Author: Khalid

  • 173۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی مردان کے طلباء سے خطاب — پشتو بیان | حضرت مولانا عزیز صاحب

    173۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی مردان کے طلباء سے خطاب — پشتو بیان | حضرت مولانا عزیز صاحب

    خیبر میڈیکل یونیورسٹی مردان کے طلباء سے خطاب | پشتو بیان | حضرت مولانا عزیز صاحب

    اس پشتو بیان میں حضرت مولانا عزیز صاحب خیبر میڈیکل یونیورسٹی مردان کے طلباء کو اہم دینی اور اصلاحی نصیحتیں فرماتے ہیں۔ بیان میں رمضان المبارک کی فضیلت، تقویٰ کی اہمیت، اسلام میں نماز کی فرضیت کے واقعے اور موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے منفی اثرات جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

    حضرت مولانا صاحب توجہ دلاتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والے شکوک و شبہات اور اخلاقی برائیاں نوجوان نسل کے ایمان، کردار اور سوچ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط کریں اور اپنے ایمان و اخلاق کی حفاظت کو ترجیح دیں۔

    بیان میں رمضان المبارک کو عبادت، تلاوتِ قرآن، استغفار اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا قیمتی موقع قرار دیتے ہوئے اس مبارک مہینے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔

    یہ بیان بالخصوص طلباء اور نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیغام رکھتا ہے کہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ دینی تربیت، اسلامی اخلاق اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق کو بھی اہمیت دیں۔

    📌 بیان سماعت فرمائیں، مفید باتوں کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے ویڈیو شیئر کریں اور مزید دینی بیانات سے مستفید ہونے کے لیے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں کے ایمان، کردار اور علم میں برکت عطا فرمائے اور انہیں دین و دنیا میں کامیابی نصیب فرمائے۔ آمین!

    اردو ہیش ٹیگز:
    #رمضان_المبارک #تقویٰ #نماز #اسلامی_بیان #اصلاح_نفس #سوشل_میڈیا #نوجوانوں_کی_تربیت #اسلامی_تعلیمات #مولانا_عزیز_صاحب

    پشتو ہیش ٹیگز:
    #رمضان #تقوی #لمونځ #اسلامي_بیان #اصلاح #ځوانان #سوشل_میډیا #اسلامي_تعلیمات #مولانا_عزیز_صاحب

    English Hashtags:
    #Ramadan #Taqwa #PrayerInIslam #IslamicLecture #IslamicGuidance #SocialMediaEffects #YouthGuidance #IslamicTeachings #IslamicReminder #MaulanaAzizSahib

  • ۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 9 | قدم بہ قدم

    ۔ سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 9 | قدم بہ قدم

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم | قسط نمبر 9

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس ایمان افروز سلسلے کی نویں قسط پیش خدمت ہے۔ یہ سلسلہ معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم، از عبد اللہ فارانی سے ماخوذ ہے۔ اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کے واقعات کو آسان، سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہر شخص سیرتِ طیبہ ﷺ کو سمجھ سکے اور اس سے رہنمائی حاصل کر سکے۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوتِ اسلام، مخالفت کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ سمیت سیرتِ نبوی ﷺ کے اہم واقعات کا مطالعہ کیا جائے گا۔

    اس کاوش کا مقصد صرف سیرت کے واقعات سے واقفیت حاصل کرنا نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی سے رہنمائی لے کر اپنے اخلاق، کردار اور عملی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔

    📌 ویڈیو مکمل سماعت فرمائیں، پسند آئے تو لائک اور شیئر کریں، اور مزید اقساط سے مستفید ہونے کے لیے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ کو صحیح طور پر سمجھنے، اس سے محبت کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

    اردو ہیش ٹیگز:
    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_تعلیمات #اسلامی_کتاب #اسلامی_تاریخ #قسط_نمبر_9

    English Hashtags:
    #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicLectures #IslamicBook #IslamicHistory #SeerahEpisode9

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (حصہ سوم): حضرت عبدالمطلب کی وفات، حضرت ابو طالب کی سرپرستی اور رسول اللہ ﷺ کی برکات

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (حصہ سوم): حضرت عبدالمطلب کی وفات، حضرت ابو طالب کی سرپرستی اور رسول اللہ ﷺ کی برکات

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  8  ۔ حصہ سوم

    عبد المطلب نے یہ سن کر کہا۔

    اے بادشاہ۔ اللہ کرے آپ کو بھی ایسی خوش بختی میسر آئے، آپ کی ہیبت مجھے روک رہی ہے، ورنہ میں آپ سے پوچھتا کہ اس بچے کا زمانہ کب ہو گا۔

    بادشاہ نے جواب میں کہا۔

    یہی اس کا زمانہ ہے، وہ اسی زمانے میں پیدا ہو گا یا پیدا ہو چکا ہے اس کا نام محمد ہو گا، اس کی والدہ کا انتقال ہو جائے گا، اس کے دادا اور چچا اس کی پرورش کریں گے۔  ہم بھی اس کے آرزو مند رہے کہ وہ بچہ ہمارے ہاں پیدا ہو، اللہ تعالٰی اسے کھلے عام ظاہر فرمائے گا اور اس کے لیے ہم میں سے (یعنی مدینے کے قبیلے خزرج میں ) اس نبی کے مددگار بنائے گا (ہم میں سے اس نے اس لیے کہا کہ خزرج اصل میں یمن کے لوگ تھے) ان کے ذریعے اس نبی کے خاندان اور قبیلے والوں کو عزت حاصل ہو گی اور ان کے ذریعے اس کے دشمنوں کو ذلت ملے گی اور ان کے ذریعے وہ تمام لوگوں سے مقابلہ کرے گا اور ان کے ذریعے زمین کے اہم علاقے فتح ہو جائیں گے. وہ نبی رحمان کی عبادت کرے گا، شیطان کو دھمکائے گا۔ آتش کدوں کو ٹھنڈا کرے گا (یعنی آگ کے پجاریوں کو مٹائے گا) بتوں کو توڑ ڈالے گا، اس کی ہر بات آخری فرمان ہو گی، اس کے احکامات انصاف والے ہوں گے، وہ نیک کاموں کا حکم دے گا، خود بھی ان پر عمل کرے گا، برائیوں سے روکے گا، ان کو مٹا ڈالےگا ۔

    عبد المطلب نے سیف بن یزن کو دعا دی۔پھر کہا۔

    کچھ اور تفصیل بیان کریں ۔

    بات ڈھکی چھپی ہے اور علامتیں پوشیدہ ہیں مگر اے عبد المطلب اس میں شبہ نہیں کہ تم اس کے دادا ہو۔

    عبد المطلب یہ سن کر فوراً سجدے میں گر گئے اور پھر سیف نے ان سے کہا۔

    اپنا سر اٹھاؤ،اپنی پیشانی اونچی کرو،اور مجھے بتاؤ، جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے،کیا تم نے ان میں سے کوئی علامت اپنے ہاں دیکھی ہے؟

    اس پر عبد المطلب نے کہا۔

    ہاں میرا ایک بیٹا تھا،میں اسے بہت چاہتا تھا

    میں نے ایک شریف اور معزز لڑکی آمنہ بنت وہب عبد مناف سے اس کی شادی کر دی،وہ میری قوم کے انتہائی باعزت خاندان سے تھی،اس سے میرے بیٹے کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا،میں نے اس کا نام محمد رکھا،اس بچے کا باپ اور ماں دونوں فوت ہو چکے ہیں ۔اب میں اور اس کا چچا ابو طالب اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔

