Author: Khalid

  • بیس رکعات تراویح سنتِ مؤکدہ ہیں | مولانا ماسټر عزیز صاحب

    بیس رکعات تراویح سنتِ مؤکدہ ہیں | مولانا ماسټر عزیز صاحب

    بیس رکعات تراویح سنتِ مؤکدہ ہیں — پشتو بیان

    د روژې مبارکه میاشت د رحمتونو، مغفرت او د الله تعالی د رضا د ترلاسه کولو ځانګړی وخت دی. په دې مبارکه میاشت کې د شلو (20) رکعتو تراویحو ادا کول د حنفي فقهې له مخې سنتِ مؤکده دي.

    مولانا ماسټر عزیز صاحب دامت برکاتهم په دې مهم او معلوماتي بیان کې د تراویحو فضیلت، د سنتو اقسام، د رمضان المبارک اهمیت، د وخت قدر، د کلمې طیبه فضیلت او د استغفار ارزښت په ښکلي او اغېزمن انداز بیانوي.

    په دې بیان کې به تاسو د لاندې موضوعاتو په اړه معلومات ترلاسه کړئ:

    ✔ د شلو رکعتو تراویحو شرعي حیثیت او اهمیت
    ✔ د سنتو ډولونه او د هغوی پېژندنه
    ✔ د رمضان المبارک فضیلتونه او برکتونه
    ✔ د وخت قدر او د ژوند غوره استعمال
    ✔ د کلمې طیبه فضیلت او د استغفار اهمیت

    دا بیان تر پایه واورئ، له خپلو ملګرو او خپلوانو سره یې شریک کړئ او د نورو اسلامي بیاناتو لپاره زموږ چینل سبسکرایب کړئ.

    الله تعالی دې موږ ټولو ته د رمضان المبارک د برکتونو د ترلاسه کولو او د عبادتونو د اخلاص سره د ادا کولو توفیق راکړي. آمین.

    اردو تفصیل:

    رمضان المبارک رحمتوں، مغفرت اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بابرکت مہینہ ہے۔ اس مبارک مہینے میں بیس رکعات تراویح ادا کرنا فقہِ حنفی کے مطابق سنتِ مؤکدہ ہے۔

    مولانا ماسٹر عزیز صاحب دامت برکاتہم اپنے اس اہم پشتو بیان میں تراویح کی فضیلت، سنتوں کی اقسام، رمضان المبارک کی اہمیت، وقت کی قدر، کلمۂ طیبہ کی فضیلت اور استغفار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

    اس بیان میں آپ جان سکیں گے:

    ✔ بیس رکعات تراویح کی شرعی حیثیت اور اہمیت
    ✔ سنتوں کی اقسام اور ان کا شرعی مقام
    ✔ رمضان المبارک کی برکتیں اور فضائل
    ✔ وقت کی قدر اور زندگی کا بہترین استعمال
    ✔ کلمۂ طیبہ اور استغفار کی فضیلت

    مکمل بیان سماعت فرمائیں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید اسلامی بیانات کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے اور اخلاص کے ساتھ عبادات ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    English Description:

    Twenty Rak’ahs of Taraweeh Are Sunnah Mu’akkadah | Pashto Islamic Lecture

    Ramadan is a blessed month of mercy, forgiveness, and worship. In this important Pashto lecture, Maulana Master Aziz Sahib discusses the status and virtues of twenty rak’ahs of Taraweeh according to Hanafi jurisprudence.

    The lecture also covers the different categories of Sunnah, the blessings of Ramadan, the importance of valuing time, the virtues of Kalima Tayyiba, and the significance of seeking forgiveness (Istighfar).

    Listen to the complete lecture, share it with others, and subscribe to the channel for more Islamic lectures.

    May Allah Almighty enable us to benefit from Ramadan and perform our worship with sincerity. Ameen.

    Hashtags:

    #تراویح #شلو_رکعتو_تراویح #سنت_مؤکده #رمضان #د_وخت_قدر #کلمه_طیبه #استغفار #مولانا_ماسټر_عزیز #اسلامي_بیان #بیس_رکعات_تراویح #سنت_موکدہ #رمضان_المبارک #وقت_کی_قدر #کلمہ_طیبہ #اسلامی_بیان #Taraweeh #20Rakat #SunnahMuakkadah #Ramadan #ValueOfTime #KalimaTayyiba #Istighfar #IslamicSpeech #MaulanaAziz

  • رمضان میں اپنی اصلاح کریں | حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب

    رمضان میں اپنی اصلاح کریں | حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب

    رمضان میں اپنی اصلاح کریں — حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم کا ایمان افروز بیان

    رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ مبارک وقت انسان کو اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

    حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم اپنے اس ایمان افروز بیان میں رمضان المبارک کی حقیقی روح کو اجاگر کرتے ہوئے ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینے، عبادات میں اخلاص پیدا کرنے اور اخلاق و کردار کو سنوارنے کی طرف متوجہ فرماتے ہیں۔

    اس بیان میں درج ذیل اہم موضوعات پر رہنمائی ملے گی:

