمہ داری بن چکی ہے۔ اس بصیرت افروز بیان میں حضرت علامہ طفیل صاحب دامت برکاتہم جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت اور اس کے مثبت استعمال کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کو دینی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرکے قوم کی تعمیر، تعلیم کی ترویج، علمی ترقی اور معاشرتی اصلاح کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص نوجوانوں، اساتذہ اور طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم و ہنر حاصل کریں اور ٹیکنالوجی کو ملک و ملت کی بہتری اور بھلائی کے لیے استعمال کریں۔
یہ بیان ان تمام افراد کے لیے اہم ہے جو امتِ مسلمہ کی ترقی، نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور معاشرے کی اصلاح کے خواہش مند ہیں۔
بیان سماعت فرمائیں، اس کی مفید باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع حاصل کرنے اور اسے دین و ملت کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عنوانِ بیان: ٹیکنالوجی ملک و ملت کی ترقی کے لیے ایک اہم فریضہ ہے مقرر: حضرت علامہ طفیل صاحب دامت برکاتہم ویڈیو نمبر: 117
برکت والے زمانے اور برکت والی جگہیں اللہ تعالیٰ کی خاص نعمتیں ہیں، جن کی فضیلت اور اہمیت کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے باعثِ خیر ہے۔ حضرت ڈاکٹر مولانا عبید اللہ صاحب دامت برکاتہم اس مؤثر اور ایمان افروز بیان میں بابرکت اوقات اور مقدس مقامات کی اہمیت کو واضح فرماتے ہیں۔
اس بیان میں مساجد کی فضیلت، جمعہ کے مبارک دن کی اہمیت اور رمضان المبارک کی برکتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ ہم اپنے وقت کو عبادت، دعا، ذکرِ الٰہی اور نیک اعمال میں صرف کریں اور ان مبارک مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔
یہ بیان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی حقیقی برکت اللہ تعالیٰ کی رضا، عبادت میں اخلاص اور نیک اعمال میں پوشیدہ ہے۔ آئیے، اس بیان کو سماعت کریں اور اپنی زندگی میں برکت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
اس پُراثر اور ایمان افروز بیان میں حضرت علامہ طفیل کوہاٹی صاحب قرآنِ مجید کے عظیم فضائل اور منفرد خصوصیات کو نہایت سادہ اور دل نشین انداز میں بیان فرماتے ہیں۔ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام اور انسانیت کے لیے ہدایت، نور، شفا اور کامیابی کا سرچشمہ ہے۔
اس بیان میں قرآنِ کریم کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے، اس کی تلاوت کرنے، اس کے معانی کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے اور اسے دنیا و آخرت کی کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔
یہ بیان ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم قرآنِ کریم کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اس کی تلاوت کا اہتمام کریں اور اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔
اس مفید بیان کو خود بھی سماعت فرمائیں اور اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ بھی شیئر کریں۔
قادیانیت کے بارے میں قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ اور اس کے ذیلی تقاضے
پاکستان کی قومی اسمبلی کا 1974ء کا متفقہ تاریخی فیصلہ ملکی اور مذہبی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اس موضوع کے قانونی، دینی، فکری اور معاشرتی پہلوؤں کو سمجھنا پاکستان کی تاریخ اور عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ سے متعلق مباحث کے مطالعے میں اہمیت رکھتا ہے۔
اس ویڈیو میں ڈاکٹر طارق صاحب، حضرت مولانا اشرف سلیمانیؒ کے مضمون کو پڑھ کر سناتے ہیں، جس میں قومی اسمبلی کے فیصلے کے ذیلی تقاضوں اور ان سے وابستہ ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
یہ بیان سامعین کو اس تاریخی فیصلے کے پس منظر، اس کی اہمیت اور اس سے متعلق فکری و عملی پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ اس موضوع کا مطالعہ کرتے ہوئے مستند تاریخی معلومات، آئینی دستاویزات اور ذمہ دارانہ علمی گفتگو سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات سمجھنے، علم و حکمت کے ساتھ گفتگو کرنے اور معاشرے میں امن و احترام کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حضرت مولانا ڈاکٹر عبیداللہ صاحب دامت برکاتہم کا ایمان افروز بیان، جس میں صبر، شکر اور استغفار کی اہمیت اور اللہ جل شانہٗ کی قربت حاصل کرنے میں ان کے کردار کو بیان کیا گیا ہے۔ صبر مشکلات میں سہارا دیتا ہے، شکر نعمتوں میں اضافہ کا ذریعہ بنتا ہے اور سچی توبہ و استغفار گناہوں کی معافی کا سبب بنتے ہیں۔ اصلاحِ نفس اور روحانی سکون کے لیے نہایت مفید بیان۔