    اب سیف نے ان سے کہا۔

    میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے،وہ واقعہ اسی طرح ہے۔ اب تم اپنے پوتے کی حفاظت کرو،اسے یہودیوں سے بچائے رکھو،اس لیے کہ وہ اس کے دشمن ہیں ،یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالٰی ہر گز ان لوگوں کو ان پر قابو نہیں پانے دے گا اور میں نے جو کچھ آپ کو بتایا ہے،اس کا اپنے قبیلے والوں سے ذکر نہ کرنا،مجھے ڈر ہے کہ ان باتوں کی وجہ سے ان لوگوں میں حسد اور جلن نہ پیدا ہو جائے۔یہ لوگ سوچ سکتے ہیں ،یہ عزت اور بلندی آخر انہیں کیوں ملنے والی ہے یہ لوگ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے اگر یہ لوگ اس وقت تک زندہ نہ رہے تو ان کی اولادیں یہ کام کریں گی اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا  کہ اس نبی کے ظہور سے پہلے ہی موت مجھے آ لے گی تو میں اپنے اونٹوں اور قافلے کے ساتھ روانہ ہوتا اور ان کی سلطنت کے مرکز یثرب پہنچتا،کیونکہ میں اس کتاب میں یہ بات پاتا ہوں کہ شہر یثرب ان کی سلطنت کا مرکز ہوگا، ان کی طاقت کا سرچشمہ ہو گا،ان کی مدد اور نصرت کا ٹھکانہ ہو گا اور ان کی وفات کی جگہ ہوگی اور انہیں دفن بھی یہیں کیا جائے گا اور ہماری کتاب پچھلے علوم سے بھری پڑی ہے۔مجھے پتا ہے اگر میں اسی وقت ان کی عظمت کا اعلان کروں تو خود ان کے لیے اور میرے لیے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔یہ ڈر نہ ہوتا تو میں اسی وقت ان کے بارے میں یہ تمام باتیں سب کو بتا دیتا۔عربوں کے سامنے ان کی سربلندی اور اونچے رتبے کی داستانیں سنا دیتا،لیکن میں نے یہ راز تمہیں بتایا ہے۔  تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کسی کو نہیں بتایا۔

    اس کے بعد اس نے عبد المطلب کے ساتھیوں کو بلایا،ان میں سے ہر ایک کو دس حبشی غلام،دس حبشی باندیاں اور دھاری دار یمنی چادریں ،بڑی مقدار میں سونا چاندی،سو سو اونٹ اور عنبر کے بھرے ڈبے دئے۔پھر عبد المطلب کو اس سے دس گنا زیادہ دیا اور بولا۔

    سال گزرنے پر میرے پاس ان کی خبر لے کر آنا اور ان کے حالات بتانا۔

    سال گزرنے سے پہلے ہی اس بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔

    عبد المطلب اکثر اس بادشاہ کا ذکر کیا کرتے تھے،آپ ﷺ  کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو عبد المطلب کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح ایک عظیم سرپرست کا ساتھ چھوٹ گیا۔اس وقت عبد المطلب کی عمر 95 سال تھی۔تاریخ کی بعض کتابوں میں ان کی عمر اس سے بھی زیادہ لکھی ہے۔

    جس وقت عبد المطلب کا انتقال ہوا۔آپ ان کی چارپائی کے پاس موجود تھے،آپ رونے لگے،عبد المطلب کو عجون کے مقام پر ان کے دادا قصی کے پاس دفن کیا گیا۔

    مرنے سے پہلے انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے بیٹے ابو طالب کے حوالے کیا۔اب ابو طالب آپ ﷺ  کے نگران ہوئے۔انہیں بھی آپ ﷺ  سے بے تحاشا محبت ہو گئی۔ ان کے بھائی عباس اور زبیر بھی آپ کا بہت خیال رکھتے تھے۔پھر زبیر بھی انتقال کر گئے تو آپ کی نگرانی آپ ﷺ  کے چچا ابو طالب ہی کرتے رہے۔

    انہیں بھی نبی کریم ﷺ سے بہت محبت تھی۔جب انہوں نے آپ ﷺ  کی برکات دیکھیں ، معجزے دیکھے تو ان کی محبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ یہ مالی اعتبار سے کمزور تھے۔دو وقت سارے گھرانے کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تھا۔لیکن جب نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ کھانا کھاتے تو تھوڑا کھانا بھی ان سب کے لیے کافی ہو جاتا۔سب کے پیٹ بھر جاتے۔اسی لیے جب دوپہر یا رات کے کھانے کا وقت ہوتا تو اور سب دسترخوان پر بیٹھتے تو ابو طالب ان سے کہتے۔

    ابھی کھانا شروع نہ کرو،میرا بیٹا آ جائے پھر شروع کرنا۔

    پھر آپ ﷺ  تشریف لے آتے اور ان کے ساتھ بیٹھ جاتے۔آپ ﷺ  کی برکت اس طرح ظاہر ہوتی کہ سب کے سیر ہونے کے بعد بھی کھانا بچ جاتا،اگر دودھ ہوتا تو پہلے نبی کریم ﷺ کو پینے کے لیے دیا جاتا،پھر ابو طالب کے بیٹے پیتے،یہاں تک کہ ایک ہی پیالے سے سب کے سب دودھ پی لیتے،خوب سیر ہو جاتے اور دودھ پھر بھی بچ جاتا،ابو طالب کے لیے ایک تکیہ رکھا رہتا تھا،وہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے،رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تو آ کر سیدھے اس تکیے کے ساتھ بیٹھ جاتے،یہ دیکھ کر ابو طالب کہتے۔

    میرے بیٹے کو اپنے بلند مرتبے کا احساس ہے۔

    ایک بار مکہ میں قحط پڑ گیا،بارش بالکل نہ ہوئی،لوگ ایک دوسرے سے کہتے تھے،لات اور عزیٰ سے بارش کی دعا کرو،کچھ کہتے تھے تیسرے بڑے بت منات پر بھروسہ کرو،اسی دوران ایک بوڑھے نے کہا۔

    تم حق اور سچائی سے بھاگ رہے ہو،تم میں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی نشانی موجود ہے، تم اسے چھوڑ کر غلط راستے پر کیوں جا رہے ہو۔

    اس پر لوگوں نے اس سے کہا۔

    کیا آپ کی مراد ابو طالب سے ہے؟

    اس نے جواب میں کہا۔

    ہاں میں یہی کہنا چاہتا ہوں ۔

    اب سب لوگ ابو طالب کے گھر کی طرف چلے،وہاں پہنچ کر انہوں نے دروازے پر دستک دی،تو ایک خوبصورت آدمی باہر آیا،اس نے تہبند لپیٹ رکھا تھا، سب لوگ اس کی طرف بڑھے اور بولے۔

    اے ابو طالب،وادی میں قحط پڑا ہے،بچے بھوکے مر رہے ہیں ،اس لیے آؤ اور ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔

    چنانچہ ابو طالب باہر آئے،ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی تھے،آپ ﷺ  ایسے لگ رہے تھے جیسے اندھیرے میں سورج نکل آیا ہو،ابو طالب کے ساتھ اور بھی بچے تھے لیکن انہوں نے آپ ﷺ  ہی کا بازو پکڑا ہوا تھا، اس کے بعد ابو طالب نے آپ ﷺ  کی انگلی پکڑ کر کعبے کا طواف کیا۔یہ طواف کر رہے تھے اور دوسرے لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے،جہاں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا لیکن پھر اچانک ہر طرف سے بادل گھر گھر کر آنے لگے،اس قدر زور دار بارش ہوئی کہ شہر اور جنگل سیراب ہو گئے۔

    ابو طالب ایک بار ذی الحجاز کے میلے میں گئے،یہ جگہ عرفات سے تقریباً  8 کلو میٹر دور ہے۔ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی تھے،ایسے میں ابو طالب کو پیاس محسوس ہوئی۔انہوں نے آپ ﷺ  سے کہا۔

    بھتیجے،مجھے پیاس لگی ہے۔

    یہ بات انہوں نے اس لیے نہیں کہی تھی کہ آپ ﷺ  کے پاس پانی تھا….بلکہ اپنی بے چینی ظاہر کرنے کے لیے کہی تھی۔چچا کی بات سن کر آپ ﷺ  فورا ً  سواری سے اتر آئے اور بولے۔

    چچا جان آپ کو پیاس لگی ہے۔

    انہوں نے کہا۔

    ہاں بھتیجے۔پیاس لگی ہے۔

    یہ سنتے ہی آپ ﷺ  نے ایک پتھر پر اپنا پاؤں مارا۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    کتاب کا  نام : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانی(عبد اللہ فارانی،   ہفتہ وار رسالہ “بچوں کا  اسلام” کے ایڈیٹر اشتیاق احمد رحمۃ اللہ علیہ  کا قلمی نام ہے)

    براہ   مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں ۔ شکریہ

  • پشتو بیان: خانقاہی تربیت کی ترتیب — حضرت مولانا عزیز صاحب

    پشتو بیان: خانقاہی تربیت کی ترتیب — حضرت مولانا عزیز صاحب

    اس پشتو بیان میں حضرت مولانا عزیز صاحب خانقاہی تربیت کی ترتیب اور روحانی اصلاح کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ خانقاہی تربیت کا مقصد انسان کی باطنی اصلاح، تزکیۂ نفس اور اخلاق و کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سنوارنا ہے۔ اس بیان میں شیخ اور مرید کے تعلق، ذکر و اذکار کی اہمیت، روحانی تربیت کے طریقۂ کار اور اسلامی اخلاق کو عملی زندگی میں اپنانے جیسے موضوعات پر رہنمائی ملتی ہے۔

    یہ بیان ان حضرات کے لیے مفید ہے جو اپنی زندگی میں دینی اصولوں کو اپنانے، اپنی اصلاح کرنے اور تصوف کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کے خواہش مند ہیں۔ بیان سماعت فرمائیں اور اس کی مفید باتوں کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔

    ویڈیو پسند آئے تو اسے لائک، شیئر اور ہمارے چینل کو سبسکرائب فرمائیں تاکہ مزید لوگ بھی اس دینی و روحانی رہنمائی سے مستفید ہو سکیں۔

    اردو ہیش ٹیگز:
    #خانقاہی_تربیت #تصوف #اصلاح_نفس #تزکیہ_نفس #روحانی_تربیت #مولانا_عزیز_صاحب #اسلامی_بیان #دینی_بیان

    پشتو ہیش ٹیگز:
    #خانقاهي_تربیت #تصوف #د_نفس_اصلاح #مولانا_عزیز_صاحب #اسلامي_بیان #دیني_وینا #روحاني_تربیت #تزکیه

    English Hashtags:
    #KhanqahiTarbiyat #Tasawwuf #SpiritualTraining #IslamicSpeech #IslamicLecture #SelfPurification #MaulanaAzizSahib #IslamicGuidance #Sufism

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (ج) | قدم بہ قدم

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (ج) | قدم بہ قدم

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم — قسط نمبر 8 (ج)

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس ایمان افروز سلسلے میں معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم، از عبد اللہ فارانی سے استفادہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار پیش کیا جا رہا ہے۔

    اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کی مدد سے ہم نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی، آپ ﷺ کی دعوت، صبر و استقامت اور اسلامی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف اہم مراحل اور واقعات بیان کیے جائیں گے، جن میں ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوت و مخالفت کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ شامل ہیں۔

    ہماری کوشش ہے کہ سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ اور سماعت ہمارے لیے اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کا ذریعہ بنے۔

    📌 اگر آپ کو یہ کاوش پسند آئے تو ویڈیو کو لائک کریں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 بیل آئیکن دبائیں تاکہ سلسلے کی نئی اقساط سے باخبر رہ سکیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_کتاب #اسلامی_تعلیمات #مکہ_مکرمہ #مدینہ_منورہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicHistory #IslamicBook #IslamicEducation

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (حصہ دوم): حضرت عبدالمطلب کی دعائیں، بارش کی برکت اور سیف بن یزن کی بشارت

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (حصہ دوم): حضرت عبدالمطلب کی دعائیں، بارش کی برکت اور سیف بن یزن کی بشارت

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  8  ۔ حصہ دوم

    صبح ہوئی تو رقیہ نے اپنا یہ خواب قریش سے بیان کیا۔ انہوں نے ان نشانیوں کو تلاش کیا تو سب کی سب نشانیاں انہیں عبد المطلب میں مل گئیں ، چنانچہ سب ان کے پاس جمع ہوئے۔  ہر خاندان سے ایک ایک آدمی آیا۔  ان سب نے شرائط پوری کیں۔ اس کے بعد سب ابو قیس پہاڑ پر چڑھ گئے۔  ان میں نبی کریم ﷺ بھی تھے. آپ  ﷺ اس وقت نو عمر تھے۔  پھر عبد المطلب آگے بڑھے اور انہوں نے یوں دعا کی۔

    اے اللہ یہ سب تیرے غلام ہیں ، تیرے غلاموں کی اولاد ہیں ، تیری باندیاں ہیں اور تیری باندیوں کی اولاد ہیں ، ہم پر جو برا وقت آ پڑا ہے، تو دیکھ رہا ہے، ہم مسلسل قحط سالی کا شکار ہیں ۔  اب اونٹ، گائیں ، گھوڑے، خچر اور گدھے سب کچھ ختم ہو چکے ہیں اور جانوروں پر بن آئی ہے۔ اس لیے ہماری یہ خشک سالی ختم فرما دے ہمیں زندگی اور سرسبزی اور شادابی عطا فرما دے

    ابھی یہ دعا مانگ ہی رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی۔  وادیاں پانی سے بھر گئیں لیکن اس بارش میں ایک بہت عجیب بات ہوئی اور وہ عجیب بات یہ تھی کہ قریش کو یہ سیرابی ضرور حاصل ہوئی مگر یہ بارش قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کی قریبی بستیوں میں بالکل نہ ہوئی۔  اب لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کیا بات ہوئی۔  ایک قبیلے پر بارش اور آس پاس کے سب قبیلے بارش سے محروم۔  تمام قبیلوں کے سردار جمع ہوئے، اس سلسلے میں بات چیت شروع ہوئی۔  ایک سردار نے کہا۔