    ✔ رمضان المبارک میں اصلاحِ نفس کی اہمیت
    ✔ عبادات کے ذریعے دل کی پاکیزگی حاصل کرنے کی کوشش
    ✔ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرنے کے عملی طریقے
    ✔ موبائل اور دیگر مصروفیات و فتنوں سے بچنے کی نصیحت
    ✔ رمضان المبارک کو غفلت میں ضائع ہونے سے بچانے کے طریقے

    یہ بیان ہر اُس مسلمان کے لیے مفید ہے جو رمضان المبارک کو اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی، روحانی ترقی اور اصلاحِ نفس کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔

    📌 مکمل بیان سماعت فرمائیں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ مزید اسلامی بیانات سے استفادہ کر سکیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے، اپنے نفس کی اصلاح کرنے اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    English Description:

    Reform Yourself in Ramadan | Hazrat Dr. Fida Muhammad Sahib

    Ramadan is a blessed month of mercy, blessings, forgiveness, and spiritual growth. It provides an excellent opportunity to reflect on our lives, repent sincerely, improve our character, and strengthen our relationship with Allah Almighty.

    In this inspiring Islamic lecture, Hazrat Dr. Fida Muhammad Sahib highlights the true spirit of Ramadan and encourages Muslims to work on self-reform, sincerity in worship, righteousness, and good character.

    Key topics include the importance of self-reform during Ramadan, purifying the heart through worship, practicing Taqwa, avoiding distractions and harmful influences, and making the most of this blessed month.

    May Allah Almighty enable us to benefit from Ramadan, improve our character, and worship Him with sincerity. Ameen.

    Please listen, share this message with others, and subscribe to the channel for more Islamic lectures.

    Hashtags:

    #رمضان #اصلاح_نفس #رمضان_میں_اصلاح #تقویٰ #توبہ #ڈاکٹر_فدا_محمد #اسلامی_بیان #رمضان_المبارک #Ramadan #SelfReform #Taqwa #IslamicSpeech #RamadanReminder #IslamicMotivation #DrFidaMuhammad #IslamicLecture

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 7 | قدم بہ قدم

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 7 | قدم بہ قدم

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ

    الحمدللہ! اس سلسلے میں سیرت النبی ﷺ کو معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کی مدد سے ہم رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوت و تبلیغ کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات و اہم واقعات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔

    اس کتاب میں سیرتِ طیبہ ﷺ کو آسان اور سادہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، تاکہ ہم اسے پڑھ کر یا سن کر آپ ﷺ کی مبارک زندگی سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔

    📌 اگر آپ کو یہ کاوش پسند آئے تو ویڈیو کو لائک کریں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 بیل آئیکن دبائیں تاکہ سلسلے کی نئی اقساط سے باخبر رہیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    کتاب کے مصنف: عبد اللہ فارانی
    پیش کنندہ / نیریٹر: خالد محمود

    English Description:

    Seerat-un-Nabi ﷺ Series | Step by Step

    Alhamdulillah, this series presents the life of Prophet Muhammad ﷺ step by step, drawing upon the well-known book Seerat-un-Nabi ﷺ Qadam Ba Qadam by Abdullah Farani.

    The series aims to help viewers understand the blessed life of the Prophet ﷺ in a simple, organized, and accessible way. Topics include his blessed birth, life in Makkah, the beginning of prophethood, the stages of preaching, migration to Madinah, major events and battles, the Conquest of Makkah, the Farewell Hajj, and his passing ﷺ.

    May Allah Almighty enable us to understand the Seerah of the Prophet ﷺ, benefit from his teachings, and follow his Sunnah in our daily lives. Ameen.

    Book Author: Abdullah Farani
    Narrator: Khalid Mahmood

    Please like, share, and subscribe to the channel for more episodes.

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_تعلیمات #مکہ_مکرمہ #مدینہ_منورہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicBook #IslamicHistory #MuhammadPBUH

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے ہاں برکتیں اور واقعۂ شقِ صدر

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے ہاں برکتیں اور واقعۂ شقِ صدر

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر 6

    اس زمانے میں عرب کا دستور یہ تھاکہ جب ان کے ہاں کوئی بچہ ہوتا تو وہ دیہات سے آنیوالی دائیوں کے حوالے کردیتے تھے تاکہ دیہات میں بچے کی نشوونمابہتر ہواوروہ خالص عربی زبان سیکھ سکے۔

    دائیوں کا قافلہ مکہ میں داخل ہوا۔ انہوں نے ان گھروں کی تلاش شروع کی جن میں بچے پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح بہت سی دائیاں جناب عبد المطلب کے گھر بھی آئیں ۔ نبی کریم ﷺ کو دیکھالیکن جب انہیں معلوم ہواکہ یہ بچہ تو یتیم پیدا ہواہے تو اس خیال سے چھوڑکر آگے بڑھ گئیں کہ یتیم بچے کے گھرانے سے انہیں کیاملے گا۔ اس طرح دائیاں آتی رہیں ، جاتی رہیں کسی نے آپ ﷺ  کو دودھ پلانامنظور نہ کیااور کرتیں بھی کیسے؟ یہ سعادت تو حضرت حلیمہؓ کے حصے میں آناتھی۔

    جب حلیمہ ؓ مکہ پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا، سب عورتوں کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیاہے اور اب صرف وہ بغیر بچے کے رہ گئیں ہیں اور اب کوئی بچہ باقی نہیں بچا، ہاں ایک یتیم بچہ ضرور باقی ہے جسے دوسری عورتیں چھوڑ گئیں ہیں ۔

    حلیمہ سعدیہؓ نے اپنے شوہر عبد اللہ ابن حارث سے کہا۔

    خدا کی قسم۔  مجھے یہ بات بہت ناگوار گزر رہی ہے کہ میں بچے کے بغیر جاؤں دوسری سب عورتیں بچے لے کر جائیں ، یہ مجھے طعنے دیں گے، اس لیے کیوں نہ ہم اسی یتیم بچے کو لے لیں ۔

    عبداللہ بن حارث بولے۔

    کوئی حرج نہیں ۔  ہوسکتا ہے، اللہ اسی بچے کے ذریعے ہمیں خیروبرکت عطا فرمادیں ۔

    چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا عبدالمطلب کے گھر گئیں ۔جناب عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔پھر آمنہ انہیں بچے کے پاس لے آئیں ۔آپ ﷺ  اس وقت ایک اونی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔وہ چادر سفید رنگ کی تھی۔آپ ﷺ  کے نیچے ایک سبز رنگ کا ریشمی کپڑا تھا۔آپ ﷺ  سیدھے لیٹے ہوئے تھے، آپ ﷺ  کے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ  کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں ۔آپ ﷺ  اس وقت سوئے ہوئے تھے، انہوں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔لیکن جونہی انہوں نے پیار سے اپنا ہاتھ آپ ﷺ  کے سینے پر رکھا، آپ ﷺ  مسکرادیے اور آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔


    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔

    میں نے دیکھا، آپ ﷺ  کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا، میں نے آپ کو گود میں اٹھا کر آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ پر پیار کیا۔پھر میں نے آپ ﷺ  کی والدہ اور عبدالمطلب سے اجازت چاہی، بچے کو لئے قافلے میں آئی۔میں نے

    آپ ﷺ  کو دودھ پلانے کے لیے گود میں لٹایا  تو آپ ﷺ  دائیں طرف سے دودھ پینے لگے۔  پہلے میں نے بائیں طرف سے دودھ پلانا چاہا۔  لیکن آپ ﷺ  نے اس طرف سے دودھ نہ پیا، دائیں طرف سے آپ ﷺ  فوراً دودھ پینے لگے۔بعد میں بھی آپ ﷺ  کی یہی عادت رہی، آپ ﷺ  صرف دائیں طرف سے دودھ پیتے رہے، بائیں طرف سے میرا بچہ دودھ پیتا رہا۔

    پھر قافلہ روانہ ہوا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔

    میں اپنے خچر پر سوار ہوئی۔آپ کو ساتھ لے لیا۔اب جو ہمارا خچر چلا تو اس قدر تیز چلا کہ اس نے پورے قافلے کی سواریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔پہلے وہ مریل ہونے کی بنا پر سب سے پیچھے رہتا تھا۔میری خواتین ساتھی حیرانگی سے مخاطب ہوئیں ۔

    اے حلیمہ! یہ آج کیا ہورہا ہے، تمہارا خچر اس قدر تیز کیسے چل رہا ہے، کیا یہ وہی خچر ہے، جس پر تم آئیں تھیں اور جس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل تھا؟

    جواب میں میں نے  ان سے کہا۔

    بےشک۔   یہ وہی خچر ہے، اللہ کی قسم۔ اس کا معاملہ عجیب ہے۔

    پھر یہ لوگ بنو سعد کی بستی پہنچ گئے، ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا۔حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔

    اس شام جب ہماری بکریاں چر کر واپس آئیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے تھے جب کہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ان میں سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا۔ہم نے اس دن اپنی بکریوں کا دودھ دوہا تو ہمارے سارے برتن بھرگئے اور ہم نے جان لیا کہ یہ ساری برکت اس بچے کی وجہ سے ہے۔آس پاس کی عورتوں میں بھی یہ بات پھیل گئی، ان کی بکریاں بدستور بہت کم دودھ دے رہی تھیں ۔

    غرض ہمارے گھر میں ہر طرف، ہر چیز میں برکت نظر آنے لگی۔دوسرے لوگ تعجب میں رہے۔اس طرح دو ماہ گزر گئے۔دو ماہ ہی میں آپ ﷺ  چلنے پھرنے لگے۔آپ ﷺ  آٹھ ماہ کے ہوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپ ﷺ  کی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں ۔نو ماہ کی عمر میں تو آپ ﷺ  بہت صاف گفتگو کرنے لگے۔