    ہم زبردست قحط اور خشک سالی کا شکار ہیں جب کہ قریش کو اللہ تعالٰی نے بارش عطا کی ہے اور یہ عبد المطلب کی وجہ سے ہوا ہے اس لیے ہم سب ان کے پاس چلتے ہیں ، اگر وہ ہمارے لیے دعا کر دیں تو شاید اللہ ہمیں بھی بارش دے دے۔

    یہ مشورہ سب کو پسند آیا، چنانچہ یہ لوگ مکہ معظمہ میں آئے اور عبد المطلب سے ملے۔ انہیں سلام کیا پھر ان سے کہا۔

    اے عبد المطلب ہم کئی سال سے خشک سالی کے شکار ہیں ہمیں آپ کی برکت کے بارے میں معلوم ہوا ہے، اس لیے مہربانی فرما کر آپ ہمارے لیے بھی دعا کریں ، اس لیے کہ اللہ نے آپ کی دعا سے قریش کو بارش عطا کی ہے۔

    ان کی بات سن کر عبد المطلب نے کہا۔

    اچھی بات ہے میں کل میدان عرفات میں آپ لوگوں کے لیے بھی دعا کروں گا۔

    دوسرے دن صبح سویرے عبد المطلب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے۔  ان کے ساتھ دوسرے لوگوں کے علاوہ ان کے بیٹے اور اللہ کے رسول ﷺ بھی تھے. عرفات کے میدان میں عبد المطلب کے لیے ایک کرسی بچھائی گئی۔  وہ اس پر بیٹھ گئے۔ نبی کریم ﷺ کو انہوں نے گود میں بٹھا لیا، پھر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی۔

    اے اللہ، چمکنے والی بجلی کے پروردگار، اور کڑکنے والی گرج کے مالک، پالنے والوں کے پالنے والے، اور مشکلات کو آسان کرنے والے. یہ قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کے لوگ ہیں ، یہ بہت پریشان ہیں ، ان کی کمریں جھک گئی ہیں ، یہ تجھ سے اپنی لا چاری اور بے کسی کی فریاد کرتے ہیں اور جان و مال کی بربادی کی شکایت کرتے ہیں پس اے اللہ، ان کے لیے خوب برسنے والے بادل بھیج دے اور آسمان سے ان کے لیے رحمت عطا فرما تاکہ ان کی زمینیں سرسبز ہو جائیں اور ان کی تکالیف دور ہو جائیں۔

    عبد المطلب ابھی یہ دعا کر ہی رہے تھے کہ ایک سیاہ بادل اٹھا، عبد المطلب کی طرف آیا اور اس کے بعد اس کا رخ قبیلہ قیس اور بنو مضر کی بستیوں کی طرف ہو گیا. یہ دیکھ کر عبد المطلب نے کہا۔

    اے گروہ قیس اور مضر جاؤ تمہیں سیرابی حاصل ہو گی۔

    چنانچہ یہ لوگ جب اپنی بستیوں میں پہنچے تو وہاں بارش شروع ہو چکی تھی۔

    آپ ﷺ  سات سال کے ہو چکے تھے کہ آپ ﷺ  کی آنکھیں دکھنے کو آگئیں . مکہ میں آنکھوں کا علاج کرایا گیا لیکن افاقہ نہ ہوا۔  عبد المطلب سے کسی نے کہا۔

    عکاظ کے بازار میں ایک راہب رہتا ہے وہ آنکھوں کی تکالیف کا علاج کرتا ہے۔

    عبد المطلب آپ ﷺ  کو اس کے پاس لے گئے۔  اس کی عبادت گاہ کا دروازہ بند تھا۔ انہوں نے اسے آواز دی۔  راہب نے کوئی جواب نہ دیا۔  اچانک عبادت گاہ میں شدید زلزلہ آیا.۔ راہب ڈر گیا کہ کہیں عبادت خانہ اس کے اوپر نہ گر پڑے۔ اس لئے ایک دم باہر نکل آیا۔

    اب اس نے آپ ﷺ  کو دیکھا تو چونک اٹھا۔  اس نے کہا۔

    اے عبد المطلب۔  یہ لڑکا اس امت کا نبی ہے۔ اگر میں باہر نہ نکل آتا تو یہ عبادت گاہ ضرور مجھ پر گر پڑتی۔ اس لڑکے کو فوراً واپس لے جاؤ اور اس کی حفاظت کرو۔  کہیں یہودیوں یا عیسائیوں میں سے کوئی اسے قتل نہ کر دے۔

    پھر اس نے کہا۔

    اور رہی بات ان کی آنکھوں کی۔  تو آنکھوں کی دوا  تو  خود ان کے پاس موجود ہے۔

    عبد المطلب یہ سن کر حیران ہوئے اور بولے۔

    ان کے اپنے پاس ہے، میں سمجھا نہیں ۔  ہاں ۔ ان کا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگائیں۔

    انہوں نے ایسا ہی کیا، آنکھیں فوراً ٹھیک ہو گئیں۔

    پرانی آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ  کی بہت سی نشانیاں لکھی ہوئی تھیں ۔  اس کی تفصیل بہت دلچسپ ہے۔

    یمن میں ایک قبیلہ حمیر تھا۔  وہاں ایک شخص سیف بن یزن تھا۔ وہ سیف حمیری کہلاتا تھا۔  کسی زمانے میں اس کے باپ دادا اس ملک پر حکومت کرتے تھے لیکن پھر حبشیوں نے یمن پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔  وہاں حبشیوں کی حکومت ہو گئی۔ستر سال تک یمن حبشیوں کے قبضے میں رہا، جب یہ سیف بڑا ہوا تو اس کے اندر اپنے باپ دادا کا ملک آزاد کرانے کی امنگ پیدا ہوئی، چنانچہ اس نے ایک فوج تیار کی۔  اس فوج کے ذریعے حبشیوں پر حملہ کیا اور انہیں یمن سے بھگا دیا۔ اس طرح وہ باپ دادا کے ملک کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گیا، وہاں کا بادشاہ بن گیا۔  یہ یمن عرب کا علاقہ تھا۔جب اس پر حبشیوں نے قبضہ کیا تھا تو عربوں کو بہت افسوس ہوا۔  70 سال بعد جب یمن کے لوگوں نے حبشیوں کو نکال باہر کیا تو عربوں کو بہت خوشی ہوئی۔

    ان کی خوشی کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انہی حبشیوں نے ابرہہ کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی تھی۔  چاروں طرف سے عربوں کے وفد سیف کو مبارک باد دینے کے لیے آنے لگے۔

    قریش کا بھی ایک وفد مبارک دینے کے لیے گیا۔  اس وفد کے سردار عبد المطلب تھے۔ یہ وفد جب یمن پہنچا تو سیف اپنے محل میں تھا۔  اس کے سر پر تاج تھا،  سامنے تلوار رکھی تھی اور حمیری سردار اس کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔  سیف کو قریش کے وفد کی آمد کے بارے میں بتایا گیا، اسے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ کس رتبے کے ہیں ۔  اس نے ان لوگوں کو آنے کی اجازت دے دی۔  یہ وفد دربار میں پہنچا۔ عبد المطلب آگے بڑھ کر اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔  انہوں نے بات کرنے کی اجازت چاہی، سیف نے کہا۔