    اس دوران آپ ﷺ  کی بہت سی برکات دیکھنے میں آئیں ۔حلیمہ سعدیہؓ  فرماتی ہیں

    جب میں آپ ﷺ  کو اپنے گھر لے آئی تو بنو سعد کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا۔جس سے مشک کی خوشبو نہ آتی ہو، اس طرح سب لوگ آپ ﷺ  سے محبت کرنے لگے ۔جب ہم نے آپ ﷺ  کا دودھ چھڑایا تو آپ ﷺ  کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے

    اللہ اکبرکبیرا  والحمدللہ کثیرا   وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا

    یعنی اللہ تعالٰی بہت بڑاہے، اللہ تعالی کے لئے بے حد تعريف ہے، اور اس کےلئے صبح وشام پاکی ہے ۔

    پھر جب آپ ﷺ دو سال کے ہو گئے تو ہم آپ

    ﷺ  کو لےکر آپ ﷺ  کی والدہ کے پاس آئے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد بچوں کو ماں باپ کے حوالہ کردیا جاتاتھا ۔ادھر ہم آپ ﷺ کی برکات دیکھ چکےتھے اور ہماری آرزو تھی کہ ابھی آپﷺ  کچھ اور مدت ہمارے پاس رہیں ، چنانچہ ہم نے اس بارے میں آپ ﷺ  کی والدہ سے بات کی، ان سے یوں کہا۔

    آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم بچےکو ایک سال اوراپنے پاس رکھیں ، میں ڈرتی ہوں ، کہیں اس پر مکہ کی بيماريوں اور آب و ہوا کااثر نہ ہوجائے ۔

    جب ہم نے ان سے باربار کہا تو حضرت آمنہ مان گئیں اورہم آپ ﷺ  کو پھر اپنے گھر لے آئے۔جب آپ ﷺ  کچھ بڑے ہو گئے تو باہر نکل کر بچو ں کو دیکھتے تھے ۔وہ آپ ﷺ  کو کھیلتے نظر آتے، آپ ﷺ  ان کے نزدیک نہ جاتے، ایک روز آپ ﷺ  نے مجھ سے پو چھا۔

    امی جان ۔  کیا بات ہے دن میں میرے بھائی بہن نظر نہیں آتے؟ آپ ﷺ  اپنے دودھ شریک بھائی عبداللہ اور بہنوں انیسہ اور شیما کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ; میں نے آپ ﷺ  کو بتایا،  وہ صبح سویرے بکریاں چرانے جاتےہیں ،  شام کے بعد گھر آتے ہیں ۔  یہ جان کر آپ ﷺ  نے فرمایا۔

    تب مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا کریں۔

    اسکے بعد آپ ﷺ  اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ جانے لگے ۔آپ ﷺ  خوش خوش جاتے اور واپس آتے، ایسے میں ایک دن میرے بچے خوف زدہ  انداز میں دوڑتے ہوئے آئے اور گھبرا کر بولے۔

    امی جان۔  جلدی چلئے۔   ورنہ بھائی محمد ﷺ ختم ہو جائیں گے۔

    یہ سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے، دوڑ کر وہاں پہنچے، ہم نے آپ ﷺ  کو دیکھا، آپ ﷺ  کھڑے ہوئے تھے، رنگ اڑا ہوا تھا، چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی ۔  اور یہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ ﷺ  کو سینہ چاک کئے جانے سے کوئی تکلیف ہوئی تھی بلکہ ان فرشتوں کو دیکھ کر آپ ﷺ  کی حالت ہوئی تھی۔

    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، ہم نے آپ ﷺ  سے پوچھا۔

    کیا ہوا تھا؟

    آپ ﷺ  نے بتایا۔

    “میرے پاس دو آدمی آئے تھے ۔ وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔  (وہ دونوں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تھے) ان دونوں میں سے ایک نے کہا۔کیا یہ وہی ہیں ؟

    دوسرے نے جواب دیا۔  ہاں یہ وہی ہیں۔

    پھر وہ دونوں میرے قریب آئے، مجھے پکڑا اور لٹادیا ۔  اس کے بعد انہوں نے میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے کوئی چیز تلاش کرنے لگے ۔ آخر انہیں وہ چیز مل گئی اور انہوں نے اسے باہر نکال کر پھینک دیا، میں نہیں جانتا   وہ کیا چیز تھی۔

    اس چیز کے بارے میں دوسری روایات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ سا تھا ۔ یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ہوتا ہے اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ہے۔

    حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، پھر ہم آپ ﷺ  کو گھر لے آئے ۔  اس وقت   میرے شوہر عبد اللہ بن حارث نے مجھے سے کہا۔

    حلیمہ! مجھے ڈر ہے، کہیں اس بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے، اس لیے اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔

    میں نے کہا، ٹھیک ہے، پھر ہم آپ ﷺ  کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے ۔  جب میں مکہ کے بالائی علاقے میں پہنچی تو آپ  ﷺ اچانک غائب ہوگئے ۔  میں حواس باختہ ہوگئی۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6 | قدم بہ قدم