    اگر تم بادشاہوں کے سامنے بولنے کے آداب سے واقف ہو تو ہماری طرف سے اجازت ہے۔

    تب عبد المطلب نے کہا۔

    اے بادشاہ، ہم کعبہ کے خادم ہیں ، اللہ کے گھر کے محافظ ہیں ، ہم آپ کو مبارکباد دینے آئے ہیں ۔  یمن پر حبشی حکومت ہمارے لیے بھی بوجھ بنی ہوئی تھی۔ آپ کو مبارک ہو، آپ کے اس کارنامے سے آپ کے بزرگوں کو بھی عزت ملے گی اور آنے والی نسلوں کو بھی وقار حاصل ہو گا۔

    سیف ان کے الفاظ سن کر بہت خوش ہوا، بے اختیار بول اٹھا۔

    اے شخص تم کون ہو، کیا نام ہے تمہارا؟

    انہوں نے کہا۔

    میرا نام عبد المطلب بن ہاشم ہے۔

    سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا۔

    تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو۔

    عبد المطلب کی والدہ مدینے کے قبیلے خزرج کی تھیں اور خزرج کا قبیلہ دراصل یمن کا تھا۔ اس لیے سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا، تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو۔ پھر اس نے کہا۔

    ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں ، آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں ۔

    اس کے بعد قریش کے وفد کو سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرا دیا گیا۔  ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی۔ یہاں تک کہ ایک ماہ گزر گیا۔  ایک ماہ کی مہمان نوازی کے بعد سیف نے انہیں بلایا.۔ عبد المطلب کو اپنے پاس بلا کر اس نے کہا۔

    اے عبد المطلب، میں اپنے علم کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز تمہیں بتا رہا ہوں ، تمہارے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں ہر گز نہ بتاتا، تم اس راز کو اس وقت تک راز ہی رکھنا جب تک کہ خود اللہ تعالٰی اس راز کو ظاہر نہ فرما دے. ہمارے پاس ایک پوشیدہ کتاب ہے وہ پوشیدہ رازوں کا ایک خزانہ ہے. ہم دوسروں سے اس کو چھپا کر رکھتے ہیں . میں نے اس کتاب میں ایک بہت عظیم الشان خبر اور ایک بڑے خطرے کے بارے میں پڑھ لیا ہے۔  اور وہ آپ کے بارے میں ہے۔

    عبد المطلب یہ باتیں سن کر حد درجے حیرت زدہ ہوئے اور پکار اٹھے۔

    میں سمجھا نہیں ، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔

    سنو، عبد المطلب، جب تہامہ کی وادی یعنی مکہ میں ایسا بچہ پیدا ہو جس کے دونوں کندھوں کے درمیان بالوں کا گچھا (یعنی مہر نبوت) ہو تو اسے امامت اور سرداری حاصل ہو گی اور اس کی وجہ سے تمہیں قیامت تک کے لیے اعزاز ملے گا، عزت ملے گی۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    کتاب کا  نام : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانی(عبد اللہ فارانی،   ہفتہ وار رسالہ “بچوں کا  اسلام” کے ایڈیٹر اشتیاق احمد رحمۃ اللہ علیہ  کا قلمی نام ہے)

    براہ   مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں ۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (حصہ اول): حضرت عبدالمطلب کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کے بچپن کے واقعات

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (حصہ اول): حضرت عبدالمطلب کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کے بچپن کے واقعات

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  8  ۔ حصہ اول

    حضرت آمنہ کے انتقال کے پانچ دن بعد ام ایمن آپ ﷺ  کو لے کر مکہ پہونچیں ۔ آپ ﷺ  کو عبدالمطلب کے حوالے کیا۔آپ ﷺ  کے یتیم ہوجانے کا انہیں اتنا صدمہ تھا کہ بیٹے کی وفات پر بھی اتنا نہیں ہوا تھا۔

    عبدالمطلب کے لیے کعبہ کے سائے میں ایک قالین بچھایا جاتا تھا۔ وہ اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ ان کا احترام اس قدر تھا کہ کوئی اور اس قالین پر بیٹھتا نہیں تھا، چنانچہ ان کے بیٹے اور قریش کے سردار اس قالین کے چاروں طرف بیٹھتے تھے، لیکن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں تشریف لاتے تو سیدھے اس قالین پر جا بیٹھتے۔ اس وقت آپ ﷺ  ایک تندرست لڑکے تھے، آپ ﷺ  کی عمر نو سال کے قریب ہو چلی تھی، آپ ﷺ  کے چچا ، عبدالمطلب کے ادب کی وجہ سے ، آپ کو اس قالین سے ہٹانا چاہتے تو عبدالمطلب کہتے ۔

    میرے بیٹےکو چھوڑ دو، اللّٰہ کی قسم۔  یہ بہت شان والا ہے۔

    پھر وہ آپ ﷺ  کو محبت سے اس فرش پر بٹھاتے، آپ کی کمر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے، آپ ﷺ  کی باتیں سن سن کر حد درجے خوش ہوتے رہتے۔

    کبھی وہ دوسروں سے کہتے۔

    میرے بیٹے کو یہیں بیٹھنے دو، اسے خود بھی احساس ہے کہ اس کی بڑی شان ہے، اور میری آرزو ہے یہ اتنا بلند رتبہ پائے جو کسی عرب کو اس سے پہلے حاصل نہ ہوا ہو اور نہ بعد میں کسی کو حاصل ہوسکے۔

    ایک بار انہوں نے یہ الفاظ کہے۔

    میرے بیٹے کو چھوڑ دو، اس کے مزاج میں طبعی طور بلندی ہے…. اس کی شان نرالی ہوگی۔

    یہاں تک کہ عمر کے آخری حصے میں حضرت عبدالمطلب کی آنکھیں جواب دے گئی تھیں ، آپ نابینا ہو گئے تھے۔ ایسی حالت میں ایک روز وہ اس قالین پر بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ  تشریف لے آئے اور سیدھے اس قالین پر جا پہنچے۔ ایک شخص نے آپ ﷺ  کو قالین سے کھینچ لیا۔ اس پر آپ ﷺ  رونے لگے، آپ  ﷺ کے رونے کی آواز سن کر عبدالمطلب بے چین ہوئے اور بولے۔

    میرا بیٹا کیوں رو رہا ہے۔

    آپ کے قالین پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ ہم نے اسے قالین سے اتار دیا ہے۔

    یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا۔

    میرے بیٹے کو قالین پر ہی بٹھا دو، یہ اپنا رتبہ پہچانتا ہے، میری دعا ہے کہ یہ اس رتبے کو پہنچے جو اس سے پہلے کسی عرب کو نہ ملا ہو، اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔

    اس کے بعد پھر کسی نے آپ ﷺ  کو قالین پر بیٹھنے سے نہیں روکا۔‌

    ایک روز بنو مدلج کے کچھ لوگ حضرت عبدالمطلب سے ملنے کے لئے آئے… ان کے پاس اس وقت آپ ﷺ بھی تشریف فرما تھے ۔بنو مدلج کے لوگوں نے آپ ﷺ  کو دیکھا، یہ لوگ قیافہ شناس تھے، آدمی کا چہرہ دیکھ کر اس کے مستقبل کے بارے میں اندازے بیان کرتے تھے۔انہوں نے عبدالمطلب سے کہا۔

    اس بچے کی حفاظت کریں ، اس لیے کہ مقام ابراہیم پر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم کا نشان ہے، اس بچے کے پاؤں کا نشان بالکل اس نشان سے ملتا جلتا ہے، اس قدر مشابہت ہم نے کسی اور کے پاؤں کے نشان میں نہیں دیکھی… ہمارا خیال ہے۔  یہ بچہ نرالی شان کا مالک ہوگا۔  اس لیے اس کی حفاظت کریں ۔

    مقام ابراہیم خانہ کعبہ میں وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ معجزے کے طور پر اس پتھر پر ابراہیم علیہ السلام کے پیروں کے نشان پڑگئے تھے۔ لوگ اس پتھر کی زیارت کرتے ہیں ۔ یہی مقام ابراہیم ہے۔ چونکہ آپ ﷺ  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں ، اس لیے ان کے پاؤں کی مشابہت آپ ﷺ  میں ہونا قدرتی بات تھی۔

    ایک روز حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں حجر اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ایسے میں ان کے پاس نجران کے عیسائی آگئے۔ان میں ایک پادری بھی تھا ۔ اس پادری نے عبدالمطلب سے کہا۔

    ہماری کتابوں میں ایک ایسے نبی کی علامات ہیں جو اسماعیل کی اولاد میں ہونا باقی ہے، یہ شہر اس کی جائے پیدائش ہوگا، اس کی یہ یہ نشانیاں ہوں گی۔

    ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ کوئی شخص آپ ﷺ  کو لے کر وہاں آپہنچا۔ پادری کی نظر جونہی آپ ﷺ  پر پڑی، وہ چونک اٹھا، آپ ﷺ  کی آنکھوں ، کمر اور پیروں کو دیکھ کر وہ چلا اٹھا۔

    وہ نبی یہی ہیں ، یہ تمہارے کیا لگتے ہیں ۔

    عبدالمطلب بولے

    یہ میرے بیٹے ہیں ۔

    اس پر وہ پادری بولا۔

    اوہ۔  تب یہ وہ نہیں ۔  اس لیے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے پہلے ہوجائے گا۔

    یہ سن کر عبدالمطلب بولے۔

    یہ دراصل میرا پوتا ہے،  اس کے باپ کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب یہ پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔

    اس پر پادری بولا۔

    ہاں ۔  یہ بات ہوئی نا۔ آپ اس کی پوری طرح حفاظت کریں ۔

    عبدالمطلب کی آپ ﷺ  سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کھانا کھانے بیٹھتے تو کہتے۔

    میرے بیٹے کو لے آؤ۔

    آپ ﷺ  تشریف لاتے تو عبدالمطلب آپ ﷺ  کو اپنے پاس بٹھاتے ۔ آپ ﷺ  کو اپنے ساتھ کھلاتے۔

    بہت زیادہ عمر والے ایک صحابی حیدہ بن معاویہ ؓ کہتے ہیں

    میں ایک مرتبہ اسلام سے پہلے، جاہلیت کے زمانے میں حج کے لئے مکہ معظمہ گیا۔وہاں بیت الله کا طواف کررہا تھا ۔ میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا، جو بہت بوڑھا اور بہت لمبے قد کا تھا۔ وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا۔اور کہہ رہا تھا، اے میرے پروردگار میری سواری کو محمد کی طرف پھیر دے اور اسے میرا دست و بازو بنادے۔میں نے اس بوڑھے کو جب یہ شعر پڑھتے سنا تو لوگوں سے پوچھا۔

    یہ کون ہے؟

    لوگوں نے بتایا یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ۔ انہوں نے اپنے پوتے کو اپنے ایک اونٹ کی تلاش میں بھیجا ہے۔ وہ اونٹ گم ہوگیا ہے، اور وہ پوتا ایسا ہے جب بھی کسی گم شدہ چیز کی تلاش میں اسے بھیجاجاتا ہے تو وہ چیز لے کر ہی آتا ہے۔ پوتے سے پہلے یہ اپنے بیٹوں کو اس اونٹ کی تلاش میں بھیج چکے ہیں ، لیکن وہ ناکام لوٹ آئے ہیں ، اب چونکہ پوتے کو گئے ہوئے دیر ہوگئی ہے، اس لئے پریشان ہے، اور دعا مانگ رہے  ہیں ۔

    تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اونٹ کو لئے تشریف لا رہے ہے۔عبدالمطلب نے آپ ﷺ  کو، دیکھ کر کہا ۔

    میرے بیٹے ۔  میں تمہارے لئے اس قدر فکر مند ہوگیا تھا کہ شاید اس کا اثر کبھی میرے دل سے نہ جائے۔

    عبدالمطلب کی بیوی کا نام رقیہ بنت ابو سیفی تھا ۔ وہ کہتی ہیں۔

    قریش کئی سال سے سخت قحط سالی کا شکار تھے۔  بارشیں بالکل بند تھیں ۔ سب لوگ پریشان تھے، اسی زمانے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا، کوئی شخص خواب میں کہہ رہا تھا۔

    اے قریش کے لوگو۔تم میں سے ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے، اس کے ظہور کا وقت آ گیا ہے۔ اس کے ذریعے تمہیں زندگی ملے گی، یعنی خوب بارشیں ہوں گی، سرسبزی اور شادابی ہوگی تم اپنے لوگوں میں سے ایک ایسا شخص تلاش کرو جو لمبے قد کا ہو، گورے رنگ کا ہو، اس کی پلکیں گھنی ہوں ، بھنویں اور ابرو ملے ہوئے ہوں ، وہ شخص اپنی تمام اولاد کے ساتھ نکلے اور تم میں سے ہر خاندان کا ایک آدمی نکلے، سب پاک صاف ہوں اور خوشبو لگائیں ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیں پھر سب جبل ابو قیس پر چڑھ جائیں . پھر وہ شخص جس کا حلیہ بتایا گیا ہے، آگے بڑھے اور بارش کی دعا مانگے اور تم سب آمین کہو تو بارش ہو جائے گی۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔!

    کتاب کا  نام : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانی(عبد اللہ فارانی،   ہفتہ وار رسالہ “بچوں کا  اسلام” کے ایڈیٹر اشتیاق احمد رحمۃ اللہ علیہ  کا قلمی نام ہے)

    براہ   مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں ۔ شکریہ

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (ب) | قدم بہ قدم

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 (ب) | قدم بہ قدم

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم — قسط نمبر 8 (ب)

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس ایمان افروز سلسلے میں معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم، از عبد اللہ فارانی سے استفادہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار پیش کیا جا رہا ہے۔

    اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کی مدد سے ہم نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی، آپ ﷺ کی دعوت، صبر و استقامت اور اسلامی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف اہم مراحل اور واقعات بیان کیے جائیں گے، جن میں ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوت و مخالفت کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ شامل ہیں۔

    ہماری کوشش ہے کہ سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ اور سماعت ہمارے لیے اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کا ذریعہ بنے۔