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 6 | قدم بہ قدم

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم مکمل سیرتِ رسول ﷺ

    الحمدللہ! اس سلسلے میں سیرت النبی ﷺ کو معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کی مدد سے ہم رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوت و تبلیغ کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات و اہم واقعات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔

    اس کا مقصد سیرتِ طیبہ ﷺ کو سمجھنا، آپ ﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنا اور اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا ہے۔

    📌 اگر آپ کو یہ سلسلہ پسند آئے تو ویڈیو کو لائک کریں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 بیل آئیکن دبائیں تاکہ سلسلے کی نئی اقساط سے باخبر رہیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    English Description:

    Seerat-un-Nabi ﷺ Series | Step by Step

    Alhamdulillah, this series presents the life and teachings of Prophet Muhammad ﷺ step by step, drawing upon the well-known book Seerat-un-Nabi ﷺ Qadam Ba Qadam by Abdullah Farani.

    The series aims to help viewers understand the blessed life of the Prophet ﷺ in a simple, organized, and accessible way. Topics include his blessed birth, life in Makkah, the beginning of prophethood, the stages of preaching, migration to Madinah, major events and battles, the Conquest of Makkah, the Farewell Hajj, and his passing ﷺ.

    May Allah Almighty enable us to understand the Seerah of the Prophet ﷺ and follow his Sunnah in our daily lives. Ameen.

    Please like, share, and subscribe to the channel for more episodes.

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_تعلیمات #مکہ_مکرمہ #مدینہ_منورہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicBook #IslamicHistory #MuhammadPBUH

  • تصوف خیال اور سوچ کی اصلاح کا نام ہے | حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب

    تصوف خیال اور سوچ کی اصلاح کا نام ہے | حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب

    تصوف: خیال اور سوچ کی اصلاح کا نام ہے

    حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا یہ ایمان افروز اور اصلاحی بیان 8 رمضان المبارک 1447ھ کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ارشاد فرمایا گیا۔ یہ ریاض میں آپ کا دوسرا خصوصی خطاب ہے، جس میں تصوف کی حقیقی روح کو واضح کرتے ہوئے سمجھایا گیا کہ تصوف انسان کے خیالات، نیتوں اور سوچ کی اصلاح کا نام ہے۔

    اس بیان میں طلباء کرام کو خصوصی نصیحتیں فرمائی گئیں، عبادت کی دو بڑی قسموں کی وضاحت کی گئی اور براہِ راست عبادت کی دس اہم اقسام بیان کی گئیں۔ مزید برآں، موجودہ دور میں ٹچ موبائل اور لیپ ٹاپ کے غلط استعمال سے بچنے اور اپنی سوچ کو مثبت اور مفید خیالات کی طرف متوجہ کرنے کی عملی رہنمائی دی گئی۔

    چند سبق آموز واقعات کے ذریعے فکرِ آخرت بیدار کرنے اور اپنی زندگی کی اصلاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ بیان بالخصوص نوجوانوں اور طلباء کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

    📌 اس ایمان افروز بیان کو مکمل سنیے، دوسروں کے ساتھ شیئر کیجیے اور اس نیک پیغام کو عام کرنے میں حصہ لیجیے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے خیالات، نیتوں اور اعمال کی اصلاح کرنے اور اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    English Description:

    This inspiring and reformative bayan by Hazrat Dr. Fida Muhammad Sahib (Damat Barakatuhum Al-Aaliyah) was delivered in Riyadh, the capital of Saudi Arabia, on 8 Ramadan 1447 AH.

    In this lecture, he explains the essence of Tasawwuf as the purification and correction of one’s thoughts, intentions, and mindset. The speech includes valuable advice for students, an explanation of different forms of worship, and practical guidance on avoiding the misuse of smartphones and laptops.

    Through thought-provoking examples, the lecture encourages spiritual growth, positive thinking, self-reformation, and awareness of the Hereafter. It is especially beneficial for young people and students.

    May Allah Almighty guide us towards righteous thoughts, sincere intentions, and good deeds. Ameen.

    Hashtags:

    #تصوف #اصلاح_خیال #اصلاح_نفس #طلباء_کو_نصیحت #عبادت #رمضان_المبارک #اسلامی_بیان #ڈاکٹر_فدا_محمد #ریاض #سعودی_عرب #Tasawwuf #IslamicLecture #SpiritualReform #Ramadan1447 #Riyadh #SaudiArabia #IslamicReminder #StudentAdvice #IslamicScholars #DeeniBayan #SelfReformation

  • پاکستان کی تاریخ اور قادیانیوں کے منصوبے | حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب کا خطاب

    پاکستان کی تاریخ اور قادیانیوں کے منصوبے | حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب کا خطاب

    پاکستان کی تاریخ، تحریکِ درویشان اور ختمِ نبوت کے تحفظ پر اہم خطاب

    حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم کا یہ بصیرت افروز خطاب پاکستان کی تاریخ، تحریکِ درویشان کی جدوجہد، تحریکِ درویشان کے انتخابی مراحل، پاکستان کے سیاسی حالات اور دینی و اصلاحی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔

    یہ خطاب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 7 رمضان المبارک 1447ھ کو ارشاد فرمایا گیا۔ اس میں پاکستان کی نظریاتی بنیاد، تحفظِ ختمِ نبوت، سیاسی شعور اور دینی تحریکات کی جدوجہد جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔

    یہ بیان سامعین کو پاکستان کی تاریخ اور نظریاتی مباحث کو سمجھنے اور مختلف تاریخی و سیاسی واقعات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

    📌 مکمل خطاب سنیے، دوسروں کے ساتھ شیئر کیجیے اور اپنی رائے سے آگاہ کیجیے۔

    Hashtags:

    #پاکستان_کی_تاریخ #تحریک_درویشان #ختم_نبوت #پاکستان #ڈاکٹر_فدا_محمد #ریاض #رمضان_المبارک #دینی_بیان #اسلامی_تاریخ #PakistanHistory #TehreekEDarveshan #KhatmeNabuwwat #IslamicScholar #RiyadhEvent #RamadanLecture #IslamicSpeech #Pakistan

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5: ولادتِ نبوی ﷺ کی بشارتیں اور نامِ محمد ﷺ رکھنے کا واقعہ

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  5

    ملک شام کاایک یہودی عیص مکہ سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا۔وہ جب بھی کسی کام سے مکہ آتا، وہاں کے لوگوں سے ملتا تو ان سے کہتا۔

    بہت قریب کے زمانے میں تمہارے درمیان ایک بچہ پیدا ہوگا، سارا عرب اس کے راستے پر چلے گا۔ اس کے سامنے ذلیل اور پست ہوجائے گا۔وہ عجم اور اس کے شہروں کا بھی مالک ہوجائے گا۔یہی اس کا زمانہ ہے۔جو اس کی نبوت کے زمانے کو پائے گا اور اس کی پیروی کرے گا، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔جس خیر اور بھلائی کی وہ امید کرتاہے، وہ اس کو حاصل ہوگی اور جو شخص اس کی نبوت کا زمانہ پائے گا مگر اس کی مخالفت کرے گا، وہ اپنے مقصد اور آرزوؤں میں ناکام ہوگا۔

    مکہ معظمہ میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا، وہ یہودی اس بچے کے بارے میں تحقیق کرتا اور کہتا، ابھی وہ بچہ پیدا نہیں ہوا۔آخر جب نبی کریم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو عبدالمطلب اپنے گھر سے نکل کر اس یہودی کے پاس پہنچے۔اس کی عبادت گاہ کے دروازے پر پہنچ کر انہوں آواز دی۔عیص نے پوچھا۔

    کون ہے؟

    انہوں نے اپنا نام بتایا۔پھر اس سے پوچھا۔

    تم اس بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

    اس نے انہیں دیکھا، پھر بولا۔

    ہاں ! تم ہی اس کے باپ ہوسکتے ہو، بےشک وہ بچہ پیدا ہوگیا ہے جس کے بارے میں ، میں تم لوگوں سے کہا کرتا تھا۔وہ ستارہ آج طلوع ہوگیا ہے جو اس بچے کی پیدائش کی علامت ہے۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت اس بچے کو درد ہورہا ہے، یہ تکلیف اسے تین دن رہے گی، اور اس کے بعد یہ ٹھیک ہوجائے گا۔

    راہب نے جو یہ کہا تھا کہ بچہ تین دن تک تکلیف میں رہے گا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے تین دن تک دودھ نہیں پیا تھا اور یہودی نے جو یہ کہا تھا کہ ہاں ! آپ ہی اس کے باپ ہوسکتے ہیں ، اس سے یہ مراد ہے کہ عربوں میں دادا کو بھی باپ کہہ دیا جاتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک بار خود فرمایا تھا۔

    میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔

    یہودی نے عبدالمطلب سے یہ بھی کہا تھا۔

    اس بارے میں اپنی زبان بند رکھیں ، یعنی کسی کو کچھ نہ بتائیں ، ورنہ لوگ اس بچے سے زبردست حسد کریں گے، اتنا حسد کریں گے کہ آج تک کسی نے نہیں کیا اور اس کی اس قدر سخت مخالفت ہوگی کہ دنیا میں کسی اور کی اتنی مخالفت نہیں ہوئی۔

    پوتے کے متعلق یہ باتیں سن کر عبدالمطلب نے عیص سے پوچھا۔

    اس بچے کی عمر کتنی ہوگی؟

    یہودی نے اس سوال کے جواب میں کہا۔

    اگر اس بچے کی عمر طبعی ہوئی تو بھی ستر سال تک نہیں ہوگی۔بلکہ اس سے پہلے ہی 61 یا 63 سال کی عمر میں وفات ہوجائے گی اور اس کی امت کی اوسط عمر بھی اتنی ہوگی، اس کی پیدائش کے وقت دنیا کے بت ٹوٹ کر گر جائیں گے۔

    یہ ساری علامات اس یہودی نے گزشتہ انبیاء کی پیش گوئیوں سے معلوم کی تھیں اور سب سب بالکل سچ ثابت ہوئیں ۔

    قریش کے کچھ لوگ عمرو بن نفیل اور عبداللہ بن جحش وغیرہ ایک بت کے پاس جایا کرتے تھے۔یہ اس رات بھی اس کے پاس گئے، جس رات آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔انہوں نے دیکھا وہ بت اوندھے منہ گرا پڑا ہے۔ان لوگوں کو یہ بات بری لگی، انہوں نے اس کو اٹھایا، سیدھا کردیا مگر وہ پھر گرگیا۔انہوں نے پھر اس کو سیدھا کیا، وہ پھر الٹا ہوگیا۔ان لوگوں کو بہت حیرت ہوئی، یہ بات بہت عجیب لگی۔تب اس بت سے آواز نکلی۔

    یہ ایک ایسے بچے کی پیدائش کی خبر ہے، جس کے نور سے مشرق اور مغرب میں زمین کے تمام گوشے منور ہوگئے ہیں ۔

    بت سے نکلنے والی آواز نے انہیں اور زیادہ حیرت زدہ کردیا۔

    اس کے علاوہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایران کے شہنشاہ کسریٰ نوشیرواں کا محل ہلنے لگا اور اس میں شگاف پڑگئے۔نوشیرواں کا یہ محل نہایت مضبوط تھا۔بڑے بڑے پتھروں اور چونے سے تعمیر کیا گیا تھا۔اس واقعے سے پوری سلطنت میں دہشت پھیل گئی۔شگاف پڑنے سے خوفناک آواز بھی نکلی تھی۔محل کے چودہ کنگرے ٹوٹ کر نیچے آگرے تھے۔

    آپ کی پیدائش پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ فارس کے تمام آتش کدوں کی وہ آگ بجھ گئی جس کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کو بجھنے نہیں دیتے تھے، لیکن اس رات میں ایک ہی وقت میں تمام کے تمام آتش کدوں کی آگ آناً فاناً بجھ گئی۔آگ کے پوجنے والوں میں رونا پیٹنا مچ گیا۔

    کسریٰ کو یہ تمام اطلاعات ملیں تو اس نے ایک کاہن کو بلایا۔اس نے اپنے محل میں شگاف پڑنے اور آتش کدوں کی آگ بجھنے کے واقعات اسے سناکر پوچھا۔

    آخر ایسا کیوں ہورہا ہے۔

    وہ کاہن خود تو جواب نہ دے سکا، تاہم اس نے کہا۔

    ان سوالات کے جوابات میرا ماموں دے سکتا ہے، اس کا نام سطیح ہے ۔

    نوشیرواں نے کہا

    ٹھیک ہے، تم جا کر ان سوالات کے جوابات لاؤ۔

    وہ گیا، سطیح سے ملا، اسے یہ واقعات سنائے، اس نے سن کر کہا۔

    ایک عصا والے نبی ظاہر ہوں گے جو عرب اور شام پر چھا جائیں گے اور جو کچھ ہونے والا ہے، ہو کر رہے گا۔

    اس نے یہ جواب کسریٰ کو بتایا ۔ اس وقت تک کسریٰ نے دوسرے کاہنوں سے بھی معلومات حاصل کر لی تھیں ، چنانچہ یہ سن کر اس نے کہا۔

    تب پھر ابھی وہ وقت آنے میں دیر ہے۔ (یعنی ان کا غلبہ میرے بعد ہو گا)

    پیدائش کے ساتویں دن عبدالمطلب نے آپﷺ  کا عقیقہ کیا اور نام  “محمد”   رکھا۔ عربوں میں اس سے پہلے یہ نام کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ قریش کو یہ نام عجیب سا لگا۔چنانچہ کچھ لوگوں نے عبدالمطلب سے کہا۔

    اے عبدالمطلب! کیا وجہ ہے کہ تم نے اس بچے کا نام اس کے باپ دادا کےنام پر نہیں رکھا بلکہ محمد رکھا ہے اور یہ نام نہ تمہارے باپ دادا میں سے کسی کا ہے نہ تمہاری قوم میں سے کسی کا ہے۔

    عبدالمطلب نے انہیں جواب دیا۔

    میری تمنا ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ اس بچے کی تعریف فرمائیں اور زمین پر لوگ اس کی تعریف کریں ۔

    محمد کے معنی ہیں جس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے۔

    اسی طرح والدہ کی طرف سے آپ کا نام احمد رکھا گیا۔ احمد نام بھی اس سے پہلے کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔ مطلب یہ کہ ان دونوں ناموں کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی اور کوئی بھی یہ نام نہ رکھ سکا۔ احمد کا مطلب ہے سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔

    علامہ سہیلی نے لکھا ہے آپ ﷺ  احمد پہلے ہیں اور محمد بعد میں ۔ یعنی آپ ﷺ  کی تعریف دوسروں نے بعد میں کی، اس سے پہلے آپ ﷺ  کی شان یہ ہے کہ آپ ﷺ  اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ حمد و ثنا کرنے والے ہیں ۔ پرانی کتابوں میں آپ ﷺ  کا نام احمد ذکر کیا گیا ہے۔