    📌 اگر آپ کو یہ کاوش پسند آئے تو ویڈیو کو لائک کریں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 بیل آئیکن دبائیں تاکہ سلسلے کی نئی اقساط سے باخبر رہ سکیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_کتاب #اسلامی_تعلیمات #مکہ_مکرمہ #مدینہ_منورہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicHistory #IslamicBook #IslamicEducation

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 8 | قدم بہ قدم

    سلسلہ سیرت النبی ﷺ | قدم بہ قدم — قسط نمبر 8

    الحمدللہ! سیرت النبی ﷺ کے اس خوبصورت اور ایمان افروز سلسلے میں معروف کتاب سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم، از عبد اللہ فارانی سے استفادہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو مرحلہ وار پیش کیا جا رہا ہے۔

    اس کتاب کی ترتیب اور زبان آسان، جامع اور عام فہم ہے، جس کی مدد سے ہم نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی، آپ ﷺ کی دعوت، صبر و استقامت اور اسلامی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اس سلسلے میں ان شاء اللہ سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف اہم مراحل اور واقعات بیان کیے جائیں گے، جن میں ولادتِ مبارکہ، مکہ مکرمہ کی زندگی، بعثتِ نبوی ﷺ، دعوت و مخالفت کے مراحل، ہجرتِ مدینہ، غزوات، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ مبارک ﷺ شامل ہیں۔

    ہماری کوشش ہے کہ سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ اور سماعت ہمارے لیے اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کا ذریعہ بنے۔

    📌 اگر آپ کو یہ کاوش پسند آئے تو ویڈیو کو لائک کریں، اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔

    🔔 بیل آئیکن دبائیں تاکہ سلسلے کی نئی اقساط سے باخبر رہ سکیں۔

    🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

    Hashtags:

    #سیرت_النبی #سیرت_رسول #سیرت_النبی_قدم_بقدم #عبداللہ_فارانی #نبی_کریمﷺ #حضرت_محمدﷺ #اسلامی_کتاب #اسلامی_تعلیمات #مکہ_مکرمہ #مدینہ_منورہ #SeeratUnNabi #SeerahSeries #AbdullahFarani #SeerahQadamBaQadam #LifeOfProphet #ProphetMuhammadPBUH #IslamicHistory #IslamicBook #IslamicEducation

  • سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 7: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے واقعات اور حضرت آمنہ کی وفات

    سیرت النبی ﷺ — قسط نمبر 7: حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے واقعات اور حضرت آمنہ کی وفات

    ﷽

    سیرت النبی ﷺ

    قسط نمبر  7

    حلیمہ سعدیہؓ  فرماتی ہیں۔  میں پریشانی کی حالت میں مکہ پہنچی، آپ کے دادا عبدالمطلب کے پاس پہنچتے ہی میں نے کہا۔

    میں آج رات محمد کو لے کر آرہی تھی، جب میں بالائی علاقے میں پہنچی تو وہ اچانک کہیں گم ہوگئے۔ اب خدا کی قسم میں نہیں جانتی، وہ کہاں ہیں ؟

    عبدالمطلب یہ سن کر فورا کعبہ کے پاس کھڑے ہوگئے، انہوں نے آپ کے مل جانے کے لئے دعا کی۔ پھر آپ کی تلاش میں روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ ورقہ بن نوفل بھی تھے۔ غرض دونوں تلاش کرتے کرتے تہامہ کی وادی میں پہنچے۔ ایک درخت کے نیچے انہیں ایک لڑکا کھڑا نظر آیا۔ اس درخت کی شاخیں بہت گھنی تھیں ۔ عبدالمطلب نے پوچھا۔  لڑکے تم کون ہو؟

    حضور ﷺ چونکہ اس وقت تک قد نکال چکے تھے، اس لئے عبدالمطلب پہچان نہ سکے۔ آپ ﷺ  کا قد تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ جواب میں آپ ﷺ  نے فرمایا۔

    میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ۔

    یہ سن کر عبدالمطلب بولے۔

    تم پر میری جان قربان، میں ہی تمہارا دادا عبدالمطلب ہوں ۔

    پھر انہوں نے آپ ﷺ  کو اٹھاکر سینے سے لگایا اور رونے لگے، آپ ﷺ  کو گھوڑے پر اپنے آگے بٹھایا اور مکہ کی طرف چلے۔ گھر آکر انہوں نے بکریاں اور گائیں ذبح کیں اور مکے والوں کی دعوت کی۔

    آپ ﷺ  کے مل جانے کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ   حضرت آمنہ کے پاس آئیں تو انہوں نے پوچھا۔

    حلیمہ۔   اب آپ بچے کو کیوں لے آئیں ، آپ کی تو خواہش تھی کہ یہ ابھی آپ کے پاس اور رہیں ؟

    انہوں نے جواب دیا۔

    یہ اب بڑے ہوگئے ہیں اور اللہ کی قسم میں اپنی ذمے داری پوری کرچکی ہوں ، میں خوف محسوس کرتی رہتی ہوں ، کہیں انہیں کوئی حادثہ نہ پیش آجائے، لہٰذا انہیں آپ کے سپرد کرتی ہوں ۔

    حضرت آمنہ کو یہ جواب سن کر حیرت ہوئی۔ بولیں۔

    مجھے سچ سچ بتاؤ ماجرا کیا ہے؟

    تب انہوں نے سارا حال کہہ سنایا۔ حلیمہ سعدیہؓ  نے دراصل کئی عجیب وغریب واقعات دیکھے تھے۔ ان واقعات کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہوگئی تھیں ، پھر سینۂ مبارک چاک کئے جانے والا واقعہ پیش آیا تو وہ آپ ﷺ  کو فوری طور پر واپس کرنے پر مجبور ہوئیں ۔ وہ چند واقعات حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا اس طرح بیان کرتی ہیں۔

    ایک مرتبہ یہودیوں کی ایک جماعت میرے پاس سے گزری۔ یہ لوگ آسمانی کتاب تورات کو ماننے کا دعوی کرتے تھے، میں نے ان سے کہا، کیا آپ لوگ میرے اس بیٹے کے بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں ؟

    ساتھ ہی میں نے حضور اکرم ﷺ کی پیدائش کے بارے میں انہیں تفصیلات سنائیں ۔ یہودی تفصیلات سن کر آپس میں کہنے لگے۔

    اس بچے کو قتل کردینا چاہئے۔

    یہ کہہ کر انہوں نے پوچھا

    کیا یہ بچہ یتیم ہے؟

    میں نے ان کی بات سن لی تھی کہ وہ ان کے قتل کا ارادہ کر رہے ہیں ، سو میں نے جلدی سے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

    نہیں ۔ یہ ہے اس بچے کے باپ۔

    تب انہوں نے کہا۔

    اگر یہ بچہ یتیم ہوتا تو ہم ضرور اسے قتل کر دیتے۔

    یہ بات انہوں نے اس لیے کہی کہ انہوں نے پرانی کتابوں میں پڑھ رکھا تھا کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں ، ان کا دین سارے عالم میں پھیل جائے گا، ہر طرف ان کا بول بالا ہو گا، ان کی پیدائش اور بچپن کی یہ یہ علامات ہوں گی اور یہ کہ وہ یتیم ہوں گے. اب چونکہ ان سے حلیمہ سعدیہؓ  نے یہ کہہ دیا کہ یہ بچہ یتیم نہیں ہے تو انہوں نے خیال کر لیا کہ یہ وہ بچہ نہیں ہے۔ اس طرح انہوں نے بچے کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