    اپنی والدہ کے بعد آپ ﷺ  نے سب سے پہلے ثوبیہ کا دوھ پیا، ثوبیہ نبی کریم ﷺ کے چچا  ابو لہب کی باندی تھیں ۔ ان کو ابولہب نے آپ ﷺ  کی پیدائش کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا۔ ثوبیہ نے آپ ﷺ  کو چند دن تک دودھ پلایا۔ انہی دنوں ثوبیہ کے ہاں اپنا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ آپ ﷺ  کی والدہ نے آپ ﷺ  کو صرف نو دن تک دودھ پلایا۔ انکے بعد ثوبیہ نے پلایا۔ پھر دودھ پلانے کی باری حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی آئی۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اپنی بستی سے روانہ ہوئیں ۔ ان کے ساتھ ان کا دودھ پیتا  بچہ اور شوہر بھی تھے۔

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا دوسری عورتوں کے بعد مکہ میں داخل ہوئیں ۔ ان کا خچر بہت کمزور اور مریل تھا ۔ ان کے ساتھ ان کی کمزور اور بوڑھی اونٹنی تھی۔ وہ بہت آہستہ چلتی تھی۔ ان کی وجہ سے حلیمہ رضی اللہ عنہا قافلے سے بہت پیچھے رہ جاتی تھیں ۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ سب سے آخر میں مکہ میں داخل ہوئیں ۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5 | قدم بہ قدم

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 5 | قدم بہ قدم

    الحمدللہ! اس سلسلے میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک سیرت کو مرحلہ وار پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب میں سیرتِ طیبہ ﷺ کو آسان، جامع اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ قارئین اور سامعین رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوتِ اسلام، مخالفت کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتحِ مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ جیسے اہم واقعات کا مطالعہ کیا جائے گا۔

    اس سلسلے کا مقصد صرف سیرت کے واقعات سے واقف ہونا نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی سے رہنمائی حاصل کرنا اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔

    📌 ویڈیو پسند آئے تو اسے لائک اور شیئر کریں، اور مزید اقساط سے مستفید ہونے کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 نئی اقساط کی اطلاع حاصل کرنے کے لیے بیل آئیکن دبائیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سمجھنے، اس سے سبق حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    English Description:

    Alhamdulillah! This is the fifth episode of the Seerat-un-Nabi ﷺ series, Step-by-Step Complete Biography of the Messenger of Allah ﷺ, based on the well-known book by Abdullah Farani.

    This series presents the blessed life of Prophet Muhammad ﷺ in a simple, clear, and accessible manner. It aims to help viewers understand the major events of his life and draw practical guidance from his noble character, teachings, and Sunnah.

    May Allah Almighty enable us to understand the Seerah of His beloved Messenger ﷺ and follow his Sunnah in our daily lives. Ameen.

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_تعلیمات #سیرت_النبی_قسط_5 #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicHistory

  • حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم کا خصوصی بیان | پہلے ختم القرآن کی اختتامی تقریب

    حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم کا خصوصی بیان | پہلے ختم القرآن کی اختتامی تقریب

    پہلے ختم القرآن کی اختتامی تقریب سے ایمان افروز خطاب

    رمضان المبارک کی بابرکت راتوں میں نمازِ تراویح کے دوران پہلے ختم القرآن کی اختتامی تقریب میں حضرت اقدس ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت ایمان افروز اور روح پرور خطاب فرمایا۔

    اس خصوصی بیان میں قرآن مجید کی عظمت، اہلِ قرآن کے فضائل اور رمضان المبارک کی برکتوں پر جامع انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب نے اس اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ قرآن مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ یہ ہماری پوری زندگی کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ ہمیں قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    ختم القرآن کی یہ مبارک تقریب ہمیں قرآن مجید سے اپنا تعلق مضبوط کرنے، اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی ترغیب دیتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید پڑھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس سے سچی محبت رکھنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

    English Description:

    A powerful and spiritually uplifting speech by Hazrat Dr. Fida Muhammad Sahib (Damat Barakatuhum Al-Aaliyah), delivered at the concluding ceremony of the first Khatm-ul-Quran during Taraweeh prayers in the blessed month of Ramadan.

    This special bayan highlights the greatness of the Holy Quran, the virtues of Ahl-e-Quran, and the blessings of Ramadan. It reminds us that the Quran is not only a book to recite but also a complete source of guidance for our lives. We should strive to understand its message, follow its teachings, and make the Quran an essential part of our daily lives.

    May Allah Almighty make us among the people of the Quran and grant us the ability to recite, understand, and practice its teachings. Ameen.

    Hashtags:

    #ختم_القرآن #تراویح #رمضان_المبارک #ڈاکٹر_فدا_محمد #قرآن_مجید #اہل_قرآن #اسلامی_بیان #روحانی_خطاب #حضرت_ڈاکٹر_فدا_محمد #KhatmUlQuran #Taraweeh #Ramadan #DrFidaMuhammad #IslamicSpeech #HolyQuran #AhlEQuran #IslamicBayan