    اسی طرح ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا، ایک مرتبہ وہ آپ ﷺ  کو عکاظ کے میلے میں لے آئیں ۔ جاہلیت کے دور میں یہاں بہت مشہور میلہ لگتا تھا۔  یہ میلہ طائف اور نخلہ کے درمیان میں لگتا تھا۔  عرب کے لوگ حج کرنے آتے تو شوال کا مہینہ اس میلے میں گزارتے، کھیلتے کودتے اور اپنی بڑائیاں بیان کرتے۔ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ  کو لیے بازار میں گھوم رہی تھیں کہ ایک کاہن کی نظر آپ ﷺ  پر پڑی. اسے آپ ﷺ  میں نبوت کی تمام علامات نظر آ گئیں ۔  اس نے پکار کر کہا۔

    لوگو، اس بچے کو مار ڈالو۔

    حلیمہؓ  اس کاہن کی بات سن کر گھبرا گئیں اور جلدی سے وہاں سے سرک گئیں ۔  اس طرح اللہ تعالٰی نے حضور ﷺ کی حفاظت فرمائی۔

    میلے میں موجود لوگوں نے کاہن کی آواز سن کر ادھر ادھر دیکھا کہ کس بچے کو قتل کرنے کے لیے کہا گیا ہے، مگر انہیں وہاں کوئی بچہ نظر نہیں آیا۔  اب لوگوں نے کاہن سے پوچھا

    کیا بات ہے، آپ کس بچے کو مار ڈالنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔

    اس نے ان لوگوں کو بتایا۔

    میں نے ابھی ایک لڑکے کو دیکھا ہے، معبودوں کی قسم وہ تمہارے دین کے ماننے والوں کو قتل کرے گا، تمہارے بتوں کو توڑے گا اور وہ تم سب پر غالب آئے گا۔

    یہ سن کر لوگ آپ ﷺ  کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑے لیکن ناکام رہے، حلیمہ سعدیہ آپ ﷺ کو لیے واپس آ رہی تھیں کہ ذی الحجاز سے ان کا گزر ہوا۔ یہاں بھی میلہ لگا ہوا تھا۔ اس بازار میں ایک نجومی تھا۔  لوگ اس کے پاس اپنے بچوں کو لے کر آتے تھے وہ بچوں کو دیکھ کر ان کی قسمت کے بارے میں اندازے لگاتا تھا۔ حلیمہ سعدیہؓ  اس کے نزدیک سے گزریں تو نجومی کی نظر حضور اکرم ﷺ پر پڑی، نجومی کو آپ ﷺ کی مہر نبوت نظر آ گئی، ساتھ ہی آپ ﷺ کی آنکھوں کی خاص سرخی اس نے دیکھ لی۔  وہ چلا  اٹھا۔

    اے عرب کے لوگو!  اس لڑکے کو قتل کر دو۔  یہ یقیناً تمہارے دین کے ماننے والوں کو قتل کرے گا، تمہارے بتوں کو توڑے گا اور تم پر غالب آئے گا۔  یہ کہتے ہوئے وہ آپ ﷺ  کی طرف جھپٹا لیکن اسی وقت وہ پاگل ہو گیا اور اسی پاگل پن میں مر گیا۔

    ایک اور واقعہ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ حبشہ کے عیسائیوں کی ایک جماعت حضور اکرم ﷺ کے پاس سے گزری۔  اس وقت آپ ﷺ حلیمہ سعدیہ ؓ کے ساتھ تھے اور وہ آپ ﷺ  کو آپ  کی والدہ کے حوالے کرنے جا رہی تھیں . ان عیسائیوں نے آپ ﷺ کے مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت کو دیکھا اور آپ ﷺ کی آنکھوں کی سرخی کو بھی دیکھا، انہوں نے حلیمہ سعدیہؓ  سے پوچھا۔

    کیا اس بچے کی آنکھوں میں کوئی تکلیف ہے؟

    انہوں نے جواب میں کہا۔

    نہيں، کوئی تکلیف نہیں۔  یہ سرخی تو ان کی آنکھوں میں قدرتی ہے۔

    ان عیسائیوں نے کہا۔

    تب اس بچے کو ہمارے حوالے کردو، ہم اسے اپنے ملک لے جائیں گے۔  یہ بچہ پیغمبر اور بڑی شان والا ہے ۔ہم اس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں ۔

    حلیمہ سعدیہ ؓ یہ سنتے ہی وہاں سے جلدی سےدور چلی گئیں ، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی والدہ کے پاس پہنچا دیا ۔

    ان واقعات میں جو سب سے اہم واقعہ ہے۔  وہ سینہ مبارک چاک کرنے والا تھا ۔ روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشانات موجود تھے جیساکہ آج کل ڈاکٹر حضرات آپریشن کے بعد ٹانکے لگاتے ہیں ، ٹانکے کھول دیئے جانے کے بعد بھی سلائی کے نشانات موجود رہتے ہیں ۔ اس واقعے کے بعد حلیمہ سعدیہؓ  اور  ان کے خاوند نے فیصلہ کیا کہ اب بچے کو اپنے پاس نہیں رکھنا چاہیے۔

    جب حضرت حلیمہ سعدیہؓ  نے آپ ﷺ کو حضرت آمنہ کے حوالہ کیا، اس وقت آپ ﷺ کی عمر ۴سال تھی ۔ ایک روایت یہ ملتی ہے کہ اس وقت عمر شریف پانچ سال تھی، ایک تیسری روایت کے مطابق عمر مبارک چھ سال ہو چکی تھی ۔

    جب حلیمہ سعدیہؓ  نے آپ صلی الله علیہ و سلم کو حضرت آمنہ کے حوالے کیا، تو اس کے کچھ دنوں بعد حضرت آمنہ انتقال کر گئیں ،والدہ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ حضرت آمنہ کی وفات مکہ اور مدینہ کے درمیان ابواء کے مقام پر ہوئی ۔آپ کو یہیں دفن کیا گیا۔

    ہوا  یہ کہ آپ ﷺ کی والدہ آپ ﷺ کو لے کر اپنے میکے مدینہ منورہ گئیں ۔آپ ﷺ کے ساتھ ام ایمن  رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ام ایمنؓ  کہتی ہیں ، ایک دن مدینہ کے دو یہودی میرے پاس آئے اور بولے۔

    ذرا محمد کو ہمارے سامنے لاؤ، ہم انہیں دیکھنا چاہتے ہیں وہ آپ ﷺ کو ان کے سامنے لے آئیں ۔انہوں نے اچھی طرح دیکھا پھر ایک نے اپنے ساتھی سے کہا۔

    یہ اس امت کا نبی ہے، اور یہ شہر ان کی ہجرت گاہ ہے، یہاں زبردست جنگ ہوگی، قیدی پکڑے جائیں گے۔

    آپ ﷺ کی والدہ کو یہودیوں کی اس بات کا پتہ چلا تو آپ ڈر گئیں اور آپ ﷺ کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئیں۔   مگر راستے ہی میں ابواء کے مقام پر وفات پاگئیں ۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔

    کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم

    مصنف : عبداللہ فارانیؒ (یہ اشتیاق احمد ؒ   کا قلمی نام تھا)

    براہ مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔ شکریہ